سری لنکا دھماکے
29 اپریل 2019 2019-04-29

سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہونے والے آٹھ خود کش حملوں میں اب تک 321 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جبکہ 500 سے زائد زخمی ہیں۔ خود کش حملہ آوروں نے دارالحکومت کولمبو اور اس ک گرد گرد کے علاقوں میں گرجا گھروں اور فائیو سٹار ہوٹلوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب عیسائی کمیونٹی کے لوگ خصوصی ایسٹر دعائوں کے لیے وہاں جمع ہو رہے تھے۔ اس طرح ہوٹلوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب غیر ملکی سیاح اور مقامی افراد ناشتے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 45 بچے اور 36 غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں۔

ان خود کش حملوں کا نشانہ گرجا گھروں میں عیسائی کمیونٹی تھی جبکہ ہوٹلوں میں ان کا نشانہ غیر ملکی سیاح تھے۔

سری لنکا کی تاریخ کے ان بد ترین حملوں کی ذمہ داری انتہا پسند مسلح جنگجو تنظیم ( ISIS ) اسلامک سٹیٹ یا داعش نے قبول کی ہے۔ ان کے مطابق یہ حملے ان کے جنگجوئوں نے کیے ہیں۔ جبکہ سری لنکا کی حکومت کے مطابق دو مقامی انتہا پسند اسلامی گروپوں نے بین الاقوامی تنظیم کے تعاون سے یہ بزدلانہ اور بربریت پر مبنی حملے کیے ہیں۔ سری لنکا کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حملے مارچ میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ پر ہونے والے حملے کا بدلہ لینے کے لیے کیے گئے ہیں۔ سری لنکا کے جونیئر وزیر دفاع نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ ان حملوں کا مقصد بظاہر یہی لگتا ہے کہ کرائسٹ چرچ حملوں کا بدلہ لینے کے لیے کیے گئے ہیں اور اس میں دو مقامی انتہا پسند گروپ ملوث ہیں۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ سری لنکا میں حملوں کی منصوبہ بندی غالباً اس لی کی گئی کیونکہ سر ی لنکا ایک نرم ہدف تھا ۔ سری لنکا میں تین دہائیوں تک خانہ جنگی بھی جاری رہی۔ وہاں مختلف طرح کا تشدد بھی جاری رہا مگر سری لنکا میں اسلامی شدت پسندوں کی طرف سے حملوں اور دہشت گردی کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ماضی میں مسلمان آبادی کبھی تامل ٹائیگرز اور کبھی بدھ انتہا پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہے ۔ مگر سری لنکا کے مسلمان کبھی بھی اس طرح حملوں میں ملوث نہیں پائے گئے۔ اس لحاظ سے یہ تشویش ناک ہے کہ داعش جیسی تشدد ور انتہا پسند تنظیم سری لنکا میں اپنا وجود قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ وہ اپنی روایت کے مطابق درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نو جوانوں کو متاثر کر رہی ہے۔ دو فائیو سٹار ہوٹلوں پر خود کش حملہ کرنے والے دونوں خود کش حملہ آور حقیقی بھائی تھے اور سری لنکا کی ایک دولت مند خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

عمومی تاثر کے برعکس داعش مذہبی مدرسوں کے طالب علموں کی بجائے پڑھے لکھے اور درمیانے طبقے کے نو جوان لڑکوں اور لڑکیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ تمام 8 خود کش حملہ آور پڑھے لکھے اور دولت مند گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ خود کش حملہ آوروں میں ایک خاتون بھی شامل تھی۔

اگر تو یہ حملے بدلہ لینے کے لیے کیے گئے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کا بدلہ ہے جس میں 45 معصوم بچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ 45 بچوں کو ہلاک کر کے اسلام کی کونسی خدمت کی گئی۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کو اپنی عبادت میں مشغول تھے ان کو نشانہ بنا کر کیا مقصد حاصل کیا گیا ۔ ان بچوں اور عورتوں اور دیگر افراد کی کسی سے کوئی دشمنی نہ تھی۔ مگر وہ اندھی نفرت اور شدت پسندی پر مبنی انتہا پسندانہ سوچ کا نشانہ بن گئے۔ کرائسٹ چرچ میں ہونے والے حملے کسی سری لنکا کے عیسائی نے تو نہیں کیے تھے۔ مگر پھر بھی ان کو نشانہ بنایا گیا ۔ ان حملوں کے بعد سری لنکا کی حکومت نے بظاہر تو غلط معلومات اور افواہوں کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کر دی ہے۔ جس کے بعد معلومات کا حصول ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ حکو مت نے لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے کرفیو بھی لگا دیا ہے جبکہ صدر نے ملک میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت پولیس اور فوج کو بغیر وارنٹ اور عدالتی حکم کے بغیر گرفتاریوں اور تحقیقات کے لا محدود اختیارات حاسل ہو گئے ہیں ۔ پورے ملک میں مشتبہ افراد اور گروہوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور اب تک 76 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔ صورت حال ابھی تک تنائو کا شکار ہے۔ جس کے باعث فوج سڑکوں پر موجود ہے۔

