اتحاد، علم اور عمل
29 دسمبر 2018 2018-12-29

مسلم امہ کے صرف ماخذ کی بات کریں جو چودہ سو سال پہلے انسان کفر کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ جس کو دور جاہلیت کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔ عرب خون ریزی میں مبتلا تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شروع ہونے والی لڑائیاں صدیوں تک جاری رہتی تھیں۔ باپ دادا کی شروع کی گئی یہ لڑائی ناجانے کتنے پوتے پڑپوتے لڑتے رہتے تھے۔بیٹیوں کی پیدائش کو بدشگونی ماننے سے لے کر نیز پورا معاشرہ ظلم وبربریت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا پھر ایسے حالات میں اللہ رب العزت نے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ کو امت کی ہدایت کے لیے قرآن پاک کی تعلیم کے ساتھ دنیا پر ظاہر کیا۔ اور آپ نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا اور بنی آدم کے لیے ایک مثال قائم کی۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ معاشرہ جو کبھی ظلم و بربریت میں ڈوبا تھا اب وہ عدل و انصاف، بھائی چارے،مساوات اور ایثار والے معاشرے کی صورت اختیار کرچکا۔ اسلام کی روشن شمع جو عرب کے تپتے صحرا میں بھڑکی تھی پوری دنیا میں روشنی کا مینارا ثابت ہوئی۔ یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہوا اس کے لیے ہمارے پیارے نبی حضرت محمدنے جو قربانیاں دیں ان کا کوئی حساب نہیں۔ آپ کے اہل بیعتؓ اورجانثاروں نے آپ کی ہر ایک بات اور عمل پر لبیک کہا اور مرمٹنے کو تیار ہوئے۔ آپ اپنے ساتھیوں کےساتھ مل کر ایسے معاشرے کا قیام عمل میںلائے جس کی مثال رہتی دنیا تک قائم رہے گی۔ مدینہ شریف میں سب سے پہلی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد مسلمان تو مسلمان کفار بھی اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے، تمام انسانوں کے حقوق برابر تھے، کوئی کسی سے برتر اور کوئی کسی سے کم تر نہیں تھا۔ یہاں تک کے حج الوداع کے خطبے کے بعد جب آپ دنیا سے پردہ فرماگئے تو آپ کے ساتھیوں نے اس کام کو بخوبی سرانجام دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ عرب کے صحراو¿ں سے نکلی ہوئی اسلام کی کرن یورپ کے کلیساو¿ں تک رسائی حاصل کرچکی تھی۔

پھر تاریخ نے کچھ اس طرح رخ بدلا کہ غرناطہ اور بغداد کے شہر جو کبھی جگمگاتے تھے اور پوری دنیا میں علمی اور تکنیکی شہرت کے حامل تھے اب وہ مسلمانوں کے خون سے بھرے پڑے ہیں۔ پورے عالم کے مسلمان ایک اجتماعی زوال کا شکار معلوم ہورہے ہیں۔ یورپ کی گلیوں میں جہاں کبھی مسلمانوں کی تعلیمی اور تحقیقی شہرت کے چرچے ہوا کرتے تھے اب وہاں مسلمانوں کے خلاف سازشوں کے جال بننے لگے ہیں۔ مسلمانوں کو اندرونی سازشوں کا شکار کیا گیا اور ایک دوسرے کے دشمن منوا کر مسلمانوں کا مسلمانوں کے ہاتھوں قتل و غارت کروایا گیا۔ وہ مسلمان جوکبھی علم و فنون کے فاتح تھے۔ وہ اب اپنی بے بس آنکھوں سے اپنے پیاروں کی تباہی کا منظر دیکھ رہے ہیں۔ اس وقت مسلم ممالک کی تعداد تقریباً ستاون ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ سب کے سب صرف نام کے اسلامی ملک ہیں۔ صحیح معنوں میں اتحاد کی جتنی ضرورت اس وقت امت مسلمہ کو ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔ شاید ہم اپنے اصل راستے سے ہٹ چکے ہیں۔

