غربت میں کمی اور چین کی معیشت 
29 اگست 2018 2018-08-29

اس کالم کے پہلے میں یہ کوشش کی تھی کہ چین اور دیگر سرمایہ دار ممالک خصوصاً بھارت کی معیشتوں کے درمیان موجود فرق کو واضح کروں تا کہ سرمایہ داروں کے اس پراپیگنڈے کا جواب دیا جا سکے جو وہ چنین کی معیشت اور اس کی معاشی ترقی کے حوالے سے کرتے ہیں۔ چین کی معاشی ترقی اور اس کے معاشی ڈھانچے کے حوالے سے بحث اس لئے اہم ہے کہ کیونکہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک چین کو مثال بنا کر اپنے ملکوں میں غربت کم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اپنے محنت کشوں ، کسانوں ، ہاریوں ، کھیت مزدوروں اور غربت کی چکی میں پس رہے غریب عوام کی آمدن میں اضافہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ وہ غربت میں کمی کے چین کے ماڈل اور تجربات سے سیکھ کر انہیں اپنے ممالک میں لاگو کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان نے بھی انتخابات میں فتح حاصل کرنے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں یہ عندیہ دیا تھا کہ وہ ماہرین کی ایک ٹیم کو چین بھیجیں گے تا کہ وہ چین کے غربت میں کمی کے تجربات اور اقدامات سے سیکھیں اور پھر انہیں پاکستان میں لاگو کریں۔ چین کے تجربات اور پالیسیوں سے سیکھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ چین اور پاکستان کی معیشتوں کے درمیان موجود بڑے فرق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
پاکستان اور چین کی معیشت میں ایک بڑا فرق تو یہ ہے کہ چین نے گزشتہ 3 دہائیوں میں اپنی پیداواری قوتوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ چین نے صنعتی اور زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے جس کے نتیجے میں صنعت کاری بہت تیزی سے پروان چڑھی ہے۔ جب 1970ء کی دہائی کے آخر میں 1980ء کی دہائی کے شروع گلوبلائزیشن (عالمگیریت کا عمل تیزی سے آگے بڑھا اور سرمایہ مغربی ممالک سے نکل لاطینی امریکہ اور ایشیاء کے ان ممالک میں آنے لگا جہاں سستی مزدوری دستیاب تھی اور ان ممالک کی حکومتیں اس سرمائے کو تحفظ دینے اور پیداواری لاگت کو کم سے کم سطح پر رکھنے کے لئے تیار تھے۔ چین مغربی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے لئے سب سے پرکشش جگہ تھی کیونکہ یک جماعتی نظام اور افسر شاہانہ کنٹرول کے باعث چین میں سیاسی اور سماجی اسحکام تھا۔ بجلی ، گیس اور دیگر اشیاء سستی تھیں۔ ٹیکسوں کی بھرمار نہیں تھی اور سب سے بڑھ کر پڑھی لکھی لیبر فورس موجود تھی۔ 
چین نے گلوبلائزیشن کا پوری طرح فائدہ اٹھایا۔ چین نے اپنی صنعتی بنیاد کو اس حد تک وسعت دی کہ وہ صنعتی پیداوار کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ چین نے اپنے آپ کو عالمی تجارت کے نظام کے ساتھ جوڑا چین نے 
عالمی تجارت کی نمو اور ترقی سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس عمل میں بھارت بھی1990ء کی دہائی میں شامل ہو گیا مگر پاکستان کے حکمران اور پالیسی سازی کے کل پرزے اس ساری صورت حال کا فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ جس وقت چین بڑے پیمانے پر صنعت کاری کے مرحلے سے گزر رہا تھا تو پاکستان حکمران اس وقت جہادی فیکٹریاں لگانے اور پاکستان کو ایک سخت گیر مذہبی معاشرہ بنانے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ پاکستانی حکمرانوں اور منصوبہ سازوں نے چین کی ترقی سے فائدہ اٹھانے کی کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں کی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی پالیسی تشکیل دی۔ چین کو بڑے پیمانے پر دھاتوں ، معدنیات اور دیگر خام مال کی بڑے پیمانے پر ضرورت تھی مگر ہمارے حکمرانوں نے پاکستان میں کان کنی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور بڑے پیمانے پر دھاتوں اور معدنیات کو نکالنے کے لئے اقدامات کئے۔ اسی طرح جب چین میں معاشی ترقی کے نتیجے میں لوگوں کی آمدن بڑھی تو اس سے کھپت میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان کے پاس زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ڈیری انڈسٹری کو پروان چڑھانے کا بہترین موقع تھا جسے ضائع کر دیا گیا۔ چین کو دودھ ، دہی ، مکھن ، پنیر اور دلیے جیسی بنیادی اشیائے خوراک کی ضرورت تھی۔ پاکستان اعلیٰ معیار کی منصوعات کی پیداوار کے ذریعے ڈیری اور لائیو سٹاک کی صنعتوں کو فروغ دے سکتا تھا جس کے نتیجے میں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے۔ برآمدان میں اضافہ ہوتا اور اس کے ذریعے دیہی غربت میں کمی واقع ہوتی مگر یہ موقع ضائع کر دیا گیا۔ 
