حذر اے چیرہ دستاں …
29 اگست 2020 (20:39) 2020-08-29

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اس دور میں ہوئی جب دنیا جہالت اور گمراہی کی اتھاہ تاریکیوں میں غرق تھی۔ آپؐ کے ایک بیٹے محمد بن عبداللہ (سیدنا مہدی) کو ایسے ہی حالات میں آنا ہے، جب بظاہر اصل اسلام پر زندہ رہنا مشکل ترین (ہتھیلی پر دھرا انگارہ) بنا دیا جائے گا۔ دنیا سے اسلام مٹا دیے جانے کے سارے اسباب یکجا ہو جائیں گے۔ علمائے حق غلاف کعبہ پکڑکر روئیں گے، اللہ سے فریاد کررہے ہوںگے۔ دوسری طرف دجالی قوتیں کارفرما ہوںگی۔ نگاہ اٹھاکر گریٹر اسرائیل کی تیاری، تعمیر وتکمیل میں مسلمان رئیس ممالک کی شرکت، اینٹ گارا ڈھونے میں تندہی ملاحظہ ہو! مسلم دنیا کے عوام کو دیکھیے۔ مسلمان 20 سالوں میں جہاں جہاں اجاڑے گئے ،آج تک سنبھل نہ سکے۔ آباد نہ ہوسکے۔ بنگلادیش کے کیمپوں میں رلتے خوار وزار غیرانسانی حالات میں رہتے 7 لاکھ روہنگیا مرد عورتیں بچے دیکھیے۔ جو سمندروں میں ڈوبے، وہ پار لگ گئے۔ افغانستان، عراق، شام کے کھنڈرات، یمن اور اب لیبیا! فلسطینی زمینوں پر قبضہ ہوتے ہوتے اب باری ہے مغربی کنارے سے انہیں بے دخل کرنے کی۔ وادیٔ اردن میں نیا شہر آباد کیا جارہا ہے۔ پوری دنیا سے یہودی لاکر آبادکاری کرتے کرتے فلسطینیوں کے حصے دنیابھر میں منتشر ہوکر دربدری مقدر ہے۔ یا پھر اپنی سرزمین پر قابض اسرائیلیوں کے راکٹ، میزائل، گرفتاریاں۔ مسلم دنیا منہ موڑے آج کے گرماگرم خبر نامے اسرائیل تسلیم کیے جانے، اس کے قبضے کو جواز بخشنے کی راہیں تلاش کرتے ملکوں ملکوں تگ ودو دیکھ رہی ہے! ضمیر عالم بحر مردار میں غوطہ زن ہے۔ اسرائیلی کردار کا گھناؤنا پن اگر دیکھنا چاہیں تو اسے بیان کرتے بھی قلم کسمساتا ہے۔ یہ بہ کراہت بیان یوں کیا جارہا ہے کہ جس مغرب کی تقدیس وعظمت کے گن گاتے ہمارے مستغربین دم نہیں لیتے، وہ عیسائی یہودی دنیا کے یہی کردار ہیں جن سے ہم دن میں 32 مرتبہ سورۃ الفاتحہ میں پناہ کی دعا مانگتے ہیں۔ مغضوب وضالین۔ دنیا میں سیاسی، معاشی، اخلاقی، جنگی فساد انہی کے مرہون منت ہیں۔ 

