پنجاب حکومت نے کشمیر فتح کر لیا!
29 اگست 2019 2019-08-29

مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے اور کشمیریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم کو روکنے کے لئے پنجاب حکومت نے ایک بڑا ’‘ کارنامہ“ یہ کیا پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے ایک انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے ” کشمیر انڈر پاس“ رکھ دیا۔ پہلے یہ انڈر پاس معروف صحافی حامد میر کے والد اور پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کے اُستاد وارث میر مرحوم سے منسوب تھا۔ ممکن ہے کشمیر فتح کرنے کے اِس معاملے میں پنجاب حکومت کو ” وزیر اعظم پنجاب “ عمران خان کی آشیر باد بھی حاصل ہو۔ مگر ” کارنامہ“ یہ خوب ہوا ہے۔ ہندوستان کو مزا چھکانے کے لئے اِس سے بہتر ”کارنامہ“ اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ سو اب کل کلاں دنیا ہم سے یہ باز پُرس کرے کہ ” کشمیر بنے گا پاکستان“ کا نعرہ بلند کرنے والے لاکھوں کشمیریوں کو ہندوستانی دہشت گردی سے بچانے کے لئے پاکستان نے کیا کردار ادا کیا تھا؟ یا مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لئے پاکستانی حکومت نے کیا کاوشیں کی تھیں؟ تو ہمارے محترم وزیر اعظم خان صاحب اور اُن کے ” قابل“ وزیر اعلیٰ بزدار صاحب سینہ تان کر یہ کہہ سکتے ہیں ” ہم نے اپنے ایک انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کشمیر انڈر پاس “ رکھ دیا تھا۔.... نام تبدیل ہونے سے ظاہر ہے مرحوم وارث میر یا حامد میر کو تو کوئی فرق نہیں پڑا، مگر اِس سے ہمارے موجودہ حکمرانوں کے بارے میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگیا کہ وہ بھی اُتنے ہی کم ظرف ہیں جتنے سابق حکمران تھے۔ بلکہ موجودہ حکمران اب اِس دوڑ میں آگے نکلتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں۔ اللہ جانے کیوں ہمارے سیاستدان جب حکمران بنتے ہیں اُن کے اندر کی چھپی ہوئی تمام خرابیاں خصوصاً تمام کم ظرفیاں اُچھل اُچھل کر باہر آنے لگتی ہیں۔ .... کشمیر کا مسئلہ اتنا بڑا اور اتنا اہم ہے کہ محض چھوٹے سے ایک انڈر پاس کو کشمیر کے نام سے منسوب کرنا میرے نزدیک اِس مسئلے کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہے۔ میں اگر حکمران ہوتا اسلام آباد کا نام بدل کرکشمیر آباد“ رکھ دیتا کہ ” اسلام “ کا مسئلہ تو اب تک ہم سے حل نہیں ہوا۔ ممکن ہے اِس سے کشمیر کا مسئلہ ہی حل ہو جاتا۔ نہ بھی حل ہوتا دُشمن ملک کو اِس کی مرچیں بہت لگنی تھیں۔ محض ایک انڈر پاس کا نام کشمیر سے منسوب کرنے کا کارنامہ اُس سردار جی جیسا ہے جِسے اُن کے بیٹے نے ” رن مرید“ ہونے کا طعنہ دیا تو جواباً سینہ تان کر وہ بولے ” تمہیں یاد نہیں ایک بار تمہاری ماں چِمٹا لے کر مجھے مارنے کے لئے میرے پیچھے بھاگی تھی تو میں گھر سے بھاگ بھی تو گیا تھا“۔.... بیوی کی مار سے بچنے کے لئے اپنے گھر سے بھاگنے کے عمل کو سردار جی نے جس طرح اپنی ” بہادری“ کے طور پر پیش کیا ویسے ہی ہماری پنجاب سرکار وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کشمیر انڈر پاس رکھنے کے عمل کو مسئلہ کشمیر کو دنیا میں اُجاگر کرنے کے طور پر پیش کر سکتی ہے۔.... کچھ لوگوں کے خیال میں اِس انڈر پاس کو وارث میر مرحوم کے نام سے منسوب کر کے اصل میں سابقہ شریف حکمرانوں نے اپنے پسندیدہ صحافی حامد میر کو نوازنے کی یا خوش کرنے کی کوشش کی تھی۔ ممکن ہے یہ تاثر درست ہو۔ مگر میرے نزدیک مرحوم وارث میر دلیرانہ کردار کے مالک ایک اُستاد تھے جس پر چھوٹے سے ایک انڈر پاس کو میرٹ پر بھی اُن کے نام سے منسوب کیا جاسکتا تھا۔ ممکن ہے سابقہ حکمرانوں کی اِس ” نوازش“ یا ” شہبازش“ میں مرحوم وارث میر کے ” کشمیری“ ہونے کا عمل دخل بھی ہو۔ شریف برادران بھی کشمیری تھے۔ کہا جاتا ہے کشمیریوں کی نانی سانجھی ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے اِس سانجھی نانی کے رشتے کی لاج رکھنے کے لئے اس انڈر پاس کا نام وارث میر انڈر پاس رکھ دیا گیا ہو۔ .... بہر حال اِس انڈر پاس کا نام تبدیل کرنے سے موجودہ سرکار کی نیک نامی میں اضافہ نہیں، کمی ہوئی ہے۔ مجھے یقین ہے شریف برادران یا اُن کے بچے کھچے دوبارہ اقتدار میں آگئے اِس کا نام دوبارہ ” وارث میر انڈر پاس “ رکھ دیا جائے گا۔ یا یہ ” واپسی“ اِس صورت میں بھی ہوسکتی ہے حامد میر موجودہ سرکار کے ساتھ اپنے تعلقات ٹھیک کر لیں۔ یا پھر اِس ملک کے اصل حکمرانوں یا اصل وارثوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بند کر دیں۔.... پچھلے دور میں فیروز پور روڈ کے ایک انڈر پاس کو ہمارے ایک نامور دانشور اشفاق احمد کے نام سے بھی منسوب کیا گیا تھا۔ شکر ہے اشفاق احمد کا کوئی صاحبزادہ سرکار مخالف صحافی وغیرہ نہیں ہے ورنہ اُن کے نام سے منسوب انڈر پاس کا نام بھی تبدیل کر کے مراد سعید انڈر پاس یا زلفی بخاری انڈر پاس رکھ دیا جاتا۔ .... البتہ وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کشمیر انڈر پاس رکھنے کی ”چالاکی “ پر سرکار داد کی مستحق ہے کہ کشمیر کے نام پر اعتراض ظاہر ہے ذرا کم ہوگا۔ اِس انڈر پاس کو کشمیر کے نام سے

