کارکردگی دکھائیے سفلہ پن نہیں
29 اگست 2018 2018-08-29

اس جانے پہچانے اصول کی اثابت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور عملی اخلاقیات بھی متقاضی ہے کہ کسی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے سو دن تک اس کے کاموں پر انگشت نمائی نہ کی جائے کارکردگی کو ہدف تنقید نہ بنایا جائے۔۔۔ اسے اپنا ایجنڈا لے کر آگے چلنے کا پورا موقع دیا جائے۔۔۔ عمران خان کی حکومت کو زمام کار سنبھالے جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے۔۔۔ خیبر پختونخوا کی کابینہ نے ابھی کل حلف اٹھایا ہے۔۔۔ وفاقی اور پنجاب و بلوچستان کابینہ کے اراکین مبارکبادیں وصول کرنے سے فارغ نہیں ہوئے۔۔۔ پنجاب کے 23 میں سے 8 وزراء کو حلف لے لینے کے باوجود ابھی تک معلوم نہیں کہ انہیں کون سے محکمے تفویض کیے جائیں گے۔۔۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ محترمہ سے فیصلہ نہیں ہو پا رہا انہیں مستقل رہائش بنی گالہ میں ہی رکھنی ہے یا اعلان کے مطابق وزیراعظم ہاؤس میں ملٹری سیکرٹری کے لیے مخصوص رہائشی یونٹ کے اندر۔۔۔ خان صاحب گھر سے دفتر اور واپسی بذریعہ ہیلی کاپٹر سفر کے جھنجھٹ میں پڑے ہوئے ہیں۔۔۔ وفاقی کابینہ کے ابھی دو تین اجلاس ہوئے ہیں جن فیصلوں کا اعلان ہوا ہے انہوں نے نتائج دکھانے ہیں۔۔۔ اس عالم میں حکومت کی کارکردگی پر رائے دینا اور وہ بھی منفی یا طنز و تشنیع سے بھری ہوئی۔۔۔ زیادتی کی بات ہے۔۔۔ ہتھ ہولا رکھنا چاہیے۔۔۔ داناؤں کے مقولے تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔۔۔ مگر اس کا کیا کیجیے نئی حکومت کے سرکردہ ارکان مضحکہ خیز حرکتوں اور ایک وزیر صاحب شاندار کیریئر رکھنے والے سینئر افسروں کے ساتھ بد کلامی پر اتر آئیں تو سر منڈلاتے ہی اولے تو پڑیں گے۔۔۔ پاکپتن میں خاتون اول کے سابق شوہر خاور مانیکا اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جو تنازع اٹھ کھڑا ہوا اس میں اسلام آباد کی بلندیوں پر مقیم افراد سے لے کر پنجاب کے وزیراعلیٰ اور ان کے ماتحت آئی جی پولیس نے جس بھونڈے طریقے سے مقامی ڈی پی او کے ساتھ ہتک آمیز سلوک ہوا ہے۔۔۔ خاور مانیکا صاحب کو بوجوہ ملک کا ممتاز ترین اور ایسا شہری بنا دیا گیا ہے کہ اس کی ذات قواعد و ضوابط کی ہر قسم کی پابندیوں سے ماوراء سمجھی جا رہی ہے۔۔۔ آخر کیوں؟ موصوف کو ایک ڈیڑھ برس پہلے تک سرخاب کے جو پر لگے ہوئے تھے وہ اگرچہ معلوم و معروف ہیں لیکن قوم بیچاری کا کیا گناہ جس کے اعصاب پر اچانک انہیں سوار کر دیا گیا ہے۔۔۔ وہ پولیس والوں پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دیں تو قصور ڈی پی او کا ہے اسے حکم دیا گیا کہ عالی جناب کے دربار میں حاضر ہو کر معافی کا طلبگار ہو۔۔۔ عزت نفس کے مالک اس پولیس افسر نے صاف انکار کر دیا تو تبدیل کر دیا گیا انکوائری بٹھا دی گئی۔۔۔ گزری ہوئی ستر سالہ تاریخ پر نگاہ ڈالیں اس طرح کے سفلہ پن کا مظاہرہ کبھی کسی ’’شاہی خاندان‘‘کے حوالے سے نہیں ہوا۔۔۔ شاہی خاندان بھی کیسا اور اس کے نخرے کیوں برداشت کیے جا رہے ہیں۔۔۔ یہ اجمال کسی تفصیل کا محتاج نہیں ۔۔۔ البتہ یوں ہے کہ ایک شہری کے اس مقام محمود پر فائز کیے جانے کی بنا پر ملک کا ہر شہری اپنی توہین محسوس کر رہا ہے۔۔۔ ہر کوئی دوسرے سے سوال کر رہا ہے کیا ولائت خاص کے اس مرتبے تک پہنچنے کے لیے جو آج تک کسی کو نہیں ملا سیڑھی بس ایک ہے۔۔۔ جو بس خاور صاحب کی دسترس میں تھی۔۔۔ پاکستان کے کلچر میں یہ نو دریافت شدہ سیڑھی ہے۔۔۔ عالم ارواح حضرت بابا فرید الدین شکر گنج رحمتہ اللہ علیہ نے تمام منظر کی خبر پا کر معلوم نہیں کس ردعمل کا اظہار کیا ہو گا۔۔۔ ان کی حیات مبارکہ کا ایک چھوٹا سا واقعہ البتہ ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ حضرت بابا صاحب زندہ ہوتے تو کیا فرماتے۔۔۔ ان کے دور میں ملتان کے اندر روحانی کمالات رکھنے والے ایک بزرگ ہوا کرتے تھے۔۔۔ بابا فرید کے ساتھ ان کی دوستی بھی تھی۔۔۔ ملتان کے بزرگ نے راہ سلوک کے ہمدم دیرینہ کو خلوص بھرا خط لکھا اور فقرہ رقم کیا ’بر میان ماوشما عشق بازی است‘ جواب میں بابا جی نے تحریر فرمایا ’بر میان ماو شما عشق است بازی نیست‘۔۔۔ حضرت بابا فرید کی زندگی کے مستند واقعات بتاتے ہیں سخت مزاج صوفی تھے۔۔۔ کسی قسم کی Non Sense برداشت نہیں کرتے تھے۔۔۔ خود نمائی سے سخت نفرت تھی۔۔۔ اپنا کلام جو پنجابی زبان کے اندر پہلا تحریری مواد ہے چھپا رکھا تھا۔۔۔ کسی کو اس کی پوتلی کھولنے کی اجازت نہ تھی۔۔۔ بہت بعد میں سکھ دھرم کے بانی گورو نانک تلاش حق میں اجودھن (پاکپتن کا پرانا نام) پہنچے تو حضرت کے پوتے فرید الدین ثانی سے ملاقات ہوئی۔۔۔ گورو نانک نے ثانی صاحب سے ان کے دادا کا کلام حاصل کر لیا۔۔۔ سکھوں کی مقدس کتاب کا حصہ بنایا سکھ مذہب کی بنیاد جس توحید پر ستی پر رکھی گئی ہے اس کا سبق اسی کلام سے اخذ کیا گیا تھا۔۔۔ سکھ دھرم میں انہی تعلیمات کی بنیاد پربت پرستی سے نفرت کی جاتی ہے اور کسی شخصیت کے آگے ماتھا نہیں ٹیکا جاتا ۔۔۔ بات لمبی ہو گئی ہے۔۔۔ حضرت بابا فرید کے کے فیض صحبت کا سب سے بڑا شاہکار حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ تھے۔۔۔ آج جو لوگ حضرات کے مزار سے فیوض و برکات سمیٹنے کا ادعا لے کر انوکھی واردات کے ساتھ قوم 

