صدارتی انتخاب۔۔۔قسمت کا کھیل 
29 اگست 2018 2018-08-29

صدرپاکستان کے نمائشی عہدے سے وابستہ عزت وتکریم کی مثال دینے کے لیے ملکۂ برطانیہ سے بہتر کوئی تذکرہ نہیں ہوسکتا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صدر کو وہی مقام حاصل ہے جو برطانیہ میں ملکہ کے حصے میں آیا ہے۔ دونوں میں طرز مشترک یہ ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے اپنے اپنے وزیراعظم کے محتاج ہیں یہ ایک بہت بڑی Contradictionسے کم صدر پاکستان مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں جرنیلوں کی ترقیاں ان کے حکم سے ہوتی ہیں وہ کسی بھی مجرم کو معافی دینے کا اختیار رکھتے ہیں یوم آزادی اور یوم دفاع اور یوم پاکستان جیسے موقعوں پر انہیں سلامی پیش کی جاتی ہے مگر وہ عملاً کچھ نہیں کرسکتے برطانیہ نے تو ملکہ کو اس لیے برقرار رکھا ہے کہ وہ روایتی اور تاریخی لحاظ سے صدیوں پرانی بادشاہت ختم کرنا نہیں چاہتے مگر پاکستان میں صدر کے اختیارات میں افراط وتفریط کی کہانی بڑی پرانی اور دلچسپ ہے مگر ہمارا آج کا موضوع صدارتی انتخاب ہے اس ہفتے پاکستان کے 13ویں صدر نے 5سال کے لیے طاقت کے اعلیٰ ترین منصب پر تخت نشین ہونا ہے میدان سج چکا ہے نتیجہ واضح ہے لیکن معمول کی کارروائی ایک آئینی تقاضا ہے ۔ صدر کے انتخاب کے لیے جو ایکڑول کالج تشکیل دیا جاتا ہے اس میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوان یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیاں شامل ہیں صدر چونکہ وفاق کی علامت ہے اس لیے آئین بنانے والوں نے اس چیز کا خیال رکھا کہ صوبوں کے ووٹ مساوی ہوں اور پنجاب جیسے بڑے صوبے کو اپنا فیصلہ مسلط کرنے کی گنجائش نہ رہے اس کے لیے صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کے ووٹ برابر نہیں ہوتے پنجاب کے تقریباً 6سے 7ایم پی اے کا ووٹ بلوچستان کے ایک ایم پی اے کے برابر ہوتا ہے آپ یوں سمجھ لیں کہ پنجاب کی 270صوبائی نشستیں ہیں جبکہ بلوچستان کی 65ہیں مگر صدر کے انتخاب میں 270صوبائی ارکان پنجاب اسمبلی کے 65ووٹ ہیں تاکہ انہیں بلوچستان کے برابر لایا جاسکے یہی فارمولا سندھ اور کے پی کے کے لیے ہوتا ہے یہ ایک پیچیدہ فارمولا ہے جس سے صوبائی مساوات کو یقینی بنایا گیا ہے، اس طرح الیکشن میں سب سے زیادہ اہمیت چھوٹے صوبوں کے ممبران کو حاصل ہوتی ہے۔ 

صدر پاکستان کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 17لاکھ روپے ہے مگر اس کی دیگر مراعات تنخواہ سے کہیں زیادہ ہیں پاکستان کی آئینی تاریخ میں فوجی حکمرانوں کی صدارت کو نکال دیا جائے تو اب تک آصف زرداری ملک کے طاقتور ترین صدر تھے ورنہ ان کے علاوہ جتنے سیاسی صدور بنائے گئے ان کی حیثیت ہمارے ہاں سیاسی لطیفوں کا ایک بڑا ذریعہ بنی۔ صدر ممنون حسین صدررفیق تارڑ اس کی مثال ہیں۔ وزیراعظم کی قدرتی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایسا صدر بنائے جو محض اس کے منشی یا کلرک کا کام دے کیونکہ اگر اپنے ہم پلہ پروفائل کے سیاستدان کو صدر بنایا گیا تو وزیراعظم کے لیے اسے قابو میں رکھنا مشکل ہوگا۔ مگر یہ جدید دور کے تقاضوں اور طرزحکمرانی کے منافی ہے۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف جو ہرمعاملے میں قوت عشق سے ہرپست کو بلاکردینے کی پالیسی پر گامزن ہے اسے صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختیارات ہیں توازن کے لے آئین میں ترمیم کرنی چاہیے تاکہ صدر بھی آزادانہ فضاؤں میں سان لے سکے۔ اگر یہ نہیں کرنا تو پھر جہاں وہ ایوان صدر کے دوارب روپے سالانہ کے اخراجات پر قدغن لگانے کی بجائے سرے سے صدر کا عہدہ ہی ختم کردیں جب اس کی کوئی افادیت ہی نہیں ہے اس سے گورنر خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ مگر تحریک انصاف نے آج تک ایسے کسی توازن کی بات نہیں کی۔ ان کا سارا زور ایوان صدر کی بلڈنگ پر ہے حالانکہ افراد کی اہمیت عمارتوں سے زیادہ ہوتی ہے لہٰذا سنگ وخشت سے نیا جہان پیدا نہ کریں بلکہ سسٹم اور افراد کی کارکردگی کو ملحوظ رکھیں یا اس پر نظرثانی کریں۔ 

