Biden administration, US President, drone strikes, war-torn areas, Iraq, Afghanistan
29 اپریل 2021 (17:19) 2021-04-29

حامد خان المشرقی

امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن نے اپنی حالیہ تقریر میں افغانستان کی اپنی پالیسی کے حوالے سے واضح اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں تعینات تمام امریکی فوجی مئی 2021ء سے ستمبر 2021ء تک چلے جائیں گے۔ یہ اعلان نئی امریکی انتظامیہ کی طرف سے افغان پالیسی اور طالبان امریکہ مذاکرات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے دو اڑھائی سال میں صدر جوبائیڈن کے پیش رو صدر ٹرمپ نے افغان طالبان افغان حکومت سے مختلف مذاکرات میں امریکی فوجیوں کے افغانستان سے انخلاء پر بات چیت کی۔ امریکی نمائندہ برائے افغان امور زلمے خلیل زاد نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس سال مئی تک تمام امریکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں گی اور اس بات سے افغان طالبان سے امن معاہدہ طے پایا تھا اور افغانستان میں طالبان نے امریکی فوجیوں پر حملے کرنے روک دیے تھے لیکن جوبائیڈن انتظامیہ نے اقتدار میں آتے ہی مئی تک کے انخلاء کو ناممکن قرار دے دیا تھا جس کے بعد افغان امن عمل سخت خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔ صدر جوبائیڈن کے نئے منصوبے کے مطابق ستمبر تک کے انخلاء کے اعلان پر ابھی تک افغان طالبان کی طرف سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی افغان طالبان نے جنگ بندی پر کاربند رہنے پر اعلان کیا ہے۔ اس ساری صورتحال میں سب سے پریشان کُن پہلو پاکستان کے لیے یہ ہے کہ امریکہ نے ایک بار پھر پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کردیا ہے یعنی ایک بار پھر پاکستان پر دبائو بڑھایا جارہا ہے اور صورتحال اس نہج پر آگئی ہے کہ ایسے لگتا ہے جہاں ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کی حکومت اور اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر کے کسی نہ کسی طرح افغانستان سے باقاعدہ امن منصوبے کے ساتھ انخلاء کرنا چاہ رہی تھی اور بلاشبہ پاکستان نے اس تمام امن عمل کی کوشش کی بلکہ دوحہ، اسلام آباد، کابل سب جگہوں پر افغان طالبان کو امریکیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نبھایا اور یہ کوئی آسان کام نہیں تھا اور دنیا یہ حقیقت جانتی ہے کہ اب بھی افغان طالبان کو مذاکرات پر رضامند کرنا صرف پاکستان کے لیے ہی ممکن ہے۔ اس سارے عمل میں پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے بھارت کو افغان امن عمل میں شامل نہیں ہونے دیا اور پاکستان دنیا کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ بھارت افغانستان میں امن کے لیے مخلص نہیں ہے جبکہ بھارت پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرنے کے لیے ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے لیکن جس خوبصورت سفارتی انداز سے پاکستان نے افغان مذاکرات میں تولیدی کردار ادا کیا اور افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدہ اور افغان حکومت کو بھی طالبان سے مذاکرات پر آمادہ کیا، یہ سب صرف اور صرف پاکستان کی ہی کوششوں سے ممکن ہوا۔ نئی امریکی انتظامیہ لگتا ہے ابھی افغانستان کے معاملے میں پوری طرح علم نہیں رکھتی کیونکہ صدر جوبائیڈن کا حالیہ اعلان جہاں پاکستان سے ناجائز ڈومور کے مطالبے پر مشتمل ہے وہیں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ کہیں نہ کہیں بھارتی لابی کے زیراثر بھی آرہی ہے جوکہ نہ تو افغانستان کے امن کے لیے خوش آئند ہے اور نہ ہی خطے میں امن پائیدار ہے۔ گو کہ اس امریکی اعلان کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکہ افغانستان کو افغان طالبان کی خواہش کے مطابق مکمل خالی کررہا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ امریکی انخلاء کے بعد وہاں پر ہونے والی ممکنہ اقتدار کی رسہ کشی اور طاقت کی لڑائیوں پر کوئی واضح لائحہ عمل نہیں دے رہا۔ روس سے افغان جنگ کے خاتمے کے بعد جس طرح امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا اور افغانستان کی خانہ جنگی کے تمام بدترین اثرات پاکستان نے اکیلے ہی بھگتے تھے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ایک بار پھر امریکی مکمل انخلاء کے نیچے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے نتائج پاکستان کو اکیلے ہی بھگتنا ہونگے گو کہ آج صورتحال مختلف ہے کیونکہ اب خطے میں ایک نئی عالمی طاقت چین کی شکل میں موجود ہے اور شاید اسی لیے امریکہ افغانستان کو اس طرح چھوڑکر جارہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ خطے میں چین کو افغانیوں کے ہاتھوں مشکل میں ڈالا جائے اور یہ مشکل دراصل پاکستان کو بھی نہایت مشکل میں ڈال سکتی ہے اور چونکہ پاکستان واضح طور پر چین کا ساتھی ہے اس لیے امریکہ ڈومور کہہ کر پاکستان کو مزید مشکل میں ڈال رہا ہے۔ ایک جانب تو افغان طالبان اس بات سے خوش ہونگے کہ صدر جوبائیڈن نے عین ان کے مطالبات کے مطابق تمام امریکی فوجی نکالنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ دوسری جانب موجودہ افغان مخلوط حکومت جو کہ صدر غنی اور عبداللہ عبداللہ مل کر چلا رہے ہیں ان کے لیے مزید خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ واضح رہے کہ موجودہ افغان حکومت نہ تو افغانستان سے مکمل طور پر امریکی فوجیوں کے انخلاء کی حامی ہے بلکہ افغان حکومت کا اسرار ہے کہ 3 سے 5 ہزار امریکی فوجی اگر علامتی طور پر رُکے رہیں تو یہ افغان امن عمل کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ بات ساری دنیا جانتی ہے کہ افغان آرمی اور پولیس کسی صورت بھی افغانستان میں اکیلے امن قائم نہیں رکھ سکتی، خصوصاً طالبان ملک کے60 فیصد سے زائد حصہ پر پہلے سے ہی قابض ہیں۔ پاکستان کو ڈومور کہنے والے امریکہ کے لیے دراصل بروقت تو خود مچ مور کرنے کا ہے جس میں افغانستان کو معاشی طور پر مستحکم کرنا افغانستان کو سیاسی طور پر مضبوط کرنا ایک واضح اور جامع نظام حکومت بنانے میں مدد کرنا اور سب سے بڑھ کر افغان آرمی کی پروفیشنل انداز میں تعمیرِنو کرنا لیکن لگتا ایسا ہے کہ امریکہ افغانستان میں بدترین شکست کھانے کے بعد جلدازجلد بھاگ جانا چاہتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان کے امن سے جُڑے تمام ممالک بشمول ایران چین اور روس کو متنبع کر کے تمام فریقین مل کر کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کریں کہ افغانستان میں مستقل پائیدار امن کی راہ ہموار ہوسکے وگرنہ افغانستان کی خانہ جنگی ایک بار پھر نہ صرف پاکستان کو انتہائی مشکلات سے دوچار کردے گی بلکہ خطے کا امن بھی دائو پر لگ جائے گا۔گو کہ اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد یا اس سے پہلے اگر ضرورت پڑی تو چائنیز، رشین آرمی یا چائنیز فورسز افغانستان میں امن دستوں کے طرز پر خدمات سرانجام دیں گی لیکن یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ چین کسی صورت خود کو اس میدان جنگ میں بلاوجہ نہیں جھونکے گا اور دوسری جانب افغان طالبان کسی بھی غیرملکی افواج کو اپنی سرزمین پر دیکھنا نہیں چاہتے اور افغان ہر غیرملکی فوج کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔اب اس ساری صورتحال میں جب چین خطے میں افغانستان سمیت ہر ملک کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے تو کیا جس کا مقصد خطے میں معاشی ترقی ہے اس لیے سی پیک اور OBOR جیسے بڑے پروجیکٹ پایہ تکمیل کو پہنچنے والے ہیں۔ اس صورتحال میں کیا افغان طالبان کی دشمنی یا مخالفت مول لے سکتا ہے اور دوسری جانب افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ دینے سے مجاہدین چین کے مسلم اکثریتی صوبوں کا رُخ بھی کرسکتے ہیں گویا کہ امریکہ ایک ایسا گھمبیر مسئلہ خطے میں چھوڑ کر جارہا ہے جس میں چین بھی زبردستی شامل ہوتا نظر آرہا ہے۔ چین کا یہ اشارہ نہایت اہمیت رکھتا ہے کہ وہ افغانستان میں امن دستے بھیج سکتا ہے۔ میں نے اپنے ایک دو پروگراموں اور آرٹیکلز میں اس بات کا کھلا اظہار کیا تھا کہ جوبائیڈن انتظامیہ اگر بہت زیادہ بھارتی لابی کے زیراثر آئے گی تو اس کا براہ راست اثر افغان امن اور پاکستان امریکہ تعلقات پر پڑے گا اور اب کچھ ایسا ہوتا نظر آرہا ہے جس میں ایک جانب تو امریکہ پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتا ہے اور دوسری امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزام پر جہاں روس پر پابندیاں لگانے کا اعلان ہے وہیں 6پاکستانی بزنس مین بھی روس کی معاونت کے الزام میں پابندیوں کا شکار ہو گئے ہیں اور بھارت کی مکروہ چال ہے کہ کسی نہ کسی طرح روس کے ساتھ پاکستان کو ملوث کر کے پاکستان پر بھی مزید امریکی پابندیاں لگوائی جائیں جیسا کہ روس کے ٹوٹنے کے بعد سے اب پہلی بار امریکہ کے ساتھ ساتھ چین دوسری عالمی طاقت کی شکل میں سامنے آئی ہے اور سردجنگ کے دور کی طرح دنیا ایک بار پھر دو حصوں میں بٹتی نظر آرہی ہے جس میں چین، روس، ترکی، ایران، پاکستان ایک طرف اور امریکہ کچھ عرب ممالک اسرائیل اور انڈیا دوسری جانب پچھلے کچھ عرصے سے جہاں امریکہ بھارت قربتیں بڑھتی جارہی ہے وہیں روس کے بھارت سے فاصلے بھی بڑھتے جارہے ہیں اور چونکہ پاکستان چین اور روس کو قریب لانے میں انتہائی اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اسی لیے پاکستان اور روس کے تعلقات انتہائی بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ عالمی اور بین الاقوامی سیاست میں کچھ بھی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا بلکہ ملکوں کی خارجہ پالیسی اور ترجیحات کی ضرورتوں کے مطابق تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور اس کی سب سے واضح مثال جس کے خلاف پاکستان نے کامیاب افغان جنگ لڑی اور روس کے ٹوٹنے میں اہم کردار ادا کیا وہی روس آج افغانستان میں اپنے کردار کے حوالے سے چین سے کاروباری مراسم بڑھانے کے حوالے سے اور سی پیک کا حصہ بننے کے لیے پاکستان کا نہایت قریبی دوست بنتا نظر آرہا ہے جبکہ دوسری جانب بھارت جس کے لیے روس نے 72ء میں بنگلہ دیش کی کھلم کھلا حمایت کی۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام کی بھرپور معاونت کی، بھارت کو معاشی طور پر بے انتہا مدد فراہم کی اور جب امریکہ نے ماضی میں بھارت کو آنکھیں دکھائیں۔ ہندوستان نے نہ صرف امریکہ کا راستہ روکا بلکہ جائز ناجائز بھارت کی حمایت کی مگر وہی بھارت آج روس کو چھوڑ کر امریکہ کی جھولی میں بیٹھ گیا ہے اور امریکہ اسرائیل بھارت مثلث چین روس پاکستان مثلث کے خلاف پوری دنیا میں کاربند ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ دہائی میں جہاں دوست دشمن بدل رہے ہیں اور طاقتور توازن مغرب اور امریکہ سے شفٹ ہو کر ایشیا میں یعنی چین میں آگیا ہے۔