منسوب کرنے کا فیصلہ اِس حوالے سے بھی اچھا خاصا ” دانشمندانہ“ ہے کہ پنجاب کی موجودہ حکومت کے کارناموں کی جب تفصیل یا تاریخ لکھی جائے گی تو اُس میں سنہری حروف سے لکھا جانے والا ایک کارنامہ ہی ہوگا کہ ” اِس حکومت نے ایک انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کشمیر انڈر پاس رکھ دیا تھا“۔ اِس کارنامے کے بعد کشمیر اگر بھارتی تسلط سے آزاد ہوگیا تو اگلے مرحلے میں ایک اور انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے ”مشرقی پاکستان“ انڈر پاس رکھ دیا جانا چاہئے۔ ممکن ہے اِس کے نتیجے میں ہمارا کھویا ہوا پاکستان ہمیں واپس مل جائے۔ اور اس حوالے سے جنرل نیازی پر جو داغ لگا ہوا ہے اُس کا کچھ ازالہ ہوجائے۔ اِس کا کریڈٹ یقیناً وزیر اعظم عمران خان کو ہی جائے گا کہ ایک نیازی کی وجہ سے پاکستان چھن گیا تھا‘ دوسرے کی وجہ سے واپس مل گیا۔.... اصل میں ہماری پنجاب سرکار کے پاس انڈر پاسز کے نام تبدیل کرنے کے اتنے بڑے بڑے منصوبے ہیں کہ اُن کے مقابلے میں صحت، تعلیم اور نظام عدل وغیرہ کو ٹھیک کرنے کے منصوبے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ ممکن ہے اب وزیر اعلیٰ بزدار یا اُن کی طرح کے اُن کے کسی ترجمان سے کوئی یہ پوچھے ” سرکاری ہسپتالوں میں پرچی کی فیس دس روپے سے بڑھا کر سو یا دوسو روپے کیوں کر دی گئی ہے تو آگے سے سیخ پا ہو کر وہ جواب دے ” اوہ بھائی تمہیں نظر نہیں آتا ہم نے وارث میر انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کشمیر انڈر پاس رکھ دیا ہے“۔ یا کوئی یہ سوال کرے ” حضور وعدے کے مطابق پاکستان میں پولیس اصلاحات اب تک کیوں نافذ نہیں ہوسکیں؟“ تو جواب میں وہ یہ فرمائے ” اوہ عقل کے اندھے تمہیں دیکھائی نہیںدیتا ہم نے ایک انڈر پاس کا نام تبدیل کر کے کتنا بڑا کارنامہ کیا ہے؟؟؟“ ہوسکتا ہے پنجاب کے وزیر اعلیٰ بزدار یا اُن کی عقل کے کسی اندھے نے یہ سوچا ہو ” ہم نئے انڈر پاسز بنانے کے قابل تو ظاہر ہے نہیں کیوں نہ پرانے انڈر پاسز کے نام تبدیل کرنا شروع کر دیں‘ اِس سے انڈر پاسز نئے ہونے شروع ہوجائیںگے، اور ہم اِس قابل ہو جائیں گے اِن ” نئے انڈر پاسزکے نئے سرے سے افتتاح کرنا شروع کر دیں۔ .... وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو چاہیے بسم اللہ کریں ابتدائی طور پر نئے کشمیر انڈر پاس کا افتتاح کرنے کا اعزاز حاصل کریں۔ بلکہ اِس نئے انڈر پاس پر کشمیر کا پرچم لہرا کر یہ اعزاز بھی اپنے نام کر لیں کہ کشمیر اُنہوں نے آزاد کروایا تھا۔ اُنہیں چاہیے یہ کام وہ جلدی جلدی کر لیں کیونکہ ایک اور یوٹرن کے نتیجے میں حامد میر کے لئے دِل میں دوبارہ جگہ پیدا ہو سکتی ہے!!


ای پیپر