کچھ ماتحت پروراور کچھ اذیت پسند پولیس افسران !
29 اپریل 2021 2021-04-29

ناصردرانی مرحوم کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے گزشتہ کالم میں ایک واقعہ ان کے ماتحت پروری کے حوالے سے میں نے لکھا تھا، ایک بزرگ میرے پاس تشریف لائے۔ اُن کا بیٹا سپیشل برانچ پنجاب لاہور میں بطور سب انسپکٹر تعینات تھا، وہ بے چارہ ہیپاٹائٹس کا مریض تھا، اُس کی تین ماہ کی رخصت کی درخواست ایک ایس پی دباکر بیٹھا ہوا تھا، ہمارے کچھ افسران دبا کے پیسے لیتے ہیں، وہ کسی کارثواب کو نوٹوں سے تولتے ہیں، نوٹ بڑے بڑے کارثواب سے زیادہ وزنی نکلتے ہیں۔ ناصردرانی پولیس کے جس شعبے میں رہے اُن کے ماتحت افسران کی اکثریت کے نزدیک کسی کارخیر یا ثواب کے مقابلے میں نوٹوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی، میں نے درانی صاحب کو اُن کے موبائل پر مسیج دیا میں اُن سے بات کرنا چاہتا ہوں، وہ اُن دنوں ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ تھے، چند منٹوں بعد اُن کی کال آگئی۔ میں نے اُنہیں بتایا آپ کا ایک ماتحت سب انسپکٹر جو ہیپاٹائٹس کا مریض ہے اُس کی تین ماہ رخصت کی درخواست آپ کا ایک ایس پی تین ماہ سے دباکر بیٹھا ہوا ہے“....اُنہوں نے مجھ سے اُس سب انسپکٹر کا نمبر مانگا، میرے پاس اس کے گھر کا نمبر تھا، میں نے اُنہیں دے دیا، کچھ ہی دیر بعد اُس سب انسپکٹر کے والد کی مجھے کال آئی اُنہوں نے بتایا ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ ناصردرانی صاحب کی ابھی کال آئی تھی، سب سے پہلے اُنہوں نے تین ماہ سے رخصت کی درخواست پینڈنگ ہونے پر معذرت کی۔ پھر میرے بیٹے کی بیماری سے متعلق تازہ ترین معلومات مجھ سے لیں۔ مجھے بتایا درخواست منظور کرلی گئی ہے اور اُس کا سارا علاج وہ خود کروائیں گے“.... کچھ عرصہ بعد اُس سب انسپکٹر کے والد میرا شکریہ ادا کرنے میرے دفتر آئے، اُنہوں نے بتایا درانی صاحب اُن کے صاحبزادے کے علاج پر اتنی توجہ دے رہے ہیں جیسے وہ اُن کا اپنا صاحبزادہ ہو،.... میں نے درانی صاحب کو شکریے کے لیے فون کیا وہ اُلٹا میرا شکریہ ادا کرنے لگ گئے، کہنے لگے”شکریہ مجھے آپ کا ادا کرنا چاہیے آپ نے ہماری ایک سستی وکوتاہی کی نشاندہی کی، میں نے اپنے اُس افسر کی سرزنش کی ہے جو تین ماہ سے رخصت کی درخواست دبا کر بیٹھا ہوا تھا، اُمید ہے آئندہ وہ ایسے نہیں کرے گا“.... مجھے نہیں معلوم درانی صاحب کی سرزنش کا اُن کے اُس ماتحت ایس پی پر کوئی اثر ہوایا نہیں؟ کیونکہ کچھ افسران کو اللہ کی ایسی مار ہوتی ہے کوئی کارخیر کرتے ہوئے اُنہیں موت پڑتی ہے، .... ایسا ہی ایک ایس پی (جونئیر جے سوریا) لاہور میں آج کل تعینات ہے۔ چند روز پہلے ا±س کا ایک ماتحت کورونا میں مبتلاہو گیا ، ا±س کے ساتھ جو بدسلوکی پولیس کے اس جونئیر جے سوریا نے کی میں سوچتا ہوں ایسے جے سوریے کسی سفارش کے بل بوتے پر فیلڈ میں ڈی پی او وغیرہ اگر تعینات ہو جائیں ایسی صورت میں خلق خدا اور ماتحتوں کا والی وارث کون ہوگا ؟ حد یہ ہے پولیس کا یہ جونئیر جے سوریا جانتابھی تھا جو ماتحت کورونا میں مبتلا ہوا ہے وہ پہلے کینسر جیسے م±وذی مرض میں بھی مبتلا رہا ہے۔ یہ داستان تفصیل کے ساتھ میں اپنے اگلے کسی کالم میں عرض کروں گا کیونکہ ایک انتہائی اعلی کردار کے حامل پولیس افسر ناصر درانی کی یاد میں لکھے جانے والے کالم کو ایک کالے منہ و کالی کرتوتوں والے ایس پی پر میں قربان نہیں کر سکتا، پولیس کے اس جونیئر جے سوریاکے سیاہ دل کا عکس اُس کے چہرے سے بھی عیاں ہے۔ آج کل اُس بے چارے کی ساری توجہ اپنا رشتہ تلاش کرنے پر ہے۔ اُونچاہاتھ مارنا چاہتا ہے جس میں تاحال اُسے ناکامی کا سامنا ہے۔ایک طرف آئی جی پنجاب انعام غنی کی ماتحت پرورپالیسی کو اُن کے ماتحت اکثر افسران دل وجان سے اپنائے ہوئے ہیں، دوسری طرف اُن ہی کے ماتحت کچھ ”کالے ناگ “اپنے بیمار ماتحتوں کو ڈسنے سے بھی گریز نہیں کرتے، میں سوچتا ہوں کاش اِن کالی کرتوتوں وچہروں والے بدفطرت پولیس افسران نے کچھ عرصہ ناصردرانی جیسے اعلیٰ کردار کے حامل افسران کے ساتھ گزارا ہوتا، اُن کی تربیت میں وہ رہے ہوتے۔ اِس کے باوجود کہ فطرت تبدیل نہیں ہوتی، اُن کی صحبت میں رہ کر اُن کی فطرت بھی شاید تبدیل ہوجاتی، .... میں یہاں دوسابق آئی جیز عارف نواز خان اور امجد جاوید سلیمی کا ذکر کیے بغیر بھی نہیں رہ پارہا، امجد جاوید سلیمی نے اپنے ماتحت کینسر کے ایک مریض انسپکٹر کی ہرلحاظ سے جس طرح مدد کی وہ مریض جسے میں ذاتی طورپر جانتا ہوں، اُس نے مجھے بتایا میری ہرنماز، میری ہر عبادت ،کسی بھی مقدس مقام پر میری ہرحاضر میں امجد جاوید سلیمی صاحب کا چہرہ اچانک میرے سامنے آجاتا ہے اور کتنی کتنی دیر میں صرف اُن کی صحت سلامتی وکامیابیوں کی دعائیں کرتا رہتا ہوں، میں نے جب یہ بات سلیمی صاحب کو بتائی اُن کی آنکھوں میں آنسو آگئے، کہنے لگے ”ایسے کام ہم گناہ گاروں سے بس اللہ ہی کروا دیتا ہے“.... اُس کے بعد اُنہوں نے موضوع بدل دیا.... اِسی طرح مجھے یاد ہے ایک بار میں نے جناب عارف نواز خان کو ان کے موبائل پر مسیج کیا ایک شہید کی بیوہ کے کچھ مسائل ہیں وہ آپ سے ملنا چاہتی ہے، میرا خیال تھا آئی جی اپنی مصروفیات کے مطابق اُسے دوچار ہفتے بعد کا وقت دیں گے، فوراً ہی عارف نواز خان کی مجھے کال آگئی، کہنے لگے ”بھائی مجھے اُن کا نمبر سینڈ کردیں، میرا پی ایس او ابھی اُن سے رابطہ کرلیتا ہے، میری کوشش ہوگی میں آج ہی اُن سے مل لُوں “پھر ایسے ہی ہوا، پولیس کے شہید کی بیوہ سے اُسی روز وہ ملے، اُس کے مسائل سنے اور اُن کے فوری حل کے لیے احکامات جاری کیے۔ اگلے روز میں نے کسی چینل پر دیکھا آئی جی انعام غنی پولیس اصلاحات کے حوالے سے عارف نواز خان کو بڑے اچھے الفاظ سے یاد کررہے تھے، انعام غنی کا یہ بڑاپن ہے ورنہ جانے والوں کو یہاں کون یاد کرتا ہے؟ ۔ ہاں دنیا سے چلے جانے والوں میں کوئی ناصردرانی جیسا ہو اُسے بھُولتا کوئی نہیں، پولیس افسران میں ایک قبر جس پر اکثر میری حاضری ایک فرض کی طرح ہوتی ہے وہ جاوید نور کی ہے، دوسری اب ناصردرانی کی ہوگی، ہاں یاد آیا ایک پولیس افسر اشفاق احمد خان (آرپی او سرگودھا)کے بارے میں ناصردرانی صاحب اکثر مجھے کہا کرتے تھے اُس سے ملاکرو وہ بڑا فقیر بڑا درویش اور ایماندار پولیس افسر ہے، میں درانی صاحب کی نماز جنازہ میں اُنہیں تلاش کرتا رہا، اگلے روز اُن کی کال آئی انہوں نے بتایا ٹی ایل پی کی وجہ سے جو حالات بنے ہوئے تھے وہ سرگودھا نہیں چھوڑ سکتے تھے، سواگلے روز اُنہوں نے سارا وقت ناصردرانی مرحوم کی فیملی کے ساتھ گزارا۔(جاری ہے)


ای پیپر