طالبان کے زیِر کنٹرول آج کا افغانستان اس تباہ حال ملک سے بہت مختلف ہے جس پر 2001 میں 9/11 حملوں کے بعد امریکہ کی زیرِ قیادت افواج نے حملہ کیا تھا۔انخلا کا فیصلہ حتمی ہے لیکن اس سے اس ملک میں جو گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کسی نہ کسی صورت ایک آزادانہ معاشرے میں ڈھل رہا تھا، امن یا تشدد بڑھنے کے رجحان میں تیزی آ سکتی ہے۔کابل میں انسٹی ٹیوٹ آف وار اینڈ پیس سٹڈیز کے ایگزیکٹو چیئرمین تمیم آسی نے خبردار کیا ہے کہ ’سب سے بہترین نتیجہ جس کی توقع کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ انخلا کی اس ٹائم لائن سے افغانستان میں برسرِ پیکار مختلف جماعتوں پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے کہ وہ ستمبر تک کسی سیاسی تصفیہ تک پہنچنے کی کوشش کریں ورنہ دوسری صورت میں انہیں شام کی طرح خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بہت سے لوگ توقع کرتے ہیں کہ امریکی فوجی مشن کے اس آخری باب کو اس طرح پڑھا جائے گا: ’فاتح طالبان نے میدان جنگ میں یا ان امن مذاکرات کے ذریعے اقتدار میں واپس آنے کا ارادہ کیا ہے جن میں یقیناً ان کا پلڑا بھاری ہے۔ ہر آنے والے دن معاشرے کے پڑھے لکھے، متحرک اور ہونہار افراد کے قتل سے وہ سب وعدے خاک ہو رہے ہیں جن کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے۔

