کیاواقعی تبدیلی آگئی ہے؟ 
29 اگست 2018 2018-08-29

آج بھی کھیل کے میدان سے لے کر سیاسی میدان تک قدم رکھنے والے عمران خان کاعزم اور حوصلہ یکساں ہے۔ اِس میں نہ کل کوئی کمی آئی تھی اور نہ آئندہ کبھی آئے گی، دنیا جانتی ہے کہ یہ جو کہتا ہے کر دِکھاتا ہے، جس عمران خان نے 2013 میں تبدیلی کا نعرہ بلند لگایاتھا۔ آج اُسی عمران خان کی حکومت آگئی ہے ۔ اِسی لئے تو سب کہہ رہے ہیں ’’ تبدیلی آگئی ہے‘‘، تو پھر کیوں نہ ہم بھی گا ئیں اور خوب گا ئیں تبدیلی آگئی ہے ۔اِس پر پھربھی کچھ لوگوں کو ابھی تک یقین نہیں آرہاہے کہ مُلک میں تبدیلی آگئی ہے؟آج بھی نیلے پیلے ٹی وی چینلجز پر بیٹھے افراد اور اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے بار بار یہی سوال کیا جارہاہے کہ کیا واقعی تبدیلی آگئی ہے؟ اگر آگئی ہے تو کب تک رہے گی۔؟
بہر کیف ، کچھ بھی ہے؛ مگر اَب یقیناًستر سال بعد عوام کے دن پھرنے کو ہیں ۔ اِس پرعمران خان کی حکومت سے بہتری کی اُمید یں لگا ئے ، عوام کے ذہنوں اور دِلوں میں حکومت مخالف عناصراِدھر اُدھر سے خدشات اور تحفظات پیدا کررہے ہیں۔ اِس طرح حکومت سے اچھائی کی اُمیدیں وابستہ کئے عوام کو وسوسوں اور مخمصوں میں بھی مبتلا کرنے کا عمل زوراور شور سے جاری ہے ۔
ایسا کیوں ہے؟ آج یہ بھی سب کے سا منے ہے، یہ بات عوام بھی جانتے ہیں کہ آج جن شکست خوردہ عناصر نے نئی حکومت سے متعلق عوام کو بھڑکانے کا ٹھیکہ اٹھا رکھاہے ، یہی تو ہیں؛ جو عوام میں بے چینی پیدا کررہے ہیں۔اصل میں اِس طرح اُن کا مقصد عوام میں یہ تاثر پید ا کرنا ہے کہ عمران نے جس تبدیلی کا نعرہ بلند کیا تھا۔ یہ سب محض اقتدار کے حصول تک ہی محدود تھا۔ اور آج اپنے اُسی نعرے کی بدولت عمران خان کو اقتدار مل گیاہے۔ تو بس ستر سالہ تبدیلی کا خواب محض خواب ہی رہے گا ؛سب کچھ ایسا ہی چلے گا ۔
جیسا کہ ماضی کی حکومتیں کرتی آئیں تھیں۔عمران خان کو ئی انوکھا نہیں ہے ؛اِسے بھی اُن ہی لوگوں نے اقتدار سونپنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جنہوں نے کبھی محمد خان جونیجو اور نوازشریف کو پاکستان کا وزیراعظم بنایاتھا۔ اور جب اُن کا اِن سے دل بھر گیا؛تو اِن کے مدِمقابل کسی اور کو لا کھڑاکیا اور پھر دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال باہر پھینکا، جب تک نادیدہ قوتیں اور خلائی مخلوق عمران خان کو بھی چاہیں گیں، چلاتی رہیں گیں۔ عمران خان بھی اقتدار کی گاڑی کھینچتا اور گھسیٹتارہے گا ۔مگر جیسے ہی وہ قوتیں جب چاہیں گیں۔عمران خان کے نیچے سے بھی نواز شریف کی طرح مسندِ اقتدار اور حکمرانی کی کرُسی کھینچ لیں گیں۔اور پھر عمران خان بھی کبھی مُلک کی سڑکوں اور محلوں میں چیختا چلاتا پھرے گا کہ مجھے کیوں نکالا؟ میں تو مُلک میں سترسالہ تبدیلی کا مجددتھا۔بہرحال، آئندہ دِنوں میں اپنے ہولنا ک انجام سے خوفزدہ کرپٹ اور شکست خوردہ عناصرعمران خان کے تبدیلی اور مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کے خاتمے کے اعلان سے بہت زیادہ پریشان ہورہے ہیں۔ اِن دِنوں جن کا مقصدوزیرا عظم عمران خان اور اِن کی حکومت کو ناکام ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زورلگا نا رہ گیاہے؛ جس پر مُلک کی اپوزیشن کی تمام جماعتیں اور کرپٹ عناصرکاربند ہیں۔ 
