معاشی ابتری کی صورت حال اور نیا پاکستان؟
29 اگست 2018 2018-08-29

تحریک انصاف کی حکومت کو ابھی اقتدار منتقل ہوئے چند دن ہوئے ہیں لیکن عمران خان نے الیکشن سے قبل جو عوامی و انتخابی جلسوں میں عوام کو ایک تبدیلی اور نئے پاکستان بنانے کا پروگرام دیا تھا اس پر یکے بعد دیگرے عملدرآمد شروع کردیا جو کہ ملک و ملت کیلئے بڑا خوش آئند اقدام ہے۔ملک معاشی بد حالی کے نازک دوراہے پر کھڑا ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کیلئے ان حالات میں ملک کو لیکر آگے بڑھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگا۔پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر تیزی کیساتھ کم ہو رہے ہیں اگر اس صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان کو یقیناًمعیشت کے حوالے سے مشکل حالات کا سامنا ضرور ہے لیکن حالات اتنے بھی خراب نہیں ہیں کہ اس صورتحال پر قابو نہ پایا جائے ۔برآمدات ‘غیر ملکی سرمایہ کاری‘غیر ملکی امدادبیرونی قرضے 

اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانیوالی رقم وہ ذرائع ہیں جو پاکستان کے ذرمبادلہ کے ذخائر کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں اور بیرون ممالک میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے رقوم کی ترسیلات کا سلسلہ نہ صرف تاحال جاری ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال نہ ہونے کے پیش نظر بیرونی سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں تھے اب ملک میں نئی حکومت کے قیام اور امن و امان کی صورتحال میں بھی کافی حد تک بہتری آچکی ہے جس کی وجہ سے بیرون ملک کے سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پر امید نظر آرہے ہیں ۔سعودی حکومت نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے خواہش کا اظہار کیا ہے ۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بہت کم ہے یہ ملک جغرافیائی سٹرٹیجک اہمیت رکھنے کے علاؤہ وسائل کی دولت سے بھی مالا مال ہے۔پاکستان میں نئی بننے والی حکومت کے معاشی منیجرز اگر معقول معاشی پروگرام ترتیب دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر قوی امکان ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے مطلوبہ رقم آسانی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔ابتک پاکستان کو انفرادی ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ملنے والی امداد اور سرمایہ کاری کا انحصار بڑی حد تک دہشت گردی کیخلاف جنگ میں تعاون پر رہا ہے لیکن بعض حلقوں کی جانب سے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی غیر مؤثر پالیسی کو کسی حد تک ملک کی مالی مشکلات کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔اب ملک میں پاکستان تحریک انصاف کی جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آچکا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی عوام کو الیکشن سے قبل نہ صرف تبدیلی کا نعرہ دیا بلکہ ایک سوچ‘نظریہ اور ویثرن کیساتھ نیا پاکستان بنانے کا وعدہ بھی کیا اور جو باتیں تبدیلی کے حوالے سے کی گئی تھیں عوام ان کو عملی جامہ پہنتے دیکھنا چاہتی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان اس سوچ‘نظریہ اور ویثرن کولیکر عوام کو نئے پاکستان میں کیسے داخل کرتے ہیں ۔اس وقت پاکستان کے ذمے مجموعی قرضوں اور واجبات کا ریکارڈ حجم تیس ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے پانچ سال میں تیرہ ہزار 523ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت پاکستان کا ہر فرد ایک لاکھ چالیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔2013ء میں پاکستان کا مجموعی قرض 16338ارب روپے تھا جو 2018ء میں بڑھ کر 19861ارب روپے ہو گیا ہے۔جبکہ سود کی مد میں پاکستان نے سولہ سو ارب روپے ادا کیے ہیں2013ء میں پاکستان کے ذمے بیرونی قرض 160ارب ڈالر تھا پانچ سال کے دوران بیرونی قرضوں میں پینتیس ارب ڈالر کا اضافہ ہوااور بیرونی قرض پچانوے ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔سال2013-18ء کے دوران ملک کے اندرونی قرض میں بھی 6895ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ 2013ء میں اندرونی قرض 9520ارب روپے تھا جو کہ اب 16415ارب روپے تک پہنچ چکا ہے اگر سرکاری اداروں کے قرض اور واجبات کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائی جائے تو یہ تیرہ سو ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔عالمی قرضوں کی درجہ بندی کرنیوالے ادارے فیچ ریٹنگز نے نشاندہی کی تھی کہ نئی حکومت کو بیرونی سرمایہ کاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اٹھارہ ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ چار اعشاریہ سات فیصد پر پہنچی ہوئی شرح نمو اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی نے پاکستان کی معشیت کو بھنور میں ڈال دیا ہے۔ایسے حالات میں تو بظاہر اس مشکل معاشی صورتحال سے نکلنے کیلئے پاکستان کو آئی ایم ایف کے دروازے پر قرض کیلئے دستک دینا پڑے گی۔لیکن اس سے سی پیک میں چین کی سرمایہ کاری سے کیا گیا معاہدہ مشکل میں پڑ سکتا ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ سرمایہ کاری کیلئے دیگر ذرائع بھی تلاش کرے ۔چین کے بھی پاکستان کیساتھ مفادات جڑے ہوئے ہیں اور چین پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے آزاد کروانے کیلئے مکمل طور پر بیل آؤٹ پیکج دینے پر بھی تیار ہے ۔اب حکومت بھی چاہتی ہے کہ ہمیں قرض کیلئے آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا نہ پڑے اور اس بارے سوچ بچار بھی کر رہی ہے۔ملک میں بسنے والی آبادی کی اکثریت غربت و افلاس ‘بیروزگاری‘تعلیم و صحت کی انتہائی ناقص صورتحال کے پیش نظر زندگی گزارنے پر مجبور 