چین سے سب بڑا سبق جو سیکھا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ غربت اور بے روزگاری میں کمی کرنے کے لئے پیداواری صلاحیت اور قوتوں کی ترقی ناگزیر ہے۔ چین نے نہ صرف اپنی صنعتی پیداوار میں اضافہ کیا بلکہ زرعی پیداوار کو بھی بڑھایا۔ چین کے برعکس ہمارا صنعتی اور زرعی شعبہ بحران سے دوچار ہے۔ ہماری سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ہم پیداواری قوتوں کو بڑھاوا دینے اور صنعت کاری کے عمل کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے ہیں۔ چین کی معاشی ترقی کو بڑھانے اور اسے برقرار رکھنے میں ریاست کا کردار فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح غربت میں کمی کے لئے چین کی ریاست کا کردار نہیات اہم ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ چین کی معیشت میں ریاست کا کردار آج بھی غالب ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کو چین کے حوالے سے سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ چین کی ریاست اب بھی معیشت کو کنٹرول کرتی ہے اور اس کا معیشت پر غلبہ ہے۔ 
یہ درست ہے کہ چین نے 1978ء کے بعد سے بہت ساری معاشی اصلاحات متعارف کروائیں جن کے نتیجے میں سرمایہ داری کی بحالی کا عمل شروع ہوا۔ چین میں ذرائع پیداوار کی نجی ملکیت کو بحال کیا گیا۔ آزاد منڈی کی معیشت کو متعارف کروایا گیا۔ کئی صنعتوں اور کاروباری اداروں کی نج کاری کی گئی۔ معیشت میں نجی شعبے کے عمل دخل کو بڑھایا گیا ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو چینی محنت کشوں کے استحصال کا موقع فراہم کیا گیا مگر ان سب اقدامات اور پالیسیوں کے باوجود ریاستی عمل دخل کو برقرار رکھا گیا۔ چین کی معیشت کے بڑے حصے میں اب بھی ریاست کی ملکیت ہیں۔ چین کی ریاست نے معاشی پالیسیوں کو بنانے اور معیشت کی سمت کے تعین کے عمل سے خود کو کبھی کنارہ کش نہیں کیا اور نہ ہی یہ سب کام نجی شعبے کے رحم و کرم پر چھوڑے۔
اس کے برعکس 1990ء کی دہائی سے پاکستان میں آزاد منڈی کی معیشت اور نیولبرل معاشی پالیسیوں کو پوری شدت سے لاگو کیا گیا۔ نج کاری، ڈاؤن سائزنگ اور معاشی اصلاحات کے نام پر پبلک سیکٹر کا تقریباً خاتمہ کر دیا گیا۔ اس وقت بچے کھچے چند ادارے ہی ریاستی ملکیت میں رہ گئے یہں۔ تمام بڑے بینک ، صنعتی یونٹ اور دیگر ریاستی ملکیتی ادارے نج کاری کے نام پر نجی شعبے کے حوالے کئے گئے۔ معیشت کو چلانے میں ریاستی کردار کو انتہائی محدود کر دیا گیا۔ پاکستان میں گزشتہ 3 دہائیوں سے یہ نظریہ پالیسی سازوں اور حکمرانوں میں گہرائی تک سرائیت کر چکا ہے کہ صنعتیں اور ادارے چلانا ریاست کا کام نہیں بلکہ نجی شعبے کا کام ہے اور بے روزگاری اور غربت میں کمی نجی شعبے کی ترقی سے ممکن ہے۔ اسی نظریے کی بنیاد پر تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کو منڈی کی زینت بنا دیا گیا۔ پاکستان میں اس وقت عملاً اچھے تعلیمی اداروں کے دروازے غریب گھرانوں کے بچوں پر بند ہو چکے ہیں۔ 
ہمیں اس مفروضے سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور ریاست کردار کو معیشت میں بڑانے کی ضرورت ہے۔ 
چین نے غربت کے خاتمے اورکمی کے لئے کئی منصوبے اور پروگرام شروع کئے۔ یہ سب پروگرام اور منصوبے چین کی ریاست نے شروع کئے اور ان پر عملدرآمد کیا۔ دیہی چین میں غربت کے خاتمے اور زرعی پیداوار کو بڑھانے کے لئے زرعی ترقی کے کئی پروگراموں کا آغاز کیا۔ چین میں یہ پروگرام اور منصوبے اس لئے کامیاب ہو سکے کیونکہ وہاں پر جاگیرداری کا خاتمہ ہو چکا تھا اور زرعی اصلاحات کے ذریعے زمین کی یکساں تقسیم ہو چکی تھی جس کے باعث زمین کی یکساں ملکیت وجود میں آ گئی تھی۔ (جاری ہے)


ای پیپر