کے اعصاب سوار ہو گئے ہیں اور عجیب و غریب کرشمے ظہور پا رہے ہیں ان کی وجہ سے عمرانی میرٹ نے وہ کمال دکھایا ہے کہ پوری پنجاب پولیس انگشت بدندان ہے۔۔۔ افسر حیران ہیں کہ انہیں اپنی نوکریاں برقرار رکھنے کی خاطر اس سطح پر نیچے اترنا پڑے گا۔ 

شیخ رشید مشرف عہد کے بعد نئے دور میں باردگر وزیر ریلوے مقرر ہوئے۔۔۔ متعلقہ افسران کے ساتھ اوّلیں ملاقات میں اس لیے برہم ہو گئے اور ملازمت کا بہترین ریکارڈ رکھنے والے ایک سینئر عہدیدار کو شٹ اپ کہہ دیا کہ اس غریب نے پچھلی حکومت کے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے کاموں کو تعریف کر دی اور شیخ صاحب کوبتانے کی جرأت کر بیٹھا کہ خواجہ صاحب کے زمانے میں ریلوے کے خسارے میں اتنی کمی واقعی ہوئی۔۔۔ اتنی نئی ٹرینیں چلیں۔۔۔ اور پورا محکمہ کس طرح سابقہ خستہ حالی سے نکلنا شروع ہوا۔۔۔ سنتے ہی جناب شیخ برس پڑے افسر کے ساتھ درشت کلامی کی۔۔۔ غیرت مند افسر باہر نکلا۔۔۔ یہ کہہ کر دو سال کی رخصت کی درخواست دے دی کہ ایسے غیر مہذب وزیر کے ساتھ کام نہیں کر سکتا۔۔۔ لیکن پچھلی حکومت کی کارکردگی صرف محکمہ ریلوے کے حوالے سے نئے حکمرانوں کا پیچھا نہیں کر رہی ان کے لیے سخت خفت کا باعث معروف صحافی سلیم صافی کی وہ سٹوری بھی بنی جس میں عمران خاں کے اس دعوے کے مقابلے میں کہ وہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات میں کمی لائیں گے بتایا گیا نوا زشریف تمام ذاتی اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔۔۔ چیکس کی فوٹو کاپیاں بھی پیش کر دیں۔۔۔ اتنی سی بات پر پی ٹی آئی والوں نے سوشل میڈیا پر جو طوفان بدتمیزی برپا کیا۔۔۔ دیانتداری کی مسلمہ شہرت رکھنے والے سلیم صحافی پر گالیوں اور الزامات کی بارش کی گئی۔۔۔ اس پر پورے ملک کی صحافی برادری اور صاحبان فہم و شعور تلملا اتھے۔۔۔ آخر کیا ہونے جا رہا ہے۔۔۔ پچھلی حکومت میں بلاشبہ لا تعداد کمزوریاں ہوں گی مگر اس کی کارکردگی ایسی بھی نہ تھی کہ آنے والے دنوں میں قدم قدم پر عمران انتظامیہ کے سامنے آن کھڑی نہ ہو ابھی کل سینیٹ کے اندر حکومت کو بر ملا اعتراف کرنا پڑا کہ نوا زعہد میں 12 ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوئی۔۔۔ جس کی وجہ سے اس وقت توانائی کی پیداوار مانگ سے زیادہ ہے اور یہ کہ لوڈشیڈنگ صرف خسارے والے فیڈرز پر کی جا رہی ہے۔۔۔ اسی ضمن میں سوشل میڈیا پر سابقہ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں اعداد و شمار پر مشتمل ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے۔۔۔ اس کے مندرجات ملاحظہ کر لیجیے جن سے بآسانی معلوم کیا جا سکتا ہے کہ مخالفانہ پروپیگنڈا کی فنکاری سے قطع نظر تقریباً ہر شعبہ کے اندر کتنی پیش رفت ہوئی۔۔۔ بہتر ہو گا نئی حکومت گدلی انتخابی فضا سے نکل کر ٹھوس اور پائیدار اقدامات کی طرف متوجہ ہو۔۔۔ اب فیصلہ تبدیلی کے دعووں پر نہیں عملی اور نتیجہ خیز اقدامات پر ہو گا اس کے لیے جہاں ٹھوس منصوبہ بندی کے ساتھ سخت محنت کی ضرورت ہے وہیں برداشت کا بڑا حوصلہ بھی درکار ہے ورنہ مندرجہ ذیل اعداد و شمار آپ کا پیچھا کرتے رہے گے۔۔۔ 

’’5 جون 2013 کو جب نواز شریف نے وزیر اعظم کا حلف اٹھایا، تب: جی ڈی پی: 3.7 تھی۔۔۔ زرمبادلہ کے ذخائر: 6 ارب ڈالر تھے۔۔۔ بیرونی قرض: 60 ا تھا۔۔۔ اسٹاک ایکسچینج: 21823 پوائنٹس پہ تھی۔۔۔ ڈالر: 99.89 روپے کا تھا۔۔۔اور 31 مئی 2018 کو جب اقتدار چھوڑا، تب جی ڈی پی: 5.8 تھی۔۔۔ زرمبادلہ کے ذخائر: 16 ارب 40 کروڑ تھے۔۔۔ بیرونی قرض: 91 ارب ڈالر سے متجاوز تھا۔۔۔ اسٹاک ایکسچینج: 41 ہزار سے متجاوز پوائنٹس پر تھی۔۔۔ڈالر: 108.55 روپے کا تھا۔۔۔ سوال یہ ہے کہ بڑھا کیا صرف ڈالر اور قرض؟؟ GDP میں کوئی اضافہ نہیں ہوا؟؟ زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب نہیں بڑھے؟؟ اسٹاک ایکسچینج نے بلندیوں کے ریکارڈ52000 نہیں توڑے؟؟ اور قرض بڑھا بھی تو کتنا؟؟ 31 ارب ڈالر؟؟ ۔۔۔ نہیں ۔ ہرگز نہیں ۔ سب سے پہلے 2013ء سے 2018ء تک لیے گئے ان 31 ارب ڈالر میں سے وہ 10 ارب ڈالر تو نکالیں جو زرمبادلہ کے ذخائر میں انہی پانچ سالوں میں بڑھے۔ باقی بچے 21 ارب ڈالر؟؟ یہ تھا وہ قرض جو گزشتہ پانچ سالوں میں لیا گیا۔ اور یہ 21 ارب ڈالر لیا کیوں گیا، گننا شروع کیجیے: 