افغانستان جِسے پہلے ہی دنیا کا سب سے پرتشدد ملک کہا جاتا ہے، وہاں کے شہریوں کو اب خانہ جنگی کا خدشہ ہے۔ایک افغان انسانی حقوق کے کارکن کو افسوس ہے کہ ’مجھے سب سے زیادہ تشویش تب ہوتی ہے جب افواج کے انخلا کی تاریخ دے دی جاتی ہے مگر اس کی شرائط نہیں طے کی جاتیں۔ طالبان صرف ان کے جانے کا انتظار کریں گے اور اہم مسائل پر بات چیت کی جانب نہیں آئیں گے۔‘بہت سے دوسرے افراد بھی ایسا ہی سوچتے ہیں۔ افغانستان ریسرچ اینڈ ایویلیویشن یونٹ (اے آر ای یو) کے ڈائریکٹر اورزالا نعمت کا کہنا ہے ’کاش صدر بائیڈن نے تمام فریقین کی جانب سے کوئی بھی قتل نہ ہونے کی شرط پر مئی اور ستمبر کے درمیان فوجیوں کے انخلا کی تاریخ رکھی ہوتی۔‘لیکن بائیڈن انتظامیہ کے سینئر عہدیدار جنہوں نے صحافیوں کو انخلا کے بارے میں آگاہ کیا وہ اس پر قائم تھے: ’صدر کا فیصلہ ہے کہ حالات پر مبنی نقطہ نظر، جو گذشتہ دو دہائیوں سے چل رہا ہے، ہمیشہ افغانستان میں رہنے کا ایک نسخہ ہے۔‘انہوں نے مزید کہا ’ہم افغانیوں کے لیے وہ مستقبل یقینی بنانے کا عہد رکھتے ہیں جس کی افغان عوام کو تلاش ہے اور جس میں ان کے لیے بہترین مواقع میسر ہوں۔‘لیکن واشنگٹن کی بہترین سودے بازی کرنے والی چپ اس کی فوجی طاقت رہی ہے۔ طالبان نے اپنی توجہ مکمل طور پر غیر ملکی فوجیوں کے انخلا پر رکھی ہے۔ طالبان کے جنگجو ایک کے بعد دوسرے ضلع پر قبضہ کرتے ہوئے اب صوبوں میں داخل ہو رہے ہیں۔

