The revelations of the former DG FIA exposed the transparent system of government
29 اپریل 2021 (11:41) 2021-04-29

سابق ڈی جی ایف آئی اے کے انکشافات نے ایک طرف حکومت کے شفاف نظام کو بے نقاب کر دیا ہے تو دوسری طرف دنیا پر یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اس ملک کے اندر اداروں کو مخالفین کو دبانے کے لیے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ کہانی نئی نہیں ہے ہر حکومت نے اپنے دور میں ایسا ہی کیا ہے۔ سیاسی مخالفین کے خلاف جھوٹے پرچے اور الزام تراشی کا بازار گرم کرنا موثر سیاسی ہتھکنڈہ سمجھا جاتا ہے۔ پرچہ کاٹ دو اور عدالتوں کے چکر لگواتے جائو۔ جمہوریت بس نام کی ہے۔ وہ بے نظیر ہوں نوازشریف ہوں یا اب عمران خان سب کے سب اسی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔شاید اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ خود انہیں معلوم ہے کہ ان کے پاس عوام کی فلاح کا کوئی منصوبہ نہیں ۔ یہ حکومت تو اس ٹرانس سے نکل ہی نہیں رہی کہ سب برائیوں کی جڑ گزشتہ حکومتیں ہی ہیں۔ وہ ا ب تک اپوزیشن کے موڈ میں ہیں۔ کرپشن کرپشن کی صدائیں بلند کر کے عوام کو بے وقوف بنانے کا چکر ختم ہونے میں نہیں آ رہا۔ہر حکومت میں کوئی نہ کوئی شہزاد اکبر ضرور ہوتا ہے ۔ کبھی رحمن ملک کی صورت میں کبھی سیف الرحمن اور کبھی شہزاد اکبر۔

سیاستدانوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے ہیں۔کسی بھلے مانس نے کرپشن نہیں کی تو اس نے حکومتی منصوبوںکا رخ اپنی طرف کر لیا ۔ کسی نے ان منصوبوں کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا اور کسی نے اپنے چاہنے والوں کو ان منصوبوں سے فائدہ پہنچانے کی کوشش کی۔کاش ہماری سیاسی اشرافیہ سمجھ جائے کہ ترقیاتی منصوبے عوام کی ضرورت ہیں اور ان پر سیاست یا اس سے مالی فوائد حاصل کرنے کو رشوت ہی تصور کیا جائے گا۔ سیاست دانوں کو اپنی فلاح سے زیادہ اجتماعی فلاح کی جانب راغب ہونا ہو گا۔بشیر میمن ایک بار پھر منظر عام پر آئے ہیں اور انہوں نے اس صاف چلی شفاف چلی والی پارٹی کی حکومت کو بیچ چوراہے ننگا کر دیا ہے۔اس انکشاف پر حیرت ہوئی کہ ہمارے خوبرو وزیراعظم ایک جمہوری شخص کے بجائے محمد بن سلمان کی طرح ہر قسم کے اختیارات اپنے پاس چاہتے ہیں کہ جیسا ان کے احکامات پر چوں چراں کیے بغیر عمل ہوتا ہے عزت مآب عمران خان نے احکامات کی اتباع بھی اسی طرح کی جائے۔وزیراعظم اپوزیشن کے مقدمات سے زیادہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دیں تو ان کے لیے سیاسی حالات درست ہو سکتے ہیں۔ تمام تر مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ پھر اس سارے نظام کو لپیٹ کر کوئی نیا نظام لایا جائے اور ایسا ہونے کی امید فی الحال نہیں ہے۔

ملک نے وہ نظام بھی دیکھے ہیں جب تمام تر اختیارات کا سرچشمہ عوام کے بجائے فوجی حکمران تھے۔ سیاست دانوں کی کیا اوقات تھی یہاں کے ریاستی اداروں ان کے اشارہ ابرو پر چلتے تھے۔ انتظامیہ تو براہ راست ان کے تابع تھی مگر انصاف کا سارا نظام بھی دو زانوں ہو کر بادشاہ معظم کی مدح سرائی  میں مصروف تھا۔سیاست دانوں کی کرپشن کو ہمیشہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے استعمال کیا گیا۔اس میں نکلا کیا کچھ بھی نہیں۔ کسی سیاست دان سے ایک دھیلا بھی برآمد نہیں ہوا اور وہ پہلے سے بھی امیر ہو کر اس ملک پر مسلط ہو گئے۔راتوں رات امیر ہو کر سیاست میں آنے والے خانوادے تو پہلے ہی پیسے کے جوڑ توڑ میں ماہر ہوتے ہیں انہو ںنے اس سارے نظام کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔ جہانگیر ترین کا پریشر گروپ کیا ہے؟  اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے جہانگیر ترین کے ساتھ کھڑے ہونے والے لوگ کون ہیں ؟  اپوزیشن کا تو احتساب شہزاد اکبر کے ذریعے ہو رہا ہے کیا تحریک انصاف میں شامل ان لوگوں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے گا جو صرف اپنی چمڑی اور دمڑی بچانے کے لیے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ کا بڑا مطالبہ کیا ہے صرف یہی کہ جہانگیر ترین کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ تحریک انصاف جو انصاف کی بات کرتی ہے وہاں کے ایم این اے اور ایم پی اے بھی انصاف نہ ملنے کا شکوہ کر رہے ہیں۔

