شہادت عظمیٰ اور خروج
29 اگست 2020 (20:40) 2020-08-29

شیعہ سنی اختلافات اور مسلکی تشریحات سے قطع نظر واقعہ کربلا کی ہمیشہ دو تعبیریں کی گئی ہیں… ایک یہ کہ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلاخوف و خطر طاقت کے زور پر قائم حکومت سے جا ٹکرائے…اپنی اور اپنے افراد کنبہ کی شہادت پیش کی اور اتنی بڑی قربانی دے کر انمٹ مثال قائم کر دی کہ اسلامی نقطہ نظر سے ایسی کوئی حکومت جائز اور قابل قبول اقتدار کی حامل قرار نہیں دی جا سکتی جو خالصتاً آزاد ماحول میں منعقدہ بیعت (یا آج کل کی اصطلاح میں شفاف ترین انتخابات) کے نتیجے میں وجود میں نہ آئی ہو جس طرح ابوبکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ و علیؓ کی حکومتیں تھیں… یزید کے حق میں بیعت چونکہ وقت کے حکمران حضرت امیر معاویہ کے براہ راست حکومتی اثرورسوخ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی لہٰذا کسی طور قابل تسلیم نہیں تھی… نواسہ رسول نے مظلومانہ حالت میں جان کا نذرانہ پیش کر کے جابرانہ حکومت کے ساتھ ٹکرا جانے اور ایسے اقتدار کو ہمیشہ کے لئے ناجائز قرار دینے کی مشعل راہ روشن کر دی…مقابلے میں دوسرا نقطہ نظر یہ ہے مسلمانوں کی ایسی حکومت خواہ اس کا سربراہ حکمران وقت کا بیٹا یا کوئی اور ہو اگر موثر طریقے سے اپنا اقتدار قائم کر لے… رٹ منوا لے اور کفربوہٰ پر مبنی نہ ہو… لوگوں کی اکثریت کھلے دل یا ماحول کی مجبوری کے تحت اس کی اطاعت پر مائل ہو جائے ایسی حکومت کے خلاف مسلح حالت میں اٹھ کھڑا ہونا خرج یا دوسرے الفاظ میں بغاوت ہے… لہٰذا اس کا انجام خواہ کتنا افسوسناک ہو وہی ہو گا جو خروج حسینی کی شکل میں مسلمانوں کی تاریخ کا ناقابل فراموش باب بن گیا… پہلے نقطہ نظر نے گزشتہ تقریباً چودہ سو سال کی تاریخ میں حضرت حسینؓ کی عظمت کو چار چاند لگا دیئے۔ اسی حیثیت سے دنیا بھر کے مسلمان غمگین دلوں کے ساتھ ان کی یاد مناتے ہیں اور عزم و ہمت پر مبنی اور جذبہ قربانی سے سرشار ان کے کردار سے روشنی حاصل کر کے ناجائز اور جبر کے تحت قائم شدہ حکومتوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں… ایک جائز یا مسلمان اکثریت کی خالصتاً آزادانہ حکومت کو وجود میں لانے کے لئے پُرعزم رہتے ہیں… مسلمانوں کی تاریخ میں بڑی بڑی حکومتیں وجود میں آئیں… ملوکیتوں نے اپنا راج جمایا… اندرون ملک امن بھی قائم کیا… فتوحات حاصل کیں… موروثیت کی جڑیں مضبوط کیں… اپنے زمانہ عروج میں اچھے کارنامے اور برے کام بھی کئے… تہذیب کو ترقی دی… تمدن کو پروان چڑھایا… عدل بھی کیا اور عمومی خوف کی فضا پیدا کر کے جابرانہ حکمرانی کی مثالیں بھی قائم کیں… لیکن ان کا جائز (LEGITIMATE)ہونا ہمیشہ بہت بڑا سوال رہا… وہ اپنے آپ کو خلیفہ کہتے تھے… اپنے نام کاخطبہ جاری کراتے تھے… علمائے وقت سے فتویٰ بھی حاصل کر لیتے تھے… لیکن لوگوں کی اکثریت نے انہیں ہمیشہ بادشاہ سمجھا… ملوکیت کا نام دیا اور ان کے اجتماعی ضمیر نے بھی ان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا… کیونکہ ان کے سامنے ہمیشہ خلفائے راشدین کے غیرملوکیتی اور غیرموروثی نظام کی جگمگ کرتی مثالیں تھیں اور دوسرا حضرت حسینؓ کی بے مثال قربانی نے آزادانہ بیعت والے اقتدار کو مسلمانوں کا آئیڈیل بنا دینے میں اہم کردار ادا کیا جس سے ہر دور کے مسلمانوں کا ایک یا کئی گروہ جذبہ عمل پکڑتے ہوئے ناجائز حکومتوں کے خلاف برسرپیکار ہو جاتے تھے… کبھی ملوکیت کا تختہ الٹ دینے میں کامیاب ہوتے… کبھی راہ حق میں شہادت کا رتبہ حاصل کرتے ہوئے گردن زدنی ٹھہرا دیئے جاتے ،پھانسیوں پر لٹک جاتے تھے… حضرت حسینؓ کی عظیم قربانی کے نتیجے میں  ملوکیت یا بادشاہت کبھی خلافت کا درجہ حاصل نہ کر سکی…

