ایک ممکنہ حل مکمل آ زاد کشمیر
29 اگست 2019 2019-08-29

پہلے تو اس خبر کا جا ئز ہ لیتے ہیں جس کے مطا بق پا کستا ن کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گویٹرس سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، انہیں مقبوضہ جمو ںو کشمیر میں بھارتی یکطرفہ اقدامات کے بعد وادی اور خطے کی مخدوش صورتحال سے آ گاہ کیا۔ ان کی توجہ مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیوں کی طرف دلائی اور کہا کہ کشمیریوں کی جانیں بچانے کے لیے عالمی ادارے اور دنیا کو آ گے آ نا ہوگا۔ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ اس تشویشناک صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ معزز قا رئین، کیا اس خبر سے تو یہ سوا ل اٹھتا ہے کہ اقوا مِ متحد ہ کے نز دیک آ خر اس کا کر دا ر کیا ہے۔ یہ کو نسی ایسی را کٹ سا ئینس ہے جس کے لئے سیکر ٹر ی جنرل ، جنا ب ا نٹو نیو گو یٹرس سے نے فعل مستقبل جا ری کا صیغہ کچھ یو ں استعما ل کیا ہے گو یا اقو ا مِ متحد ہ اپنا کر دار تا ابد ادا کر تا رہے گا۔ تو یہ ہے کشمیر کے معا ملے میں دنیا کی اقوا مِ متحد ہ کی سنجید گی کا عا لم! جب کہ پا کستا ن کے وز یرِ اعظم عمرا ن خا ن اور امر یکہ کے صد ر ڈونلڈ ٹرمپ کا و ہا ئٹ ہا ئو س میں ہو نے وا لی میٹنگ میں مشتر کہ مو قف ہے کہ کشمیرکے مسئلے کا حل وہا ں کے ر ہا ئشی کشمیر یو ں کی ا منگو ں کے مطا بق ہو نا چا ہیے۔ یہ ایک ایسا سا دہ، آ سا ن اور منصفا نہ حل ہے جسے آ ج کی دنیا میں کہیں بھی بسنے والے اوسط در جے کی سمجھ بو جھ ر کھنے والے ہر انسان کی تا ئید حا صل ہے۔ یعنی آ ج کے آ زا د کشمیر اور بھا رت کے ز یرِ تسلط کشمیری اس حق میں فیصلہ دیں کے ان کا ملک ایک خود مختار ملک ہو تو ان کی را ئے کا احترا م کیا جا نا چا ہیئے۔ اب ا گر ہم ا قوا مِ متحد ہ کے سیکر یڑ ی وا لی خبر کی جا نب لو ٹیں تو یہ عر ض کر نا مقصو د ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو تو کسی صورت مقبوضہ کشمیر میں جاری استبدادی صورتحال سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے کہ اسی ادارے کی سلامتی کونسل نے ستر سال قبل تنازع کشمیر کے حوالے سے قراردادیں منظور کی تھیں۔ یہ الگ بات کہ ان قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اس فورم سے کبھی کوئی ٹھوس کوشش ہوتی نظر نہیں آ ئی۔ لیکن اب جبکہ وزیرخارجہ نے ان کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری صورتحال کی جانب مبذول کرائی ہے تو ہی انہیں کچھ حرکت میں آ نا چاہیے اور اس حوالے سے اپنی سرگرمیوں کو محض بیانات تک جاری کرنے تک محدو نہیں رکھنا چاہیے۔ وہ اس حقیقت سے یقینا بے خبر نہیں ہوں گے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ عالمی سطح پر امن قائم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اب جبکہ ایک متنازع علاقے کو بھارت نے یکطرفہ طور پر ایک آ رڈیننس کے ذریعے یونین کا حصہ بنالیا ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس نے نہ تو بین الاقوامی قوانین کا کچھ لحاظ کیا ہے، نہ سفارتی آ داب کاخیال رکھا ہے اور نہ اقوام متحدہ کی قرارادوں کی پاسداری ہی کی ہے تو ایسے حالات میں اقوام متحدہ کو فوری طور پر حرکت میں آ نا چاہیے تھا، لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آ تا۔ حتیٰ کہ جب پاکستان نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی استدعا کی تو بھی معاملات کو صلاح مشورے، تجاویز اور بیانات تک محدود رکھا گیا۔ بہرحال اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستانی مندوب کی نیوز کانفرنس کا ذکر کیا گیا، جس میں ملیحہ لودھی نے کہا تھا کہ اجلاس میں بھارتی موقف کی نفی ہوئی ہے کہ کشمیر اس کا اندرونی مسئلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ثابت شدہ بات ہے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے تو پھر عالمی برادری کی جانب سے اس بارے میں مزید کچھ کیوں نہیں کیا جارہا جبکہ کشمیری عوام مسلسل کرفیو کی وجہ سے 25دن سے محصور ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں ہیں نہ ہی ادویات۔ اگر یہ صورتحال مزید جاری رہی تو مقبوضہ کشمیر میں کوئی انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ کیا عالمی برادری اسی کے انتظار میں ہے؟ صورتحال کی گمبھیرتا کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 350 پاکستانی خواتین بھی پھنسی ہوئی ہیں اور امداد کی منتظر ہیں۔ یقینا دوسرے علاقوں کے لوگ بھی وہاں پھنسے ہوئے ہوں گے۔ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کا باقی دنیا سے رابطہ اس طرح منقطع کر رکھا ہے کہ بھارتی کانگریس کے سابق سربراہ اور بھارتی اپوزیشن کے اہم رہنما راہول گاندھی کو بھی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور انہیں سری نگر ایئرپورٹ سے ہی زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ کانگریسی رہنما کا کہنا ہے کہ کشمیر کے حالات ٹھیک نہیں۔ وہاں جو کچھ ہورہا ہے، اسے سن کر تو پتھر بھی رو پڑے۔ لیکن حیرت کا مقام ہے کہ بھارتی حکومت کی مقبوضہ کشمیر میں تمام تر استبدادی سرگرمیوں اور اقدامات کے باوجود عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور احتجاج صرف عوامی سطح پر ہی ہورہے ہیں۔ بہرحال حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ اس خاموشی کو توڑا جائے اور سب سے پہلے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کرفیو ختم کرایا جائے تاکہ وہاں زندگی بحال ہوسکے اور اس کے بعد مقبوضہ کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ بنائے جانے کا فیصلہ واپس کرانے کے لیے کوششیں ہونا چاہئیں تاکہ کشمیری عوام کو انصاف اور سہولت میسر آ سکے اور وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے قابل ہوسکیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری استبدادی اقدامات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہاں مودی حکومت کی جانب سے کوئی ایسا آ پریشن سٹیج کیا جاسکتا ہے، جس کو بنیاد بنا کر بھارت لائن آ ف کنٹرول، ورکنگ بائونڈری یا بین الاقوامی سرحد پار کر سکے۔ اس خدشے کا اظہار وزیراعظم جناب عمران خان پچھلے دنوں کرچکے ہیں۔ عالمی برادری کواس معاملے پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔ کیونکہ ایٹمی صلاحیت کے حامل ممالک کے مابین چھوٹا سا تصادم یا کوئی غلط فہمی بھی ایک بڑی جنگ کے لیے راہ ہموار کرسکتی ہے۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ پاک فوج کسی بھی نوعیت کی جارحیت سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور آ رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مشرقی سرحدوں پر موجود خطرے سے آ گاہ ہیں اور کسی بھی مس ایڈونچر کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ امسال فروری میں پاک فوج نے اپنی تیاریوں کا ایک نمونہ بھارتی فوج اور حکومت کو دکھادیا تھا اور ان تیاریوں کو دیکھ کر بھارت ہمت تو نہیں کرے گا کہ کوئی مس ایڈونچر کرے لیکن اگر اس نے ایسا کیا تو پہلے سے بڑے سرپرائز اس کے منتظر ہوں گے۔ آ رمی چیف نے یہی پیغام دیا ہے۔ بہرحال مقبوضہ کشمیر کے حالات پر عالمی برادری کو توجہ دینا چاہیے اور اقوام متحدہ کو بیانات سے آ گے بڑھ کر کچھ ٹھوس عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ وہاں کے عوام کو انصاف مل سکے۔


ای پیپر