Dr. Akbar Nasir Khan's book is an important document for security experts, sociologists, lawyers, police officers, judiciary and human rights activists.
29 اپریل 2021 (11:36) 2021-04-29

زمانۂ قدیم میں بادشاہت کی مضبوطی سے پائیداری کا انحصار اس بات پر ہوتا کہ ریاست کا جاسوسی اور مخبری کا نظام کتنا مؤثر ہے۔ جمہوریت اور شہری حقوق کے ارتقا کے بعد اس ڈھانچے کو بتدیج ختم کر دیا گیا۔ یعنی جمہوری حکومتوں کو جب مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو یہ تسلیم کیا گیا کہ یہ نظام جاسوسی، مخبری اور یا کسی نہ کسی شکل میں عوام کی نگرانی ریاست کے لیے Eyes & Ears کا درجہ رکھتی ہے چنانچہ حکومتوں نے غیر اعلانیہ طور پر عوام کی نگرانی کا نظام غیر محسوس طریقے سے جاری رکھا۔ 9/11 کے واقعہ نے دنیا بھر کی حکومتوں کو جواز عطا کیا کہ وہ اپنے شہریوں کی Surveillance یا نگرانی کر سکتی ہیں تا کہ شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ نگرانی Surveillance چونکہ براہ راست عوام کے شہری حقوق بالخصوص Privacy سے متصادم ہے۔ اس لیے اس معاملے میں عوام اور حکومت ہمیشہ سے ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ یہ ایک ٹکراؤ اور کشمکش کی صورت حال ہے کہ عوام ریاست سے اپنے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت بھی مانگتے ہیں مگر یہ بھی چاہتے ہیں کہ ان کی نجی زندگی میں دخل اندازی نہ کی جائے جو ان کی شخصی آزادی کو مجروح کرے۔

ڈی آئی جی پولیس ڈاکٹر اکبر ناصر خان کی حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیقی کتاب Privacy and surveillance سکیورٹی ماہرین، ماہرین عمرانیات، وکلاء، پولیس افسران، جوڈیشری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے ایک اہم دستاویز ہے جس میں پرائیویسی بطور بنیادی شہری حقوق اور اس سے براہ راست متصادم Mass Surveillance یا ریاست کی طرف سے عوام کی نگرانی کے نظام کے فوائد اور اس کے منفی اثرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے 1999ء میں سول سروس کا آغاز کیا اور تب سے وہ پولیس سروس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف پورٹس ماؤتھ برطانیہ سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی کے علاوہ ہاورڈ امریکہ سے ایم پی اے جبکہ یونیورسٹی آف لندن سے LLM کیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے ماتحت سوڈان اور Kosovo میں بھی Peace Keeping کی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ وہ اس وقت نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی (NACTA) میں ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ ایویلیویشن اینڈ کپیسٹی بلڈنگ فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے پہلے چیف آپریٹنگ آفیسر کے طو رپر اپنی پہچان رکھتے ہیں جن کے تحت 2013ء میں لاہور سیف سٹی منصوبہ کا تاریخی آغاز ہوا۔

یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ اکبر ناصر خان جب 2013ء میں لاہور میں 8000 سکیورٹی کیمروں کا جال بچھا رہے تھے تو عین اس وقت یہ وہ دور تھا جب امریکی خفیہ ادارے NSA کے ایک Consultant ایڈورڈ سنو ڈین کے چشم کشا انکشافات نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا جب انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کس کس طرح سے اپنے شہریوں کی جاسوسی کر کے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑارہی ہے۔ سنو ڈین امریکہ سے فرار ہو کر ہانگ کانگ پہنچا جہاں سے روس نے اسے اپنے ہاں سیاسی پناہ دی۔ اس نے امریکی ا دارے کی خفیہ ترین معلومات عام کر دیں جس سے امریکی ساکھ کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کے وہ منصوبے ختم کرنا پڑے جو دنیا کو لیک کر دیئے گئے تھے۔ سنوڈین نے کہا تھاکہ جو کچھ میں نے کیا ہے مجھے پتہ ہے کہ مجھے اس کی قیمت چکانی پڑے گی مگر میں چاہتا ہوں کہ ریاستیں اپنے شہریوں کی جاسوسی اور وسیع پیمانے پر کی جانے والی نگرانی سے باز رہیں۔

جو کام سنو ڈین نے امریکہ میں غیر قانونی طور پر کیا تھا ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے وہ لیگل فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے قومی سطح پر اس کتاب کے ذریعے ایک آگاہی فراہم کر دی ہے کہ اگر آپ جرائم اور دہشت گردی سے اپنے آپ کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی شخصی آزادی کے حق کی کچھ نہ کچھ قربانی دینی پڑے گی۔ ایک پولیس افسر ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی اس کتاب میں عوام کے Privacy کے حق کا دفاع کیا ہے۔ مصنف نے اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ لاہور کے سیف سٹی پراجیکٹ کے آغاز پر اس منصوبے کے اہم ترین Stake Holder یعنی عوام الناس سے ان کی رائے نہیں لی گئی اور ان کے حقوق پر لگنے والی قدغن میں رضامندی حاصل کرنے کا نہیں سوچا گیا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ اس پر نہ تو سیاسی قیادت اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مزاحمت یا اعتراضات سامنے آئے۔