ان حملوں نے 3 چیزوں کو واضح کر دیا ہے ، پہلی بحث کو ایک طرف رکھیے کہ سری لنکا میںداعش موجود ہے یا نہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ مقامی آبادی میں مسلمان جنگجو عناصر موجود ہیں۔ سری لنکا میں ہونے والے یہ حملے کسی نے باہر سے آ کر نہیں کیے بلکہ اس میں مقامی نو جوان ملوث ہیں۔ ان کی تعداد ہو سکتا ہے کہ بہت کم ہو مگر وہ موجود ہیں اور انتہا پسندانہ جنگجو خیالات اور سوچ چند درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے نو جوانوں کو متاثر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔یہ صورت حال ایک دن میں پیدا نہیں ہوئی بلکہ سری لنکا کی مختلف حکومتوں کی پالیسیوں کا براہ راست نتیجہ ہے ۔ سری لنکا کی مقامی مسلمان آبادی میں تنہائی بڑھی ہے اور اس کے اندر احساس محرومی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اگر ان حملوں کے بعد مسلمان آبادی کے خلاف حملے ہوئے یا نہیں ریاست کی طرف کارروائیوں کا سامنا ہوا تو اس سے حالات مزید خراب ہوں گے اور مسلمان آبادی کی تنہائی میں اضافہ ہو گا ۔ ایسے اقدامات سے پرہیز کرنا ہو گا جو کہ نو جوان مسلمانوں کو انتہا پسند خیالات کی طرف دھکیلیں۔

دوسری۔ گزشتہ ایک دہائی میں سری لنکا میں بدھ انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے ۔ سابق صدر کے دور میں بدھ مت انتہا پسندی کو فروغ دیا گیا ۔ ان کے دور میں ہی بدھو بالاسینا ( BBS ) جیسی انتہا پسند تنظیمیں وجود میں آئیں۔ اس تنظیم نے مسلمان آبادی کو نشانہ بنایا۔ انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندانہ سوچ اور خیالات رکھنے بدھ راہبوں کی حاصلہ افزائی کی گئی۔ بدھ اانتہا پسندی کے نظریے تامل آبادی کے خلاف جذبات کو ابھارا گیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں مختلف کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ ہوا اور نفرت کی فضاء قائم ہوئی۔

سری لنکا کی موجودہ اور اس سے پہلے کی حکومت اس انتہا پسندی اور نفرت کے پھیلائو کو روکنے میں ناکام رہی۔ موجودہ صورت حال انہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ 2009 ء میں شامل ٹائیگرز کی شکست اور خانہ جنگی کے بعد سے بظاہر تو سماج میں خاموشی اور امن تھا مگر اندر ہی اندر غصے اور نفرت کا لاوا پک رہا تھا۔ اس عمل کو روکنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ تیسری: اگر انڈیا کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی ہوئی تو ان حملوں اور جانی نقصان کو روکا جا سکتا تھا مگر صدر اور وزیر اعظم کے درمیان جاری طاقت کی لڑائی کے نتیجے میں ایسا نہیں ہو سکا۔ سری لنکا کی پولیس کی جانب سے بھی ان ممکنہ حملوں کی اطلاع انٹیلی جنس اداروں کو دی گئی مگر بر وقت کارروائی نہ کی گئی۔ صدر اور وزیر اعظم کے درمیان عدم اعتماد اور عدم تعاون کی وسیع خلیج حائل ہے جس کی وجہ سے حکومت کے دونوں حصوں کے درمیان قریبی تعاون کا فقدان ہے۔

اس وقت سری لنکا ہی یہ تاثر موجود ہے کہ انتہا پسند قوتیں مسلمان کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ شمالی سری لنکا میں تامل اور مسلمان آبادی کے درمیان تنائو بڑھ سکتا ہے۔ انتہا پسند قوتیں اس صورت حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ جنہیں روکنا ضروری ہے۔ اس وقت سری لنکا کو اعتماد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ نہ کہ نفرت اور تقسیم کی۔


ای پیپر