دنیا میں بہت روشنیٔ علم وہنر ہے

حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات

 سو دیکھیے یہ کتنے مہذب ہیں۔ مغرب میں ہر جگہ لائن لگاکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ ہماری طرح کے ہڑبونگے نہیں ہیں۔ منظم اور منضبط ہوکر دنیا میں ترقی کی ہے انہوںنے۔ بحراحمر کی تفریح گاہ کے ایک کمرے میں 16 سالہ اسرائیلی لڑکی جو نشے میں دھت تھی، اس کی مدہوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 30 اسرائیلیوں نے کمرے کے باہرلائن لگاکر اسے باری باری تباہ کیا۔ جو اپنی ہم وطن، ہم مذہب کے حق میں درندے ہیں، فلسطینیوں کے ساتھ کون سا ظلم ہے جو انہوںنے روا نہ رکھا 72 سالوں میں؟ سنگینوں، میزائلوں تلے گزرتی زندگی، مسجد اقصیٰ کے تحفظ پر اپنے بیٹے قربان کرتے فلسطینیوں کا آخری سہارا یہ تھا کہ ایٹمی پاکستان، عرب دنیا، چلیے اشک شوئی ہی کے لیے، ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہتی تھی۔ 11/9 کے بعد مسلم ممالک امریکا کے اتحادی بن کر اپنے ہی مظلوموں کی بربادی میں جو حصہ دار بننے شروع ہوئے تو آج ہم آنکھیں پھاڑے اماراتی اسرائیلی معاہدے پر شاداں وفرحاں عرب ممالک کو دیکھ رہے ہیں، جو اب باری باری ایسے ہی معاہدوں کی تیاری میں ہیں۔ ٹرمپ نے اس معاہدے پر بغلیں بجاتے ہوئے مزید مسلم ممالک کے ایسے اقدام کی نوید سنائی ہے!اومان، بحرین، قطر، سوڈان متوقع ہیں اسی لائن میں لگے۔(اگرچہ عوامی دبائو اور امریکی اسرائیلی بدنیتی اس راہ میں حائل ہو رہے ہیں۔) اومانی وزیر خارجہ کی بات چیت ہوئی ہے اپنے اسرائیلی ہم منصب سے۔ یاد رہے کہ 2018ء میں سلطان قابوس مرحوم مسقط میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کرچکے۔ اماراتی فیصلہ یکدم تو نہیں ہوا۔ امریکی سفارتی خانے کی قدس منتقلی سے اسے اسرائیلی دارالحکومت تسلیم قبول کرلینا عربوں کا بالخصوص اور دنیا کے ہر مسلمان کے ایمان کا بالعموم امتحان تھا، لٹمس ٹسٹ تھا۔ اتنا بڑا پتھر پھینک کر جب دشمن نے لہریں گنیں تو نکی ہیلی (امریکی سفیر برائے یو این) نے کہا: ہم نے سمجھا تھا آسمان گر پڑے گا۔ مگر عرب لیگ میں معمولی سی بے چینی ہوئی اور بس! (اسی دوران سعودی عرب اور قطر نے امریکا سے اربوں ڈالر اسلحے کے معاہدے کیے!) سو اقصیٰ پر انبیاء کے قاتلوں اور مکذبین کا فائق تر حق امت نے قبول کرلیا۔ سسکی بھرے بغیر دستبرداری ہوگئی! 

ہم نے قبل ازیں کشمیر پر بیتے اس کرفیو اور بدترین حقوق سلبی کے ایک سال کے دوران اپنے امراء ممالک کی بے حسی، بلکہ بھارت کے ساتھ بے رحمانہ یک جہتی کو بھی دیکھا۔ مودی کے اعزازات اور امارات میں مندر کی تعمیر، بابری مسجد پر مندر کی شروعات ہمارے سامنے کی بات ہے۔ اس تابوت کا آخری کیل یہ اسرائیلی معاہدہ ہے۔ اس کی بنیاد تو 27 اکتوبر 2018ء کی ایک تصویر میں عیاں ہے۔ اسرائیلی ثقافت اور کھیلوں کی خاتون وزیر، اماراتی کھیلوں کی فیڈریشن کے صدر کا ہاتھ جس وارفتگی سے دبوچے ہوئے ہے اور صدر کی بدن بولی سراپا نیاز، ہمہ تن فدویت کی ہے۔ ’آنے والے دور کی ہلکی سی ایک تصویر دیکھ‘۔ آج وہ حقیقت بن چکی ہے۔ زیر زمین 10 سال کی محنت کا یہ پکا ہوا پھل ہے جو گریٹر اسرائیل کی تیاری میں ان کی جھولی میں جا پڑا ہے۔ اب دودھ کی رکھوالی پر اسرائیلی بلاّ لا بٹھایا ہے۔ سب سے پہلا دورہ امارات کا موساد چیف نے کیا ہے۔ امارات سے سیکورٹی کے میدان 

