Nai Baat Magazine Report
29 اپریل 2021 (17:09) 2021-04-29

1970ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ اور مغربی پاکستان سے پاکستان پیپلزپارٹی نے بھاری اکثریت حاصل کی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک کی باگ ڈور پیپلزپارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو سونپ دی گئی۔

ذوالفقار علی بھٹو ایک عہدساز شخصیت تھے۔ وہ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا، لاس اینجلس میں 1947ء سے 1949ء تک زیرتعلیم رہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، بارکلے سے 1950ء میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ، برطانیہ سے ایم اے کی ڈگری 1953ء میں حاصل کی۔ اسی سال انہوں نے لنکنزاِن، لندن سے بارایٹ لاء کی۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز وکالت سے اور اپنی سیاسی زندگی کی ابتداء اقوام متحدہ کے وفد میں بطور رکن شمولیت سے کی۔ ذوالفقار علی بھٹو عام انتخابات کے ذریعے پہلے منتخب وزیراعظم بنے۔ تعلیم یافتہ اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بہترین مقرر بھی تھے۔ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران وہ وفاقی وزیر امورخارجہ رہے اور انہوں نے اس دوران انقلابی اقدامات کیے۔ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے تک پہنچنا ان کی کامیاب شخصیت کی علامت ہے۔ کہنہ مشق سیاستدان ہونے کے باعث ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ عالمی سیاست پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ قائداعظمؒ کے بعد انہیں سب سے بڑا رہنما مانا جاتا ہے۔ سیاسی اُفق پر ان کی قدآور شخصیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

بھٹو صاحب نے 1967ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی جو اس وقت کے مروجہ سیاسی نظام کے خلاف کھلی بغاوت تھی۔ انہوں نے عوام کو اظہار رائے کی آزادی، اعتماد، مقام اور حیثیت دے کر انہیں ان کی طاقت سے روشناس کروایا۔ پہلی مرتبہ ’’قوت کا سرچشمہ عوام ہے‘‘ کا تصور پیش کیا جس سے عوام کو عزتِ نفس ملی جو ان کے بحیثیت عوامی قائد کارہائے نمایاں ہیں۔ بھٹو صاحب نے ملک میں سیاسی ترقی کاعمل آگے بڑھا کر جمہوریت کی بنیاد رکھ دی۔ جب انہیں اقتدار ملاتو انہوں نے ملک کومتحد رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔بلوچستان کو صوبے کا درجہ دینے کے ساتھ ساتھ آزادکشمیر کو خودمختار حیثیت دی اور شمالی علاقہ جات میں اصلاحات نافذ کر کے وہاں کے عوام کو بنیادی حقوق فراہم کیے۔ بھٹو صاحب نے ایسے تاریخی کام کیے جو ملک وقوم کی ترقی اور خوشحالی کی ضمانت بنے۔ ملک کو اسلام کا قلعہ تسلیم کروایا۔ عالم اسلام کا تشخص اجاگر کرنے، مسلم بلاک کے قیام اور اسلامک ورلڈ بینک کے قیام کے لیے اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ غریب اور محکوم طبقے کی خوشحالی اور تحفظ کے لیے زرعی اصلاحات (Land Reforms) اور سول سروسز اصلاحات (Civil Services Reforms) نافذ کیں۔ اپنی پارٹی کے نعرے ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے غریب عوام کے لیے 5مرلہ سکیم کا اجراء کیا۔انہوں نے مزدور یونینوں کو بحال کیا اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے چارٹر پر دستخط کیے۔ بھٹو صاحب کے دورِحکومت میں تیل کے نئے ذخائر دریافت کروائے گئے۔ ملک کو دفاعی لحاظ سے مضبوط اور ناقابل تسخیر بنانے کے لیے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا۔ کامرہ ایروناٹیکل اور ہیوی مکینیکل کمپلیکس کی تعمیر کروائی۔ 1971ء کی جنگ کے بعد نوے ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کروانا اور ہندوستان سے پانچ ہزار مربع میل رقبہ واگزار کروانا ان کی سفارتی سطح پر بڑی کامیابیاں ہیں۔ انہوں نے نازک ترین حالات میں اقوام متحدہ کے سامنے پاکستان کا موقف جس جرات سے پیش کیا اس سے نہ صرف ان کی اپنی شخصیت بلکہ پاکستان کی حیثیت اور قدرومنزلت میں مزید اضافہ ہوا۔ پاکستان کو عالمی منڈیوں تک رسائی دلوانے کے لیے پورٹ قاسم، سٹیل مِل اور شاہراہ قراقرم جیسے بڑے منصوبے تعمیر کروائے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ملک میں قابل عمل اور قابل قبول 1973ء کا متفقہ آئین تشکیل دینا ہے۔

وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1977ء میں قبل ازوقت عام انتخابات کا اعلان کردیا جس پر حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے متحد ہو کر پاکستان قومی اتحاد تشکیل دیا۔ پاکستان قومی اتحاد نے قومی اسمبلی کے انتخابی نتائج کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کردیا۔ حکومت کے خلاف ملک بھر میں تحریک شروع کردی۔ حکومت اور قومی اتحاد کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ اس سے پہلے کہ حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان معاہدہ طے پاتا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت برطرف کر کے قومی اسمبلی تحلیل کردی۔ ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا اور خود چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ بھٹو صاحب کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ چلایا گیا اور 4اپریل 1979ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔ ان کو پھانسی دینا نہ صرف ملک بلکہ عدلیہ کی تاریخ میں بھی ایک سیاہ باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ان کو پھانسی دینے کا فیصلہ ازخود متنازعہ تھا کہ فیصلہ کرنے والے جج بھی متفق نہ تھے۔ اس بارے میں جسٹس نسیم حسن شاہ جو فیصلہ کرنے والے ججوں میں شامل تھے، کا بیان کہ اس فیصلے کے لیے حکومت کا سخت دبائو تھا ایک واضح ثبوت ہے کہ بھٹو کو قتل کیا گیا۔ ان کے قتل سے پیدا ہونے والا خلا پُر نہیں کیا جاسکتا لہٰذا اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کی جانی چاہیے۔

ملکی حالات سنبھالنے اور کاروبار حکومت چلانے کے لیے چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق نے فیصلہ کیا کہ ایک ایسی حکومت تشکیل دی جائے جس میں پاکستان قومی اتحاد کی فعال جماعتوں کی نمائندگی ہو۔ وفاقی کابینہ میں شمولیت کے لیے مسلم لیگ سے پانچ نام مانگے گئے تو پارٹی نے محمد خان جونیجو، چوہدری ظہور الٰہی، میاں زاہد سرفراز، نواب عبدالغفور خان ہوتی اور خواجہ محمد صٖدر کو نامزد کیا۔ جنرل ضیاء الحق اورقومی اتحاد کا ساتھ زیادہ دیر نہ چل سکا اور انہوں نے وزارتیں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ مسلم لیگی وزراء میں سے محمد خان جونیجو ہی بااصول نکلے جنہوں نے وزارت چھوڑ دی۔ دورانِ اسیری 2004ء چیئرمین مسلم لیگ (نواز گروپ) راجہ محمد ظفرالحق، جاوید ہاشمی سے ملاقات کے لیے سنٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی آئے۔ اس موقع پر انہوں نے مجھ سے بھی ملاقات کی۔ دوران ملاقات میں نے ان وزراء کے بارے میں تصدیق چاہی تو انہوں نے میرے ساتھ اتفاق کیا اور مزید بتایا کہ وہ خود اور فدا محمد خان مسلم لیگ کے کوٹے سے وزیر نہیں تھے بلکہ انہیں ذاتی حیثیت سے وزیر بنایا گیا تھا جبکہ مسلم لیگ کی طرف سے یہی پانچ وزراء بنائے گئے تھے۔

