حکومت کے پاس الہ دین کا چراغ نہیں
29 اگست 2018 2018-08-29

ذلت آمیز زندگی بسر کرنے والوں کو موجودہ حکومت سے ڈھیروں توقعات ہیں۔ لہٰذا ان کی خواہش ہے کہ وہ پلک جھپکتے میں پوری ہو جائیں۔ تاکہ انہیں اور ان کے بچوں کو کچھ تو جینے کی آسائشیں میسر آ سکیں۔ بات تو ان کی بجا ہے۔ وہ اب تک الم و مصائب میں۔۔۔ اپنی حیات کو لپٹا ہوا دیکھتے چلے آئے ہیں انہیں ابھی تک وہ غذا میسر نہیں آ سکی جو ایک انسان کو درکار ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ ہر حکمران نے انہیں دلاسا دیا امید کا راستہ دکھایا اور یہ یقین دلایا کہ وہ ذہنوں سے اپنے ماضی کو کھرچ ڈالیں کہ جس میں مشکلات اور اذیت کے سوا اور کچھ نہ تھا۔۔۔ اب وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں بہاریں ہیں، خوشبوئیں ہیں اور دعنائیاں ہیں لہٰذا وہ ایسے جئیں گے جیسے بلبلیں گلستانوں میں مسرت و انبساط سے ادھر سے اُدھر اڑتی پھرتی ہیں انہیں کوئی غم اور کوئی فکر نہیں ہوتے۔۔۔ مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ جو نہی وہ 
اقتدار میں آتے سب وعدے سب دعوے اور سب خواب بھلا دیتے ۔ میں متعدد بار عرض کر چکا ہوں کہ اس میں ان کا قصور تو ہوتا ہی تھا مگر زیادہ تر قصور وار مغرب کا ہوتا کیونکہ وہ شروع دن ہی سے پاکستان کے اندر اپنا اثر و نفوذ قائم کر چکا تھا امدادیں، فنڈز اور قرضے دے کر ۔۔۔ گویا احسان کرتا کہ اگر وہ یہ سب نہیں کرے گا تو ملک کو چلانا مشکل ہو جائے گا۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے تھا کہ کہیں پاکستان دوسرے بلاک ( سودیت یونین) میں نہ چلا جائے جس سے اس کو ایشیا کے اندر اپنے اڈے قائم کرنے سے ہاتھ دھونے پڑ جائیں۔ لہٰذا وہ دونوں پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں اپنی جڑیں گہری کرتا رہا ہے۔ ظاہر ہے ہر حکومت اس کی مٹھی میں ہوتی یعنی اسے اس کی آشیر باد ہوتی اور وہ ایسے منصوبے اس کے سامنے رکھتا جو معاشی ، سیاسی اور سماجی اعتبار سے ملک کو مضبوط
اور توانا نہ بناتے ہوں۔۔۔ مگر عارضی طور پر عوام کو ان سے ریلیف ضرور ملتا ہو لہٰذا جتنے حکمران آتے وہ اس کے چنگل سے نہ نکل پاتے اور اگر کسی نے اس حوالے سے کبھی سوچا بھی تو وہ اس کا دھڑن تختہ کرا دیتا۔۔۔ مگر یہ سب ہوا ہمارے ہی ہاتھوں۔۔۔ اور ہم نے کبھی بھی یہ نہ سوچا کہ اس کے اثرات بہت دور تک جا سکتے ہیں۔۔۔ بہر حال پیچھے جو ہوا سو ہوا اب ایسے آثار دکھائی دیتے ہیں کہ ہمیں کچھ سمجھ آ چکی ہے لہٰذا مغرب کو خیر باد نہ سہی اس سے گرم جوشی کا مظاہرہ نہ کیا جائے جو پہلے ہوا کرتی تھی اور اس ڈکٹیشن کو بھی قبول نہ کیا جائے جو ہمارے اوپر لازم تھا۔۔۔ لہٰذا خارجہ پالیسی تبدیل ہو چکی ہے ہو رہی ہے۔۔۔ اس تناظر میں جب ہم دیکھتے ہیں تو نئی حکومت اس کی آشیر باد سے محروم نظر آتی ہے اسے بالکل واشنگٹن سے پہلے والی راہ و رسم رکھنے میں دلچسپی نہیں ۔۔۔ اسی لیے ہی مغرب کو تھوڑی سی پریشانی ہوئی ہے ۔۔۔ اب وہ مستقبل میں کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔۔۔ مگر حیرت مجھے یہ ہے کہ اس کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے خواتین و حضرات نے لوگوں کو ڈرانا شروع کر رکھا ہے کہ اگر یہ حکومت اس سے تعلقات کار بہتر نہیں بنائے گی تو ہمیں بڑی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔۔۔ صدر ٹرمپ کی جارحانہ سیاست و حکمرانی ایسے مسائل کو جنم دے سکتی ہے جو ہمارے لیے سوہان روح بن سکتے ہیں۔۔۔ لہٰذا پالیسی میں لچک پیدا کی جانی چاہیے۔۔۔ یہ بات تو ماننا پڑتی ہے کہ بڑی طاقتوں کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا مگر دیکھنا یہ بھی ہو گا کہ ہم نے اب تک امریکا سے دوستی کر کے کیا حاصل 
