”موت سے زندگی کی طرف“

29 اگست 2018

نواز خان میرانی

قارئین ، میری حتی الوسع کوشش ہوتی ہے، کہ میرے ہاتھوں کسی کو اگر فائدہ نہ پہنچے تو نقصان بھی نہ پہنچے، اس لیے شاید کسی کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات اور وقت، ان تعلقات برادرانہ مراسم پہ دھول نہیں ڈال سکتے، یہی وجہ ہے، کہ نوائے وقت سے آغاز صحافت اور تربیت استعمال قلم وقرطاس ہوئے، ان دوستوں، فضل حسین اعوان، سعید آسی صاحب، امیر نواز نیازی صاحب، طلعت قریشی مرحوم، اب ان کے بیٹے احتسام قریشی ، جناب شوکت علی شاہ، توفیق بٹ صاحب، کم وبیش اجمل نیازی صاحب ، مجید غنی صاحب، یٰسین وٹو صاحب، سعداللہ شاہ صاحب ، اور کچھ اور دوست مثلاً شریف کیانی صاحب سے قائم ہیں تاہم میں دعا گو ان کے لیے بھی ہوتا ہوں، جو اپنی اوقات بھول کر مجھے میری اوقات بتانے کی آمرانہ کوشش کرتے تھے کہ اس روزنامے میں لکھنا تو اعزاز جہاں مندی ہے، قدرت خدا کی کہ اب سپریم کورٹ کے کہنے پہ وہاں ملازمین کو تنخواہیں ملتی ہیں، اور جس کی شہروں میں داخلہ و خارجہ پالیسی کا تعین بھی کوئی اور کرتا ہے، جس انسان کی فطرت، عادت، بلکہ سرشت میں چاپلوسی ،خوشامد ، پنجابی کا محاورا میں اخلاقاً اور احتیاطاً نہیں لکھتا، کیونکہ تعلقات دیرینہ کے باوجود مجھے معلوم ہے کہ جناب عطاءالرحمن یہ فقرے کاٹ دیں گے۔
خیر اس حوالے سے نہ اپنے ظرف کی بات کرتے ہیں، اور نہ کسی کے ظرف کو زیربحث لاتے ہیں، معاملہ خدا کے حوالے کرتے ہیں کہ وہ انہیں ہدایت دے۔ اخبار جہاں میں مجھے محمود شام صاحب لے کر گئے تھے، اور محمود شام کے ساتھ متعارف کرانے والے جناب عابد عبداللہ تھے، اور عابد عبداللہ سے ملوانے والے جناب افتخار احمد سابق پرنسپل گورنمنٹ پرنٹنگ اینڈ گرافک کالج ہیں، عابد صاحب کے وہ پروفیسر تھے، جس طرح نوائے وقت مجھے سید ارشاد احمد صاحب سے متعارف کرانے والے متنازع اور مشکوک ”بلوچ“ محمد ارشد بلوچ ہیں، میں انہیں متنازعہ اس لیے کہتا ہوں کہ ان میں صفات اور خصوصیت بلوچوں والی ایک بھی نہیں، نہ انہیں ”بلوچی“ آتی ہے، نہ سرائیکی آتی ہے، اور نہ ہی کوئی اور ایسی زبان جس سے وہ اپنے آپ کو بلوچ ثابت کرسکیں، بلوچوں کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ انہیں اپنا شجرہ نسب کم سے کم سات پشتوں تک ضرور یاد ہوتا ہے، مگر انہیں تو اپنے بچوں کے نام نہیں آتے، اور ایک اور نشانی جو صدیوں ہندوستان ، پاکستان پہ حکومت کرنے والے انگریزوں نے بتائی ہے وہ یہ ہے کہ پٹھانوں کو پیسے دے کر خریدا جاسکتا ہے، اور ”بلوچوں“ کو صرف عزت دے کر آپ بن مول خرید سکتے ہیں، فرنگیوں نے اسی طرح ہر ذات، اور قوم کی خصوصیت بتائی ہیں .... اور انہوں نے پاکستان میں ”مارشل ریسز“ کا تعین کردیا ہے، اس پہ آپ غور کریں، تو ان کا کہا ہوا، ایک ایک لفظ صحیح ہے مگر مجھے ان سے جو اختلاف ذات ہے، وہ سن کر قارئین آپ بھی اگر ہنسیں گے نہیں تو زیرلب مسکرائیں گے ضرور .... چلیں پردہ ڈال دیتے ہیں۔
