18ویں ترمیم اور خلیل جبران
29 اگست 2019 2019-08-29

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اٹھارویں ترمیم کا پاس ہونا اپنے زمانے کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔تیس سال سے ایک دوسرے کے خاف برسرپیکار قوتوں کا اکٹھا ہونا معجزہ سے کم نہیں تھا۔اس زمانے میں اس ترمیم سے حصہ لینے والی قوتوں کو کچھ نہ کچھ ضرور ملا تھا۔اس ترمیم کے آنے سے ضیا الحق کا نام آئین سے نکالا گیا۔دو مرتبہ سے زیادہ مرتبہ وزیر اعظم بننے کی پابندی ہوئی۔صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی سے اے این پی کادیرینہ مطالبہ پورا ہوا۔عدلیہ کی آزادی سے عدلیہ خوش تھی۔ فخر الدین جی ابراہیم کے فیصلے کے بعد ایک نگران وزیر اعظم بنا۔ اس ترمیم کے ذریعے 17ویں ترمیم ختم ہوئی۔ صوبوں کو قائد اعظم کے چودہ نکات کے مطابق خود مختاری ملی۔ اس ترمیم کے ہوتے ہوئے دو حکومتوں نے اپنی پانچ پانچ سال کی مدت پوری کی۔سب سے اہم بات تو یہ تھی کہ آصف علی زرداری جو اس زمانے میں صدر پاکستان تھے اور ان کے پاس ضیاء الحق جیسے اختیارات تھے انہوں نے کو خود اختیار چھورنے کا اعلان کیا۔ آصف علی زرداری نے پانچ اپریل کوپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا کہ وہ سب کچھ چھوڑنے والے ہیں ۔ دو اپریل2010 کو آئینی اصلاحات سے متعلق اٹھارویں ترمیم کا مسودہ بحث کے لئے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔۔ اس ترمیم میں منتخب حکومت کو تحلیل کرنے اور فوجی سربراہوں کی تقرر جیسے اختیارات واپس لینے کی سفارشات کی گئی ہیں۔ اور یہ اختیارات وزیر اعظم کو دینے کی سفارش تھی ۔اس آئینی ترمیم کے پاس ہونے تک جس کو سب سے زیادہ یاد کیا جائے گا وہ سینٹر رضا ربانی تھے ۔آئینی اصلاحاتی کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رضا ربانی نے اٹھارویں ترمیم کا مسودہ سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کو پیش کرتے ہوئے اسے جمہوری قوتوں کی فتح قرار دیا، اس موقع پر پاکستانی قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اصلاحاتی کمیٹی کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں جو ہدف سونپا گیا تھا اس کو احسن طریقے سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا گیا ہے،یہ ایک ایسی ترمیم تھی جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔ آصف زرداری نے اس ترمیم کو یاد گار بنانے کے لیے ایوان صدر میں ایک تقریب بھی منعقد کی ۔ جس میں تمام بڑی پارٹیوں کے رہنما موجود تھے۔اس ترمیم کے بعد بہت سے اختلافات شروع ہوئے مگر یہ پاور پولیٹکس تھی۔سپریم کورٹ میں اس ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی پٹیشن آئی تو سپریم کورٹ نے بھی اس پر اپنی مہر ثبت کر دی۔اس کے باوجود دو حریف جماعتوں کے دورمیںسیاست کا کھیل شروع ہو گیا۔ نواز شریف سیاسی جنگ جیت کر تیسری مرتبہ وزیر اعظم بن گئے ، اور اپنی پسند کا صدر پاکستان ممنون حسین بھی آگئے۔ صدر پاکستان کا کام اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ وہ سیاسی بحران میں اپنا کردار ادا کر سکے۔اب صدر پاکستان اس وقت تنازعہ کی زد میں ہیں جب انہوں نے الیکشن کمشن کے دو ممبران کی خالی سیٹوں پر حکومت کی پسند کے دو ارکان کو نامزد کرکے اپنے اختیارات استعمال کرکے تنازعہ شروع کر دیا۔ یہ اس وقت شروع ہوا جب اپوزیشن جماعتوں نے فوجی عدالتوں قائم کرنے کے اختیارات فوج کو دینے سے انکار کردیا۔ عمران خان کی حکومت کے پاس آئین میں ترمیم کرنے کے نمبر نہ تو قومی اسمبلی میں ہیں اور نہ سینٹ میں ہیں۔ جب صدر پاکستان نے دو ممبران کا ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تو چیف الیکشن کمشن نے ان ارکان کی تعیناتی کو غیر آئینی سمجھتے ہوئے ان سے حلف لینے سے انکار کر دیا۔یہ حکم صدر پاکستان کے لیے مشکل کا باعث بن سکتا ہے۔ قاضی فائز عیسی ٰ نے بھی اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے اس پٹیشن میں بھی صدر پاکستان کو فریق بنایا گیا ہے۔اب یہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے آگیا ہے اور پٹیشن بھی قابل سماعت قرار دی جا چکی ہے ۔ حکومت نے ایک سال کے اندر قومی زندگی کے جو اشاریے تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا تھا اس میں ایک بھی پورا نہیں ہو سکا سارا زور اس پروپیگنڈے پر یہ کہ سیاست کے دو خاندانوں کے خلاف پورے زور سے ایک طرفہ احتساب کیا جا ئے۔اس ایک سال میں عام آدمی کے ساتھ جو بیت چکی ہے ۔اس کی کسی حکمران کو کوئی پروا نہیں ہے گزرے ایک سال میں گھریلو اخراجات میں ساڑھے سترہ فیصد اضافہ ہو چکا ہے قیمتوں کے ہوشربا اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی جیب پر مہنگائی کا بوجھ 24.87 فیصد پڑا ہے۔ایک سال میں گیارہ ارب ڈالر کا قرضہ لیا جا چکا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے ایک سال میں نہیں لیا ۔ایک سال میں تاریخی بجٹ خسارہ ہے۔ ڈالر اور سونے کی قیمتیں بڑھی ہیں۔ ایف بی آر کے اقدامات اتنے ناقص ہیں کہ ایک ماہ میں سات سو گیارہ ارب روپے لوگوں نے بینکوں سے نکلوا لیے ہیں ۔ کشمیر کا سوال حکمرانوں سے جواب مانگ رہا ہے کہ آپ کی خارجہ پالیسی کیا ہے۔ا ن حالات میں حکومت رائج سیاست کو نہیں بدل سکتی۔ جس کو یو ٹرن کہا جارہا ہے وہ ہمارے وزیر اعظم کے لیے اچھا ہو سکتا ہے۔ عوام سے تو جھوٹے وعدے ہیں ۔ ہمارے ملک کی سیاست پر ایک صدی پہلے کے خلیل جبران کے خیالات غالب آتے ہیں۔

’’قابل رحم ہے وہ قوم جس کے پاس عقائد تو ہوں دین نہ ہو

قابل رحم ہے وہ قوم جو جابر کو بہادر سورما مانے اور جسے ہر جگمگاتا ہوا فاتح خوب صورت نظر آئے

قابل رحم ہے وہ قوم جواپنی آواز صرف اسوقت اٹھائے جب وہ جنازے کے پیچھے چلے یا پھانسی کاپھندہ اس کے گلے میں پڑ جائے

اور جس کے مردان جری ہنوز عالم طفلی میں ہوں

قابل رحم ہے وہ قوم جو ٹکروں میں بٹی ہواوراس کا ہر ٹکرا اپنے آپ کو قوم سمجھے‘‘

یہ سنہرے اقوال لبنانی نثراد امریکی شاعر اور مصنف خلیل جبران کے ہیں ۔


ای پیپر