چا رو ں صو بو ں کی ضر و رت گڈ گورننس
29 اپریل 2018

گڈ گورننس کی با ت کر نے سے پہلے صد رِ مملکت ممنو ن حسین کے اس بیا ن کا جا ئز ہ لیتے ہیں جس میں انہو ں نے قومی ادا رو ں میں ہم آ ہنگی کی ضر و ر ت پر ز ور دیا ہے۔ چنا نچہ اگر ہما رے چا روں صو بے گڈ گورننس کے مسا ئل کا شکا ر ہیں تو اس کا کھرا قو می ادا رو ں میں مو جو د غیر ہم آہنگی پر ہی جا کر د م تو ڑ تا ہے۔ تا ہم سو ا ل تو یہ ہے کہ قو می ادا ر و ں میں ہم آہنگی قائم کر نا بنیا دی طو ر پر کس کی ذمہ دا ری ہے؟ صا ف ظا ہر ہے یہ حکو متِ و قت کی ذ مہ دار ی ہو ا کر تی ہے۔ مگر کیا ہمار ی مو جو دہ حکو مت ا پنی اس ذ مہ دا ر ی کو پو را کر ر ہی ہے؟ اس کے جو ا ب میں و ز یر ا عظم شا ہد خا قا ن عبا سی کے اس بیا ن سے واسطہ پڑتا ہے جس میں انہو ں نے کہا ہے کہ سرکاری محکموں میں نیب کی مداخلت سے حکومت تنگ آچکی ہے۔ مطلب یہ کہ قو می ادارو ں کو من مانی کا رر وائیا ں کر نے کی جن میں کر پشن سرِفہر ست ہے، کھلی چھٹی ہو نی چا ہیے۔ اس کے سا تھ ساتھ وزیراعظم نے نیب کو قو می ادا رو ں کی نا کا می کا ذمہ دا ر ٹھہر ا تے ہو ئے کہا ہے کہ نیب کی مسلسل مد ا خلت کی بناء پر قو می ادارے جمود کا شکا ر ہو چکے ہیں۔ غو ر کیا جا ئے تو حکمرانوں کی جانب سے نیب کی مداخلت کی شکایت پہلی بار نہیں کی گئی۔ پچھلے کچھ عرصے سے یہ شکایت تسلسل سے کی جارہی ہے۔ نیب تو آئین اور قانون کے تحت اپنا کام کر رہا ہے۔ اس نے تو طے شدہ پیرا میٹرز کے تحت کام کرنا ہے۔ یہ حکمران ہیں جنہیں اپنے معاملات اور گورننس ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی کو کوئی معاملہ نیب میں لے جانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہر محکمے، ہر ادارے اور ہر شعبے میں کرپشن کے سراغ ملتے ہیں۔ گڈ گورننس ہو تو ظاہر ہے کہ نیب یا کسی عدالت کو حکومتی معاملات میں مداخلت کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ گڈ گورننس ہر ملک اور معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر کوئی معاشرہ نہ تو ترقی کرسکتا ہے اور نہ ہی اجتماعی شعور کے ارتقا کی منزلیں طے کرسکتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں اس اہم ترین معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ یوں تو تمام صوبائی حکومتوں کی کارکردگی خوش کن نہیں، لیکن پنجاب کا ذکر سر فہر ست اس لیے آ تا ہے کہ اچھے نظم و نسق اور بہتر گورننس کے سب سے بلند بانگ دعوے اسی کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ اور اب تو پنجا ب کے وز یرِ ا علیٰ میا ں شہبا ز شر یف نے صو بہ سند ھ کے شہر کر ا چی کے با ر ے میں بیا ن دیا ہے کہ اگر مو قع ملا تو کر ا چی کو پا کستا ن کا نیو یا ر ک بنا دیں گے۔ بے شک ان کی نیت پہ شک کر نا منا سب با ت نہ ہوگی۔ تا ہم یہا ں یہ کہنا بھی ضر و ری ہے کہ اس قد ر بڑا د عویٰ کر نے سے پہلے زمینی حقا ئق کو ضر و ر مدِنظر ر کھنا چاہیے۔
صوبہ سند ھ کی بد حالی کا تو یہ عا لم ہے کہ وہا ں گڈ گورننس تو کیا گورننس نا م تک کی کو ئی شے نظر نہیں آ تی۔ اس کا ذکر میں اپنے پچھلے ایک کا لم میں کر چکا ہو ں ۔ بلو چستا ن کی با ت کی جا ئے تو وہا ں کے مو جو د ہ حا لا ت و و اقعا ت صحا فیو ں کی پہنچ سے بہت آگے کی با ت ہو چکے ہیں۔ صو بہ سر حد کے حو ا لے سے عر ض ہے کہ و ہا ں عمر ان خا ن دعو ے تو بہت بلند با نگ کرتے ہیں مگر د ہا ں کی گورننس کے با رے میں جو ابز ر ویشن چیف جسٹس آ ف سپر یم کو ر ٹ آ ف پا کستا ن نثا ر ثا قب نے دی ہے ، وہ حتمی حیثیت رکھتی ہے۔ چیف صا حب کا کہنا تھا کہ گورننس سے عوا م کو جا ئز شکا یا ت ہیں جو برسہا بر س سے چلی آ ر ہی ہیں۔
