جارحانہ بیانئے، چھٹا بجٹ
29 اپریل 2018 2018-04-29

سیاست میں اتنی افراتفری، مقدمات، پیشیاں، فیصلے، پیشگوئیاں، پابندیاں، نام کی جمہوریت عملا مارشل لاء ،میاں نواز شریف نے ان حالات کے بارے میں کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا ’’ہے زندگی کا نام مگر کیا ہے زندگی‘‘ ایسی زندگی ایسی سیاست سے ہم باز آئے، بڑے بڑوں کی چیں بول جاتی ہے مگر لگتا ہے میاں صاحب تنگ آمد بجنگ آمد کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے سر بکف میدان میں اتر آئے ہیں اور مرزا غالب کے اس شعر کی عملی تصویر بنے بیٹھے ہیں کہ

کوئی دن گر زندگانی اور ہے

اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

ان کے جارحانہ بیانیے زباں زد عام ہیں۔ ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ خاصا مقبول ہوا عوام نے واقعی ووٹ کو عزت دینے کی ٹھان لی تو ’’اوپر والے‘‘ کیا کریں گے۔ خوفناک بیانیے، دلدوز وضاحتیں جھکانے کی سرتوڑ کوشش، مخالف فیصلے، ریمارکس، روزانہ تواتر کے ساتھ 5 سالہ کارکردگی پر تنقید، مٹی پاؤ پالیسی، مگر’’ ایک ناں سب کے جواب میں‘‘ حکومت کے پانچ سال مکمل ہوتے ہوتے بہت کچھ طے کرلیا گیا لوگ کہتے ہیں انجام خطرناک ہوگا مگر انجام کی کسے پرواہ، اوکھلی میں سردیا تو موصلوں کا کیا ڈر، ن لیگ کو جھٹکے پہ جھٹکے لگ رہے ہیںِ متوقع فیصلے آرہے ہیں بات کہاں جا کر رکے گی، اپنی نا اہلی ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ یار عزیز، با اعتماد دوست اور کلاس فیلو خواجہ آصف کو بھی اقامہ پر ہی نا اہل قرار دے دیا گیا تا حیات نا اہلی، دونوں یار زندگی کے باقی دن اللہ اللہ کرتے گزاردیں، یاروں نے طے کرلیا ہے کہ نواز شریف کے ارد گرد پوری قیادت کو نا اہلی کا مژدہ سنا کر گھر بھیج دیا جائے خواجہ آصف کے بعد سعد رفیق کی باری ہے، ڈانٹ پڑ چکی ہے ریلوے کے معاملہ پر خاصی لعن طعن ہوئی، سر اٹھانے کی کوشش کی تو ارشاد ہوا توہین عدالت کا نوٹس مل سکتا ہے توہین عدالت پر سینیٹرنہال ہاشمی کو نا اہلی اور اہک ماہقید کی سزا مل چکی ہے دیگر بھی لائن میں لگے ہوئے ہیں، خود نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں زیر سماعت ہیں ’’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘ مسلم لیگ ن کے لیے مشکلات قطار لگائے کھڑی ہیں سارے فیصلے توقعات کے مطابق خواجہ آصف کے خلاف 16 دن پہلے فیصلہ محفوظ کیا گیا، پتا نہیں لوگوں کو کہاں سے الہام ہوگیا تھا کہ خواجہ صاحب نہیں بچیں گے، 16 دن بعد توقعات کے عین مطابق فیصلہ سنایا گیا ،چھوٹوں میں سرتابی کی مجال نہیں مگر پھر وہی بات کہ عمران خان کو دو دن پہلے کیسے پتا چل گیا کہ ن لیگ کی ایک اہم وکٹ گرنے والی ہے داتا صاحب کے مزار پر پھول چڑھانے آئے تھے پھول چڑھانے کے فوراً بعد طبیعت کی خرابی کا کہہ کر رخصت ہوگئے مخالفین نے اسے بھی لطیفہ بنا لیا کسی نے کہا پھول چڑھاتے ہوئیاندر سے ایسا تھپڑ پڑا کہ ٹھہر نہ سکے۔ مخالفین تو کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن یہ راز ابھی تک راز ہی ہے کہ عمران اینڈ کمپنی کو فیصلوں کا پہلے سے کیسے علم ہوجاتا ہے، خواجہ آصف کی نا اہلی سے کپتان کا سیروں خون بڑھ گیا اپنے وکیل بابر اعوان کو بلا کر حکم دیا کہ احسناقبال کی وکٹ گرانی ہے ابرار الحق کی طرف سے پٹیشن تیار کر کے دائر کردیں، حکم خالی از علت نہیں ،کہیں سے روحانی اشارہ ملا اوپر سے آشیر واد کام کر رہی ہے، خواجہ آصف کی نا اہلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنے لگے گاڈ فادر کا ایک درباری نکال دیا گیا حالانکہ ’’گاڈ فادر ٹو‘‘ کا بھی ایک درباری نکالا جا چکا ہے، جس کی نا اہلی کو ’’گاڈ فادر ٹو‘‘ نے ٹھنڈے پیٹوں قبول کرلیا۔ ان باتوں کو جانے دیجیے کہ اوپر کے حکم سے سارے الیکٹیبلز تحریک انصاف میں جانے کے لیے بقول کپتان لائن لگائے کھڑے ہیں، منادی ہو رہی ہے ’’کنے کنے جانا ایں بلو دے گھر، لین بناؤ ٹکٹ کٹاؤ جنے جنے جانا ایں بلو دے گھر‘‘ مگر کسے معلوم کہ عام انتخابات میں بلو کے ساتھ پھر ہاتھ ہوجائے گا، سنجیدہ سوال ہے کہ کیا انتخاب ہوں گے اپنے چوہدری شجاعت کو کیسے پتا چل گیا کہ انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے دراصل چوہدری صاحب اقتدار میں تھے تو انہیں کچھ نظر نہیںآتا تھا پچھلے دس سال سے فارغ ہیں تو دور و نزدیک کی ہر چیز نظر آنے لگی ہے بہتوں کا یہی خیال ہے کہ مردم شماری اور حلقہ بندیوں پر اعتراضات کے پیش نظر شاید انتخابات ایک دو سال کے لیے موخر کردیے جائیں اسی میں بہتوں کا بھلا ہے، ن لیگ ٹوٹ نہیں رہی ، نواز شریف کے بیانیے ستونوں کی طرح پارٹی کو سہارا دیے ہوئے ہیں، موسمی پرندوں کو اڑان کے باوجود اپنی جیت کا یقین نہیں، پیپلز پارٹی کوپنجاب سے کچھ نہیں ملا بلوچستان میں کھچڑی پکانے لگے تھیدلیہ بن گیا ،کے پی کے سے کچھ زیادہ ملنے کی امید نہیں، سندھ میں اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی ہے عین موقع پر قومیت کاجذبہ جاگ اٹھا تو ایم کیو ایم کا ووٹ نہیں ٹوٹے گا ،پنجاب نہ ٹوٹا تو کپتان کو کیا ملے گا، ہنگ پارلیمنٹ میں کپتان کس سے الحاق کریں گے سب سے دشمنی پال لی ہے اپنے بھی جدا ہو رہے ہیں سراج الحق نے سیدھی سی بات کہی پی ٹی آئی کے ترجمانوں نے بد تمیزی کی انتہا کردی نعیم بخاری کا ٹوئٹ جنہوں نے پڑھا انہوں نے برملا کہا کہ جماعت اسلامی کو بلا تاخیر پی ٹی آئی سے علیحدہ ہوجانا چاہیے۔ حکومت کون بنائے گا؟ کوئی بنائے چین سے نہیں بیٹھ پائے گا، ن لیگ اپوزیشن میں بیٹھی تو اگلے پچھلے بدلے چکائے گی اور ناک میں دم کردے گی، فی الحال امریکی گیلپ سروے کے مطابق ابھی تک مسلم لیگ ہی مقبولیت میں سر فہرست ہے، پی ٹی آئی دوسرے اور پیپلز پارٹی تیسرے نمبر پر ہے، جانے آصف زرداری کس برتے پر حکومت سازی کا خواب دیکھ رہے ہیں، سفارشی یا سازشی جمہوریت کتنے دن چلے گی مگر یہ اوپر والوں کے سوچنے کی باتیں ہیں ویسے وزیر اعظم خاقان عباسی سمیت ن لیگ کے سارے لیڈروں کو ابھی تک یقین ہے کہ آئندہ بھی ن لیگ کی ہی حکومت ہوگی انہوں نے چار یا پانچ ماہ کے لیے بجٹ کی نصیحتوں کو نظر انداز کر کے ملکی تاریخ میں پہلی بار اپنے چھٹے بجٹ کا اعلان کردیا، بھرپور بجٹ 59 کھرب کا بجٹ ، 20 کھرب کا خسارہ لیکن انتخابات کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف دینے کی اپنی سی کوشش، وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں بر ملا کہا کہ اپوزیشن فکر نہ کرے آئندہ حکومت بھی ہماری ہی ہوگی تین وزیر اعظم لنگوٹ کس کر میدان میں ہیں، شہباز شریف عوامی خدمت میں ضرب المثل، عمران خان دھرنے اور وکٹیں گرانے میں سرگرم اور امپائر کی انگلی کے منتظر بلاول بھٹو ابھی تک گفتار کے غازی تقریروں سے آگے نہیں بڑھ پائے کردار کے غازی بننے میں شاید دس سال درکار ہوں گے اوپر والوں کی آنیاں جانیاں دیکھ کر لوگ بے یقینی کا شکار ہوئے جاتے ہیں شاید اوپر والے ہی شیروانی پہن کر حکمرانی نہ کرنے لگیں ہاں ایسے میں ایک خبر پر تو کسی نے دھیان ہی نہیں دیا ملک خداداد میں گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوگیا تعداد بڑھ کر 53 لاکھ ہوگئی عوام بے حال گدھے پل رہے ہیں شنید ہے کہ پیپلز پارٹی کو گدھے گھوڑوں کی افزائش کا بڑا تجربہ ہے کراچی میں پی پی کے قلعہ لیاری میں تو گدھوں کو پستے بادام کھلائے جاتے ہیں۔ سیٹ بھی مل جاتی ہے حبیب جالب نے10 کروڑ گدھوں کاذکر کیا تھا اب توبہت بڑھ گئے اب کیا ہو گا؟


ای پیپر