صدر کے انتخاب نے اپوزیشن کو ایک دفعہ پھر سرجوڑنے پر مجبور کردیا ہے حکومت کی طرف سے عارف علوی امیدوار ہیں اور بظاہر ان کی جیت یقینی ہے مگر دوسری طرف تمام شکست خوردہ عناصر مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے ہیں پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کو صدر نامزد کردیا ہے مگر ن لیگ نے اس پر اعتراض کردیا ہے کیونکہ وہ نواز شریف کے خلاف پانامہ کیس میں بڑے سخت بیان دے چکے ہیں اعتراض کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی نے وعدے کے باوجود وزیراعظم کے انتخاب میں آخری لمحات میں شہباز شریف کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن باہر سے متحد مگر اندر سے پھٹی ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اتنے زیادہ اختلافات کے باوجود یہ لوگ اس طرح کی سودابازی کرنے پر مجبور ہیں جو ان کے اصول اور اخلاقیات کی پستی کا ثبوت ہے۔ 

چوہدری اعتزاز احسن نے غلطی کی ہے اگر وہ پیپلزپارٹی کو خیرباد کہہ کر اس وقت تحریک انصاف میں شامل ہو جاتے تو وہ اس وقت صدر پاکستان بن جاتے۔ پارٹی کے ساتھ ان کا رویہ وہی رہا ہے جو چوہدری نثار علی خان کا ن لیگ کے ساتھ تھا یعنی نہ کھل کر حمایت نہ کھل کر مخالفت یا واک آؤٹ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے۔ تھوڑے سے فرق کے ساتھ چوہدری اعتزاز احسن کا معاملہ ایسا ہی ہے اور ان کا انجام بھی چوہدری نثار والا ہے البتہ آصف زرداری نے انہیں امیدوار بناکر ان کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی ہے اب وہ پارٹی چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکیں گے خواہ ان کی پارٹی کہیں کی نہ رہے۔ 

پاکستان میں بنیادی طورپر دوجماعتی نظام چلتا ہے چھوٹی موٹی صوبائی پارٹیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں جیسے جماعت اسلامی اور ایم کیوایم لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ تحریک انصاف Gate crashingکرتے ہوئے تیسری پارٹی بن کر ابھری اور اب وہ اول نمبر پر آگئی ہے اس نے دونوں بڑی پارٹیوں کو بڑا جھٹکا دیا ہے اور ابھی تک دونوں سکتے کی حالت میں اپنے زخم چاٹ رہی ہیں مگر انہیں یہ نہیں پتہ کہ اس طرح کے زلزلے کے جھٹکے ابھی جاری رہیں گے اور آنے والے سالوں میں ملک ایک دفعہ پھر دو جماعتی نظام میں واپس جائے گا اس میں پیپلزپارٹی اور ن لیگ یا تو ایک دوسری میں صنم ہو جائیں گی یا ان میں سے ایک یا دونوں ختم ہو جائیں گی اور ہوسکتا ہے ق لیگ ان دونوں کی جگہ لے لے۔ سیاست ممکنات کا کھیل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا صدر منتخب ہونے سے ملک میں حکمرانی کا عمل Smoothاور ہموار سطح پر رہے گا اور وزیراعظم اور صدر شانہ بشانہ کام کریں گے ن لیگ اگر اپنا صدر بنوانے کی پوزیشن میں ہوتی تو پاکستان کو فائدہ ہوتا یا نہ ہوتا میاں نواز شریف کی ساری سزائیں یک جنبش قلم بے گناہی میں بدل سکتی تھیں۔ مگر فی الحال ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ 


ای پیپر