کرپشن، سیاست، طاقت اور رعایت 
29 اگست 2020 2020-08-29

گزشتہ روز نون لیگ کے رُکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز شریف (قائد محترم) کی نیب لاہور پیشی پر وہی طوفان بدتمیزی برپا ہوا جو اکثر سیاستدانوں کی عدالتوں اور نیب وغیرہ میں پیشیوں پر ہوتا ہے، یہ ”پیشیاں“ بھی اب ایک ”پیشہ“ بن کر رہ گیا ہے، کوئی سیاستدان نیب یا کسی عدالت میں اپنی پیشی کے موقع پر طوفان بدتمیزی کا اہتمام نہ کرے، اُسے اپنے سیاستدان ہونے کا یقین ہی نہیں آتا، جیسے ہمارے اکثر حکمران، خصوصاً سول ودیگر اداروں سے وابستہ افسران کرپشن وغیرہ نہ کریں، یا اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کریں، انہیں اپنے افسر یا حکمران ہونے کا یقین ہی نہیں آتا، سو پاکستان میں اب سارے معاملات ”یقین“ پر چلتے ہیں، ”ایمان“ پر نہیں، ....وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کا ایک شراب کیس ان دنوں نیب میں چل رہا ہے، وزیراعلیٰ اِس معاملے میں فی الحال خود کو خودبخود ہی بے قصور قرار دے رہے ہیں، دوسری جانب نیب کی جانب سے اس کیس میں جو سوالنامہ اُنہیں یا اُن کے عزیزوں کو دیا گیا وہ ایک مختلف کہانی کی نشاندہی کررہاہے، ارشاد بھٹی کو دیئے گئے ایک ملاقاتی انٹرویو میں وزیراعلیٰ بزدار نے فرمایا ” اِس کیس کے حوالے سے حقائق جلد سامنے آجائیں گے ” اللہ کرے حقائق کو بدلنے کی کوئی سرکاری وحکمرانی کوشش کامیاب نہ ہوسکے، جو پاکستان میں اکثر بڑی آسانی سے ہو جایا کرتی ہے، ریکارڈ تک جل جایا کرتے ہیں ....بہرحال اس کے پیچھے مقاصد کچھ بھی ہوں، یہ اچھی روایت ہے اب حکمران سیاستدانوں پر بھی کیس بننا شروع ہو گئے ہیں، اُن کے کھاتے بھی کُھلنے لگے ہیں، اللہ کرے اِس سے بھی اچھی بلکہ سب سے اچھی روایت یہ شروع ہو جائے سیاستدانوں کے علاوہ بھی جنہوں نے کرپشن کی، خواہ وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں،اُن کے ”کھاتے“ بھی کھلنے لگیں، پہلے یہاں صرف اپوزیشنی سیاستدانوں کا ہی احتساب ہوتا تھا، یہ الگ سے ایک المیہ ہے پاکستان میں احتساب صرف پوچھ گچھ کی حدتک ہی ہوتا ہے، کسی کو اُس کے جرائم کی طویل فہرست کے مطابق کسی عدالت سے ایک معجزے کے طورپر سزا ہو بھی جائے دوسری عدالت سے ایک سانحے کے طورپر وہ ”باعزت بری“ ہو جاتا ہے، یا کم ازکم ضمانت پر رہائی اُس کا ”بنیادی حق“ ہوتا ہے، جب تک اِس ملک میں لُوٹ مار کرنے والوں کا بلاامتیاز کڑا احتساب نہیں ہوا (جس کی کوئی امید نہیں) تب تک کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، البتہ ”تبدیلی“ کے نام پر دھوکے دینے کا سلسلہ جاری رہے گا، .... وزیراعلیٰ بزدار نیب میں اپنی پیشی پر اپنے اکیلے جانے کے عمل پر فخر کرتے ہیں۔ اُن کے ایک وزیر نے کہا ”وہ چاہتے پوری کابینہ کو ساتھ لے جاتے “....اُنہوں نے اچھا کیا کابینہ کو ساتھ لے جانے کا ارادہ یا فیصلہ کرکے کچھ وزیروں کو کسی امتحان میں نہیں ڈالا، یہ تاثر قائم رہنا چاہیے پوری پنجاب کابینہ کو وزیراعلیٰ پر اندھا اعتماد ہے، .... ہم بھی اِس پر خوش ہیں چلیں اس طرح سے وزیر اعلیٰ بزدار کا دو سالوں میں کوئی کارنامہ تو سامنے آیا کہ وہ نیب میں پیشی کے لیے اکیلے گئے، اب کل کلاں کوئی وزیراعظم عمران خان سے یہ پوچھے ”دوبرسوں میں آپ کے”وسیم اکرم پلس“ کی کارکردگی کیا ہے؟“۔وہ کم ازکم یہ ”کارکردگی“ تو بتا ہی سکیں گے ”وہ نیب میں پیشی کے لیے اکیلے گئے تھے“ ....ویسے جتنی ہمارے محترم وزیراعظم ، وزیراعلیٰ بزدار سے محبت کرتے ہیں ہم یہ توقع کررہے تھے نیب میں اُن کی پیشی پر وہ خود اُن کے ساتھ جائیں گے ....