اب اگر مجمو عی طو ر پر پو رے ملک کی با ت کی جا ئے تو ہم د یکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں حکومتیں اپنی تمام تر توجہ انفراسٹرکچر پر مرکوز رکھتی ہیں۔ حکومتیں جو کام کرتی ہیں ان کی فہرست ختم نہ ہونے والی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرنے کے باوجود وہ نیک نامی کیوں حاصل نہیں کر پاتیں؟ اس لیے کہ وہ نظم و نسق چلانے، اچھی مینجمنٹ اور گورننس کی بنیادی ضر و ریا ت تک سے بھی واقف نہیں ہوتیں۔ آج ہم جنہیں ترقی یافتہ ممالک قرار دیتے ہیں، وہ اس لیے ترقی یافتہ ہیں کہ انہوں نے بیسویں صدی کے آغاز میں ہی یہ ادراک کرلیا تھا کہ انفراسٹرکچر اور ہارڈویئر تو آسانی سے بنایا جاسکتا ہے لیکن اصل چیلنج ان سے بہترین نتائج اخذ کرنا ہے۔ افسوس کہ یہی وہ ہدف ہے جسے حاصل کرنے میں ہماری حکومتیں بار بار بری طرح ناکام ہورہی ہیں۔ وہ اس لیے کہ بہترین نتائج کے لیے ہماری حکومتیں ضروری نظام تشکیل نہیں دیتیں، نہ ہی اس حوالے سے بنائے گئے قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جاتا ہے۔ کوئی بھی نظام یا کوئی بھی انفراسٹرکچر اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب اسے ایک جامع سسٹم کے تابع چلایا جائے۔ ہما رے منتظمین کو بھی معلوم نہیں ہوتا ہے کہ آج کتنے اساتذہ سرکاری سکولوں میں حاضر ہوئے، کتنے کیا پڑھارہے ہیں، کتنے ہسپتالوں میں کتنے ڈاکٹر اور کون کون سے شعبہ میں موجود ہیں، کون وقت پر آیا اور کون دیر سے۔ کون جلدی چلا گیا، کس نے کتنے اور کون کون سے امراض والے مریضوں کا کیا کیا علاج کیا، کون سی ادویہ دیں، کس ہسپتال یا ڈسپنسری میں کون سی دوا موجود ہے، کون سی کم ہے، کو ن سا فلٹریشن پلانٹ خراب ہے۔ کون سی سڑک پر کس جگہ مرمت ہونا ہے، شہر میں کتنے کیمرے کام کر رہے ہیں اور کتنے خراب، کب سے خراب ہیں۔ انہیں ٹھیک کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور جس نے ٹھیک کرنے ہیں، اس نے ٹھیک کیوں نہیں کیے۔ اس قسم کی تمام اطلاعات جب ایک سسٹم منظم طریقے سے مرتب اور محفوظ کرے تو اس سے جڑے ہوئے دیگر سسٹم ان معلومات کی بنیاد پر ضروری اقدامات فوری طور پر یقینی بنائیں گے۔ اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ بچوں کی تعداد کے مطابق سکول نہیں ہیں۔ جہاں ہسپتال میں وارڈ ہونے چاہئیں تھے وہاں مویشیوں کے باڑے ہیں، جہاں سے دریا کے پشتے بنائے جانے تھے وہاں ہمارے بھائی ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنا کر پلاٹ بیچ چکے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کا مناسب نظام نہیں ہے۔ کیا یہ گڈ گورننس ہے کہ آپ اربوں روپے ادھار لے کر ہسپتال بنائیں جو امراض کے علاج کی سہولت فراہم نہ کرسکیں، سکول بنائیں جو تعلیم فراہم نہ کریں، سڑکیں اور پل مرمت کا انتظار کرتے رہیں۔ ہم اب 21 ویں صدی میں رہ رہے ہیں لیکن سوچ اٹھارہویں صدی کی اودھ ریاست کی سی ہے۔ خدا کے لیے بہتر نظام تشکیل دیں تاکہ عوام کے مسائل حل ہوسکیں اور نیب جیسا ادارہ بدعنوانی کے مقدمات سے بھرا پڑا نہ ہو، جن کی چھان بین کے لیے جب اس ادارے کی طرف سے معلومات طلب کی جاتی ہیں تو حکمران شکوہ کرتے ہیں کہ نیب کی مداخلت کی وجہ سے حکومتی ادارے مفلوج ہوچکے ہیں۔ در ا صل اس ملک کے نظا مِ حکو مت کو ا قربا ء پر ور ی نے یر غما ل بنا رکھا ہے۔ا قر با ء پروری کے جھمیلوں سے نکلے بنا یہاں گڈ گورننس کی تو قع ر کھنا بے کا ر کی با ت ہے۔


ای پیپر