ووٹرز کیا چاہتے ہیں؟
29 اپریل 2018 2018-04-29

پاکستان کی ہر سیاسی جماعت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پاکستان کے 21 کروڑ سے زائد لوگ اس کے حامی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ لیڈر جو خود اپنے بل بوتے پر اسمبلی کی ایک نشست جیتنے کی اہلیت اور صلاحیت نہیں رکھتے وہ بھی خود کو پاکستانی عوام کا ترجمان اور واحد نمائندہ سمجھتے ہیں۔ عمومی طور پر عام انتخابات کے نتائج کو ہی کسی قیادت اور جماعت کی مقبولیت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات ان جمہوری ملکوں کی حد تک تو درست ہے کہ جہاں جاگیرداری کا خاتمہ کر کے سرمایہ دارانہ جمہوریت قائم ہو چکی اور عوام بلاخوف و خطر اور کسی دباؤ کے بغیر اپنی مرضی سے ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں۔ ہماری جمہوریت ابھی تک ارتقائی مراحل طے کر کے اس قابل نہیں ہوئی کہ یہ مظلوم و محکوم طبقات کو اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے کا حق ہی دلا دے۔ جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کی زمینوں پر کام کرنے اور رہنے والے ہاری اور مزارع اپنی مرضی سے ووٹ نہیں ڈال سکتے۔ ہماری جمہوریت ابھی تک انہیں وہ معاشی ، سماجی اور سیاسی ماحول فراہم نہیں کر سکی جہاں وہ بلاخوف و خطر اپنا سیاسی اظہار کر سکیں۔
ہمارے ڈرائینگ روم دانشور اور نیوز سٹوڈیو ماہرین اکثر عوام کو اس بات پر کوستے رہتے ہیں کہ وہ بار بار انہی لوگوں کو منتخب کر لیتے ہیں جو ان کی اس حالت کے ذمے دار ہیں۔ وہ یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ آخر عوام صاف ستھرے لوگوں کو منتخب کیوں نہیں کرتے۔ ان دانشوروں اور ماہرین کو کون سمجھائے کہ جاگیرداری اور قبائلی نظام کی کوکھ سے اسی طرح کے منتخب نمائندے ہی جنم لے سکتے ہیں۔
عام انتخابات میں عام ووٹروں کے سامنے چناؤ یہ ہوتا ہے کہ وہ جاگیرداروں ، قبائلی سرداروں اور روایتی بااثر سیاسی خاندانوں میں سے کسی ایک کو منتخب کر لیں۔ لہٰذا وہ کسی ایک جاگیردار، سرمایہ دار اور قبائلی سردار کو چن لیتے ہیں۔ بنیادی ضروریات اور حقوق سے محروم جاگیرداروں ، قبائلی سرداروں اور سرمایہ داروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے والوں سے آپ عام حالات میں اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔ عام حالات میں عوام پر حکمران طبقات کے خیالات ، سوچ اور فکر ہی حاوی اور غالب ہوتی ہے۔ وہ خاص انقلابی لمحات ہوتے ہیں جب عوام اپنے ذہنوں ، سوچوں اور خیالات سے حکمران طبقات کا تاریخی بوجھ اتار پھینکتے ہیں مگر ایسا اس وقت ہوتا ہے جب عوام انقلابی شعور سوچ اور خواہشات سے مزین ہوں اور وہ اپنے حالات کو بدلنے کے لئے عملی طور پر میدان میں نکلے ہوں۔ اس لئے ہر عام انتخابات سے 1970ء جیسے عام انتخابات کے نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ جاگیرداری اور قبائلی نظام کی موجودگی میں اس قسم کی جمہوریت پنپ سکتی ہے جو کہ اس وقت ہمارے سامنے موجود ہے۔ ان لوگوں کو جو جاگیرداری اور قبائلی نظام کی چکی میں پس رہے ہیں اس معاشی اور سماجی بوجھ سے آزاد کیجیے اور پھر ان سے بہتر فیصلے کی توقع لگایئے۔
دنیا میں کونسا باشعور انسان ہو گا جو کہ ظلم، جبر ، ناانصافی اوراستحصال میں زندگی گزارنا چاہے گا۔ اس طرح ہاری ، کھیت مزدور ، بے زمین کسان اور مزارع اپنے اوپر ہونے والے سماجی اور معاشی استحصال اور ظلم و ستم سے نجات چاہتے ہیں۔ وہ بہتر حالات میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔
ان کی بھی خواہش ہے کہ ان کے بچے سکول جائیں تعلیم حاصل کریں، ترقی کریں اور زندگی کی تمام تر سہولیات ، ضروریات اور نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔ کیا بھٹہ مزدور اپنی خواہش اور مرضی سے بچوں کو اپنے ساتھ مزدوری پر لگاتے ہیں یا پھر وہ حالات ان کو مجبور کرتے ہیں جن میں وہ زندگی گزارتے ہیں۔ جب تک وہ مادی حالات نہیں بدلیں گے ان کا رہن سہن روایتی سوچ اور فکر تبدیل نہیں ہوگی۔ ان کی غربت ، جہالت ، محرومی اور استحصال ہی ان کے آگے بڑھنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
اس وقت ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو عوام کے مسائل اور مشکلات سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی وہ موجودہ سماجی ، معاشی اور ریاستی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کے لئے تیار اور آمادہ ہیں۔ اس وقت پاکستان میں تمام بڑی سیاسی جماعتیں موجودہ نظام کی محافظ ہیں اور اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔ اسی وجہ سے ہر انتخابات کے بعد وزیر اعظم تو بدلتے ہیں اور چند چہرے بھی بدل جاتے ہیں۔ اقتدار ایک جماعت سے دوسری جماعت کو بھی منتقل ہو جاتا ہے مگر عوام کو درپیش مسائل اور مشکلات جوں کی توں رہتی ہیں۔
