متحد مگر منتشر اپوزیشن
29 اگست 2018 2018-08-29

2018ء کے انتخابات کے نتائج میں سیاسی جماعتوں کی نشستوں کی پوزیشن دیکھ کر بیشتر سیاسی تجزیہ نگار وں کی متفقہ رائے تھی کہ وفاق اور پنجاب میں پاکستان تحریک انصاف کی کمزرو حکومتوں کو مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہوگا۔ گُمان تھا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم ایم اے اور اے این پی ایک مضبوط اور مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کریں گی۔ لیکن میموگیٹ اسکینڈل اور زرداری صاحب کے اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے مشہور بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں مسلم لیگ نواز نے جو رویہ اختیار رکھا۔ اس سے پاکستان پیپلز پارٹی رنجیدہ ہے اور اس قدر رنجیدہ ہے کہ اس کی اعلیٰ قیادت مسلم لیگ نواز سے بات کرنے کے لیے بھی تیار نہیں۔ اگرچہ ان کی سیکنڈ لائن قیادت مسلم لیگ نواز اور دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات بھی کررہی ہے لیکن یہ مذکرات سیاست سے کم اور ایک نجی ٹی وی چینل پر پیش کیے جانے والے پروگرام ’’مذاق رات‘‘ سے زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔ جس میں مختلف کامیڈین جگت بازی اور مضحکہ خیز حرکتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں۔
انتخابات کے بعد جس سُرعت اور شتابی کے ساتھ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے کُل جماعتی اجلاس کا اہتمام کیا تھا اس کی افادیت اس طرح سامنے نہ آسکی جس جذبے سے اس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اس کانفرنس میں انتخابی شکست کا نوحہ تو پڑھا گیا لیکن زمانہ حال اور مستقبل کے لیے مربوط حکمت عملی کا تعین نہ ہوسکا۔ پھر جس طرح یہ اتحاد وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر کرچی کرچی ہوا وہ اپنی جگہ خود ایک المیہ ہے۔ اور اب صدر مملکت کے انتخاب کے موقع پر بھی ایسے ہی رویوں کی امید ہے۔
حزبِ اختلاف منتشر کیوں ہو ئی ؟ اول تو یہ کہ اتحاد کوئی بنیادی ایجنڈا طے نہیں کرپایا تھااور اگر کوئی تھا بھی تو فقط تحریک انصاف کے راستے میں روڑے اٹکانا اور محاذ آرائی ۔ محاذ آرائی کی سیاست کی کوکھ سے آج تک کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے ۔ اس کے نتیجے میں ہمیشہ ملک ا ور قوم نے جبر اور تکلیف کا سامنا کیا ہے۔
دوئم یہ کہ پاکستان کو جن گھمبیر مسائل اور خاص کر ابتر معاشی صورتحال کا تقاضا ہے کہ اپوزیشن کوئی مثبت کردار ادا کرے اور اہم قومی معاملات پر اتفاق رائے کی فضا قائم کرسکے۔ جیسا کہ مسلم لیگ نواز اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن سے امید کر رہی تھی۔ لیکن عوامی سطح پر نئی حکومت کے ابتدائی دنوں میں ہی احتجاج کی پذیرائی ممکن نہیں تھی۔
سوئم یہ کہ پاکستان پیپلز پارٹی جو اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت ہے اس کو جس طرح نیب کے کیسوں میں جکڑا جارہا ہے وہ اس پوزیشن میں نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ مخالف رویہ اختیار کرے۔ پاکستان پیپلز پارٹی الطاف حسین اور نواز شریف کا انجام دیکھ چکی ہے ۔ اسی لیے سینیٹ کے چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب کے موقع پر تا بعداری کا مظاہرہ کیا اور مسلم لیگ سے اس کی پرانی روش کا بدلہ بھی چکا لیا۔
