تھرڈ کلاس
29 اپریل 2019 2019-04-29

انسانوں میں تقسیم دیکھنا آپ کی طرح مجھے بھی اچھا نہیں لگتا مگر کیا کریں ،کیا ہونا چاہیئے اور کیا ہورہا ہے۔ دونوں کا فرق کم ہونے میں ہی نہیں آرہا۔ کسی بھی معاشرے میں جھانک لیں۔ وہاں پہلا درجہ اکثریت کا ہے تو دوسری کٹیگری اقلیت کی۔ اکثریت کی طرح اقلیت میں بھی امیر، غریب، طاقت ور اور کمزور کمیونٹیز کی درجہ بندی ہوتی ہے۔ ان کے بعد تیسرا نمبر اپنا دیس چھوڑ کر پردیسی ہونے والوں کا آتا ہے۔ یہ الگ بات امریکا کے پردیسی کا مقام اور ہے ،پاکستانی کا درجہ اور۔ تاریخ میں صرف مدینہ کی مثال ملتی ہے جب انصار اور مہاجر بھائی بھائی قرار پائے۔ وجہ بھی صاف ہے ،مواخات مدینہ اپنی ذات نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پر اللہ کی رضا کے لئے ہوئی۔

لندن میں قیام کے دوران مشاہدے کی مشق جاری ہے۔ گوروں کے دیس میں دنیا بھر کے پردیسیوں کو دیکھ کر ایک بھولی بسری کہانی ذہن میں کلبلانے لگی۔ عنوان ٹھہرا۔ تھرڈ کلاس۔

میں ریلوے سٹیشن میں داخل ہوا اور سیدھا ٹکٹ کاؤنٹر کا رخ کیا۔ وہاں موجود شخص سے مطلوبہ ٹرین کی ٹکٹ مانگی۔ اس سے نارمل لہجے میں پوچھا۔ کس کلاس کی۔ میرا چہرہ سرخ ہونے لگا۔ کیا مطلب، ٹرین ٹکٹ میں کلاس کہاں سے آگئی؟ میرے بدلتے تیور پر اس نے دھیان دیے بغیر بتایا۔ جناب! میں پوچھ رہا ہوں، فرسٹ، سکینڈ یا تھرڈ کلاس کس کی ٹکٹ دوں؟ یہ سن کر مجھے غصہ آگیا۔ لہجے کو سخت بناتے ہوئے بولتا چلا گیا۔ کیا انسان کو بھی درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے؟ کیا آپ کو علم نہیں، ہمارے نبی ؐکا حکم ہے، کسی گورے کو کالے، کسی عربی کو عجمی پر برتری نہیں۔ اسی خطے میں پیدا ہونے والا بدھا بھی کہتا ہے۔ جب ماؤں نے ایک سی تکلیف سے گزر کر بچہ جنا تو پھر دوئی کیسی۔ شاید میں ابھی اور بولتا۔ کاؤنٹر پر بیٹھے شخص نے غور سے مجھے دیکھا اور چپ چاپ ایک ٹکٹ کاٹ کر بقایا رقم کے ساتھ مجھے تھما دیا۔ میں نے ٹکٹ دیکھی، اس پر لکھا تھا فرسٹ کلاس۔

ٹکٹ کاؤنٹر کی عقل کا ماتم کرتا ہوا پلیٹ فارم پر داخل ہوا اور مطلوبہ ڈبے کی تلاش شروع کر دی۔ فرسٹ کلاس کی بوگی جلد ہی مل گئی۔ اندر جھانک کر دیکھا تو صوفہ نما آرام دہ سیٹیں تھیں۔ ایئر کنڈیشنر کی ٹھنڈک نے باہر کی گرمی کا زور دیا تھا۔ سفر میں وقت گزارنے کے لیے بھی کئی لوازمات دستیاب تھے۔ وہاں بیٹھے بیٹھے خیال آگیا۔ ٹرین چلنے میں ابھی وقت ہے۔ کیوں نا سکینڈ کلاس اور تھرڈ کلاس کی بوگیاں جا کر دیکھی جائیں۔ میں نے ٹھنڈا ٹھار ماحول چھوڑا اور دوبارہ پلیٹ فارم پر گرمی کھانے اتر گیا۔