پاکستان کے عام ووٹر چاہتے ہیں کہ مہنگائی کم ہو ، ان کو روز گار ملے، ان کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو، ان کے بچوں کو تعلیم ، صحت اور بہتر مستقبل ملے۔ ملک میں امن ہو ، خوشحالی آئے تا کہ ان کی زندگی بھی بہتر ہو۔ وہ ناانصافی ، استحصال ، غربت ، جہالت، عدم مساوات اور بڑھتی ہوئی طبقاتی تفریق سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ جب بوقت ضرورت ان کو پولیس سٹیشن جانا پڑے تو نہ صرف ان کی شکایت کا ازالہ ہو بلکہ ان کے ساتھ باعزت شہری کا سلوک ہو۔ ان کو کسی ایم این اے ، ایم پی اے یا علاقے کے کسی بااثر شخص کی سفارش کی ضرورت نہ پڑے۔ پولیس حکمران طبقات کے مفادات کی حفاظت کی بجائے قانون کے مطابق کام کرے۔
ان کی خواہش ہے کہ جب وہ کسی سرکاری ہسپتال میں جائیں تو ان کو صحت کی بہتر سہولیات ملیں۔ ان کا مناسب علاج ہو اور ادویات دستیاب ہوں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سرکاری سکولوں میں بہترین تعلیم میسر ہو۔ ان کے بچوں کو اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے اظہار کے مواقع ملیں۔ ان کے بچوں کو بھی اسی معیار کی تعلیم ملے جو کہ بڑے نجی سکولوں میں بھاری فیسوں کے عوض دستیاب ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے غربت اور معاشی حالات کے ہاتھوں پڑھنے اور زندگی میں آگے بڑھنے سے محروم نہ رہیں۔
پاکستان کے عوام کی اکثریت غریب اور محنت کش ہے۔ ان کی ضروریات بہت محدود ہیں کیونکہ ان کو نہ تو دبئی ، لندن اور نیویارک میں اپارٹمنٹ درکار ہے اور نہ ہی دولت چھپانے کے لئے کسی سمندر پار خفیہ اکاؤنٹ یا آف شور کمپنی کی ضرورت ہے۔ ان کا خواب نہ تو ایکڑوں پر محیط فارم ہاؤس ہے اور نہ ہی کنالوں پر پھیلا بڑا گھر، بلکہ یہ تو چند مرلے کے مکان کے متلاشی ہیں۔ ان کو رہائشی ، ٹرانسپورٹ ، روز گار ، تعلیم ، صحت اور باعزت و محفوظ زندگی چاہئے۔ یہ بدعنوانی ، استحصال ، جبر ، بھوک ، غربت اور ناانصافی سے نجات چاہتے ہیں۔ یہ تو قومی دولت میں سے اپنا جائز حصہ مانگتے ہیں کیونکہ دولت کی پیدائش میں سب سے اہم کردار کسانوں ، محنت کشوں اور ہنر مند افراد کا ہے۔ وہ اپنی پیدا کی ہوئی دولت میں سے اتنا حصہ مانگتے ہیں جس سے ان کی بنیادی ضروریات زندگی حاصل ہو سکیں۔
پاکستان کے محنت کش چاہتے ہیں کہ لیبر قوانین پر عملدر آمد ہو، کم از کم تنخواہ کے قانون پر عمل ہو۔ وہ ایک ایسا معاشی نظام اور ڈھانچہ چاہتے ہیں جو کہ ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکے۔ وہ ایسا جمہوری نظام چاہتے ہیں جو کہ ان کی امنگوں ، خواہشات اور ضروریات کا عکاس ہو۔ وہ ایسی معشیت چاہتے ہیں جو کہ تمام شہریوں کو بنیادی خدمات اور ضروریات فراہم کر سکے۔ وہ ایسی حکمرانی چاہتے ہیں جو کہ بدعنوانی سے پاک ہو ، جمہوری اور جوابدہ ہو ، مکمل فعال اور موثر ہو۔ وہ موجودہ جابرانہ ، استحصالی ، بدعنوان اور افسر شاہانہ جکڑ بندی کی حکمرانی سے نجات چاہتے ہیں۔
اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ عوام کی خواہشات ، توقعات ، امنگوں اور حکمران طبقات کے مفادات کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے۔ حکمران طبقات سے تعلق رکھنے والی سیاسی قیادت وہ اقدامات اٹھانے ، پالیسیاں نافذ کرنے اور موجودہ نظام میں درکار بنیادی تبدیلیوں کو برپا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ ان کی تمام تر توجہ اپنے طبقاتی مفادات کے حصول اور تحفظ پر مرکوز ہے۔ وہ ایسی پالیسیاں اپنانے اور نظام میں بنیادی تبدیلیوں کے لئے موثر اقدامات اٹھانے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں نے عوام کی اکثریت کو بے رحم حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
کوئی بدعنوانی کا خاتمہ کر کے سب مسائل حل کرنے کا خواہش مند ہے تو کوئی ووٹ کے تقدس اور عزت کے ذریعے تبدیلی کا خواہاں ہے۔ ووٹ کی عزت اور اس وقت تک نہیں ہو گی جب عام ووٹر کی عزت نہیں ہوگی۔ عام ووٹروں کو بنیادی ضروریات اور سہولیات میسر نہیں ہوں گی۔ عام ووٹر کی عزت اس وقت ہو گی جب وہ پولیس ، پٹواری اور طاقتور کے ہاتھوں سے محفوظ رہے گا۔ جب نظام طاقت ور کی بجائے کمزور کے ساتھ ہو گا۔


ای پیپر