”مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ ۔۔“
29 اپریل 2020 2020-04-29

میں نے انڈسٹریل ایریا گلبرگ کی ایک بڑی مسجد میں ظہر کی جماعت کے بعد سلام پھیرا تو امام صاحب گویا ہوئے،’ آپ کو علم ہے کہ مسجد کے معاملات آپ کے چندے سے ہی چلتے ہیں اور اس کا بڑا حصہ جمعے کے اجتماعات میں عطیات سے ہی اکٹھا ہوتا ہے مگر ایک مہینے سے جمعے کا اجتماع نہیں ہوا اور اب جو ہوا ہے تو محدود اجتماع میں چندہ بھی محدود ہوا ہے لہٰذا آپ سے درخواست ہے کہ باہر پڑے ہوئے گلے میں استطاعت کے مطابق کچھ رقم ڈال دیجئے ۔۔“ ہوسکتاہے کہ آپ کے لئے یہ ایک عام سی بات ہو اور اگرکوئی خصوصیت ہو تو یہ ہوکہ اچھا ہوا کہ مولوی بھوکا ننگاہو گیا مگر میرا دل کانپ کے رہ گیا۔

مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ میری مسجدوں کا مقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں، کوئی کہنے والا نہیں کہ کرونا کا عذاب کسی مسجد سے نہیں نکلا، کوئی یہ دلیل دینے والا نہیں کہ جس صفائی، ستھرائی کی با ت تم اب کر رہے ہو وہ آمنہ کے لال نے آج سے چودہ سو برس پہلے پڑھائی اورسکھائی تھی۔ ستم تو یہ ہے کہ وہ جن کی نسلیں مسجدوں کی کمائی پر پل گئیں وہ بھی اللہ کے بجائے کرونا کے عذاب سے کہیں زیادہ خوفزدہ ہیں ۔ ان کے روئیے ایسے معذرت خواہانہ ہیں جیسے لاک ڈاﺅن کے ایس او پیز کی تمام تر خلاف ورزیاں مسجدوںمیں ہی ہو رہی ہیں او رمسجدوں کے باہر سب اچھا ہے لہٰذا جب حکومت ایکسپورٹ کے نام پر سینکڑوں کارخانوں کو کھول رہی ہے، سپر سٹورز میں وقت کی بندش کر کے عوام کا جم غفیر اکٹھا کیا جا رہا ہے، ہماری سبزی اور پھل منڈیوں سے کھوے سے کھوا چھل رہا ہے، بازاروں میں کریانے، سبزی، دودھ دہی اور گوشت کی دکانوں پر پہلے ہی کی طرح رش ہے تو یہ مساجد ہی ہیں جن کی اسی فیصد تعداد ، اسی فیصد تک ایس او پیز پر عمل کر رہی ہے۔ یہاں جو آتے ہیں جو اپنے ہاتھ اور منہ دھو کر آتے ہیں ۔ چند ایک کے سوا کہیں بھی فزیکل ڈسٹنس کے اصول کی نفی نہیں کی جا رہی حالانکہ یہ سوال شرعی طور پر جائز ہے کہ کیا ہم جماعت کا وہ طریقہ تبدیل کر سکتے ہیں جس کی تعلیم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی؟

چلیں مان لیتے ہیں کہ آپ کے پاس احادیث موجود ہیں جن میں طاعون کی وبا سے اس طرح بھاگنے کا ذکر ہے جس طرح بندہ شیر کو دیکھ کر بھاگے اور ہم آپ کے خوف سے مان لیتے ہیں کہ نزلہ اور زکام کی وبا اس وقت طاعون سے بھی بڑھ کر خطرناک ہے۔ ہم اس بحث میں بھی نہیں جاتے کہ امریکا جیسے ملک میں ہر برس فلو یا اس جیسے دیگر انفیکشنز سے مرنے والوں کی تعداد ہر برس کیا ہوتی ہے کہ ہم ڈبلیو ایچ او کو صحت کے معاملات میں اتھارٹی مانتے ہیں اور ہمیں اللہ اور رسول کے بعد بااختیار لوگوں کا حکم ماننے کا درس دیا گیا ہے مگر یاد رکھئے کہ اللہ اور رسول کے حکم کے بعد۔۔ مگر ستم یہ ہے کہ یہاں اللہ اور رسو ل کے قطعی اور حتمی حکم پر ان لوگوں کی ماننے کے لئے کہا جا رہا ہے جن کے پاس ابھی تک خود کوئی حتمی اور قطعی علم اور دلیل نہیں ۔ انہی ماہرین نے پہلے کہا کہ کرونا ہوا سے نہیں پھیلتا ، اس کا پھیلاﺅ صرف چھونے سے ہوتا ہے اور پھر کہا کہ کرونا کا مریض جس جگہ چھینک کر چلا جائے وہاں تین گھنٹے تک یہ وائرس فضا میں معلق رہتا ہے۔ کہا ، یہ گرمی سے مرجاتا ہے پھر کہا نہیں مرتا اور پھر کہا کہ کہیں مرجاتا ہے کہیں نہیں مرتا۔ ہمیں فون پر پیغام سنایا جاتا رہا کہ یہ جان لیوا نہیں ہے اور پھر کہا جاتا ہے کہ اس نے لاکھوں بندے مار دئیے ہیں ۔ پہلے تحقیق کی کہ ایک بار ہوجائے تو دوبار ہ نہیں ہوتا اور پھر کہا کہ دوبارہ نہ ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں۔جنازے پڑھنے سے روکا گیا کہ یہ ڈیڈ باڈیز سے بھی پھیلتا ہے ، پھر کہا کہ ڈیڈ باڈیز اس کا کیرئیر نہیں ہیں ۔ شور مچایا گیا کہ اینٹی ملیریل دوا کلوروکوئن اس کا علاج ہے ، پھر کہا کہ نہیں، نہیں یہ تو جان لیوا ہے ۔ کوئی سائنسدان کہتا ہے کہ یہ لاکھوں بندے مارے گا اور کوئی کہتا کہ یہ خود نہیںمارتا بلکہ اس کی وجہ سے کمپلی کیشن پیدا ہوجائے تو دل، جگر، پھیپھڑوں اور گردوں کے مریض مر جاتے ہیں ۔ پہلے کہا کہ یہ ہر کسی پر یکساں حملہ کرتا ہے اور پھر کہا کہ مرنے والوں میں مردوں کی تعداد عورتوں سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ کون لوک او تُسی تے کی چاہندے او؟

