’’بیگم‘‘ ۔۔۔ آخر آپ کو تکلیف کیا ہے ۔۔۔؟؟ ‘‘
29 اگست 2018 2018-08-29

چوہدری آفتاب سرور شرمندہ شرمندہ بتا رہے تھے کہ جو عطر کی شیشی کل دفتر کے نائب قاصد اللہ دتہ مسکین نے اُن کو حج سے واپسی پر گفٹ کی تھی وہ بھی ۔۔۔ ’’ بیگم ‘‘ صاحبہ نے دیوار پہ غصے میں دے ماری اور کرچی کرچی کر دی ۔۔۔

اس سے پہلے اللہ دتہ مسکین نے ایک عطر کی ایسی ہی شیشی مدثر عنائت بھٹی المعروف ’’جنّاں والی سرکار‘‘ کو بھی تحفۃ اُس وقت دی تھی جب موصوف عمرہ کی سعادت حاصل کر کے آئے تھے وہ شیشی بھی اسی ’’ظلم‘‘ کا شکار ہو گئی تھی ۔۔۔ یہ بات ہمیں بھٹی صاحب نے نہیں بتائی لیکن اِدھر اُدھر سے ایسی اطلاعات آ ہی جاتی ہیں ۔۔۔ (آج کل بحث چل رہی ہے کہ خواتین خواتین سے حسد کرتی ہیں اُس موضوع کے بعد یہ بات بھی تو قابل توجہ ہے ؟) ۔۔۔

میں اس نازک موضوع پر لکھنے سے ہمیشہ ڈرتا ہوں یا یوں کہہ لیں کہ کنی کتراتا ہوں کیونکہ اس حوالے سے فیصل آباد کے معروف شاعر زاہد فخری کی مشہورِ زمانہ نظم ’’کدی تے پیکے جا نی بیگم ۔۔۔ آوے سکھ دا ساہ نی بیگم ‘‘ اور دوسری تحریریں عوام میں زبان زدِ عام و خاص ہیں اور سنا ہے کہ ایسی تحریریں لکھنے والے یا ایسی نظمیں ٹیلی ویژن پر لہک لہک کر سنانے والے جب رات گئے اپنے گھر پہنچتے ہیں تو بیگم صاحبہ ’’اُن‘‘ کو ڈبل چمچ نمک کا ڈال کر روٹی کے ساتھ ساگ کی پلیٹ سامنے رکھ دیتی ہیں اور خود سامنے بیٹھ کر ’’تماشہ‘‘ دیکھتیں ہیں ۔۔۔ ایک آدھ بیگم نے تو سنا ہے کہ ایسے شاعر کو ڈبل چمچ لال مرچ ڈال کر بھی ساگ کھلا ڈالاتی ہیں اور شاعر کی آنکھوں سے جب آنسو رواں ہوئے تو مسکراتے ہوئے رات کے پچھلے پہر فرمائش کر ڈالی ۔۔۔ (دل ہی دل میں مسکراتے ہوئے) ۔۔۔ یا پھر ایسے شعراء کو ٹھنڈی چائے پیش کر کے بدلہ لیا جاتا ہے یا اُن کے سیگریٹ کی ڈبیا چھپا کے وغیرہ وغیرہ )۔۔۔ 

’’ذرا وہ نظم تو سنائیں جس میں بیگم کو میکے جانے کی آپ نصیحت کرتے ہیں‘‘ ۔۔۔ ایسے موقع پر شاعر چونکہ ایک چالاک آدمی کے طور پر جانا جاتا ہے صرف معافی مانگنے پر ہی اکتفاء کرتا ہے ۔۔۔جیسا کہ نئی حکومت سے نئے تجربے کرتے ہوئے ہلکی ہلکی ’’بے ضرر‘‘ سی غلطیاں ہو رہی ہیں اور سوشل میڈیا دل کی بھڑاس نکال نکال کر من مرضی کر رہا ہے اور حکومتی لوگ محض ’’مسکرا‘‘ کر چپ کہ ’’ایک چپ سو سکھ‘‘ والا محاورہ آپ نے تو سن رکھا ہو گا ۔۔۔ اس وقت ٹیلی ویژن چینلز سے زیادہ سوشل میڈیا ایک خوفناک ’’رول‘‘ پلے کر رہا ہے ۔۔۔ 

تاریخ میں ایسے شاعر اور ایسی بیگمات کی بہت سی کہانیاں عوام کی تفنن طبع کے لیے لکھی جا چکی ہیں ۔۔۔ ہم نے بھی تو شادی کے ابتدائی ایام میں گاڑی میں میکش کے گانوں کی کیسٹ لگا رکھی تھی ۔۔۔ اور ’’بدنام زمانہ‘‘ گانا ’’جانے کہاں گئے وہ دن کہتے تھے تیری راہ میں‘‘ ۔۔۔ اکثر سنا جاتا تھا ۔۔۔ ایک دن ۔۔۔ دو دن ۔۔۔ تیسرے دن بھی جب ہم بیگم کے چیک اپ کے لیے ہسپتال جا رہے تھے کہ خود سے ہی وہی ’’بدنامِ زمانہ‘‘ گانا چل پڑا ۔۔۔ بیگم نے نہایت محبت سے کیسٹ نکالی اور ہوا میں اچھال دی ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی جوتی اتار کے ٹیپ ریکارڈر پر مارتی اور اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتی ۔۔۔ ہم نے ٹیپ ریکارڈر میں کیسٹ لگا دی ۔۔۔ جس میں یہ گانا چل رہا تھا (تا کہ موڈ ذرا بدل جائے اور ماحول کچھ اچھا ہو جائے) ۔۔۔؂