جنرل ضیاء الحق نے 1979ء میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کردیا۔ ملک بھر کی طرح ضلع ملتان میں بھی مختلف انتخابی اتحاد بن گئے۔ ان انتخابات میں چیئرمین ضلع کونسل، ملتان کے عہدے کے لیے چچا حامد رضا اور سیدفخر امام کے درمیان مقابلہ تھا، دونوں کو برابر یعنی چھبیس چھبیس ووٹ ملے۔ فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے چچا کے حق میں ہو گیا جس پر سیدفخر امام نے مخدوم جاوید ہاشمی کی مدد سے ہائی کور ٹ کے جج جسٹس مشتاق سے چھٹی والے دن حکم امتناعی حاصل کر کے حلف برداری کی تقریب رکوا دی۔ بعد میں عدالت عالیہ کے فیصلے پر یہ انتخابات کالعدم قرار دے دیے گئے۔ اس طرح چچا حامد رضا چیئرمین ضلع کونسل ملتان نہ بن سکے۔ سبب دراصل یہ تھا کہ ان انتخابات میں ضلع کونسل ملتان کی نشست کے لیے ملک محمد اسحاق بُچہ کا مقابلہ ملک اللہ یار مہر سے ہوا جس پر ملک اللہ یار کامیاب ہوگئے۔ اسحاق بُچہ نے ملک اللہ یار کے خلاف عدالت سے رجوع کیا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی کا انتخابی نشان استعمال کیا تھا۔ عدالت نے حکم امتناعی جاری کردیا لیکن اس کے باوجود جب ضلع کونسل کے چیئرمین کا انتخاب ہوا تو ملک اللہ یار، چچا حامد رضا کے تجویز کنندہ بن گئے۔ اس واقعہ کی تصدیق دورانِ اسیری جاوید ہاشمی اور میری ملاقات پر آئے ہوئے میرے ہی حلقے سے ایم پی اے اسحاق بُچہ نے بھی کی۔ جب 2 مئی 1979ء کو میرے سسر پیراسرار حسین شاہ نے میری شادی کے بعد میرے لیے سندیلیانوالی، پیرمحل میں استقبالیہ دیا تو اس میں سابق صدر چوہدری فضل الٰہی نے مجھے کہا کہ حامد رضا گیلانی کو چاہیے تھا کہ وہ خود چیئرمین ضلع کونسل کا انتخاب نہ لڑتے، سیدفخر امام تو ابھی سیاست میں متعارف ہورہے تھے جبکہ آپ کے چچا وفاقی وزیر جیسے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے تھے، انہیں یہ رِسک نہیں لینا چاہیے تھا، اگر قرعہ ان کے خلاف نکلتا تو ان کے سیاسی کیریئر پر بُرا اثر پڑتا۔

یہ دور سیاسی مدوجزر کا دور تھا۔ بھٹو حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والا سیاسی جماعتوں کا اتحاد پاکستان قومی اتحاد ابھی میدان میں تھا۔ ملک کے نامور سیاسی مدبرین اور منجھے ہوئے سیاستدان میدان سیاست میں تھے اور مجھے سیاسی کیریئر کے آغاز ہی میں نازک اور اہم فیصلہ کرنا تھا۔ چچا حامد رضا جو مختصر عرصے کے لیے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر صنعت اور کینیا میں سفیر تعینات رہ چکے تھے، اپنے دوست ملک اکرم خان بوسن کے ہمراہ میرے گھر آئے اور کہنے لگے کہ جب میں برطانیہ بار ایٹ لاء کرنے گیا ہوا تھا تو اس وقت آپ کے والد وفاقی وزیرمملکت تھے، ملک میں پہلا مارشل لاء جنرل ایوب خان نے لگایا تو مجھے آپ کے والد نے اپنے حلقۂ انتخاب لودھراں سے قومی اسمبلی کی نشست طشتری میں رکھ کر دی، وہ نہ صرف میرے بھائی تھے بلکہ میرے آئیڈیل بھی تھے۔ چچا نے مزید کہا کہ مجھے آپ کے والد کی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں قومی اسمبلی کے انتخاب میں مغربی پاکستان سے نواب آف کالاباغ کے بعد سب سے زیادہ ووٹ ملے اور دوسری مرتبہ ایم این اے بلامقابلہ کامیاب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج میں آپ کے پاس چل کر آیا ہوں کہ آپ پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر کے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کریں، پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی بھی یہی خواہش ہے کہ میں آپ کو پیپلزپارٹی میں شمولیت کے لیے آمادہ کروں۔ والد کی وفات کو بمشکل دو تین روز ہوئے تھے، میں نے ان سے والد کی قل خوانی تک مہلت چاہی۔ اسی دوران ماموں حسن محمود بھی ملتان تشریف لائے اور مجھے مسلم لیگ میں شمولیت کی دعوت دی۔ میں نے انہیں بھی وہی جواب دیا۔ میں نے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں والد کے دوستوں اور چچا رحمت حسین جو کہ والد کے قریبی ساتھی بھی تھے، سے مشاورت کی۔ ان کی متفقہ رائے تھی کہ والد کی مسلم لیگ کے لیے گراں قدر خدمات اور ان کے مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے اپنی سیاست کی ابتدا مسلم لیگ ہی سے کرنی چاہیے۔

(جاری ہے)


ای پیپر