کیا دنیا کشمیریوں کی اجتماعی قبروں سے آگاہ نہیں؟
29 اگست 2019 2019-08-29

مقبوضہ کشمیر میں 24 روز بعد بھی کرفیو برقرار ہے اور وادی کا بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل منقطع ہے۔ مقبوضہ علاقے میں ہر طرف بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ سخت کرفیو اور پابندیاں نافذ ہیں۔ گویا وادی ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ کشمیری کرفیو اور فوج کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے روزانہ مظاہرے کر رہے ہیں ۔ سخت محاصرے کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاء، بچوں کی غذاء، ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ وادی ایک بڑے انسانی بحران سے دوچار ہے۔

مودی سرکار نے سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے کرفیو کے دوران شہید کئے گئے کشمیریوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے تاکہ کشمیر میں ہونے والی ہولناکی کے ثبو ت دنیا کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ بھارت فوج نے تمام ہسپتالوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مظاہروں کے دوران شہیدہونے والے کشمیریوں کو ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری نہ کئے جائیں اور ہسپتال آنے والے زخمیوں کو داخل کرنے کی بجائے ابتدائی طبی امداد دے فوراً فارغ کر دیا جائے۔

5 اگست کے بعد عملاً کشمیروادی کے معاملات فوج کے ہاتھ میں دے دیئے گئے ہیں۔ مقامی پولیس کو دیوار کے ساتھ لگا دیا گیا ہے۔ مسلمان اور سکھ پولیس والوں سے ہتھیار لے لئے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے ہی افسران کو گولی نہ مار دیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ہندو انتہا پسند جماعت آر ایس ایس نے کام دکھانا شر وع کر دیا ہے۔ وادی میں خوف و ہراس پھیلانے کیلئے قتل، اغواء اور عصمت دری کی وارداتیں کی جا رہی ہیں۔

معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے بھی کشمیریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے مظالم کا پول یوں کھولا کہ وادی میں کمیونیکیشن بلیک آؤٹ کی وجہ سے کشمیری اپنے پیاروں کی خیریت دریافت کرنے سے بھی عاجز ہیں۔ گرفتار افرادکی تعداد کا بھی علم نہیں۔ مقبوضہ وادی کی صورتحال روزبروز ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ کشمیری نژاد امریکی عہدیدار نے اپنے سرینگر کے حالیہ دورے کو بھیانک اور خوفناک قرار دیا۔واشنگٹن میں فیڈرل پراسیکیوٹر کی حیثیت سے کام کرنے والی مونا صدف نے 5 سے16 اگست تک اپنے آبائی شہر سرینگر کا دورہ کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں اور ان کے بیوی بچوں کے ساتھ رکھے گئے سلوک پر غصہ بھی آیا اور مایوسی بھی ہوئی۔ سرینگر ایئر پورٹ سے باہر آتے ہی مجھے فوج نے گھیرے میں لے لیا میں اور میرے بچے اس کے لئے ذہنی طور پر تیار نہیں تھے ۔ہم اپنے گھر سے باہر نہیں جا سکتے تھے۔ بھارتی فوجی بچوں اور بوڑھوں کو نیچے لٹا کر ان کے اوپر کھڑے ہو جاتے ہیں جو انسانیت کی تذلیل ہے۔ سرینگر ایک قبرستان جیسا منظرپیش کر رہا تھا۔

اب تک جو بھی کشمیر گیا ہے اس نے ریاست کے حالات کے متعلق جہنم کا نقشہ ہی کھینچا ہے اور کانگرس کے صدر راہول گاندھی سے لے کر اْن تمام رہنماؤں تک نے جو اْن کے ساتھ سری نگر ایئر پورٹ تک چلے گئے تھے اور انہیں کشمیر میں جانے نہیں دیا گیا۔ایک ہی بات کہی کہ کشمیر کی صورت حال بہت خراب ہے اور بڑے انسانی المیے کا خطرہ ہے۔ کرفیو کی خلاف ورزی پر اب تک دس ہزار سے زیادہ کشمیر ی گرفتار ہو چکے ہیں اگر صورتِ حال قابو میں ہوتی تو اتنے طویل کرفیو کی ضرورت نہ تھی،نہ وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کرنا ضروری تھا۔ دنیا میں شاید ہی کسی علاقے میں اتنے طویل عرصے کے لئے کرفیو نافذ کیا گیا ہو۔