چہارم یہ کہ اتحاد کے خواہش مند اس بنیادی فلسفے کو فراموش کربیٹھے کہ اتحاد مفادات کی قربانی، ذاتی انا کی قربانی اور کلام کی طاقت کے باوجود خاموشی اختیار کرنے کی قربانی اور سب سے بڑھ کر ذہنی ہم آہنگی سے وجود پاتے اور برقرار رہتے ہیں۔ لیکن اس مجوزہ اتحاد میں مذکورہ تمام عناصرمفقود تھے ۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ذاتی ا ور گروہی مفادات کو پسِ پشت ڈالے بغیر اجتماعی شاندار مستبقل کی بنیاد رکھی جاسکے۔ہمارا سیاسی منظر ایسی ہی قربانی کا متقاضی ہے۔ سیاست کے موجودہ حالات اورسیاست میں غیر سیاسی عناصر کی دخل اندازی بھی ہمارے سیاست دانوں ہی کا کیا دھرا ہے کہ ان کے مزج میں سیاسی قناعت کم اور سیاسی حرص کی زیادہ رہی ہے۔ حالات کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اشرافیہ کی بجائے عوامی جمہوریت کو زندہ کیا جائے کہ سماجی اور معاشی انصاف کے قیام کے منطقی نتائج پیدا کیے جاسکیں۔ لیکن افسوس کہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات اور سیاسی بقاء کے پس منظر میں مستقبل کی صف بندی کررہی ہیں۔ اس سارے منظر میں اگر فراموش کر دیے گئے ہیں تو وہ ہیں پاکستان اور اس کے عوام ۔
2013 ء سے 2018 ء کے عرصے میں اگرچہ تحریک انصاف حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت تھی لیکن اس نے اپنی حکمت عملی سے اسمبلی میں کم اور اسمبلی سے باہرْ نواز حکومت کے لیے جو قیامت برپا کیے رکھی اس سے فقط وہی اپوزیشن کی جماعت کہلائی ۔ بعد میں پھر یہی زبان اور لہجہ دیگر سیاسی جماعتوں نے اختیار کیا۔آج مسلم لیگ نواز حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ہے لیکن سیاسی قیادت کے بحران سے اس کی کمزور اور پست سیاسی حکمت عملی اس حد تک جاچکی ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے انتخاب کے موقع پر وہ متفقہ اُمیدوار کی حمایت کرتی ہے ۔ لیکن وزیراعظم کے عہدے لیے وہ متفقہ امیدوار پر اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ پیپلز پارٹی کا تعاون حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے تو بے جا نہ ہوگا، اور اب یہی معاملہ صدر کے انتخاب میں ہے۔
اگر مستقبل کا سیاسی تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے تو بظاہر یہی نظر آتا ہے کہ مسلم لیگ نواز ہی حقیقی حزب اختلاف ہوگی ۔ کیونکہ گزشتہ دوسال میں اس کے ساتھ جو کچھ ہوا اس صوتحال میں وہ خود کو پہلے ہی سے حزبِ اختلاف کے لیے تیار کرچکی تھی۔ اگر کوئی دوسری جماعت اس کے ہم رکاب ہوئی تو وہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ہوگی اور اس دوران اگر نواز شریف اور مریم نواز میں سے کسی ایک یا پھر دونوں کی ضمانت ہوجاتی ہے تو یہ حزبِ اختلاف اور خاص کر مسلم لیگ نواز کے لیے نعمتِ غیر مترکبہ سے کم نہ ہوگی۔ اپوزیشن کے متحد ہو نے کا قوی امکان اسی صورت میں ہوگا اگر مسلم لیگ نواز شریف کے بیانئے پر ثابت قدمی سے ڈٹی رہی تو وہ بھی اسی طرح دیگر سیاسی جماعتوں کو اپنا ہم نوا بنا لے گی جس طرح ماضی قریب میں تحریک انصاف نواز حکومت کے خلاف دوسری جماعتوں کو ساتھ ملا چکی ہے۔ 
امید ہے کہ مسلم لیگ نواز اور مولانا فضل الرحمٰن مؤثر اپوزیشن کی بنیاد رکھتے ہوئے ایجی ٹیشن کی اس روایت کو زندہ نہیں کریں گے جو پاکستان تحریک انصاف دھرنوں اور جلسوں کی شکل میں کرتی رہی ہے۔


ای پیپر