ہے۔جبکہ سابقہ حکومت نے بکاؤ ذرائع ابلاغ کے ذریعے پراپیگنڈہ کو ہوا دی کہ معاشی ترقی کا ایک کوہ ہمالیہ کھڑا ہونے جا رہا ہے اور سی پیک منصوبہ کی تکمیل کیساتھ ملک میں دودھ اور شہد کی نہروں کی بہتات ہوگی کارپوریٹ کلچر کے غلام میڈیا نے عوام کے سامنے معاشی ترقی کے ایسے اعداد و شمار رکھے کہ جیسے عنقریب ملک سے غربت و پسماندگی کا مکمل صفایا ہو جائیگا۔لیکن ہوا کیاا سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اس انداز سے ضربیں دیں اور آئی ایم ایف سے قرض کی تمام قسطیں وصول کرنے کے بعد ملک کی آنیوالی نسل کو بھی اس سفید ہاتھی کی گود میں گروی رکھ دیا ۔اس وقت ملک معاشی عدم استحکام کی نازک ترین صورتحال سے دوچار ہے پاکستان کو اس معاشی گراوٹ کے بھنور سے نکالنے کیلئے بڑے کڑوے اور اہم فیصلے کرنا ہونگے ملک سے چینی بنکوں سمیت عالمی مالیاتی اداروں کی سود پر مبنی معشیت کا خاتمہ کرنا ہوگا‘ملک میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیوں ‘سرمایہ 

داروں‘جاگیرداروں اور بینکاروں کی دولت کا حساب لینا ہوگاَملک میں موجود کرپٹ مافیا کا بلا تفریق کڑا احتساب کر کے ان سے لوٹی گئی دولت واپس لینا ہوگی‘اس کے بغیر ایک مزدور کیلئے فلاحی ریاست کے قیام کا خواب پورا نہیں ہوسکتا اور یہ ملک معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوسکتا اللہ نے اس ملک کی عوام کو سات دہائیوں بعد عمران خان کی شکل میں ایک ایماندار قیادت عطاء کی ہے اور عمران خان نے نئے پاکستان کی بنیاد منشور پر عمل درآمد کرتے ہوئے رکھ دی ہے پاکستان کی عوام کی پر امید نظریں نئی حکومت کی کارکردگی پر جمی ہیں ۔کڑا حتساب‘معشیت کی بہتری‘ قرض سے پاک ملک‘لوٹی گئی دولت کی واپسی‘کرپشن کا خاتمہ‘اداروں کی خودمختاری‘ایک کروڑ نوکریوں کے مواقع پیدا کرنا‘پچاس لاکھ سستے گھروں کی تعمیر‘غیر ملکی قرضوں میں کمی سمیت ملک کو اسلامی ٖفلاحی ریاست بنانے کے وعدوں کی تکمیل کیساتھ نیا پاکستان بنانا عمران خان کیلئے بہت بڑا ٹیسٹ کیس ہے ۔۔۔!


ای پیپر