جہاں تک وزیراعلیٰ بزدار کے اس کیس میں بے قصور ہونے کا تعلق ہے یہ اُن کا حق ہے، اپوزیشن کے کچھ سیاستدان بے قصور ثابت ہوسکتے ہیں تو وہ کیوں نہیں ہوسکتے؟،....پاکستان میں قانون کی مکمل گرفت میں صرف وہی آتا ہے جس کا کوئی والی وارث نہ ہو، جس کا کوئی ”سائیں“ نہ ہو، خصوصاً بڑی کرپشن کرنے والوں کا کڑے احتساب کی زد میں آنا اِس لیے ناممکن ہے، یہاں ”رشوت لیتے پکڑا گیا ہے، رشوت دے کے چھوٹ جا ”کا ایسا ” قابل فخر نظام “رائج ہے کہ پاکستان سے باہر جہاں جہاں رشوت لینے والے یا کرپشن کرنے والے کڑے احتساب کی زد میں آتے ہیں، خصوصاً جب اُنہیں سزائیں ملتی ہیں وہ سوچتے ہیں ”کاش وہ پاکستان میں پیدا ہوئے ہوتے“.... سو بزدار صاحب کے لیے اُسی طرح پریشانی یا خطرے کی کوئی بات نہیں جس طرح شریف برادران، زرداری، چودھری یا ترین اینڈ کمپنی کے لیے خطرے کی کوئی بات نہیں، .... میرے اخلاقیات مجھے وہ ”آف دی ریکارڈ“ کہانی بتانے کی اجازت نہیں دیتے دوماہ قبل میرے ساتھ ون ٹو ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کے بارے میں کیا کیا انکشافات کیے، تب ایک لمحے کے لیے مجھے یوں لگا وہ شریف برادران اور زرداری وغیرہ سے زیادہ کرپٹ ہے، اور سزاسے کسی صورت نہیں بچ سکے گا، .... اُصولی طورپر جس روز انکوائری کمیشن کی رپورٹ سامنے آئی تھی، جہانگیر ترین اُس میں قصور وار پائے گئے اُسی روز وزیراعظم کی جانب سے اُن کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم جاری ہونا چاہیے تھا، پر وہ مکھن سے بال کی طرح باہر نکل گئے، میرے پاس پورے شواہد کے ساتھ ایک کہانی ہے باہر جاکر ایک نیا سیاسی کھیل کھیلنے کی کیا کوشش اُنہوں نے کی، اور کس طرح اس میں ناکام ہوئے؟ مناسب وقت پر سب عرض کردوں گا، .... اب اگلے روز وزیراعظم نے کامران خان کو دیئے گئے انٹرویو میں اُن کے لیے نرم الفاظ استعمال کرکے جو پیغام ہمیں دینے کی کوشش کی، وہ ہم سمجھ گئے ہیں، اُس کے بدلے میں جہانگیر ترین نے تقریباً ویسے ہی نرم الفاظ وزیراعظم کے لیے استعمال کرکے جو پیغام ہمیں دینے کی کوشش کی وہ بھی ہم سمجھ گئے ہیں، کم ازکم مجھے اس پر ذرا حیرت اِس لیے نہیں ہوئی ہماری سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی شے کہیں دکھائی نہیں دیتی، اپنے اپنے مفادات کے مطابق اپنی باتوں سے مکر جانا، پھر جانا ہماری سیاست کا باقاعدہ ایک حصہ ہے، ہمارے سیاستدان ہمارے حکمران اُنیس بیس کے فرق سے تقریباً سب ”چارسو بیس“ ہیں، ممکن ہے جلد جہانگیر ترین واپس آکر وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کررہے ہوں، حتیٰ کہ ضرورت پڑنے پر یہ بھی ممکن ہے وزیراعظم عمران خان، شہباز شریف، بلاول زرداری اور مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کررہے ہوں، اِس ”منافقانہ عمل“ کا صفایا صرف ایک بیان میں ہوسکتا ہے ”ملکی مفاد میں سب کا اکٹھا ہونا ضروری تھا“،.... پر میرے خیال میں ابھی اِس کا وقت نہیں آیا، یہ فیصلہ اصل میں سیاسی قوتوں کے نہیں ”اصلی قوتوں“ کے کرنے کا ہے، اصلی قوتیں فی الحال کوئی فیصلہ اس لیے نہیں کر پارہیں اب اُنہیں احساس ہوگیا ہے جلدی میں کئے گئے بعض فیصلوں کا خود اُنہیں بھی نقصان ہوجاتا ہے، وہ یہ افورڈ نہیں کرسکتیں کسی اور کی گندگی مسلسل اُن کے کھاتے میں پڑتی رہے،یہ صرف اس ملک کے سیاستدان ہی افورڈ کرسکتے ہیں، اور جب تک کرتے رہیں گے صرف وہی گندے ہوتے رہیں گے۔ کب کسی کو لڑانا ہے، کب اکٹھے کرنا ہے؟ یہ ذمہ داری صرف اس ملک کی اصلی قوتوں کی ہے، سیاستدان صرف استعمال ہونے یا کرنے کے لیے ہی رہ گئے ہیں، ہم اس انتظار میں بھی ہیں کب مولانا طاہر القادری واپس آکر پرانے تماشے کو وزیراعظم عمران خان کے لیے نیا تماشا بنادے !!


ای پیپر