صدر پاکستان کون ہو گا ٗ زور و شور سےصدارتی مہم جاری 
29 اگست 2018 (17:08) 2018-08-29

اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے صدارتی امیدوار عارف علوی نے کہا ہے کہ4 ستمبر کو ہونے والا صدارتی الیکشن ہم بھاری اکثریت سے جیتیں گے، پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار اعتزاز احسن نے کہا ہے ہماری کوشش ہے اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار ہو ہمیں نقصان یہ ہے کہ ابھی تک اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار نہیں آیا مگر اس پر بھی اتفاق ہو سکتا ہے اور ہو جائے گا ، امید ہے معاملہ کا کوئی نکلے گا ۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری احسن اقبال نے کہا کہ شروع میں لگ رہا تھا کہ پی ٹی آئی کی انڈر 19 ٹیم حکومت میں آ گئی ہے مگر جوں جوں دن گزر رہے ہیں لگ رہا ہے انڈر 11 کی ٹیم حکمرانی کر رہی ہے اور ہمیں نہیں پتہ تھا کہ حکومت کے فیصلے گوگل کے ذریعے ہو رہے ہیں۔ اب ہر چیز کا حل گوگل ہمیں دے گی تو پھر حکومت اور وزراء کس مرض کی دوا ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کی غیرسنجیدہ حکومت کے ہوتے ہوئے ضروری ہے کہ اپوزیشن سنجیدگی کے ساتھ امیدوار پر متفق ہو اور ایک تجربہ کار قیادت کو صدر کے منصب کے لئے منتخب کیا جائے تاکہ ہم ملک کے اندر اتفاق اور اتحاد کے ساتھ معاملات آگے لے کر چل سکیں، امید ہے پیپلزپارٹی کی قیادت ہماری اپیل پر ضرور غور کرے گی۔ جے یو آئی (ف) کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ حکومت کے وزیر اطلاعات بتاتے ہیں عمران خان اس لئے ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں کہ اس کا خرچہ کم ہے اور یہ 55 روپے فی کلومیٹر ہے اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ پہنچائیں اور ہمیں فائدہ پہنچائیں۔ جھوٹ بھی ایسا بولا جائے کہ کسی درجہ میں اس کا سچ کا پہلو بھی ہو ۔ اپوزیشن کی وحدت، اتحاد اور یکسوئی بہت ضروری ہے، مولانا فضل الرحمن کا تعلق بھی جھوٹے صوبہ سے ہے، پیپلزپارٹی اپوزیشن کو تقسیم نہ کرے اور مولانا فضل الرحمن پر اتفاق کرے اور اتفاق کی صورت میں اپوزیشن صدارت کی سیٹ جیت سکتی ہے ہمارے سامنے کوئی مشکل نہیں ہے ۔

بدھ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں کاغذات نامزدگی کی منظوری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی صدارتی امیدوار عارف علوی کا کہنا تھا کہ چار ستمبر کو ہونے والا صدارتی الیکشن ہم بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بہت بھاری اکثریت کے ساتھ صدارتی الیکشن جیتیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ووٹ عمران خان اور بلے کو پڑا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں اگر عامر لیاقت کی کوئی رنجش ہے تو وہ پارٹی چیئرمین سے بات کریں۔ ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا جبکہ پی پی پی کے صدارتی امیدوار اعتزاز احسن کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میں پارٹی قیادت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کا شکرگزار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن بھرپور انداز میں لڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب سیکرٹ بیلٹ کے ذریعے ہو گا اور یہ پارٹی کا نہیں ضمیر کا ووٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے آئین کے تحت سیاسی جماعت کے تین ووٹ ہوتے ہیں۔ آرٹیکل 63-A میں آئین ارکان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ پارٹی امیدوار کے حق میں ووٹ دیں۔ ایک آئینی ترمیم پر دوسرا بجٹ پر اور تیسرا وزیراعلیٰ یا وزیراعظم کے انتخاب پر، یہ تین ووٹ پارٹی کے ووٹ ہیں جبکہ سیکرٹ بیلٹ ضمیر کا ووٹ ہے، پی ٹی آئی کے میرے جو دوست، بھائی، بہنیں، بیٹیاں، بیٹے اور بزرگ ہیں ان کے لئے یہ وقت انصاف کرنے کا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نئے امیدواروں کے درمیان بھی انصاف کرنا ہے۔ مجھے اس بات کا عندیہ ہے کہ اس وقت بہت سارے دوست اپنی پارٹی کے سیاسی فیصلوں پر پریشان ہیں۔ میں اس حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ دوسری جماعتوں اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے بھی ایسے ساتھی ہیں جو اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق مجھے ووٹ ڈالیں گے۔


ای پیپر