’’ہوا میں اُڑتا جائے تیرا لال ڈوپٹہ ململ کا‘‘ 

بیگم نے اس پر بھی اعتراض کیا کہ تم تو پرانے دور کے ہو ۔۔۔ ہمارے دور میں یہ گانے نہیں سنے جاتے ۔۔۔ بس تمہاری محبت میں ایک آدھ بار ہم بھی یہ پھٹیچر گانا سن لیتے ہیں ۔۔۔ جلدی سے کسی نئی کیسٹ کا انتظار کرو ۔۔۔ ورنہ یہ کیسٹ بھی ہوا میں اچھال دی جائے گی اور اس بار ٹیپ ریکارڈر بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گا ۔۔۔

تاریخ میں بیگمات کے ہاتھوں تذلیل کا شکار ہونے والوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے ۔۔۔ ایک سروئے کے مطابق بیگمات ہی ۔۔۔ عام طور پر مردوں کو ’’اوٹ پٹانگ‘‘ کام کرنے پر مجبور کرتی ہیں ۔۔۔ جب اس حوالے سے خواتین کے انٹرویو کئے گئے تو اُنھوں نے جو مدلل جوابات دئیے اس سے بندے کا دل پسیج جاتا ہے اور وہ اپنے ہی گریبان میں جھانکنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔۔۔ 

ان سب باتوں کے باوجود یہ سچ ہے کہ پاکستانی معاشرہ میں عورت مرد کے مقابلے میں آگے رہے ۔۔۔ اور جہاں تعلیمی اداروں میں مقابلتاً عورتیں پوزیشن لے رہی ہیں وہیں اب عورت کا مردوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھنا بھی دن بدن کم ہوتا چلا رہا ہے ۔۔۔ تعلیم کے شعبہ میں تو عورتیں بہت آگے جا رہی ہیں دوسرے شعبوں میں بھی اُن کی کارکردگی مثالی ہے ۔۔۔

آج میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ کراچی میں ایک نو عمر لڑکی ’’موٹر مکینک‘‘ کاکام نہایت عمدگی سے کرتی ہے اور اُس نے ثابت کر دیا کہ یہ مشکل اور محنت طلب کام بھی عورت کے نازک ہاتھوں سے ہو سکتا ہے ۔۔۔

باہمت پاکستانی خواتین اسلام آباد میں ٹیکسی بھی خوش اسلوبی سے چلا رہی ہیں ۔۔۔ جہاز بھی پاکستانی خواتین اُڑاتی ہیں جبکہ خدمت کے دوسرے کام کرنے میں بھی ہماری خواتین پیش پیش ہیں یہاں تک کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے تو وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ سنبھال کر اور نہائت جرأت مندانہ نمائندگی کر کے یہ ثابت کر دیا کہ عورتیں کسی سے پیچھے نہیں ہیں؟! ۔۔۔

بات شروع ہوئی تھی عورتوں کے جابرانہ رویہ سے اور جا پہنچی عورت کی حکمرانی تک ۔۔۔ ویسے تو سوشل میڈیا پر اس حوالے سے آپ کو بہت کچھ پڑھنے کو مل جائے گا لیکن میرے ذہن میں نجانے کیوں مغل بادشاہ اور اُن کی جابر خواتین گھوم رہی ہیں اس حوالے سے سب سے اہم نام ملکہ نور جہاں کا ہے جو جہانگیر بادشاہ کے اعصاب پر سوار رہی اور تاریخ بتاتی ہے کہ بادشاہ سلامت اُن کے جائز اور ناجائز سب طرح کے حکم اکثر مان لیا کرتے تھے اُن کے بیٹے شاہ جہاں نے تو اس حوالے سے ایک مثالی کام کیا اور دنیا کو ایک عجوبہ ’’تاج محل‘‘ کی شکل میں دے گئے اور محبت کی ایک انوکھی داستان بھی رقم کر گئے ۔۔۔ اسی جابرانہ انداز کی بہت سی باتیں اکبر بادشاہ کے حوالے سے بھی تاریخ میں بڑی تعداد میں پڑھنے کو ملتی ہیں چونکہ مغلوں نے ہر کام مختلف انداز میں کیا اُن کا عورت کے حوالے سے بھی طرزِ عمل مختلف رہا اور رہتی دنیا تک لوگ جہاں مغل سلطنت کو یاد رکھیں گے، مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب کو یاد رکھیں گے، وہیں ان بادشاہوں اور اُن کی بیگمات اور اُن کا جابرانہ اسٹائل بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔۔۔

ہم تو سوشل میڈیا کے زمانے کے لوگ ہیں ہمیں اس سے کیا لیکن پھر بھی ہر دن اس حوالے سے اب بھی نئی نئی باتیں، نئے نئے لطیفے دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں نہ مغل دورِ سلطنت میں کوئی ان کا کچھ بھگاڑ سکا اور نہ ہی ہمارے دور میں اس حوالے سے کوئی ’’Step‘‘ عوام لے سکے گئی باقی آپ خود سمجھدار ہیں ۔۔۔؟؟!!


ای پیپر