اسی ضرورت کو جانتے ہوئے ادارہ منہاج الحسین کے زیر اہتمام چوتھی سالانہ بین لاقوامی امام حسینؓ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ میرے لیے بھی شرکت کی دعوت کسی اعزاز سے کم نہیں تھی۔ اس کانفرنس میں دعوت اظہار خیال کے لیے پوری دنیا سے ہر رنگ، نسل، مذہب اور عقیدے کے اعتبار سے علماءاور عمائدین کو دعوت دی گئی تھی۔اس کانفرنس میں عراق سے علامہ السید عدنان کاظم الموسوی، علامہ الشیخ محمد عبدالرضا عبد علی، علامہ الشیخ عقیل، سلطان سلیمان، دبئی متحدہ عرب امارات سے الشیخ ابوطہٰ محمد حسین، شام سے محترمہ نصرت زہرا، صوبائی وزیراوقاف، ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران آقای علی اکبر رضاعی فرد، ڈاکٹر علامہ محمد حسین اکبر ، جنم سنگھ ، عرفان پادری، بھگت لال کھوکھر سمیت ملکی و غیر ملکی معززین نے پر مغز خطاب کیا۔

مولانا علامہ محمد حسین اکبر سمیت تمام مقررین کے خطاب کا لب لباب یہی تھا کہ رسول خدا نے اپنی زندگی ہی میں حضرت امام حسینؓکا مقام ومرتبہ بتادیا۔ امام حسینؓ تمام حریت پسند افراد کے رہبر و پیشوا ہیں اور آپؓ نے عزیمت کی راہ پر چلتے ہوئے ظالموں کے خلاف نعرہ حق بلند کیا اورمسلمانوں کو یزید کی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ کرنے اور مکہ معظمہ و مدینہ منورہ کی پامالی سے روکنے کے لیے کربلا کا سفر اختیار کیا اور اپنا تمام مال و اسباب راہ خدا میں قربان کردیا۔آپؓ نے کربلا میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے قیامت تک کے لیے خود کو ہی زندہ نہیں کیا بلکہ دین اسلام اور انسانی اقدار کو زندگی عطا کردی اوردشمنان اسلام و انسانیت کو سزائے موت سے ہمکنار کردیا۔ امام حسینؓ صرف ایک شخصیت کا نام نہیں بلکہ نظریے کا نام ہے۔ اس زمانے کے ہر فرد کوچاہیے کہ وہ حسینیت و یزیدیوں کے کرداروں کو پہچان کر فیصلہ کرے کہ ہم نے کس لشکر اور گروہ میں شامل ہونا ہے۔

امام حسینؓ انسانیت کی امن پسندی کے نمائندہ تھے اور یزید انسانیت کش دہشت گردی کا نمائندہ تھا۔ آج ہمیں امن و سلامتی، برداشت، اخوت و بھائی چارے اور علم و عمل کی راہ پر چلنا ہے تو حضرت امام حسینؓکے کردار کومشعل راہ بنانا ہوگا۔ دہشت گردی خواہ ملکی سطح پر ہو یاعالمی سطح پر اس کا ازالہ اسوہ شبیری کو اپنائے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح امت مسلمہ کووحدت کی لڑی میں پرونے کے لیے کربلا سے وحدت کا درس لینا چاہیے۔ اور تمام خطباءاور معزز مہمانان گرامی نے اتحاد بین المسلمین وادیان کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے اکابرین کو اپنا مثبت کردار ادا کرنے پر سراہا گیا۔ اور اس بات کا عزم کیا گیا کہ آئندہ بھی ہر سطح پر افتراق وانتشار اور فرقہ واریت کی مذمت کی جائے گی اور اتحاد کے لیے اپنی تمام کاوشوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔


ای پیپر