Privacy and surveillance کو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام کے شعبہ اقبالؒ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ (IRD) نے شائع کیا ہے۔ کتاب میں ناصر اکبر خان کی پی ایچ ڈی کے لیے ان کے Thesis بعنوان 

"Public preferences on the trade offs between surveillance & privacy in public spaces in pakistan " سے کافی حد تک استفادہ کیا گیا ہے ، سیف سٹی پروجیکٹ لاہو ر میں عوام کی رائے کے شامل نہ کئے جانے کے فیصلے کی تلافی کے طو ر پر پاکستان کے دو بڑے شہروں راولپنڈی اور ملتان میں کیے جانے والے سروے پر تفصیل سے بحث کی گئی ۔50 لاکھ سے زیادہ آبادی والے ان دونوں شہروں میں کی گئی ریسرچ کا نچوڑ یہ ہے کہ عوام نے مس سرویلنس بذریعہ کیمروں کے ریاستی فیصلے کو قبول کیا ہے ۔بلکہ سکیورٹی اور تحفظ اور امن و امان کی خاطر نگرانی کے اخراجات کو فیس کے طور پر برداشت کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی ہے مگر اس کی شرط یہ ہو کہ اس سے جرائم میں کمی کی یقین دہانی کرائی جائے۔

مصنف کاکہنا ہے کہ پرائیویسی ایک بنیادی حق ہے مگر یہ آئین پاکستان میں واضح نہیں ہے۔ آئین 1973ء میں چیپٹر 2 میں بنیادی انسانی حقوق کی بات کی گئی ہے جبکہ آرٹیکل 8 کی شق 5 میں کہا گیا ہے کہ چیپٹر 2 کے تحت تفویض کردہ حقوق کو کسی صورت معطل نہیں کیا جا سکتا۔ 

279 صفحات پر مشتمل اس انگریزی کتاب کا لب لباب کتاب کے آخری بات میں 13 سفارشات کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر اکبر ناصر خان کہتے ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 14(1) میں ترمیم ہونی چاہیے اور یہ ترمیم انٹرنیشنل کانونٹ آف سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس ICCPR کی روشنی میں ہو۔ اس سلسلے میں سیف سٹی اتھارٹی اور پولیس کی اعلیٰ کمانڈ کو حکومت کو قائل کرنا ہو گا کہ پرائیویسی کو بطور بنیادی شہری حق کے طور پر اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کے عین مطابق مقدس سمجھا جائے۔ اس طرح کے کسی بھی پبلک پالیسی initiative پر عوام سے رائے لی جانی چاہیے۔ نگرانی کے نتیجے میں عوام کا طرز عمل قدرتی طور پر بدل جاتا ہے۔ سکیورٹی خدشات اور پرائیویسی کے درمیان صحت مند توازن ناگزیر ہے۔ اربن ایریاز میں اس پر آگہی مہم چلائی جا سکتی ہے۔ قانونی طور پر شہریوں کی نگرانی کے لیے سسٹم کے اندر اتنی اہلیت ہونی چاہیے کہ وہ اخلاقی اور قانونی دائرے کے اندر رہ کر پرفارم کرے اور ڈیٹا پروٹیکشن کی ضمانت دی جائے۔

ایک اہم بات مصنف کی جانب سے یہ تھی کہ پرائیویٹ شہریوں کی طرف سے الیکٹرانک سرویلنس کے استعمال پرکوئی لیگل فریم ورک یا ریگولیٹری باڈی موجود نہیں ہے۔ اس کو سیف سٹی اتھارٹی کی چھتری کے نیچے لایاجائے ۔ اکبرناصر خان اس پر زور دیتے ہیں کہ سرویلنس اور پرائیویسی کو ایک قانون یا آرڈیننس کی شکل میں منظوری اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے تا کہ شخصی آزادی اور سکیورٹی کے درمیان حدود و توازن پیدا ہو۔ پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں CCTV کیمروں کے استعمال کو کسی قانون کے دائرے کے اندر لانا ضروری ہے۔ پولیس افسران ، وکلاء اور جج صاحبان کو CCTV سسٹم کے بارے میںپرائیویسی قانون پر ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تربیت رازداری قائم رکھنے کی شرط پر ہونی چاہیے تا کہ اسے خفیہ رکھا جا سکے۔ یہ خوش آئند ہے کہ ایک پولیس افسر نے محکمانہ چیلنجز کے ساتھ ساتھ عوامی حقوق کی ترجمانی کو ترجیح دی ہے اس پر ایک قومی سطح کی Debate ضروری ہے۔


ای پیپر