موجودہ حکومتی نظام اور تیڈی موچی
29 اپریل 2019 2019-04-29

پرویز مشرف کی آمریت پورے جوش اور جوبن پر تھی۔ تمام صوبوں میں گورنر راج قائم ہو چکا تھا۔ شریف برادران سعودی عرب جا چکے تھے۔ پرویز مشرف نے نیا بلدیاتی نظام متعارف کروا کے بلدیاتی الیکشن کا اعلان کر دیا تھا۔ ہم بھی اپنی تعلیم مکمل کر چکے تھے بلکہ لیکچرار شپ کے تحریری امتحان کے لیے اپلائی کر چکے تھے۔ یونہی الیکشن کا اعلان ہوا تو ہم نے پوری طرح ٹھان لی کہ اس بار ہم بھی پورے جوش و جذبہ، آہنگ اور تگ و دو سے کسی سیاسی نمائندے کی حمایت کریںگے اور اس سیاسی نمائندے کو جتوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے۔ جب یونین کونسل کے ناظم اور نائب ناظم کی سلیکشن ہو گئی تو ہر گائوں نے جنرل کونسلر اور کسان کونسلر چننے تھے۔ جب جنرل کونسلر بھی الیکشن کے لیے منتخب ہو گئے تو کسان کونسلرز کی باری آ گئی۔ ہم نو جوانوں نے متفقہ فیصلہ کیا کہ کسان کونسلر کوئی نوجوان ہونا چاہیے۔ کانی سوچ و بچار کے بعد طے پایا کہ کیوں نا تیڈی موچی کو کسان کونسلر منتخب کر لیا جائے۔ ہم نے تیڈی موچی سے بات کی۔ پہلے پہل تو اس نے ہچکچاہٹ محسوس کی ، مگر جلد ہی رضا مند ہو گیا ۔ رضا مند کیوں نہ ہوتا۔ ہم نے اسے سیاسی خوابوں کی دنیا میں دھکیل کر واپسی کا دروازہ بند کر دیا تھا ۔ ایک من چلے نے تو اسے آئندہ الیکشن میں ایم پی اے تک کا سہانا سپنا بھی دکھا دیا۔ خیر قصہ کوتاہ! ہم نے تیڈی موچی کے کاغذات نامزدگی برائے کسان کونسلر جمع کروا دیے۔ کاغذات نامزدگی جمع کرواتے ہی ہم نے تیڈی موچی کی الیکشن کمپین بھی شروع کر دی۔ تیڈی موچی صبح سویرے اٹھتا اپنے اڈے پر جھاڑ دینا، پانی کا چھڑکائو کرتا، آس پاس کی جگہ کی صفائی کرتا۔ نہا دھو کر ، ناشتہ کر کے حقے کے ساتھ اپنی ’’تھڑی‘‘ پر براجمان ہو جاتا۔ حقے کے شوقین بزرگ آنا شروع ہو جاتے۔ سیاست پر گفتگو ہوتی اور ساتھ ساتھ جوتوں کو ’’تروپے‘‘ بھی لگائے جاتے۔ شام کو اڈا سمیٹا جاتا اور رات کے کھانے کے بعد الیکشن کمپین شروع ہو جاتی۔ کمپین بڑے جوش اور جذبے کے حامل ہوتی۔ آگے آگے تیڈی موچی اور پیچھے پیچھے اس کا قافلہ ہوتا۔ اس لمحے تیڈی موچی کی خوشی دیدنی ہوتی تھی۔ جب 2001 ء کے وہ پہلے بلدیاتی الیکشن کی تاریخ کا اعلان طے ہوا تو مجھے وہ جون کا مہینہ آج بھی شدت سے یاد آتا ہے۔ آخر الیکشن کا وہ دن بھی آ گیا جس کا خاص طور پر ہمیں شدت سے انتظار تھا ۔ شام کو گنتی ہوئی تو تیڈی موچی واقع ہی جیت گیا۔ تیڈی موچی کی جیت کا وہ سماں قلم کی طاقت سے باہر ہے۔ تیڈی موچی واقع ہی کسان کونسلر کے لیے عوام کی طاقت اور ووٹوں سے منتخب کیا جا چکا تھا ۔ تیڈی موچی نے ایک بہت بڑے حریف کو شکست دی تھی۔ بات یونین کونسل سے ضلع کونسل اور تحصیل کونسل تک پہنچ گئی۔ ضلعی ناظم و نائب ناظم، تحصیل ناظم اور تحصیل نائب منتخب ہو گئے۔ تیڈی موچی کے ووٹ کا استعمال ہو گیا۔ چار دن تیڈی چومی کی بلے بلے رہی۔ وقت اپنی رفتار کے ساتھ گزرنے لگا۔ لوگ اپنے کام دھندوں میں مصروف ہو گئے۔ تیڈی موچی جس کی گائوں میں نہ کوئی زمین تھی اور نہ ہی کوئی جائیداد تھی۔ کل اثاثہ جوتوں کی مرمت سے آنے والی آمدن تھی۔ وہ بھی اس کے کسان کونسلر بننے کے بعد بند ہو گئی۔ اب وہ کسان کونسلر تھا۔ اسے جوتے مرمت کرتے ہوئے شرم محسوس ہوتی تھی۔ کبھی کبھار کوئی ماڑا غریب اسے پرے پنچائت میں بلا لیتا۔ اس سے اس کی تھوڑی بہت عزت ’’سادات‘‘ رہ جاتی۔ گھر میں فاقوں کی نوبت آ گئی۔ ایک دن تیڈی موچی سویرے سویرے گھر سے نکلا، ٹرین پکڑی اور کراچی جا کر سانس لیا۔ محنت مزدوری شروع کی۔ چار پیسے جوڑ کر گھر والی کو بھیجنے شروع کیے اور چولہا بحال ہوا۔ اس کے بعد تیڈی موچی نے الیکشن تو کیا سیاست سے ہی تو بہ کرلی۔ یہاں تک خزانے کے خالی ہونے کا سبب ہے تو کبھی بھی کسی حکومت کو خزانہ بھرا ہوا نہیں ملا۔ ہر حکومت اپنے طریقوں سے خزانے کو بھرتی رہی ہے۔ خواہ آئی ایم ایف کی منت سماجت کی ، خواہ کسی اور ملک کے پاس کشکول لے کر جانا پڑے۔ یہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے تو موجودہ حکومت نے بے بہا نعرے لگائے۔ عوام کی حمایت کی۔ غربت، مہنگائی، کرپشن ، بجلی گیس حتیٰ کہ ہر ایشو پر بات کی مگر پرابلم یہ ہی کہ اس حکومت نے الیکشن لڑنے سے پہلے کوئی پیپر ورک نہیں کیا ( جس طرح تیڈی موچی کی مثال آپ کے سامنے ہے) زمینی حقائق کو مد نظر نہیں رکھا۔ بیورو کریسی کے مزاج پر نظر نہیں ڈالی۔ اگر آنے والے تمام مسائل پر نظر ثانی کی ہوتی تو آج ان مشکلات کا سامنا نہ ہوتا ۔ حالانکہ عمران خان نے الیکشن جیتنے سے پہلے عندیہ دیا تھا کہ اسد عمر ہمارا وزیر خزانہ ہو گا ۔ بندہ پوچھے کہ اسد عمر کے پاس کونسی ایسی گیڈر سنگھی تھی جو عمران خان کے پہلے نظر آ گئی تھی کہ یہ بہترین وزیر خزانہ ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنے والی حکومت پیسہ جنریٹ کرنے کے لیے مہنگائی کرتی ہے۔ مگر اس ریشو کے ساتھ نہیں، جس ریشو کے ساتھ اب ہوئی ہے ۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ ہم نے میڈیسن کی قیمتیں نہیں بڑھائی ہیں مگر جس ریشو کے ساتھ ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ کسی سابق حکومت میں ایسا نہیں ہوا ہے جس تواتر اور تسلسل کے ساتھ بجلی، گیس اور پٹرول میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ چلیں اس تمام مسائل کو پس پردہ ڈال دیتے ہیں۔ حکومت کے پاس پیسہ نہیں تھا اور حکومت آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہتی تھی۔ اس لیے ایسا کرنا پڑا مگر باقی مسائل کے حل کا ذمہ دار کون ہے؟ لاقانونیت، تھانہ کلچر، رشوت ستانی، نظم و ضبط کا فقدان، چور بازاری، ملاوٹ،اعلیٰ حکام کی بے نیتی، قتل و غارت، ڈاکہ زنی ، جعل سازی ، معصوم بچیوں کی عصمت دری، ناقص پالیسیاں، نا انصافی، اداروں کی تباہی اور ایسے ہی لاتعداد مسائل جو معاشرے کے لیے ناسور بن چکے ہیں۔ ان کا ذمہ دار کون ہے؟ آٹھ ماہ میں کونسا مسئلہ حل ہوا ہے؟ کیا کسی ٹیکس نا دہندہ کو پکڑا ہو تو اس سے ٹیکس لیا گیا ہو گا اور خزانے کو فائدہ ہو ا ہو؟ کیا کسی منی لانڈر کو پکڑ کر پیسہ واپس لیا ہو؟ کیا کسی کرپٹ کو سزا دی ہو؟ کیا کسی عدالت کا احتساب کیا ہو یا پھر کسی نچلی سطح پر لاء اینڈ آرڈر کی پابندی کروائی ہو؟ کیا رشوت اور کرپشن ہی کی جڑ کو کاٹا ہو؟ کیا بلدیہ کو اس کی ذمہ داری کا احساس دلوایا ہو؟ کیا کراچی کے کسی واقعہ کا نوٹس لیا ہو؟ کیا نشوہ جیسے پھول کے مرجھانے کی خبر لی ہو؟ کیا واقعہ ساہیوال کا فیصلہ ہو ا ہو؟ ان تمام امور کا تعلق تو خالی خزانے کے ساتھ نہ تھا۔ ان امور کا تعلق تو آپ کی اچھی ایڈمنسٹریشن اور اچھی ٹیم کے ساتھ ہے۔ وزیر بدلنے یا وزیر اپنے عہدے سے ہٹانے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا … فرق پڑے گا آپ کی حکومت کے ثمرات عوام تک پہنچنے سے… تبدیلی پھر آئے گی۔ اگر آپ ہر ہفتے اپنے وزراء اعلیٰ سے عوامی رپورٹ طلب کریں۔ آپ ڈپٹی کمشنر سے اس کے ضلع کی اور کمشنر سے اس کے ڈویژن کی رپورٹ طلب کریں… آپ کے وزرا ء اعلیٰ اپنے صوبے کے ہر ضلع کے ہر ڈسٹرکٹ افسران سے رپورٹ طلب کریں۔ جزا اور سزا کا عمل جاری کریں… پھر تبدیلی آئے گی۔ عوام کے لیے ، سرمایہ داروں کے لیے ، کسانوں کے لیے ، صنعتکاروں کے لیے ایک حدود اور لمٹ متعین کریں۔ ہر شعبے کا چیک اینڈ بیلنس مقرر کریں۔ تب جا کر تبدیلی ممکن ہوگی۔ میں اب بھی جب تیڈی موچی کو جوتے مرمت کرتے ہوئے دیکھتا ہوں تو پرویز مشرف کا پہلا بلدیاتی الیکشن یاد آ جاتا ہے۔ جس میں اس نے بہت بڑے حریف کو شکست سے دو چار کیا تھا مگر وہ کوئی تبدیلی نہ لا سکا۔ ہاں تیڈی موچی بھی عوام کے ووٹ اور طاقت سے منتخب ہوا تھا اور آپ بھی عوام کی طاقت کے بل بوتے پر بر سر اقتدار آئے ہیں۔ مگر یاد رکھیے کہ عوام کسی سیاست دان کی سگی نہیں ہوتی۔ وہ جب چاہیے کسی بھی حکومت کو چار شانے چت کرا سکتی ہے۔


ای پیپر