سندھ میں برف کیسے پگھلی؟
29 اپریل 2019 2019-04-29

چند ماہ سے سندھ اور وفاق کی حکمران جماعتوںکے درمیان جاری کشیدگی گزشتہ ہفتے نقطہ عروج پر پہنچ گئی تھی جب دونوں جماعتوں کے سربراہان سیاسی بدکلامی پر اتر آئے۔ بلاول بھٹو وزیراعظم عمران خان کو مسلسل سلیکٹیڈ وزیراعظم کہتے رہے ہیں۔ پہلے حکمران جماعت نے صرف شیخ رشید کو اپنے تحفظ کے لئے بدزبانی کے لئے رکھا ہوا تھا۔ شیخ صاحب کے ذمہ زیادہ تر نواز لیگ کو چپ کرنا تھا۔جوابی مہم کا آغازچند ہفتے پہلے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے قومی اسمبلی میںبلاول بھٹو کے بارے میں زبان کھولنے سے کرایا گیا۔شاید اس لئے کہ اوپر کی سطح پر جاری جوڑ توڑ میں شاہ محمود قریشی امکانی متبادل وزیراعظم کے امیدوار نظر آرہے تھے، جو ممکنہ طور پیپلزپارٹی کی مدد سے اپنے لئے جگہ بنا سکتے تھے۔حکمران جماعت نے یہ راستہ بند کرنا ضروری سمجھا۔اب چونکہ یہ آپشن تقریبا ختم ہو چکا تھا لہذٰا مخدوم صاحب نے بھی اس طرح کا بیان دینے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی۔ اس کے بعد خود وزیراعظم عمران خان بھی ان کے خلاف ترش زبان استعمال کرنے لگے، جس میں ذاتیات کا عمل زیادہ تھا۔ صورتحال یہ بنی کہ ملک میں تمام تر بیانیہ سیاسی ہونے کے بجائے ذاتی ہو گیا۔ اسمبلی ہو یا ٹی وی ٹاک شو، یا جلسہ یا پریس کانفرنس سے خطاب ہو یا سیاسی بیان ہر جگہ پر سیاسی بدکلامی ہونے لگی۔

سندھ میں حکومت تبدیل کرنے کی کوششوں کے ذریعے بھی ڈریا دھمکایا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو کاوئنٹر کرنے کے لئے ایم کیو ایم کو میدان میں اتارا گیا۔ایم کیو ایم کے کے پاس وہی انتہا پسندانہ نعرہ تھا، جس پر اسلام آباد کو اعتراض تھا۔

تحریک انصاف کی جانب سے سندھ میں تصادم کی حکمت عملی کا ایک ہی توڑ تھا کہ پیپلزپارٹی کے ’’ کاز‘‘ کو اجاگر کرے، وفاقی حکومت کی مختلف پالیسیوں خاص طور پر صوبے کو این ایف سی کے تحت ملنے والی رقم میں کٹوتی ، اٹھارویں ترمیم وغیرہ کے حوالے سے سندھ کا کیس تیار کر لیا۔ سندھ کو اپنے حصے کے 121 ارب روپے نہیں ملے۔ اس کو وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی حکومت کی نااہلی قرار دیا تھا۔وزیرتعلیم سید سرادر علی شاہ نے یہ کہتے رہے کہ وفاق پیسے نہیں دے رہا، لہٰذا خستہ حال اسکولوں کی مرمت وغیرہ ممکن نہیں۔

گورنر سندھ نے برملا سندھ حکومت سے اختلافات اور وفاقی حکومت سے اس کی دوری کا ذکر کیا۔ مشیروں کے تقرر کے معاملے پر اختلافات سامنے آئے۔ سندھ اسمبلی کا رواں سیشن مسلسل ہنگامہ آرائی کا شکار رہا۔ ہاتھا پائی بھی ہو گئی۔ حزب مخالف کے مائیک چوہے کھا گئے۔ سندھ اسمبلی میں سندھ حکومت پر کرپشن کا الزام لگایا۔ جوابا سرکاری بنچوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کی۔حلیم عادل اور امداد پتافی کے درمیان ہاتھا پائی۔ جس کے بعد اسپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ پیپلزپارٹی نے سندھ اسمبلی میں جارحانہ رویہ برقرار رکھا۔