بات مساجد کی ہے اور دلیل دی جاتی ہے کہ جب کعبتہ اللہ بند ہو گیا تو باقی مساجد کو بند کرنے میں کیا حرج ہے تو وہ شخص اس دلیل کو ضرور مان لے جو آل سعود کے حکم ناموں کی وجہ سے مسلمان ہے ورنہ تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام اور ایمان تو رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ سے بھی مشروط نہیں تھا۔آہ! بہت ساری مسجدوں میں اس مرتبہ قرآن پاک ختم نہیں ہورہا بلکہ وہاں تراویحیاں انتظامیہ کے دباﺅ پر مختصر سورتوں میں پڑھائی جار ہی ہیں اور ہمارے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اگر کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہوا تویہ بے چاری مساجد بھی بند کر دی جائیں گی۔ کیا حکمران کروناکے مساجد سے پھیلنے کے ثبوت دے سکتے ہیں اور اگر اہل تشیع زائرین اور تبلیغی جماعت والوں کی مثال دی جاتی ہے تو سن لیجئے کہ بیرون ملک سے آنے والوں کی سکریننگ کسی امام مسجد کی نہیں بلکہ حکومت کی ذمے داری تھی اور جب آپ سرحدوں اور ائیرپورٹوں پر وہ سکریننگ نہیں کرسکے تو پھر صرف بات ایران اور سعودی عرب کی نہیں بلکہ امریکااور برطانیہ جیسے ممالک کی بھی ہے جہاں سے کرونا امپورٹ ہوا ور صرف حکومت کی سکریننگ نہ کرپانے کی کوتاہی سے ہوا۔چلیں ! منظر نامے کا مطالعہ یوں کر لیتے ہیں کہ آپ نے مساجد بند کر دیں تو کیا اس سے کرونا کا پھیلاﺅ رک گیا، ہرگز نہیں، بلکہ مجھے اس سے آگے کہنے دیجئے کہ کیا امریکا، برطانیہ، اٹلی، اسپین اور دیگر ممالک میں کرونا مساجدیا عبادت گاہوں سے پھیلا، توجواب وہی ہے، ہرگز نہیں۔مساجد میں گندے لوگ نہیں جاتے اور اگر جائیں بھی تو وہ پاک اور صاف ہو کر جاتے ہیں لہٰذا آپ کو مساجد سے کرونا کے پھیلاو کا کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہئے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ بہت سارے دوسرے ممالک کے مقابلے میں اگر پاکستان میں کرونا کے مریض آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور ہماری انتظامیہ لاشوں کی تعداد میں اضافے کے لئے ہر مرنے والے کو کرونا کا مریض ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے تو اس محدود پھیلاﺅ میں حکومتی اقدامات کا کوئی عمل دخل نہیں ہے کہ آپ کے پاس حکومتی مشینری اور ریاستی وسائل بہرحال امریکا، برطانیہ جیسے ممالک جیسے ایفیشنٹ اور پرفیکٹ نہیں ہیں لہٰذا اس عافیت کی وجوہات کچھ اور ہیں ۔ چند روزپہلے ایک کالم پر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر جناب سراج الحق کی فون کال موصول ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ہم میں ابھی کچھ اللہ والے موجود ہیں جن کی وجہ سے آفات و بلیات آتی ہیں مگر ہم پھر بھی بحثیت مجموعی ان سے بچ جاتے ہیں لہٰذا مشورہ ہے کہ اللہ سے محبت کرنے والوں کو اللہ کے گھروں میں جانے سے مت روکیں۔ جتنے ایس او پیز بنانے ہیں بنا لیں اور لگا لیں مگر مسجدوں کو بدمست پولیس والوں اور پولیس والیوں کے ذریعے تالے مت لگوائیں۔ یاد رکھیں کہ ہمارے معاشرو ں میں کسی کے گھر تک پہنچنا بہت بڑی بات ہوتی ہے اورمعاف نہیں کی جاتی۔ خبردار کرتاہوں کہ بیماری کے خوف یا اختیار کے زعم میں دونوں جہانوں کے رب کے گھرتک مت پہنچیں، اسے تالے مت لگائیں، اس کے رکھوالوں کو مجبور اور محتاج نہ بنائیں۔ قرآن کی تلاوت مت روکیں، اللہ والوں کو سجدوں میں خیر مانگنے دیں، ہوسکتا ہے کہ ہم پر کسی ایک آہ اور کسی ایک پکار کے جواب میں رحم ہوجائے، کرم ہوجائے، ہم بخش دئیے جائیں ۔ میں سعودی حکمرانوں کے اعمال و افعال زیر بحث نہیں لانا چاہتا مگر آپ سے ضرور کہتا ہوں کہ اس وقت کے عذاب سے پناہ مانگیں جب کعبے کی یہ بیٹیاں ویراں اورمرثیہ خواں ہوجائیں۔


ای پیپر