میری سوچیں اور میری تمنائیں!
29 دسمبر 2018 2018-12-29

گزشتہ منگل کو جب نیب کورٹ نے مجھے سات برس قید بامشقت کی سزا سنائی اور کسی سیاسی عہدے کے لیے دس برسوں کے لیے نااہل قرار دیا تو مجھے اُس کی ذرا تکلیف اس لیے نہیں ہوئی کہ میں اِس سزا کے بارے میں پہلے سے جانتا تھا، ایک دو وفاقی وزیر مجھ سے رابطے میں ہیں اُنہوں نے مجھے بتادیا تھا۔ پاکستان میں کچھ عرصے کے لیے بی کلاس کی قید کاٹنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا ہے۔ دایاں ہاتھ پھر بھی بچ جاتا ہے جس سے آپ کئی طرح کے کام لے سکتے ہیں، بی کلاس کی قید میں کچھ عرصہ پہلے بھی کاٹ چکا ہوں، پھر ہائی کورٹ سے میری ضمانت ہوگئی تھی، اب بھی مجھے پورا یقین ہے کچھ دنوں بعد کسی نہ کسی ہائی کورٹ سے میری ضمانت ہوجائے گی جس کے بعد میرے ”سول دشمنوں“ کی توپوں میں ایک بار پھر کیڑے بلکہ سانپ اور ٹھونئیں پڑ جائیں گے ....کل شہباز شریف مجھ سے کہہ رہا تھا ”پاجی چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار ہمارے محسن ہیں، اس کی یہ بات سن کر میرا جی چاہا میز پر پڑا گلاس اُس کے منہ پر دے ماروں مگر گلاس میں چونکہ لسی پڑی ہوئی تھی اِس لیے میری ہمت نہیں پڑی۔ میں نے اُس سے پوچھا ”چیف جسٹس آف پاکستان ہمارے محسن کیسے ہوگئے ؟۔وہ بولا ”اُنہوں نے پاکستان کے ہر محکمے کو درست کرنے کی پوری کوشش کی مگر شکر ہے اپنامحکمہ درست کرنے کی ذرا کوشش نہیں کی۔ میں اسی لیے انہیں اپنا محسن سمجھتا ہوں، وہ اگر عدلیہ کی اصلاحات پر بھی توجہ فرما لیتے تو اس کے نتیجے میں ہمیں ایک عدالت سے ملنے والی سزا دوسری عدالت میں بھی بحال رہتی ، اور کسی عدالت سے ضمانت کا ہم تصور بھی نہ کرسکتے ،.... اس کے علاوہ عدلیہ کی مکمل طورپر اصلاح ہو جاتی جتنی لُوٹ مار ہم نے کی ہے اُس کی سزا کے طورپر کم ازکم لاہور میں موجود ہماری ساری جائیدادیں اب تک ضبط ہوچکی ہوتیں، اورممکن ہے اس کے بعد ہمیں وزیراعظم عمران خان کے قائم کردہ کسی ”شیلٹر ہوم“ میں رہنا پڑ جاتا“ ،....مجھے لگا شہباز شریف ٹھیک کہہ رہا ہے، مزید اُس نے یہ بھی کہا ”پائی جان جن قوتوں کو ہم اپنا دشمن سمجھتے ہیں وہ بھی اندر سے ہماری دوست ہی ہیں، مجھے اس کی اس بات پر بھی بڑی حیرانی ہوئی، وقتی طورپر غصہ بھی آیا، مگر میں نے سوچا جس طرح چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے حوالے سے دلیل دے کر اس نے مجھے قائل کرلیا ہے، اِسی طرح پاکستان کی اصل قوتوں کے بارے میں بھی کوئی نہ کوئی ایسی دلیل دے گا جس پر میں اسے داد دینے پر مجبور ہوجاﺅں گا ۔....میں نے اُس سے پوچھا ” یہ قوتیں ہمارے حق میں کیسے ہوگئیں جی؟ اُنہوں نے تو ہمیں اقتدار سے نکالا ہے، وہ بولا ”پائی جان تسی گل نوں سمجھدے کیوں نئیں؟۔یہ قوتیں ہمارے حق میں ایسے ہیں کہ گزشتہ الیکشن میں انہوں نے عمران نیازی کو دوتہائی اکثریت نہیں لینے دی ورنہ جتنا وہ پاگل ہے، ممکن تھا پارلیمنٹ کے پہلے ہی اجلاس میں کرپشن کی سزا موت کا بل لے آتا اور منظوری بھی کروا لیتا، ایسی صورت میں ہم پکوڑے لگ جاتے ۔.... شہباز شریف سیانے پن کا میں ہمیشہ بڑا معترف رہا ہوں مگر یہاں میں نے اس کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا، میں نے اس سے کہا ”خان صاحب کی تو اپنی پارٹی میں بے شمار کرپٹ لوگ موجود ہیں، وہ کرپشن کی سزا موت کا بل کیسے لا سکتا ہے؟ دوسرے خفیہ کرپشن کی حامل قوتیں اسے یہ بل لانے اور منظور کروانے کی اجازت کیسے دے سکتی تھیں؟۔شہباز شریف بولا ”پائی جان یہ بڑا بے دید آدمی ہے۔ کرپشن مکانے کے لیے اس نے کسی کی پروا نہیں کرنی تھی۔ چاہے اس کی زد میں اس کے اپنے بندے ہی کیوں نہ آجاتے....مجھے شہباز شریف کی بات میں بڑا وزن محسوس ہوا، میں نے اس سے پوچھا اچھا یہ بتاﺅ یہ ”قوتیں “ اور کس طرح ہمارے حق میں ہیں ؟“....وہ بولا انہوں نے ایسا انتظام کیا ہے کہ ہم سے موجودہ حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلوانی ہوئی اس کے لیے ہم سے تین تین مہینوں کے ناکام دھرنے دلوا کر ہمیں ذلیل نہیں کیا جائے گا۔ بس پندرہ بیس ایم این ایز کو اُٹھا کر اُدھر سے اِدھرکردیں گے ہمارا اُلو ایک بارپھر سیدھا ہو جائے گا “ ....میں نے اس بات میں بھی وزن محسوس کیا اور شہباز شریف سے کہا ” یار اب تو کتنا ہی عرصہ بیت گیا اُلو سیدھا نہیں ہورہا۔ وہ بولا ”پائی جان وہ تو میرا بھی نہیں ہورہا مگر اس میں قصور چیف صاحب کا نہیں سردی کا ہے۔ ....بہرحال انسان کو ہرحال میں خوش رہنا چاہیے اور مجھے بھی رہنا چاہیے، سو میں ان دنوں