نندی پور، قائد اعظم سولر پارک، کاسا، بلوکی گیس پاور پلانٹ، کچھی کینال، نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ، گولن گول ہائیڈرو پراجیکٹ، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، ساہیوال کول پاور پلانٹ، تھر کول پاور پلانٹ، گلپور پن بجلی منصوبہ، حویلی بہادر شاہ بجلی منصوبہ، بھکی پاور پلانٹ، اپالو سولر، بیسٹ گرین سولر پاور پراجیکٹ، کریسٹ انرجی سولر پاور پراجیکٹ، میٹرو ونڈ پاور پراجیکٹ، یونس ونڈ پاور پراجیکٹ، ٹپال ونڈ پاور پراجیکٹ، ماسٹر ونڈ پاور پراجیکٹ، گل احمد ونڈ پاور پراجیکٹ، تنیگا ونڈ پاور پراجیکٹ، فاطمہ انرجی بیگاس پاور پراجیکٹ، حمزہ شوگر پاور پراجیکٹ، سچل پاور پراجیکٹ، داؤد ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، گلف پاور پراجیکٹ، ریشماں پاور پراجیکٹ، پتران ہائیڈل پاور پراجیکٹ، یونائیٹڈ انرجی پاور پراجیکٹ، پورٹ قاسم پاور پلانٹ، تربیلا IV توسیعی منصوبہ، چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ ٹو، تھری اور فور، نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ٹو اور کے تھری۔ نواز شریف کڈنی اسپتال سوات، بہاولپور وکٹوریا ہسپتال، طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ، چلڈرن ہسپتال فیصل آباد، ملتان کڈنی سینٹر، راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال، برن سینٹر ملتان، پنجاب کے نئیٹیچنگ ہسپتال، کاہنہ ہسپتال لاہور، لیہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں لیب کا اضافہ، گورنمنٹ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سبزہ زار، مناواں ہسپتال لاہور، شہباز پی اے ایف بیس ہسپتال۔نیو اسلام آباد ایئر پورٹ، رینوویشن ملتان ایئر پورٹ، رینوویشن فیصل آباد ایئر پور، لاھور ایئر پورٹ ایکسٹینشن، تنصیب فوگ لائٹس لاھور/کراچی/اسلام آبادایئر پورٹس، نیوبرج انسٹالیشن لاھور/کراچی نیواسلام آبادایئرپورٹس۔(نوٹ: جو کہتے پھرتے ہیں کہ سڑکیں بنانے سے قومیں نہیں بنتیں، ان کے لیے خصوصی عرض ہے کہ سڑک تجارت کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ یہ معاشیات کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں سربراہ مملکت سطح کی کانفرنسیں ہوتی ہیں "ترقی بذریعہ سڑک" کے عنوان سے 

ڈی آئی خان۔ ڑوب ھائی وے N۔50، لاھور۔عبدالحکیم موٹروے M۔3، فیصل آباد۔ موٹروے M۔4، ملتان۔ سکھرموٹروے M۔5، سکھر۔حیدرآباد موٹروے M۔6، کراچی۔حیدرآبادموٹروے M۔9، لاہور۔سیالکوٹ موٹروے، ہکلہ۔۔۔ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے، لیاری ایکسپریس وے(تیس فیصد)، گوادرپورٹ ایکسپریس وے، گوادرپورٹ ایکسپریس وے ٹو، شاہدرہ۔رچناٹاؤن ایکسپریس وے، حسن ابدال۔مانسہرہ ھزارہ ایکسپریس وے، قراقرم ہائی وے(بحالی منصوبہ)، لوارء ٹنل، لاہورایسٹرن بائی پاس، خادم اعلی رورل روڈ منصوبہ۔لاہور میٹرو بس سسٹم، راولپنڈی/اسلام آباد میٹرو بس سسٹم، ملتان میٹرو بس سسٹم، اسپیڈو بس سروس ملتان/ بہاولپور/ لودھراں/ لاہور، اورنج لائن میٹرو ٹرین، کراچی گرین لائن ٹرانزٹ، اربن ٹرانسپورٹ سسٹم لاہور، 12 ریلویاسٹیشنز کی تعمیرنو۔

10 ہزار سولر سسٹمز کی سکولوں میں تنصیب، دانش اسکولوں کا قیام، بارہویں جماعت تک مفت کتابیں اور تعلیم، نمایاں نمبرز حاصل کرنے والے طلباء کو ترکی اور یورپ میں اعلی تعلیم کے لیے وظائف، ہونہار طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم، 50 نئے کالجز کا اضافہ، یونیورسٹیوں کا قیام‘‘۔ 


ای پیپر