ان حالات میں وادی میں موجود فوج اور حکومتی اہلکاروں میں صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ہے اور فوج اور بیورو کریسی میں بغاوت کی سی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے مظالم بے نقاب کرتے ہوئے نوجوان بیوروکریٹ کنن گوپی ناتھ نے احتجاجاً یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جو کر رہا ہے اس کا مقصد انسانی جانوں کا تحفظ نہیں۔ کشمیریوں سے حق رائے آزادی چھینا جا رہا ہے۔ جمہوریت میں ہم کسی شہری کے حقوق غصب نہیں کر سکتے۔جموں و کشمیر میں بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ۔

وزیر اعظم آزادی کشمیر فاروق حیدر جو آج کل امریکہ کے دورے پر ہیں، کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک کی حمایت کے بغیر بھی ہم کشمیر کی آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ کشمیر کی آزادی کیلئے صرف پاکستان کی حمایت ہی کافی ہے اور وہ ہمیں حاصل ہے۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ایک پرامن تحریک ہے جس میں بھارت نے ظلم و ستم کا رنگ بھرا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے ماہرین کو داخلے کی اجازت دینے کا کہا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹر نے مودی سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں حالات کو کنٹرول کرنے اور کشمیریوں کو ان کا حق دینے کا مطالبہ کیا ۔

اب تک تو سات لاکھ سفاک بھارتی فوجی سرعام کشمیریوں پر کیمیائی ہتھیار اور پیلٹ گنوں سمیت مہلک اسلحہ استعمال کررہے تھے ، کشمیریوں نے جس طرح اپنی آزادی کی تحریک کو بھارت کے خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے بعد مہمیز دی ہے اس پر بھارت بوکھلا گیا ہے۔ کشمیریوں کی تحریک کو کچلنے کیلئے اس نے مزید فوج وادی میں بلالی جس کی تعداد نو لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے مگر کشمیری ان مظالم کو بھی خاطر میں نہیں لا رہے۔کرفیو اور پابندیوں کے باوجود انہوں نے بھارتی فوج کی ناک میں دم کررکھا ہے۔قابض فوج کشمیر کے کاروباری رہنمائوں، انسانی حقوق کے ورکرز، منتخب نمائندوں، اساتذہ اور 14 سال تک کے طلبہ کو رات کی تاریکی میں گھروں سے اٹھا رہی ہے۔ انہیں فوجی طیاروں میں بھر بھر کر بھارت کے دوسرے شہروں کی جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔قبوضہ وادی میں بھی فورسز کے ٹارچر سیل موجود ہیں جن میں کشمیریوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر گڑھوں میں پھینک کر مٹی ڈال دی جاتی تھی جسے اجتماعی قبروں کا نام دیا گیا ہے جس سے پوری دنیا آگاہ ہے۔

سلامتی کونسل نے بھی اپنے اجلاس میں کشمیر کو متنازع مسئلہ ضرور قرار دیالیکن اس سے آگے بڑھ کر کوئی عملی اقدام اٹھانے کی ضرورت محسوس نہ کی اور نہ ہی نیو کلیئر فلیش پوائنٹ کی سطح تک گئے ہوئے حالات کو معمول پر لانے کی کوئی تجویز سامنے آئی۔آج تک عالمی برادری اور سلامتی کونسل کی طرف سے کشمیریوں کے حوالے سے بے حسی کا مظاہرہ ہی کیا گیا۔ اب انسانیت کیخلاف بھارت کے اقدامات پر عالمی برادری کی خاموشی مجرمانہ ہوگی۔ عالمی برادری آخری کشمیری کی شہادت کا انتظار کرنے کے بجائے کشمیریوں کی پکار سنے۔


ای پیپر