ایف ائی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن نے جو انکشافات کو معمول کی کارروائی گردانا جائے گا ۔ یہاں اداروں کو ایسے ہی استعمال کیا گیا۔ بشیر میمن بھی پتہ نہیں کہ کتنی دفعہ استعمال ہوئے ہوں ۔ یورپ میں یہ ٹرینڈ چلا تھا می ٹو۔ می ٹو کا ٹرینڈ یہاں بھی شروع ہو جائے اور اہم عہدوں پر رہنے والے یہ داستانیں بیان کرنا شروع کر دیں کہ انہیں کس نے کیسے استعمال کیا تو شاید آنے والے برسوں میں پاکستان  میں بہتری کی گنجائش پیدا ہو جائے۔بشیر میمن کے الزامات کی زد میں براہ راست وزیراعظم عمران خان، فروغ نسیم اور شہزاد اکبر آئے ہیں۔ اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیں ۔کیا ان لوگوں نے ایف آئی اے کو ایسے ہی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ عدلیہ اور مسلم لیگ ن کو فکس کرنے کے لیے ایف آئی اے کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے معاملے کی شفاف انکوائری ہونی ضروری ہے ورنہ اپوزیشن کے خلاف لگائے جانے والے الزامات پر کوئی بھی اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں پر پارٹی کے اندر لوگ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ ایف آئی اے کو انہیں حراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور اپوزیشن شروع دن سے ہی یہ چیخ و پکار کر رہی ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔

میں این آر او نہیں دو ں گا کہ بلند بانگ نعرے تو ایک عرصہ سے سن رہے ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ کی ملاقات کے بعد جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس کو اپوزیشن این آر او ہی کہہ رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم خو د کو این آر او دے رہے ہیں۔ حکومتی وزیریہ یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ وزیراعظم کسی کے سامنے بلیک میل نہیں ہوں گے تو دوسری طرف یہ اطلاعات بھی ہیں کہ ان افسران کو تبدیل کیا جارہا ہے جنہوں نے چینی اسکینڈل کی انکوائری کی ہے۔راجہ ریاض کا کہنا ہے کہ 75فیصد کام ہو گیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ 25فیصد ان کے حق میں آتا ہے یا 99پر جا کر وہ دوبارہ سے زیرو پر آ جاتے ہیں۔اپوزیشن اور بشیر میمن نے جو الزامات عاید کیے ہیں اس کا ایک ہی حل ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے۔چینی اسکینڈل میں صرف جہانگیر ترین ملوث نہیں ہیں، ان سمیت جو بھی ملوث ہو سب کے خلاف بلا تخصیص کارروائی ہو تو حکومت کی ساکھ بچ سکتی ہے۔پارٹی کے اندر حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ چینی اسکینڈل سے فائدہ اٹھانے والوں میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے سیاست دان سر فہرست ہیں وہ اس پر بات نہیں کر رہے مگر خسرو بختیار اور جہانگیر ترین ہی سامنے آ رہے ہیں۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ا ن کی آڑ میں دوسرے اپنا الو سیدھا کر رہے ہوں۔

ملک کا وزیراعظم ہونا ایک اعزاز ہے اور اس سے بڑھ کر ذمہ داری بھی۔ عمران خان کا نام ملک کے وزراء اعظم کی فہرست میں تو درج ہو گیا ہے اب وہ اس ذمہ داری کو کس طرح نبھا رہے ہیں اس کا فیصلہ آنے والا مورخ کرے گا۔ عمران خان کو اب ڈیلیوری کی طرف توجہ دینا ہو گی۔ الزامات کی سیاست اور تقریریں سن سن کر عوام کے کان پک چکے ہیں اب آپ انہیں یہ بتائیں کہ آپ کر کیا رہے ہیں اور وہ کون سے منصوبے ہیں جس سے ملک میں فلاح و بہبود آئے گی۔یہ بھی یادر رہے کہ عوام کسی کے زر خرید غلام نہیں ہے آپ انہیں کچھ دیں تو وہ آپ کو بھی کچھ دیں گے۔ اسی لاہور میں کبھی پیپلزپارٹی کا طوطی بولتا تھا اور آج  یہاں سے پیپلزپارٹی کو اپنا امیدوار نہیں ملتا۔نوازشریف لاہور کو اپنا شہر کہتا تھا اور آج یہاں سے تحریک انصاف کے لوگ جیتے ہیں( یہ الگ بات ہے کہ اس جیت پر بھی کئی سوالیہ نشان موجودہیں)پولیس ایف آئی اے اور دوسری حکومتی مشنری کو عوام کے مسائل حل کرنے کی طرف لگائیں ورنہ ان کے لیے تو یہ کام بہت آسان ہے کہ وہ آپ کے سیاسی مخالفین کو فکس کرنے میں عوام کو بھول جائیں کہ حکمران خوش رہے گا تو وہ عہدے اور ترقیاں بھی پائیں گے اور عوام کی بہتری کے حوالے سے کسی قسم کی باز پرس بھی نہیں ہو گی۔بشیر میمن نے جو الزامات لگائے ہیں ان کی باز گشت اگلے انتخابات تک سنائی دیتی رہے گی۔ کیا وزیراعظم یہ ہمت کریں گے کہ ان الزامات کی جانچ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ ایسا نہیں ہوا تو یہ الزامات ایک حقیقت کی صورت میں مورخ ان کے دور حکومت کے بارے میں لکھے گا کہ کس طرح عمران خان نے اپنے دور میں مخالفین کو ختم کرنے کے لیے ایف آئی اے کو استعمال کیا۔فیصلہ آپ نے کرنا ہے کیونکہ اس کا اختیار آپ کے پاس ہے۔شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین پریشر گروپ کے حوالے سے جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا معاملہ نہیں چلے گا ایک لائن کھینچنا ہو گی۔ جناب وزیراعظم آپ بھی آدھا تیتر اور آدھا بٹیروالی حکمت عملی کو ختم کریں اور ایسے اقدامات اٹھائیں کہ آپ کو ان الزامات کی وضاحت کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔


ای پیپر