لیکن اس کے ساتھ دوسرا نقطہ نظر بھی بادشاہتوں اور ملوکیتوں کو وقتی استحکام بخشنے کی خاطر اپنا زور لگتا رہا… ریاستی جبر یا تلوار کے زور سے وجود میں آنے والی حکومتوں نے اس سے بہت فائدہ اٹھایا… یعنی خروج یا مسلمان سربراہ ریاست کی پوری قوت مقتدرہ کے ساتھ وجود میں آ جانے والی حکومت کے خلاف کسی قسم کی تحریک بغاوت ہے اسے ہر صورت میں کچل کر رکھ دینا امر لازم ہے… اس سے اعراض نہیں برتا جا سکتا… بنو اُمیّہ سے لے کر ہندوستان میں مغل راج تک جبر سے قائم 

ہونے والی ہر حکومت یا اقتدار نے اس سے اپنے لئے جواز حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی… کئی علماء اور درباری اہل علم کو اپنے ساتھ ملایا… خلافت یا موجودہ دور کی زبان میں اسلام کی حدود کی پابند آزاد جمہوری حکومت کے قیام کے حق میں جو بھی تحریک اٹھی اسے دبا دینے کی خاطر پوری ریاستی طاقت کو استعمال میں لایا گیا… اگرچہ وقت اور زمانہ گزر جانے کے بعد علماء اور لوگوں کی بڑی اکثریت یا مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے راہ وفا میں کام آنے والے ان سرمستوں کی بہت تحسین کی… ان کی روشن یادوں میں تاریخ کے صفحات بھر دیئے… سبب اس کا وہی ہے کہ خلافت حقیقی کا نظام اور اسے بحال رکھنے کی خاطر حضرت حسینؓ کی اولین اور بے مثال قربانی ہر دور کے مسلمانوں کے لئے روشنی کا مینار بنی رہی ہے… جبر کا کوئی بھی اور وقتی طور پر اپنے آپ کو منوا لینے والا کیسا بھی نظام اس روشن ترین مینار اور لازوال قربانی کو مسلمانوں نظروں سے دور نہ کر سکا…

