بجٹ کے بعد
29 اپریل 2018 2018-04-29

اقتصادی سروے کی سا لانہ رپورٹ سامنے ہے اور وفاقی میزانیہ برائے 2018-19ء کی تجاویزبھی۔ بجٹ تجاویزکو باقاعدہ طور پر منظوری کیلئے وقت لگے گا۔تقریباً دو ہفتے۔اس دوران پلوں کے نیچے سے شوریدہ پانیوں کے کتنے ریلے گزر جائیں گے۔کوئی نہیں جانتا۔ دارالحکومت کے باخبر حلقے سر گوشیوں میں بہت کچھ بتاتے ہیں۔کچھ حقیقت کچھ پراپیگنڈا،کچھ بغرض برین واشنگ اور جی ہاں کچھ ڈراوے کیلئے۔بتایا جا رہا ہے کہ احتیاط کی جائے۔کچھ حدود قیود ہیں جو طے کر دی گئی ہیں۔پریشان نہ ہوا۔اس خاکسار کی ہر گز نہیں۔بندہ مزدور کی کیا اوقات۔صاحبان اقتدار و اختیار کو معلوم ہے۔ تلاش رزق میں مبتلا ہم ایسوں کا شماربے ضرر مخلوق میں ہوتا ہے۔اب وہ حدودوقیود کیا ہیں کسی کو معلوم نہیں۔البتہ بتا دیا گیا ہے کہ حدود کراس کرنے والے اہل دانش و صحافت کیلئے لیول ’’زیروٹالرنس‘‘ہے۔لہٰذا جو لکھناور بولناہے اپنی ہمت۔اپنے بھروسے پر۔اب وہ باخبر حلقے جن کے چہرے پر بظاہر تو دوستی کا نقاب ہوتا ہے۔مشفقانہ لہجے میں با اندازنصیحت بتاتے ہیں۔ دیکھو میاں بڑے بڑے گروپ لم لیٹ ہو گئے۔یک طرفہ شرائط پر صلح ہو گئی۔ تو ڈیلی اجرت پر کام کرنے والوں کو کون پوچھتا ہے۔بڑے بڑے ابلاغی گروپوں نے نئی صف بندی کر لی۔رْخ قبلہ حالات کے مطابق تبدیل کر لیا گیا۔وہ جس کی خبرلیڈ سے کم شائع نہ ہوئی تھی اس کیلئے دو کالم مختص کر دیے گئے۔ایسا ہی حال ٹی وی سکرین کا بھی ہے۔ بلیٹن میں جو کل تک اوپننگ بیٹسمین کے طور پر کھیلتے تھے اب وہ بارہویں کھلاڑی کے طور پر باہر بیٹھے ہیں۔،از راہ مہربانی ایک آدھ خبر چلا دی جاتی ہے۔جیسے ٹیل اینڈر کھلاڑی کو بطور جھونگا دو چار گیندیں کھیلنے کیلئے مل جاتی ہیں۔سو کل تک کے باغی میڈیا ہاؤسز اب گڈ بوائے بن چکے ہیں۔لہٰذا بائیکاٹ ختم۔اب انصاف بریگیڈ کے شہ سواروں کوشدید مخالف چینل کے پروگراموں میں شرکت کی اجازت مل گئی ہے۔شنید ہے کہ اذن کلام قائد نے خود ملزم اینکروں سے ملاقات کے بعد جاری کیا ہے۔نیک چلنی کی زبانی ضمانت اور یقین دہانی کے بعد ۔نیک چلنی کی ضمانت حاصل کرنے والے بری شدہ خوش نصیبوں کو دوستانہ تنبیہہ کر دی گئی ہے کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بشمول ٹویٹس پر جاری کردہ اوپینین بھی ادارے کے ایڈیٹوریل مواد کا حصہ تصور ہوگی۔ویسے پابندی کوئی نہیں۔لیکن لاکھوں میں پائی گئی تنخواہ احکامات ماننے پر مجبور کر دے تو اور بات ہے۔اب ناظرین کہیں گے کہ بات شروع ہوئی تھی وفاقی بجٹ اور سالانہ اکنامک سروے کی اور چل نکلی زبان بندیوں کی خبروں کی جانب۔نہیں،نہیں یہ سب ہرگز غیر متعلقہ نہیں۔ابھی تو بجٹ تجاویز محض ایوان میں وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل کی جانب سے تقاریر کی شکل میں آئی ہیں۔ ابھی تو اس پر چودہ دن بحث ہونی ہے۔پھر سب سے مشکل ترین مرحلہ آنا ہے۔ جب اپوزیشن کی ایک ایک کٹ موشن کو بذریعہ اکثریت رائے سے ردکرنا ہو گا۔اور آخر میں تمام بجٹ تجاویز کو ایوان میں کثرت رائے سے منظور کرانا ہو تا ہے۔ جمعتہ المبارک کے روز بجٹ تقریر تو ہو گئی۔لیکن اگلا اجلاس بدھ تک ملتوی کرنا پڑا شاید حکومتی صفوں کو ازسر نو درست کرنے کیلئے۔ان چودہ دنوں میں دوران اجلاس کورم پورا کرنا اور بجٹ دستاویزات کو منظور کرانا چیف وہیپ اور خود وزیر اعظم کیلئے لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہو گا۔مسلم لیگ(ن) کو حکومت کے پاس اگر چہ اب بھی واضح اکثریت ہے لیکن اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کیلئے درپردہ کوشش بھی تو کی جاسکتی ہے۔