اچانک ایک تبدیلی آگئی۔ تحریک انصاف کو ہی پیچھے ہٹنا پڑا اور بلاول کو’’ ناقص لیڈر ‘‘کہنے پر پی ٹی آئی کے رہنما فردوس شمیم نے معافی مانگ لی۔ اس سیشن کے دوران پھر ہفتے کے آخری روز یہ ہوا کہ پیپلزپارٹی کی رہنمافریال تالپور کی سالگرہ پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے اجلاس شروع ہوتے ہی مبارکباد دی۔فریال تالپور نے کہا کہ اگر یہ ماحول جاری رہا توبہتر فضا میں اسمبلی کی کارروائی چلے گی۔ سندھ اسمبلی میں آصف علی زرداری کی ہمشیرہ اور رکن سندھ اسمبلی فریال تالپور کی سالگرہ منائی گئی جس میں اپوزیشن کے اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی۔ فریال تالپور کو تین دن بعد تفتیش کے لئے نیب اسلام آباد کے سامنے پیش ہونا تھا۔پریس اور مہمانوں کی گیلریوں میں بیٹھے لوگوں کو عجیب سا لگا کہ جن کو ڈاکو اور لٹیرے کہا جارہا ، کرپشنن کے الزام میں مقدمات چلانے اور سزائیں دینے کی بات کی جارہی ہے، ان کو اچانک سالگرہ کی مبارکبادیں دی جارہی تھی۔

اس سے ایک روز قبل سندھ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اب کسی مشیر یا خصوصی معاون کے تقرر کے لئے گورنر سندھ کی منظوری ضروری نہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنما اعجاز جکھرانی کو مشیر بنانا چاہ رہے تھے لیکن گورنر سندھ نے ان کا تقرر اپنے ایک مشیر کے تقرر سے مشروط کردیاتھا۔

سنیچر کے روزوزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اپنی کابینہ کی ٹیم کے ساتھ گورنر ہائوس جا کر گورنر سندھ عمران اسماعیل سے ملاقات کی۔ اس موقعہ پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک انصاف کے رہنمافردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ بھی موجود تھے۔ رواں اجلاس میں دس روز پہلے سندھ اسمبلی وزیراعظم عمران خان اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ کی ملاقات والے روز دو اہم واقعات ہوئے ۔ ایک یہ کہ بنیادی حقوق کے حوالے سے اسلام آباد میں منعقدہ ڈائیلاگ میں فوجی عدالتوں کی مدت میں اضافے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے اور این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کو نامنظور کر کے اس کی مزاحمت کا فیصلہ کیا گیا۔اسی روز ایم کیو ایم نے کراچی میں جلسہ کیا، جس کا اعلان دو ہفتے پہلے کیا گیا تھا۔ جلسے میں ایم کیو ایم نے کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کردیا۔

میڈیا کے ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں سندھ کی صورتحال، سندھ اسمبلی میں جاری کشیدگی، وفاقی حکومت کی فنڈنگ سے سندھ میں جاری منصوبوں، اور وفاق سے سندھ کو ملنے والی رقومات میں کٹوتی کے معاملات زیر غور آئے۔ ملاقات میں گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان ورکنگ رلیشن شپ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ سندھ حکومت اور گورنر کے درمیان کچھ عرصے سے رابطے ختم ہو گئے تھے۔ بہت سے سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ اچانک برف کیسے پگھلی؟ سندھ میں نے ڈی جی رینجرز کی تقرری حسن اتفاق ہے۔کیاپنجاب میں حکمران جماعت کے اندر اختلافات نے وفاق کی حکمران جماعت کو اس طرف دھکیل دیا کہ دوسرے بڑے صوبے میں عدم استحکام کی صورت پیدا نہ کرے؟ معتبر ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح پر دونوں جماعتوں کے رہنمائوں کے درمیان رابطوں کے بعد گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ کے درمیان ملاقات ہوئی۔پیپلزپارٹی کا یہ موقف تھا کہ سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی نے بلاوجہ کشیدگی پیدا کی ہے جس سے نہ پی ٹی آئی کو کوئی فائدہ ہے اور نہ پیپلزپارٹی کو۔ گورنر اور وزیراعلیٰ کے درمیان رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اسمبلی میں دنوں جماعتوں کے اراکین ایک د وسرے کے خلاف غیر پارلیمانی زبان استعمال نہیں کریں گی۔ گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک کور کمیٹی تشکیل دی گئی، جو اختلافی معاملات نمٹائے گی۔

پیپلزپارٹی گزشتہ روز بلاول بھٹو کے خلاف بدزبانی پر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔وزیراعلیٰ سندھ نے چیئرمین سینیٹ سے مالاقات میں بھی مالی معاملات اٹھائے۔ گاج ڈیم منصوبہ مکمل نہ ہونے پر وفاق کو ذمہ دار ورار دیا اور کہا کہ اس کی وجہ سے ڈیم کی لاگت اڑتالیس ارب روپے سے بڑھ کر ساٹھ ارب روپے ہو گئی ہے۔ انڈس ہائی وے کو ڈبل کیریج کرنے کے لئے سندھ حکومت وفاق کو پہلے ہی ساتھ ارب روپے واپس کر چکی ہے۔ لگتا ہے کہ حالیہ مفاہمت میں کوئی ثالث یا ضامن نہیں ہے۔ پیپلزپارٹی سندھ میں یہ مہم کسی حد تک ابھی بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اتحاد اور اس کے ساتھ ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کے فارمولے پر عمل کر رہی ہے۔


ای پیپر