صدر جو بائیڈن کی میز پر اس سے بہترین کوئی آپشنز نہیں تھے۔ انہیں پچھلے سال امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والا وہ معاہدہ ورثے میں ملا تھا جس میں واشنگٹن نے طالبان کی جانب سے سکیورٹی کی گارنٹی، تشدد کو کم کرنے اور مذاکرات کے بدلے یکم مئی کو افغانستان سے اپنے فوجی نکالنے کا وعدہ کیا تھا۔امریکہ کی سلامتی، جس کی وجہ سے وہ اپنے فوجیوں کو افغانستان لائے تھے، ایک فیصلہ کن عنصر رہا۔ اور دوسری چیز، نیٹو افواج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ امریکی قیادت کی پیروی کریں۔افغانستان میں القاعدہ اور نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ جیسے گروہوں کی طرف سے لاحق خطرے کے بارے میں پوچھے جانے پر ایک سینئر امریکی اہلکار نے جواب دیا ’یہ 2001 نہیں، 2021 ہے۔

آج کے بنیادی موضوع کی طرف واپس آئوں تو چند باتیں مستقبل میں نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ کیا پاکستان امریکہ کا مزید ڈومور کا مطالبہ مان سکتا ہے۔ کیا امریکہ بھارتی مغربی کے زیراثر پاکستان پر مزید پابندیاں لگا سکتا ہے۔ کیا افغانستان میں مکمل امریکی انخلاء کے بعد امن قائم رہ سکے گا، کیا چین برطانیہ روس اور امریکہ کی افغانستان میں بدترین شکست کو دیکھتے ہوئے اپنی فوجیں اتارے گا، کیا افغان طالبان چینی افواج کو اپنی سرزمین پر برداشت کرلیں گے، کیا صرف افغان افواج اور پولیس افغانستان میں امن قائم کرسکتے ہیں، طالبان کے زیرکنٹرول علاقوں میں کیا دوبارہ سے خلافت کے طرز کی حکومت قائم ہو گی۔

کیا دنیا افغانستان کو ایک بار پھر بے یارومددگار چھوڑنے جارہی ہے؟

کیا افغانستان ایک بار پھر خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے؟

یہ سب سوالات انتہائی اہم ہیں اور ان کا جواب آئندہ ایک سال میں واضح طور پر سامنے آجائے گا لیکن لب لباب یہ ہے کہ چین کسی صورت بھی افغانیوں کو اپنا دشمن نہیں بنائے گا اور اپنی فوجیں افغان حکومت طالبان اور خطے کی طاقتوں کی مرضی کے بغیر نہیں بھیجے گا البتہ افغان افواج کو چین میں یا پاکستان کی مشترکہ کوششوں سے امن وامان یہاں کرنے کے لیے ٹریننگ ضرور دی جاسکتی ہے۔ افغان طالبان بھی اب ملاعمر جیسی ریاست قائم کرنے پر بضد نظر نہیں آتے بلکہ وہ یہ جانتے ہیں کہ دنیا سے الگ تھلگ رہنے میں افغان عوام اور افغانستان کا بہت نقصان ہے اور اسی وجہ سے اب افغان طالبان کے رویوں میں کافی لچک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے کردار کو سراہا جائے، کوششوں کو سمجھا جائے اور مل بیٹھ کر افغانستان کے تمام ٹینک ہولڈرز شمالی اتحاد افغان طالبان قابل حکومت سب کو ایک میز پر بٹھا کر افغانستان کے امن پر کام کرنے پر راضی کیا جائے۔ اسی طرح جہاں امریکہ افغانستان خالی کرنے کی جلدی کررہا ہے وہیں واضح اور مربوط منصوبہ بنا کر مستقبل کے حوالے سے تمام خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر قابلِ عمل اور جامع لائحہ عمل طے کرے وگرنہ افغانستان کی خانہ جنگی ایک بار پھر آتش فشاں کی شکل اختیار کرے گی اور اس کے علاوہ ناجانے کس کس کو دوبارہ لپیٹ میں لے لے گا۔


ای پیپر