کیا ہے۔۔۔ کہ اس وقت معاشی پالیسیوں اور اس کے مہروں کی کرپشن کہانیوں نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا اب ایسا لگتا ہے کہ انہیں باقاعدہ یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ ملکی معیشت کو کمزور و نحیف کر دیں تاکہ اسے قرضوں کی دلدل میں دھنسا کر اپنے اپنے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔۔۔؟ اب اگر پالیسی بدل رہی ہے تو یقینی طور سے پچھلے ادوار کو پیش نظر رکھا گیا ہو گا اور آئندہ کے لیے بھی کوئی سوچ بچار ضرور کی گئی ہو گی۔۔۔ کہ ملک بد حالی کی جانب بڑھ رہا ہے اسے خوشحالی کی طرف لے جایا جائے۔۔۔ لہٰذا اس پر کسی کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے تو ہو ہمیں مزید کسمپرستی کی زندگی بسر نہیں کرنی ہمارے بچے احساس محرومی کا شکار ہیں انہیں عوام دوست حکمران بھی چاہیں اور ماہرین بھی جو سابق خرابیوں کوتاہیوں اور غفلتوں سے نجات دلا کر اس دھرتی کو گل و گلزار میں بدل دیں جو خزاں کی لپیٹ میں ہے۔۔۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ جناب عمران خان وزیر اعظم ہر صورت ایک نئے سویرے کو طلوع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے مگر آغاز میں بیان کیا جا چکا ہے کہ ان سے عوام بالخصوص ہمارے کچھ دانشور یہ توقع کر رہے ہیں کہ وہ الہ دین کا چراغ ہاتھ میں لیں اور تمام مسائل کو ختم اور ہر خواہش کو پوری کر دیں ایسا ابھی نہیں ہو گا ایک طرف ہمیں بین الاقوامی سطح پر اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر ردعمل کا سامنا ہے تو دوسری جانب ملک کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کی سرخ آنکھوں کا بھی سامنا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کسی کا شور مچانا یہ ثابت کرتا ہے کہ محض عمران خان اور ان کی جماعت سے بغض ہے اختلاف سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا یہ ہوتا ہے اور ہونا چاہیے کیونکہ اس سے نئے نئے خیالات جنم لیتے ہیں حل تلاش کیے جاتے ہیں مگر یہ کہاں کی دانائی ہے کہ خوامخواہ تنقید برائے تنقید کے نظریے کے تحت دوسروں کو اس کا نشانہ بنایا جائے۔۔۔ بہر کیف اب تک جو اقدامات کیے گئے ہیں اگرچہ وہ بہت بڑے نہیں مگر اس سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ملک ایک ایسے راستے پر گامزن ہونے جا رہا ہے جو فلاح انسانی ہمدردی اور انصاف کا راستہ ہے لہٰذا عرض ہے تو اتنی کہ اینکرز، لکھاری اور سوشل میڈیا کے پہلوان ذراہتھ ہولا رکھیں اور حقائق کو جاننے کی کوشش کریں یونہی واویلا جائز نہیں ۔۔۔ اصل میں سہل پسندوں کو اپنی پر آسائش اور غیر ذمہ دارانہ طرز زندگی کی فکر ہے کہ اب انہیں حساب دینا اور کام کرنا ہو گا ۔۔۔ جیسا کہ ریلوے کے وزیر نے جب چیف کمرشل منیجر سے کچھ معلوم کرنا چاہا تو وہ یہ کہہ کر طویل رخصت پر جانے لگے کہ انہیں وزیر محکمہ شیخ رشید کے ساتھ کام نہیں کر نا ان کا رویہ ان کے مطابق نہیں ۔۔۔ ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے انہیں ’’ اوئے کاکا گل سُن‘‘ ایسا جملہ ادا کیا تھا ایسا نہیں ہوا ہو گا۔۔۔ انہوں نے آرام حرام کا کہا ہو گا جو ان کی نازک ترین طبع پر پہاڑ بن کر گرا لہٰذا وہ کیسے یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ آنا اپنی مرضی سے جانا بھی اپنی مرضی سے کام دھیلے کا نہیں کرنا اور جب انہیں پورا وقت اپنے دفتر میں بیٹھنا پڑجائے اور وہ بھی حرکت میں تو لازمی انہیں قبول نہیں ہو گا ۔۔۔ جاوید انور بوبک سربراہ ادارہ بھی تو ہیں جو شاعر و ادیب ہونے پر بھی اپنا کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے آ رہے ہیں انہیں تو کوئی شکایت نہیں ۔ خیر اب تو بد حال ملکی معیشت کا پہیہ رواں کرنا ہے اور ہر قیمت پر کرنا ہے جو اس عمل میں شریک ہو گا اس کا نام عوام کے دلوں پر کندہ ہو جائے گاور جو نہیں ہو گا اسے فراموش کر دیا جائے گا۔ اس ملک کو اکہتر برس کے بعد ایک ایسا لیڈڑ ملا ہے جو میرٹ پر یقین رکھتا ہے اور اس قوم کو بلندیوں پر دیکھنے کا آرزو مند ہے ۔ اسے اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں چاہیے۔ مگر اسے عوام کے لیے بہت کچھ چاہیے۔۔۔ اس کے لیے اداروں کو مستحکم خود مختار اور آزاد کرنے کا وہ فیصلہ کر چکا ہے بلکہ اس پر عمل درآمد ہو چکا ہے اس کے نتائج چند ماہ بعد ظاہر ہونے لگیں گے ابھی سے چیخ و پکار جو حضرات کررہے ہیں اس کی کوئی منطق نہیں ۔۔۔ اسے ’’دھڑا کٹنا‘‘ کہتے ہیں جس کا حاصل کچھ نہیں الٹا عوام کی نگاہوں سے گرنا ہے۔۔۔ اگر کوئی ایسا چاہتا ہے تو اسے روکا نہیں جا سکتا۔۔۔ کپتان نے عوامی محرومیوں کو ختم کر کے ہی دم لینا ہے۔


ای پیپر