سکینڈ کلاس کا ڈبہ دیکھا جسے اب نیا نام دے دیا گیا تھا۔ وہاں کرسیاں اتنی آرام دہ نہیں تھیں جتنی فرسٹ کلاس میں تھیں۔اے سی بھی ٹھنڈی ہوا دے رہا تھا۔ تفریح کی سہولتیں نظر نہ آئیں۔ سوچا مسافر کو سفر درکار ہے تفریح ملے نہ ملے کیا فرق پڑتا ہے؟

اب باری تھی ان بوگیوں کی۔ جن پرنام تو اکانومی کا لکھا ہوا تھا لیکن انہیں انتظامیہ آج بھی تھرڈ کلاس ہی سمجھتی ہے۔ ان بوگیوں سے اے سی غائب تھاالبتہ پنکھے اپنی بساط کے مطابق گرمی بھگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ نشستیں بھی اتنی آرام دہ نہیں تھیں۔ رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈبے میں موجود مسافروں کو پسینہ بھی آرہا تھا۔ تینوں درجوں کی حالت دیکھ کر میری پریشانی کم ہونے لگی۔ پہلی بات تینوں جگہ انسان ہی سفر کر رہے تھے۔ آج کسی سیاہ فام روزا پارکس کو کسی سفید فام کے سیٹ چھوڑنے کو نہیں کہا جارہا تھا۔وہی روزا پارکس جس نے سیاہ فام کو سفید فام سے کمتر ماننے سے انکار کردیا تھا۔ جیل چلی گئی لیکن سیاہ فام قوم کو جگا دیا۔خیال سے حال میں آکر لگا کوئی زیادہ فرق نہیں۔کچھ مسافروں کا سفر زیادہ آرام دہ تھا، کچھ کا کم ،باقیوں کا بہت کم لیکن بظاہر سفر تو ایک ہی لائن میں کر رہے تھے۔ ٹرین کا انجن بھی ایک ہی تھا جو سب کو ایک ہی منزل کی جانب کھینچ رہا تھا۔ اتنے میں ٹرین کی روانگی کا ہارن بج اٹھا اور میں تیز قدم اٹھاتا ہوا فرسٹ کلاس میں اپنی سیٹ پر جا بیٹھا۔

سفر میں دوپہر سے شام ہوگئی۔ آبادیاں پیچھے رہ گئیں اور پہاڑی سلسلہ شروع ہو گیا۔ اچانک ٹرین جھٹکے کھاتے ہوئے رکنے لگی۔ ذہن میں الٹے سیدھے خیال آنے لگے کیا ڈاکو پڑ گئے؟ ٹرین رکتے ہی ایک اہلکار نے اندر آکر بتایا۔ انجن میں خرابی آئی ہے مگر آپ فکر نہ کریں۔ اپنے ڈبے میں بیٹھے رہیں۔ ہمیں تسلی اور ویٹر کو ریفریشمنٹ دینے کا کہہ کر وہ اہلکار چلا گیا۔ ابھی بوگی میں بیٹھے لوگوں نے تازہ ترین صورتحال پر اپنا اپنا تبصرہ دینا شروع ہی کیا تھا کہ ٹرین کے تمام ڈبوں میں لگے سپیکرز سے ایک اعلان نشر ہونے لگا۔ جس نے مجھے ششدر کر دیا اور کلاس سسٹم بھی سمجھا دیا کہ معاشرے میں کس کلاس کے حصے میں کیا ذمہ داری آتی ہے۔

اعلان میں تمام مسافروں کو انجن کی خرابی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا۔ فی الحال نیا انجن پہنچنے کی کوئی امید نہیں۔ ہمارا سٹاف انجن کی خرابی دور کرنے میں مصروف ہے۔ تب تک تمام مسافر نئی ہدایات پر عمل کریں۔ فرسٹ کلاس کے مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھے رہیں۔ سکینڈ کلاس والے ڈبوں سے اتر جائیں اور ٹرین کے ساتھ پیدل چلیں اور تھرڈ کلاس والے نیچے اتر کر ٹرین کو دھکا لگائیں۔ شاید ٹرین چل ہی پڑے۔ اعلان ختم ہوا۔

اس کہانی کی جزئیات کو چھوڑیں اور اپنے اردگرد نظر دوڑائیں۔ ذرا سوچیں ہم کس کیٹیگری میں کھڑے ہیں۔ ذرا رائج نظام کا بھی جائزہ لے لیں۔ کہیں گھر بار سے اقتدار تک سب دھکا سٹارٹ تو نہیں۔ مطلب تھرڈ کلاس۔

جبر کا موسم کب بدلے گا

ہم بدلیں گے، تب بدلے گا


ای پیپر