اگر چہ اب تک پارٹی چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں لیکن دو ہفتے بہت اہم ہیں۔وفاقی حکومت اپنا بجٹ بھی پاس نہ کر سکے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی اپنی عددی اکثریت کھو بیٹھی ہے۔ جس کے بعد اسمبلی توڑے بغیر کوئی چارہ نہیں رہ جاتا۔عام انتخابات سے عین دو ماہ قبل ایسی صورت حال در پیش ہوئی تو منظر نامہ کچھ اور ہو گا۔ کیونکہ اسمبلی اپنی مدت پوری کر کے خود بخود تحلیل ہوئی تو الیکشن60 دنوں میں اور قبل از وقت توڑ دی جائے تو 90 دن کی مدت درکار ہو گی۔ مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی طاقت پر کوئی نقب زنی کی واردات ہوئی تو اس کے پاس مدد کیلئے پیپلز پارٹی سے رجوع کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کو اپنی مرضی کا نگران وزیر اعظم نامزد کرنے کی آفر کی جا چکی ہے۔ پیپلز پارٹی سے کہہ دیا گیا ہے کہ حکومتی پارٹی اپنی جانب سے کسی شخصیت کو نگران وزیر اعظم نامزد نہیں کرے گی۔بلکہ اپوزیشن کی نامزد کردہ شخصیت کو قبول کر لیا جائے گا۔ حکومتی حلقے پر اعتماد ہیں کہ پارلیمانی پارٹی میں کوئی بڑا ڈینٹ پڑا تو وہ اپنی اتحادی جماعتوں کی مدد سے اس پل صراط سے گزر جائے گی۔اگر ایسا نہ ہوا اور موسمی پرندے اڑان بھر گئے۔ بجٹ پاس نہ ہو سکا تو یہ ایک تاریخی ڈس کریڈٹ ہو گا۔ اپنی پانچ سالہ پارلیمانی مدت پوری کر لینے کے کریڈٹ سے بڑا ڈس کریڈٹ۔بہر حال ابھی مسلم لیگ (ن) کیلئے عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ نا اہلیاں سیاسی بے وفائی کی کئی قسطیں ابھی باقی ہیں۔نواز فیملی کے خلاف جاری نیب ریفرینس میں آخری گواہ پر جرح باقی ہے۔جس کے بعد مقدمہ اپنے منطقی اختتام کی منزل تک پہنچ جائے گا۔15 مئی کے لگ بھگ اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ آ سکتا ہے۔جس کے بعد اصل مشکل وقت شروع ہو گا۔ اب تک جو کچھ ہوا ہے وہ محض ریہرسل ہے۔سیاست اسی چیز کا نام ہے۔آج عروج تو کل زوال آج مشکل تو کل آسانی۔
شاہد خاقان عباسی کی حکومت نواز دور کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔گزشتہ چند ماہ میں سیاسی بے یقینی واضطراب نے اگرچہ اس تسلسل کو ضرر پہنچایا ہے لیکن اس کے باوجود خاقان عباسی حکومت نے اپنا اور مسلم لیگ حکومت کا چھٹا بجٹ پیش کر دیا۔جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔پانچ سال پہلے ماہ مئی میں مسلم لیگ (ن) کو مینڈیٹ ملا تو کئی سنگین مسائل کا جن قابو سے باہر ہو چکا تھا۔دہشت گردی عروج پر تھی۔ مہنگائی قابو سے باہر تھی۔ توانائی کا شدید بحران تھا۔جس کی وجہ سے معیشت کا پہیہ جام ہو چکا تھا۔عوام لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں پر تھے۔ان گزرے پونے پانچ سالوں کے دوران دہشت گردی کی لہر پر قابو پا لیا گیا۔پاکستان گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2017ء میں پانچویں نمبر پر آگیا۔اس عرصہ میں ساڑھے بارہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی ہے۔جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا زور ٹوٹ گیا ہے۔اقتصادی ترقی کے بہت سے اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔لیکن کئی نا ممکنات کو ممکن بنا دیا گیا ہے۔ترقی کی شرح تیرہ سال کی بلند ترین شرح کو چھو رہی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔شاید دھرنے مزاحم نہ ہوتے تو یہ شرح مزید بلند ہوتی۔حالیہ سروے بتاتا ہے کہ مسلم لیگ اب بھی مقبولیت میں باقی جماعتوں سے بہت آگے ہے۔عجیب بات ہے کہ یہ سروے آزاد میڈیا کی توجہ حاصل نہ کر سکا۔نہ جانے کیوں؟ اگلے کالم تک میں،آپ مل کر جواب تلاش کرتے ہیں۔


ای پیپر