غرض یہ کہ اپنے اپنے ویژن کو عوام الناس تک پہنچا نے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک مقابلہ لگاہواہے یعنی کہ خیر اور شر کے درمیان گھمسان کا رن جاری ہے۔ دیکھتے ہیں کہ آنے والے دِنوں میں خیر کی جیت ہوتی ہے۔ یا شر کے حصے میں پستی اور ناکامی آتی ہے۔ 
جبکہ ایک اندازے کے مطابق انتہائی قلیل مدت میں ہی ارضِ مقدس پاکستان کے 22ویں نومنتخب وزیراعظم عمران خان کے مداحوں کی تعداد 8لاکھ 17ہزار سے تجاوز کرچکی ہے؛ اِس طرح ہمارے نئے وزیراعظم عمران خان دنیا کے ساتویں پسندیدہ رہنما بن گئے ہیں۔ جبکہ ایک سروے کے مطابق کینیڈاکے وزیراعظم جسٹس ٹروڈوبھی ہیں؛ جن کے مداحوں کی تعدادابھی تک4لاکھ 26ہزار سے کچھ زائدنہیں ہے۔ یوں یہ اپنے مداحوں کی تعداد کے لحاظ سے آٹھویں نمبر پر ہیں۔بیشک ،ہمارے وزیراعظم عمران خان اپنی شخصیت اور عزم و ہمت کے حوالے سے منفرد مقام کے حا مل اِنسان ہیں، جن کی ذات اور شخصیت کسی تعریف کی محتاج نہیں ہے،ایسے ہی اِنسان کی مُلک کو برسوں سے ضرورت تھی ۔
الحمداللہ، آج عظیم سوچوں اور فہم وفراست اور سابق حکمرانوں کی لوٹ مار اور کرپشن کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ تلے دبے مُلک اور عوام کو خوشحالی کی راہ کی فکر سے بھر پور اِنسان وطن عزیز پاکستان اور پاکستانی عوام کو عمران خان کی شکل میں نصیب ہوگیاہے ،جس نے وزیراعظم کا منصب سنبھالتے ہی انتخابی مہم کے دوران کئے گئے اپنے 100روزہ پروگرام کے اعلان سمیت اپنے وعدوں ودعووں اور تبدیلی کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق عوام سے کئے گئے اپنے پہلے خطاب کا مرکز اور محوربنایا؛ اوراپنی پہلی عوامی تقریر میں ہی مُلک اور عوام کو درپیش مسائل اور اِن کے فوری حل کے لئے کئے جا نے والے حکومتی اقدامات اور منصوبوں کا لائحہ عمل بھی بتادیاہے۔ جس سے عوام میں بہتری کے ساتھ تبدیلی کی اُمید پختہ ہوگئی ہے؛ اور یقین ہوچلاہے کہ اَب تو مُلک میں تبدیلی آہی آئی ہے۔ چونکہ پاکستانی عوام کو عمران خان اور اِن کے مصصم عزم اور حوصلے پر یقین ہے کہ عمران خان کا حوصلہ اور عزم اِن کی سوچ اور اِن کی فکر و فراست سے زیادہ بلند ہیں، جو گھمبیر چینلجز کا بھی چیلنج سمجھ کر خندہ پیشا نی سے مقابلہ کرتے ہیں۔ اور اپنی فتح کا جھندا لہرادیتے ہیں۔
اگرچہ، یہ ٹھیک ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو حکمرانی کا تجربہ نہیں ہے مگر اِن سے بہتری کی اُمیدیں وابستہ رکھے عوام مخالفین کی پھیلا ئی جانے والی مایوسیوں سے ہرگز مایوس نہ ہوں ۔ بس!عوام اتنا یقین رکھیں کہ کھیل کے میدان کی طرح عمران خان میدانِ حکمرا نی میں بھی عوام کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے؛ پاکستا نی عوام اِن سے وابستہ اپنی اچھی اُمیدوں پر قائم رہیں۔ اور یقین رکھیں کہ نئے وزیراعظم عمران خان اپنے عزم اور ہمت و حوصلے سے مُلک میں ضرور بہت جلد عوامی اُمنگوں اور خواہشات کے مطابق مثبت تبدیلیاں لا ئیں گے ۔اَب بس !عوام جھوم جھوم کر گا ئیں تبدیلی آگئی ہے۔(ختم شُد)


ای پیپر