چیلنج کیا ہے
29 اگست 2018 2018-08-29

نئی حکومت کیلئے چیلنج تو بہت ہیں۔ہر چیلنج کو ہ ہمالیہ سے بھی بڑے پہاڑ کی طرح۔بے شمار مسائل ہیں۔اندرونی اور بیرونی۔ دونوں طرح کے۔لیکن خارجہ پالیسی کے حوالے سے امریکہ دباؤ کا سامنا اور اس کا توڑ سب سے بڑا چیلنج ہے ۔ 
مسئلہ صرف اس ٹیلی فون کا نہیں۔ جس کے نتیجے میں ایک سفارتی تنازعہ نے جنم لیا۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جب سے قصر صدارت میں منتقل ہوئے ہیں اپنی افتاد طبع،جلد سازی،غیر سفارتی رویوں کے سبب دنیا بھر میں اپنی حماقتوں کی وجہ سے ہنسی کا سامان بنے ہوئے ہیں۔ایسے غیر متوازن طبع،متلون مزاج افراد اپنے سے زیادہ دوسروں کیلئے خطرناک ثابت ہوا کرتے ہیں۔ خود تو ڈوبتے ہیں ساتھ دوسروں کو بھی ڈبو دیتے ہیں۔ اگر ایسا شخص امریکہ ایسی سپر پاور کا سربراہ ہو۔ اس کی حرکات و سکنات رویوں اور پالیسیوں سے پوری دنیا کا امن خطے میں پڑ جاتا ہے ۔ ان کو صدر بنے دو سال کا عرصہ بیت چلا۔ انہوں نے ایک طرف شمالی کوریا کے ساتھ سینگ پھنسائے ہوئے ہیں دوسری جانب وہ ایران کے معاملہ پر مسلسل اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہے ہیں۔ ایران پر دباؤ ڈالنے کیلئے وہ کوئی حربہ استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔دنیا بھر کی ائر لائنوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ ایران میں اپنے آپریشن بند کریں۔برٹش ایئر ویز نے حکم آقا پر گزشتہ ہفتہ کے دوران اپنا فضائی آپریشن بند کر کے امریکہ، ایران کشیدگی کا نیا منظر نامہ تشکیل دیا ہے ۔ ایک اور محاذ ارض فلسطین کا ہے ۔ جہاں صدر ٹرمپ کھل کر اسرائیل کی قابض حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسرائیل کا دار الحکومت منتقل کرنے کے بعد سارا عالم اسلام ایک سو اٹھائیس ممالک ایک طرف کھڑے ہیں۔اقوام متحدہ میں بین الاقوامی برادری نے امریکہ کو شکست دی۔لیکن ٹرمپ نے اسرائیل کی حمایت نہ چھوڑی۔ اسرائیلی دارالحکومت کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ دسمبر 2017 میں ہوا۔ جس کے بعد سے صدر ٹرمپ کی اسرائیل نوازی کا لیول مسلسل بلند ہوتا جا رہا ہے ۔ بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر عام ہے کہ صدر ٹرمپ کا کردار تنا زعہ کے ثالث کا نہیں بلکہ ایک ایسے فرد کا ہے جو قضیہ کی سنگینی میں اضافہ کا باعث ہے ۔ ٹرمپ نے بین الاقوامی رائے عام کو خاطر میں نہ لا تے ہو ئے حال میں ایک اور انتہائی ناروا اقدام اٹھایا ہے ۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر تنازعات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے ہفتہ گزشتہ میں عشروں سے فلسطین کو دی جانے امد ا د مطعل کر دی تھی۔ اس معاشی امدادی پیکج کا والیم20 کروڑ ڈالر تھا۔ اس سے قبل امریکہ اقوا م متحدہ کی جانب سے ملنے والی چھ کروڑ امداد دباؤ ڈال کر معطل کرا چکاہے۔ امریکی حکام کا الز ام ہے کہ یہ رقوم اس کے مفادات کیخلاف استعمال ہو رہی۔امریکی صدر نے عنان اقتدار سنبھالنے کے پہلے دو سال میں چین کے ساتھ اٹ کھڑکا شروع کر رکھا ہے ۔ افغانستان میں اس کو مجبور اًطالبان کے ساتھ مزاکرات کی میز پر بیٹھناپڑ رہا ہے ۔ اس نتیجہ پر پہنچنے میں امریکیوں کو بارہ برس لگے۔لاکھوں جانیں ضائع 
ہوئیں۔عا لمی امن تباہ ہوا۔ امریکی معیشت کو ایک ٹریلین ڈالر کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔روس کے ساتھ امریکہ کے معاملات خراب نہیں تو ٹھیک بھی نہیں۔ کبھی کشیدگی ،کبھی نارمل اور کبھی سرد مہری۔ امریکہ کے یا یوں کہہ لیں کہ صدر ٹرمپ کے معاملا ت اگر کسی کے ساتھ درست ہیں تو وہ ہندوستان ہے ۔ لیکن وہ بھی اپنے مفادات کیلئے۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ وہ بھارت کو ہلاشیری دیکر تھوڑا بہت راتب ڈال کر چین کے ساتھ ٹکرانے کیلئے تیار کر لیں گے۔ اب بھارت اس ٹکراؤ کی حد تک جاتا ہے یا نہیں یہ تو مستقبل میں پتہ چلے گا۔ لیکن فی الحال تو بھارتی نیتا دونوں ہاتھوں سے مال سمیٹ رہے ہیں۔ اب آتے ہیں پاک امریکہ تعلقات کی جانب۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال اگست سے ہی پاکستان کے متعلق اپنی پالیسی واضح کر دی تھی۔ اور پاکستان کی امدا دمیں کمی کا اشارہ دیا۔ جس کے بعد انہوں نے ایک مرتبہ پھر ڈو مور کا راگ الاپا۔ تعلقات اس قدر خراب ہوئے کہ کئی اہم دورے ملتوی ہو گئے۔ امریکہ نے دفاع سے متعلقہ امداد میں کٹوتی کی۔ پاکستانی پرالزام تراشیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ مقصد افغانستان کے معاملہ پر دباؤ، چین سے دوری،روس سے بڑھتے سلسلے بند کرانا تھا۔ گزشتہ سارے عرصہ میں امریکہ اور پاکستان کے مابین آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔ بہر حال ظاہرہی سطع پر تعلقات بحال رہے۔امریکہ نے واشنگٹن اور دیگر بین الاقوامی مشن میں کام کرنے والے سفارتکاروں پر ناروا پابندیاں عائد کر دیں۔ سفارتکاروں کو سرکاری و غیر سرکاری نقل و حرکت کیلئے پیشگی اجازت لینا پڑتی ہے ۔ بہر حال پاکستان نے ان پابندیوں کا بھر پور جواب دیا۔ اسی دوران بھارت اور دیگر ممالک کے ذریعے بین الاقوامی سطع پر دہشت گردی کی چارج شیٹ میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ پاکستان ضروری بین الاقوامی تقاضے پورے کر چکا تھا۔امریکیوں کی سازشیں رنگ لائیں۔یورپی ممالک نے ایف اے ٹی ایف کی آڑ میں پاکستان کو تجارتی پابندیوں میں جکڑ لیا۔ پھر پاکستان پر اور وار ہوا۔ حال ہی میں امریکی صدر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے فوجی تربیت کا معاہدہ ختم کر دیا۔ اسی دوران پاکستان میں نئے انتخابات ہوئے تو امریکیوں نے ایک مرتبہ پھر موقع غنیمت جانا اور چڑھائی کر دی۔ وہی حقانی گروپ کا پرانا الزام، وہی حافظ سعید کے خلاف کاروائی کا تقاضہ۔ بھارت کے ساتھ یک طرفہ شرائط پر بات چیت۔مسٹر مائیک پمپیوکی ٹیلی فون نہیں لینی چاہیے تھی۔ اگر لی تھی تو ٹیکسٹ جاری کیا جاتا۔ آج سے چند ماہ قبل جب پاک امریکہ تعلقات کشیدگی کا شکار تھے۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں طے ہوا کہ جس لیول کے امریکی عہدیدار کی فون کال یا دورہ ہو گااس کااستقبال یا رابطہ اس کا ہم منصب ہی لے گا۔ شائد دفتر خارجہ کے باپوؤں کو یہ فیصلہ یاد نہیں تھا۔ بہر حال اس کا ل نے غیر ضروری خرابی پیداکی۔امریکی تو دباؤ ڈالنے کا بہانہ تلاش کر رہے تھے۔اب اگلے چند روز میں مسٹر مائیک پمپیو کے دورہ پاکستان کا امکان ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ پاکستان پر دباؤ میں اضافہ کرنے آ رہے ہیں۔وہ پاکستان پر دباؤ ڈالیں گے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا جائے۔ اگر وہ تیار نہ ہو ں تو پاکستان ان کے خلاف کاروائی میں امریکہ کا ساتھ دے۔ وہ سی پیک پر بھی دباؤ ڈالیں گے۔وہ روس اور چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کو بھی کم کرنے کیلئے ہتھکنڈے استعمال کرینگے۔ سفارتی ماہرین کے مطابق امریکی اسٹیبلشمنٹ میں پاکستان کو سبق سکھانے کے معاملہ پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے ۔ ایسے میں اہم ترین کردار امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا ہے ۔ جن کو اپنے دور صدارت کے سنگین ترین بحران کا سامنا ہے ۔ اب تک چھ مقدمات ایسے ہیں جن میں کہیں نہ کہیں امریکی صدر کے ملوث ہونے کے اشارے ملتے ہیں۔ کئی سکینڈلز ایسے ہیں جو امریکی صدر کیلئے ڈراؤنا خواب ہیں۔ حال ہی میں ان کے ایک قریبی ساتھی کی جانب سے وعدہ معاف گواہ بننے کے اشاروں نے ان کیلئے مزید مشکلات پیدا کی ہیں۔ امریکہ میڈیامواخزہ یا رضا کارانہ استعفیٰ کی آپشن کی بات کر رہا ہے ۔ایسے میں دیوار کیساتھ لگا ڈونالڈ ٹرمپ کوئی بھی ایڈونچر کر سکتا ہے ۔ ایران یا پاکستان۔ہمیں محتاط رہنا ہو گا۔سب سے بڑا چیلنج مہم جوئی سے بچنا اور امریکی دباؤ سے نکلنا ہے ۔ یہی سب سے بڑا ٹاسک ہے ۔


ای پیپر