آج کے دور میں بھی جبکہ جمہوریت، آزادانہ انتخابات اور قومی حاکمیت اعلیٰ کا بہت واویلا ہے، ان تمام تر IDEALS کو خراج تحسین اور اٹھتے بیٹھتے خلافت راشدہ کے دور کی قابل اتباع مثالیں پیش کرنے یا ہر قدم پر ریاست مدینہ کے ذکر اذکار کے باوجود اور جس والہانہ جذبے کے ساتھ ہم ہر سال دس محرم کو حضرت حسینؓ کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہیں… مسلمان ملکوں کی بھاری اکثریت میں بادشاہتیں اور ملوکیت یا فوجی آمریتوں یعنی تلوار کی حکومت ہے… طاقت کی فرماں روائی ہے… یہ حکومتیں بظاہر ہمہ مقتدر ہونے کے باوجود اپنے جواز (LEGITIMACY) کے لحاظ سے کمزور بنیادوں پر قائم ہیں… لہٰذا اندر سے سخت خوفزدہ رہتی ہیں… اسی سبب کی بنا پر ان میں سے ہر ایک حاکمیت اعلیٰ کے تمام تر ادّعا کے باوجود کسی نہ کسی بیرونی عالمی طاقت کی سرپرستی کی محتاج رہتی ہے… اس کے مفادات کی تکمیل کی خاطر ہمہ تن خدمات بجا لانے میں کسر باقی نہیں رہنے دیتی… جہاں نام نہاد جمہوری حکومتیں قائم ہیں… ان کے پیچھے بھی ریاست کے سب سے طاقتور ادارے کی پشت پناہی کام کر رہی ہوتی ہے… جیسا کہ یزید کی جبر کی مدد سے وجود میں آنے والی خلافت تھی… جس کے خلاف حضرت حسینؓ اٹھ کھڑے ہوئے… جانوں کی پرواہ نہ کی اور چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود ان کی یاد ہے کہ بڑھتی چلی جا رہی ہے… اہل تشیع کے یہاں ان کے غم میں مرثیے لکھے اور پڑھے جاتے ہیں، نوحہ خوانی ہوتی ہے، مجالس برپا کی جاتی ہیں، فضائل و مصائب اہل بیت بیان کئے جاتے ہیں، ماتم کیا جاتا ہے… سنی فرقے کے حامل مسلمان بھی پیچھے نہیں رہتے… حضرت حسینؓ اور ان کے اہل کنبہ کی جانب سے جبری اور ریاستی طاقت کے زور پر وجود میں آنے والی ملوکیت خلاف قربانی کی داستان اہل سنت کے حافظے اور شعور و لاشعور کا حصہ بن چکی ہے… ان کی شاعری اور ادب میں نہ مٹنے والی علامت کا درجہ رکھتی ہے… وعظ بیان کئے جاتے ہیں… نذر نیاز تقسیم ہوتی ہے… لوگ قبرستانوں کا رخ اختیار کر کے جدا ہو جانے والے پیاروں کی قبور پر مٹی ڈالتے ہیں… انہیں پھولوںسے سجاتے اور شہر خموشماں کی فضا معطر کرتے ہیں… اخبارات خصوصی ایڈیشن نکالتے ہیں… ٹیلی ویژن لگاتار پروگرام کرتے ہیں… نصابی کتب ان کی یاد سے بھری رہتی ہیں… حکمران اور لیڈر عقیدت بھرے بیان جاری کرتے ہیں… یوں ناجائز حکومت یا جعلی خلافت کے خلاف حضرت حسینؓ اور ان کے افراد کنبہ کی اپنی جانوں پر کھیل جانے والی قربانی ہمارے ملّی لاشعور کے اندر کچھ اس طرح پیوست ہو گئی ہے کہ ہر عالم میں وقت کی ناجائز حکومتوں کو خواہ انہوں نے جمہوریت یا عوامی مینڈیٹ کا کیسا ہی لبادہ اوڑھ رکھا ہو متزلزل رکھتی ہے… ایسے میں خروج حسینی والا نقطہ نظر جابر حکمرانوں کے بہت کام آتا ہے… عدالتوں کے فیصلے اس کی بنا پر حاصل کئے جاتے ہیں… مارشل لائوں کے لئے جواز حاصل کیا جاتا ہے… اگر جمہوری ڈھانچہ کھڑا کرنا وقت کی ضرورت بن جائے تو اس کھوکھلے انتظام حکومت کے پیچھے ریاستی طاقت اگرچہ آئینی لحاظ سے ماتحت ہو اپنی کارفرمائی دکھا رہی ہوتی ہے… وہ تمام ناجائز ہتھکنڈوں کے لئے کسی نہ کسی انداز میں اسی نقطہ نظر کی قانونی اور عمومی تشریحات سے سند جواز حاصل کرتی ہیں… یہی امر نظریہ ضرورت کی ماں بن جاتا ہے… جس کی بنا پر اعلیٰ عدالتوں سے مرضی کے فیصلے حاصل کرنے میں دقت پیش نہیں آتی… اکتوبر 1958ء میں پاکستان میں پہلا مارشل لاء نافذ کیا گیا… آئین مملکت کو فوجی بوٹوں تلے روند کر رکھ دیا گیا… جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کے حامل نظام حکومت (آزادانہ بیعت) کے نظام کا گلا گھونٹ کر رکھ دینے کے باقاعدہ عمل کا آغاز ہوا تو اس وقت کے چیف جسٹس محمد منیر نے جبر کے اس نظام کو قانونی بنیادیں فراہم کرنے اور اسے JUDICIAL COVERدینے کی خاطر بدنام زمانہ نظریہ ضرورت وضع کیا اس کے حق میں وہ سارے دلائل جمع کئے جو خروج حسینی یعنی جبر سے قائم ہونے والی حکومتوں کے جواز اور طاقت کا باعث بنتے ہیں… یہی نظریہ بعد میں آنے والے تمام مارشل لائوں اور فوجی یا فوج کی حمایت یافتہ حکومتوں کا سہارا بنا… ایک کے بعد دوسرے چیف جسٹس مثلاً انوارالحق، ارشاد حسن اور ثاقب نثار وغیرہ نے اسی کے سہارے جمہوری حکومتوں کو الٹنے اور مقتدر قوتوں کے بندگان خاص کی حکومتوں کے لئے عدالتی راہیں ہموار کیں… مگر ریاستی طاقت و قوت کی یہ تمام تر کارفرمائی شہادت حسینؓ والے نقطہ نظر سے جذبہ عمل حاصل کرنے والی عوامی قوتوں کی جدوجہد کو ختم کرنے یا دبا کر رکھ دینے میں ناکام ثابت ہوئی… اس کا چراغ مسلسل روشنیاں بکھیر رہا ہے… دوسرے الفاظ میں ہماری چودہ سو سالہ تاریخ کی طرح آج کے پاکستان میں بھی واقعہ کربلا کی دونوں تعبیرات ایک شہادت عظمیٰ اور دوسری خروج حسینی ایک دوسری کے ساتھ برسرپیکار ہیں… پہلی کے پاس عوام کی نظروں میں خلافت راشدہ کا آئیڈیل یعنی آزادانہ بیعت (عوامی مینڈیٹ) کی حامل حکومت کے قیام کی زبردست خواہش جبکہ دوسری کی ذرہ بکتر ریاستی جبر کی طاقت سے بنی ہوئی ہے… دونوں ایک دوسری کو نیچا دکھانے اور غالب آ جانے کے لئے ستیزہ کار ہیں…


ای پیپر