میں ماضی بعید میں پاکستان بلوچ فیڈریشن کا صدر تھا، انہوں نے اپنا ”آئین“ بنایا، اور اصول وضع کرنے کے بعد اپنا نصب العین بنایا، کہ ہم ایک بلوچ ہسپتال ، اور ایک تعلیمی ادارہ بنائیںگے، جس میں ترجیحی بنیادوں پہ بلوچوں کو ملازمت دی جائے گی، میں نے وہاں سوال اٹھایا کہ کسی اور ذات کے بچے کو سکول میں داخلہ نہ دے کر تو ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کی تعلیمات کے حوالے سے فرامین کی نفی کے مرتکب ہوجائیں گے، اس کے علاوہ خدانخواستہ کسی دوسری ذات کا بیمار یا زخمی بلوچ ہسپتال میں داخل ہونے کے لیے آجائے گا ، تو کیا ہم اس سے معذرت کرلیں گے۔ بس اس لسانی، اور متعصبانہ فکروسوچ کے پیش نظر میں نے عہدے سے علیحدگی اختیار کرلی، ہمارا اس بات پہ تو ایمان ہے، کہ اس دنیائے فانی میں گزارا ہوا ایک ایک لمحہ ، اور اس کا حساب روز محشر میں دینا پڑے گا ، تو پھر دلوں میں دوسرے مسلمان کے خلاف کدورتیں ، اور نفرتیں رکھنے کا کیا کام ؟ حضرت بایزیدبسطامیؒ سے ان کے ایک مریدنے پوچھا کہ حضرت میں تیس سال سے آپ کے پاس رہتا ہوں، لیکن آپ ہرروز میرا نام دریافت فرماتے ہیں، آپ نے فرمایا کہ میں آپ سے ہنسی مذاق نہیں کررہا، جب سے اوپر والا میرے دل میں آگیا ہے، مجھے کچھ یاد نہیں رہتا۔
اور حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ کسی کا دل نہ دکھاﺅ، کیونکہ وہ آنسو تمہارے لیے سزا بن جائیں گے، اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ کوئی عبادت نہیں کہ تو کسی مسلمان بھائی کا دل خوش کردے۔
قارئین کرام، اب دل خوش کرنے کی وضاحت کے لیے تو پوری کتاب چاہیے مگر معمولات ہائے روزوشب کے لیے موقعے کی مناسبت سے اس کی تاویل وتعبیر پہ عمل کیا جاسکتا ہے، مثلاً کل صدر پاکستان کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی، اس حوالے سے مولانا فضل الرحمن امید سے ہیں، اور جن جن سیاسی جماعتوں نے ان سے مشاورت کی اور تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی، کیا آپ اس کو نیکی کا نام دے سکتے ہیں ؟ کہ ہم نے مولانا کا دل خوش کرنے کے لیے ان کا ساتھ دیا ہے، حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ کسی صوبے کا گورنر تعینات کرنا تھا ، تو ایک صاحب نے ان سے درخواست کی کہ مجھے وہاں گورنر مقرر کردیا جائے، یہ سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا، کہ میرا ذہن بھی یہی تھا کہ تمہیں گورنر لگادیا جائے، مگر عہدے کی تمنا رکھنے کی وجہ سے میں اب کبھی بھی تمہیں گورنر نہیں بناﺅں گا ، مولانا کا لفظ اتنا وسیع ، بلیغ، قابل احترام ہے، کہ جو علماسے لے کر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے بھی بولا جاتا ہے، حتیٰ کہ حضورﷺ نے تو اس لفظ کا اتنا احترام فرمایا ، کہ فرمایا کہ میری ذات کے لیے یہ لفظ نہ بولا جائے، مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے میرے خیالات بھی بالکل وہی ہیں، کہ جو عمران خان صاحب کے ہیں، ویسے معاف کیجئے گا، میں اعتزاز احسن کو بھی اعتراض احسن سمجھتا ہوں، کیونکہ مورخ جب زوال پاکستان کا ذکر کریں گے تو اس میں دو وکیلوں کے نام سرفہرست ہوں گے۔ تاہم اس وقت صدر کے لیے جو نام سامنے آئے ہیں اس میں ڈینٹل ڈاکٹر عارف علوی ، سب سے بہترہیں، اب جب کہ سب کو پتہ ہے تحریک انصاف جیسے بھی ہے، اکثریت میں ہے، تو پھر کیا ضرورت ہے، ٹکریں مارنے اور قوم کا وقت ضائع کرنے کی ؟
آخر میں اتنی گزارش ہے کہ کچھ عرصہ پہلے جناب فضل حسین اعوان، اپنی کتاب ”موت سے زندگی کی طرف“ انہی خیالات آفریں، اور اللہ کی کبریائی ، اور مالک کل ہونے کا وجدآفریں اقرار کرنے پہ مجبور کردینے والی کتاب بطور عنایت وتحفہ گھر دے گئے .... کتاب کی ورق گردانی کرتے کرتے انسان خود ”گردان“ ہوجاتا ہے، اس میں ان انسانوں کی آپ بیتی ہے، جو کسی حادثے میں موت کے منہ سے جاتے جاتے بچے ہیں، مثلاً عارفہ صبح خان ، رو¿ف طاہر صاحب، حامد ولید صاحب ،شوکت علی شاہ صاحب، اور دیگر کئی”’اصحاب کتاب“ اس حوالے سے باب علم حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فرمان پہ ایمان لاتے ہی بنتی ہے، چاہے وہ مسلمان نہ بھی ہو، مگر وہ مجبور ہوجاتا ہے، کہ خالق ومالک جن وانس ومخلوق کل کی قدرت کل واختیار پہ کہ وہ چاہے ، تو سابق گورنر بلوچستان ایس ایف لودھی کو جہاز سے گرا کر بھی موت کے منہ سے بچالے، اور چاہے تو مرزا غلام احمد قادیانی کو بیت الخلاءمیں ہی مار دے۔
اسی لیے حضرت علی کرم اللہ وجہ نے فرمایا تھا کہ خود موت زندگی کی حفاظت کرتی ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات زندگی وموت بھی تصدیق ارواح، اور بقا کے لیے سند آخر ہیں، مگر میں ذاتی طورپر یہ سمجھتا ہوں کہ قاعدہ وقانون بنانے والے نے ہمارے لیے تو ضرور قانون بنائے ہیں، مگر اس ذات پاک پہ کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا، اس پاک ہستی کی شان رحیمی وکریمی دیکھئے اس نے موت کا ایک وقت متعین کررکھا ہے، وہ اس وقت ماں کی یا کسی کی دعا کے بدلے موت کوٹال دیتا ہے عمردراز کردیتا ہے، مگر یہ کبھی نہیں کرتا کہ موت کے متعین کیے ہوئے وقت سے پہلے موت دے دے، قارئین چونکہ اس وقت پوری قوم موت کے یا تو منہ میں ہے، یا اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسے موت کے منہ سے بچا لیا ہے، لہٰذا قوم کو تین ماہ گزرنے سے پہلے چونکہ سمجھ نہیں آتی لہٰذا کروڑوں عوام کو اپنے رب سے دعا مانگنی چاہیے، کہ وہ اس ملک میں تحریک انصاف کے ہاتھوں اپنا قانون لاگو کرانے کی توفیق دے۔
ورنہ تو کروڑوں لوگ، مضطرب ومتفکر ہیں کہ بقول شاعر
”کیا جائیے یہ شخص ہنسا دے یا رُلا دے“
اور میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں فضل صاحب کو نہیں سمجھ سکا ، کیونکہ وہ سمندروں سے بھی گہرے ہیں اور میری مجبوری ہے کہ میں تیراکی نہیں جانتا ۔

مزیدخبریں