خوش رہنے کی پوری کوشش کررہا ہوں، البتہ اس بار نیب عدالت نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے حالانکہ میں اب بچہ نہیں رہا، چلیں سات سال بی کلاس کی قید اور دس برسوں کی نااہلی کی سزا کی تو مجھے اس لیے بھی پروا نہیں کچھ دنوں بعد حسب معمول اور حسب سابق ہائی کورٹ سے میری ضمانت ہو جائے گی، جہاں تک نااہلی کا تعلق ہے تو ان عدالتوں اور دیگر قوتوں کو شاید معلوم نہیں کہ ستر برسوں کی عمر میں الیکشن لڑ کر یا وزیراعظم بن کر میں نے اب کیا کرنا ہے ؟۔ یہ کام اب مریم بیٹی کا ہے، اور وہ ظاہری و باطنی طورپر اس کی پوری تیاری کررہی ہے، اگلے روز میں نے اس سے کہا جلد وہ بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرے اور اس سے کہے ” بہنوں جیسے بھائی جی جس طرح ہمارے بزرگوں نے میثاق جمہوریت کے ذریعے لُوٹ مار کی باریاں مقرر کررکھی تھیں۔ اپنے بزرگوں کی اس روایت کو ہمیں دوبارہ زندہ کرنا چاہیے ، مریم بیٹی سے میں نے یہ بھی کہا جو قوتیں مجھ سے ناراض ہیں، وہ میرے خیال میں تمہاری وجہ سے ہیں اب تم ہی انہیں راضی کرنے کی کوشش کرو ، اور مجھے یقین ہے تم انہیں جلد راضی کرلو گی کیونکہ وہ تمہاری ”سسرالی قوتیں“ ہیں۔ ....میں تو شکر ادا کرتا ہوں وزیراعظم عمران خان کا کوئی بیٹا، بیٹی، داماد یا دیگر عزیز واقارب سیاست میں نہیں ہیں ورنہ جس طرح انہوں نے سیاسی طورپر ہماری زندگی اجیرن کررکھی ہے اسی طرح ان کی بیٹی، بیٹا اور داماد وغیرہ بھی کردیتے۔ لہٰذا سیاسی طورپر اُن کا ”بے اولاد“ ہونا ہمارے لیے اچھا ہے ۔....ویسے عمران کو وزیراعظم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے اور میرا جی چاہتا ہے یہ کلیجہ کسی بکرے کی کلیجی سمجھ کر چبا ڈالوں ....کلیجی سے یاد آیا کل اپنے باورچی سے میں نے کہا لنچ میں اوجڑی بناکر بھیجنا اور میتھی ذرا زیادہ ڈالنا کیونکہ اوجڑی کا زیادہ مزا میتھی سے ہی آتا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے میں عجیب سی مصیبتوں میں گھرا ہواہوں ۔بہت سے کھابوں کا ذائقہ ہی بھول گیا ہوں۔ خصوصاً کسی بھی قسم کی اوجڑی کھائے ایک زمانہ بیت گیا، .... بی کلاس کا ایک مزہ یہ بھی ہے گھر سے کھانا وغیرہ منگوانے کی اجازت ہوتی ہے اوریہ پابندی بھی نہیں ہوتی کہ اس کھانے میں ہریسہ، پاوے، کھدیں آلو گوشت وغیرہ نہیں آسکتے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ایسی کوئی پابندی نہیں ہوتی ورنہ ممکن تھا لُوٹی ہوئی دولت واپس کرنے کے لیے ہم آمادہ ہوہی جاتے۔ اک روز ایسے ہی اپنے مشقتی سے میں نے کہا ”آج ذرا جیل کی دال تو چکھاﺅ....شکر ہے دال ختم ہوچکی تھی ورنہ مشقتی کے سامنے اپنے کہے ہوئے کا مجھے بھرم رکھنا پڑ جاتا جس کے بعد میرا پیٹ یقیناً خراب ہوجاتا جو نوٹ کھا کھا کر پہلے ہی کافی خراب ہے ۔ (جاری ہے )


ای پیپر