ہمیں ڈھونگ اور ڈھونگی پسند ہیں
29 اپریل 2019 2019-04-29

پنجاب کے واسی بہت ہی خوش مزاج اور میلے ٹھیلوں کے شوقین ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب لڑکپن میں گندم کی کٹائی کا موسم آتا تو "باشہ" ا±سے آپ سوانگی یا ڈھونگی کہہ سکتے ہیں کھیتوں میں ہی گندم مانگنے آ جاتا تھا کبھی وہ گرمیوں میں لانگ کوٹ پہن کے آجاتا اور کبھی لانگ شوز اور پھر وہ اپنی اداکاری اور کرتبوں سے سب کو محظوظ کرتا اور آخر میں گندم لیکر چلا جاتا مگر ہم سب لڑکے کافی دنوں تک ا±س کی اداکاری اور فن کو سراہتے رہتے تھے۔ ہمارے لوگوں کو بھی ڈھونگ اور سوانگ پسند ہیں کیونکہ ہم اپنے ڈیروں اور داروں میں بیٹھ کر طلسماتی اور کرشماتی کہانیاں س±نتے آئے ہیں تو ہمیں حقیقت کے قریب چیزیں اچھی نہیں لگتیں۔ ہمیں کڑوی سے کڑوی چیز خوبصورت پیکنگ میں ڈال کر کھلا دیں ہم خوشی خوشی کھا لیں گے مگر ہاں آپ ہمیں بتا کر نہیں کھلا سکتے۔ پچھلے کئی سالوں سے پنجاب کے لوگوں نے ٹی وی اور اخبارات میں سوانگیوں اور ڈھونگیوں کے ڈھونگ دیکھے ہیں جنہوں نے ہمیں وہ وہ کرشماتی اور الف لیلوی کہانیاں س±نائیں جن کا حقیقت سے د±ور د±ور تک تعلق ہی نہیں تھا۔ انگریز سے آزادی تو ہم نے حاصل کر لی مگر بدقسمتی یہ کہ ہم ا±ن کے غلاموں کے نرغے میں پھنس گئے۔ انگریز جن لوگوں کو نواز کر گیا وہی لوگ گھوم پھر کے ملکی نظم ونسق کی باگ ڈور سنبھالتے رہے۔ کیونکہ سیاست میں پیسہ چاہیے لہٰذا غریب آدمی چاہے جتنا مرضی پڑھ لکھ جاتا وہ تو سیاست نہیں کر سکتا تھا پھر مجبورا" ہمیں انہی لوگوں کو برداشت کرنا پڑا جن کو انگریز نواز کر گیا تھا۔ ہمارا معاشرہ ب±ری طرح طبقاتی نظام کا شکار ہے ہمیں گوارا ہی نہیں کہ کوئی کم صاحب ثروت یا ا±ردو میڈیم ٹائپ آدمی پنجاب کے دور افتادہ علاقے کا رہائشی جس کو اربانائزیشن کا پتا نہ ہو وہ ہم پہ حکمرانی کرے۔حالانکہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ گاو¿ںکے لوگ اچھے منیجر اور زیادہ ایکسپوڑر رکھتے ہیں وہ دیہی اور شہری معاشروں کے رموز واوقاف سے زیادہ اچھی طرح واقف ہوتے ہیں مگر ا±ن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کم گو ، باتونی اور ڈھونگی نہیں ہوتے ہیں اور پھر یہ زیادہ سراہے بھی نہیں جاتے۔ یہی مسئلہ ب±زدار صاحب کے ساتھ ہے۔ جس دن پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ کا ہما سردار عثمان احمد خان بزدار کے سر پر بیٹھا ا±س دن انگریزی میڈیم طبقے کو دھچکا لگا کہ کیسے ایک پسماندہ علاقے کا رہنے والا پنجاب کا سرپرست بن گیا۔ مخالفین کے ساتھ ساتھ اپنوں کے ر±وپ میں چ±ھپے بہروپیوں نے تنقید کے نشتر چلانے شروع کر دئیے اور ایک بے بنیاد مقدمہ کی آڑ میں منفی پراپیگنڈہ شروع کر دیا گیا پھر جب ب±زدار صاحب نے حلف ا±ٹھا لیا تو مخالفین نے ایک بار پھر سازشوں اور پراپیگنڈہ کا بازار گرم کر دیا کہ عثمان ب±زدار تو صرف چہرہ ہے حکومت تو علیم خان چلائے گا مگر جب نیب کیس کی بنا پر علیم خان جیل چلا گیا تو پھر ایک نیا شوشہ مارکیٹ میں آگیا کہ پنجاب کی حکومت گورنر اور پرویز الٰہی چلا رہے ہیں ب±زدار صاحب تو محض خانہ پ±ری کے لئے ہیں۔ اور جتنی بھی بیورو کریسی ہے وہ صرف گورنر کے احکامات مانتی ہے یا پھر پرویز الٰہی کے اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ کچھ لوگوں کو عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور کیوں ہضم نہیں ہو رہے،شائد ان کا قصور یہی ہے کہ وہ ہماری طرح ایک عام آدمی ہیں۔ بزدار صاحب کم گو ،ملنسار اور منکسر المزاج انسان ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ ڈھونگ، سوانگ، جھوٹ،فریب والی سیاست کرنا نہیں جانتے جس کی عادت ہمیں کئی دہائیوں سے پڑی ہوئی ہے۔ ب±زدار صاحب ایک نہایت شائستہ اور س±لجھے ہوئے سیاستدان ہیں جس نے پہلے تیل دیکھا پھر تیل کی دھار دیکھی اور ایکشن لیا۔ مخالفین اور اپنوں کے ر±وپ میں جو بہروپیے تھے ا±ن کو بھی اب سمجھ آ گئی ہے کہ ا±نھوں نے ب±زدار صاحب کو ضرورت سے زیادہ ہلکا لے لیا تھا اور اب آہستہ آہستہ وہ اپنی اوقات میں آنا شروع ہوگئے ہیں۔جو لوگ سمجھتے تھے کہ ب±زدار صاحب فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ا±ن کے لئے ب±زدار صاحب کا تجاوزات کے خلاف آپریشن ایک منہ بولتا ثبوت ہے کہ ب±زدار صاحب نے ا±س طاقتور طبقے کے خلاف آپریشن کیا جس کے خلاف شہباز شریف جیسے طاقتور وزیر اعلیٰ کو کبھی ہمت نہ ہوئی تھی۔ بیوروکریسی کسی بھی صوبے کی گورننس میں اہم کردار ادا کرتی ہے یقینا" ب±زدار صاحب کو ا±ن کی طرف سے ٹف ٹائم ملا ہو گا مگر اب ب±زدار صاحب نے بیوروکریسی کے حوالے سے جو اہم تبدیلیاں کی ہیں ا±س کے بعد اچھی خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں کہ محکموں میں کام ہونا شروع ہو گئے ہیں اور ترقیاتی کاموں کی رفتار دوبارہ سے ٹریک پر آ گئی ہے۔ب±زدار صاحب جس طرح پنجاب کے مختلف اضلاع کے ط±وفانی دورے کر رہے ہیں اور وہاں پہ ترقیاتی کاموں کا آغاز کر رہے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنجاب کے سارے معاملات اب ان کے کنٹرول میں ہیں اور اس تاثر کو بھی زائل کر رہے ہیں کہ وہ صرف جنوبی پنجاب کے نہیں پورے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ میری ذاتی رائے ہے کہ تبدیلی ایک پراسیس کا نام ہے جو راتوں رات وقوع پذیر نہیں ہوگی ب±زدار صاحب کی جماعت اور ا±ن کے حمایتیوں کو ک±ھل کر ب±زدار صاحب کا ساتھ دینا چاہیے اور اس پراپیگنڈہ کا موثر جواب بھی دینا چاہیے جو ان کے مخالفین کر رہے ہیں کہ ب±زدار صاحب آج گئے یا کل گئے دوسرا اب میرا مشورہ ہے کہ ب±زدار صاحب کو فرنٹ ف±ٹ پر آئیں اور ترجمانوں کے بجائے خود عوام کو اعتماد میں لینا چاہیے اور شہباز شریف کی طرح میڈیا کے کسی ایک گروہ کے ہاتھوں یرغمال بننے کے بجائے سب کو ساتھ لیکر چلنا چاہیے


ای پیپر