میں باہم تعاون پر بات چیت ہوئی! ایران کا ہوّا دکھادکھاکر۔ (بھچ کاگ، جو کھیت میں پرندے جانور بھگانے کو ڈراؤنا پتلا کھڑا کیا جاتا ہے) عرب دنیا کو امریکا نے اسلحہ خریدنے اور اسرائیل کے آگے گھٹنے ٹیکنے تک لے آنے پر اسی طرح گھیرا۔ اب اماراتی سیکورٹی کے لیے موساد خود چل کر آگئی! غنیمت ہے کہ سعودی عرب نے مسلم عوام کے ردعمل کا اندازہ لگاکر فی الوقت ایسے معاہدے کی نفی کا اعلان کیا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو سعودی مرکزیت کھو دیںگے۔ امت پہلے ہی عمر رسیدہ ملائشین مہاتیر (اگرچہ سیکولر ہیں) کو کشمیر اور فلسطین پر دوٹوک مؤقف کی بنا پر پسند کرتی ہے۔ خلافت عثمانیہ کے خواب آنکھوں میں سجائے اردوان کو دلچسپی اور امید بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے۔ جو جہاد کی بات کرتا بھی گھبراتا نہیں ہے۔ میئر استنبول کی حیثیت سے ایک ریلی میں اردوان نے ضیاء گوک الپ کی شاعری سناکر 4 ماہ جیل بھی کاٹی تھی: ’’ مسجدیں ہماری پناہ گاہیں ہیں، گنبد ہمارے خود ہیں، مینار ہماری سنگینیں ہیں اور اہل ایمان ہمارے سپاہی ہیں!‘ ‘ آیاصوفیا کی بحیثیت مسجد بحالی، نیز ایک مزید چرچ جو مسجد بنی تھی جسے اتاترک نے میوزیم بنایا، بحال کردیا بحیثیت مسجد! یہ واقعات ترکی کی وقعت بڑھانے کا کام کررہے ہیں۔ عرب وعجم کی تفریق اسلام نے ختم کردی۔ سلطان محمد فاتحؒ کو عرب دنیا نے بھی بے پناہ محبت دی۔ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ اقصیٰ پہلے عربوں کے ہاتھوں کھوئی گئی اور بازیابی عجمی صلاح الدین ایوبیؒ کے ہاتھوں ممکن ہوئی! اس وقت مسلم عوام کی نظریں اماراتی معاہدے کو دکھ سے دیکھ رہی ہیں۔ اب پومپیو بھی امارات کو دورے کا شرف بخشنے کو ہے۔ 

خود امریکا پر غیرمعمولی طور پر اللہ کا قہر بصورت گرج چمک کڑک برس رہا ہے۔ کورونا ابھی تھما نہیں۔ پوری ریاست کیلی فورنیا میں 20 ہزار مرتبہ آسمانی بجلی کے حملوں، گرمی اور خشکی اور غیرمعمولی طوفان نے مل کر گزشتہ 4 سالوں سے جو ریکارڈ آگ جنگلوں میں لگ رہی تھی، اسے بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سات لاکھ 71 ہزار ایکڑ جل کر خاکستر۔ گاڑھا دھواں، رہائشی بے گھر۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ ہے کہ عالمی وبا کے بیچ یہ نیا ’ٹیرر‘، دہشت کا سامان اٹھ کھڑا ہے۔ وائرس کے خوف پر آسمانی بجلی کے کڑکے اور آگ مزید دہلا رہی ہے۔ یہ بالاقساط اپنا بویا ہوا کاٹ رہے ہیں۔ افغانستان، شام، عراق، یمن میں اپنے آپریشنوں کو گرجتے کڑکتے نام دینے والوں کو آج خود اسی قہر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دھوئیں کا کمبل مزید 10 ریاستوں اور جنوب مغربی کینیڈا، بحرالکاہل تک کو ڈھانپ رہا ہے۔ بموں کے مشابہ آسمانی بجلی برس رہی ہے۔ مظلوموں کا بدلہ لینے کو ننھا کورونا بھی کم نہ تھا، اب یہ آسمانی مظاہر درپیش ہیں۔ ’اللہ کی پکڑ شدید ہے‘، ’اللہ نے انہیں گھیرے میں لے رکھا ہے‘ کی قرآنی وارننگ ہم بچشم سر دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے پاس گنجائش نہیں ہے گریٹر اسرائیل گیم کا حصہ بننے کی۔ یہ قبلۂ اول پر اکٹھ مغضوبین کی فہرست میں نام لکھوانا ہے۔ پاکستان کی سید احمد شہیدؒ تا قیام پاکستان کی ایمانی تحریک اس کی متحمل ہی نہیں ہوسکتی۔

  حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں


ای پیپر