اگر اس ملک کو 22 کے قریب جسٹس ثاقب نثار مل جائیں
29 اپریل 2018 2018-04-29

مجھے یاد پڑتا ہے کہ 2005ء میں قومی روزناموں میں اس عنوان کی خبریں شایع ہوئی تھیں کہ ’ ملک میں 50جامعات کے 165غیر قانونی کیمپس موجود تھے۔ جن میں ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیاں بھی شامل تھیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے ان یونیورسٹیوں کے ملک بھر میں کام کرنے والے غیر قانونی کیمپس کی ایک فہرست جاری کی تھی اور طلباء سے کہا گیا تھا کہ وہ ایسے اداروں میں داخلہ لینے سے گریز کریں کیونکہ ان اداروں کی ڈگریاں تسلیم شدہ نہیں ہیں۔ طلباء سے کہا گیا تھا کہ وہ ایسے اداروں میں داخلہ لینے یا فیس جمع کرانے سے قبل ان کی اہلیت کے بارے میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے معلومات حاصل کریں‘۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے اس اہم ترین معاملے میں چشم پوشی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ یہ کریڈٹ تو بہر طور چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کو جاتا ہے کہ انہوں نے تعلیم فروش مافیا کا محاسبہ کیا اور کر رہے ہیں۔میڈیکل سائنس کی مہنگی ترین تعلیم دینے والے نجی اداروں کو تو انہوں نے راہِ راست دکھا دی ہے اور اب وہ مہنگے پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں کا بھی تعین کرنے کیا کوشاں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس ملک کو 22 کے قریب جسٹس ثاقب نثار مل جائیں تو یقین کیجیے کہ 22 کروڑ عوام اور پورے ملک کا قبلہ درست ہو جائے گا۔
مقامِ افسوس ہے کہ وطنِ عزیز میں بعض مہم جو اور طالع آزما عناصر انتہائی دیدہ دلیری کے ساتھ ’’فروغِ تعلیم‘‘ کے نام پر طلباء و طالبات کے ساتھ دھوکہ دہی کے مرتکب ہوتے رہے ہیں۔ فروغِ تعلیم کی آڑ میں ان عناصر نے طلباء و طالبات کے والدین سے داخلہ فیسوں اور ٹیوشن فیسوں کی مد میں کروڑوں کا فراڈ کیا۔ یہ ایک انتہائی تکلیف دہ اور اذیتناک بات ہے کہ زر کی ہوس نے معاشرے اور مملکت کے بعض’’ تعلیم یافتہ‘‘ افراد کو اس حد تک اندھا کردیا کہ انہوں نے قانون اور اخلاقیات کی سرحدوں کو بھی پامال کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ تعلیم کے نام پر فراڈ کے مذموم عمل کا انتہائی بے خوفی اور بیباکی کے ساتھ جاری رہنااس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان عناصر کو بعض اعلیٰ حکومتی شخصیات اور اداروں کی درپردہ سرپرستی اور تحفظ بھی
حاصل رہا۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ فراڈ، دھوکہ دہی اور اسی قسم کے دیگر معاشی جرائم حکومتی چشم پوشی کے بغیر ایک لحظہ کے لئے بھی بال و پر حاصل نہیں کر سکتے۔ بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کا اس مذموم اور لائق نفریں جرم میں ملوث ہونا اس جانب بھی انگشت نمائی کرتا ہے کہ یہ عناصر کس نچلی حد تک اخلاقی تنزل اور شخصی و اجتماعی گراوٹ کا شکار ہو چکے تھے۔ اس منظر نامے کو بلا خوفِ لومۃو لائم ایک عظیم المیے ہی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ۔ عام آدمی کے لئے یہ بات ناقابل فہم ہے کہ طالع آزما، مہم جو اور دھوکہ باز عناصر کبھی فروغِ تعلیم کے نام پر اور کبھی مختلف فنانسنگ اور ہاؤسنگ سکیموں کے نام پر عوام سے اربوں کے فراڈ کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں اور ان بداعمالیوں کے سدِباب اور انسداد کے ذمہ دار ادارے برسہا برس تک خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ ادارے متعلقہ جرائم پیشہ عناصر سے اس کردار کی ادائی کی باقاعدہ فیس وصول کرنے کے بعد ہی انہیں جرائم کے ارتکاب کا این او سی جاری کرتے ہیں۔ غیر قانونی ملکی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں کے مقامی و غیر ملکی منتظمین کے خلاف اربابِ حکومت کو بہت پہلے تادیبی و انضباطی کارروائی کرنا چاہیے تھی۔سادہ لوح والدین کو کروڑوں اربوں کا ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا سرگرمِ عمل ہونا صبحدم بالائے بام آنے کے مترادف ہے۔ یہاں اس امر کا ذکر بھی انتہائی ضروری ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا یہ مؤقف کسی طور درست نہیں کہ غیر قانونی طور پر کام کرنے والے ملکی اور غیر ملکی تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل یا وہاں پڑھنے والے طلباء کے لئے حکومت کچھ نہیں کر سکتی وہ اپنے کئے کے خود ذمہ دار ہیں۔کمیشن کا یہ مؤقف انتہائی سنگدلانہ ہے۔ اسے اپنے اس مؤقف پر نظرِ ثانی کرنا چاہیے۔ اگر عوام یا طلباء و طالبات نے اپنے ساتھ ہونے والے فراڈ کے ذمہ داران کے خلاف خود ہی کارروائی کرنا ہے اور حکومت نے ان کی کوئی مدد نہیں کرنا تو عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آخر حکومت نامی یہ ادارہ کسی ریاست میں کیوں معرضِ وجود میں آتا ہے۔ حکومت اگر زخم رسیدوں کے زخموں پر مرہم اور دردمندوں کے درد کا دارو فراہم نہیں کر سکتی تو اسے عوام سے کسی قسم کے محصولات حاصل کرنے کا بھی کوئی استحقاق نہیں ہے۔ عام آدمی یہ سوچنے پر بھی مجبور ہے کہ یہ تمام ادارے جنہیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے بعد از خرابئ بسیار’’بلیک لسٹ‘‘ کیا ہے، آخر انہیں ایک مدت تک کھل کھیلنے کے مواقع کیوں ارزاں کئے جاتے رہے۔ ان کے خلاف کارروائی میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔ کارروائی میں تاخیر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بھی عوامی مطالبہ پر احتسابی قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی ناگزیر ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ ملکی اور غیر ملکی ادارے آج سے نہیں گزشتہ عشرہ ڈیڑھ عشرہ سے سادہ لوح والدین کی جیبیں کاٹ رہے تھے۔ اس پر طرہ یہ کہ یہ جرم ڈھکے چھپے انداز میں نہیں بلکہ برسرِ بازار فروغِ تعلیم کے لبادے میں ہو رہا تھا۔ یہ عناصر تو دہرے جرم کے مرتکب ہوئے۔ ایک تو انہوں نے سادہ لوح والدین کے ساتھ فراڈ کیا اور دوسرا یہ کہ یہ فراڈ تعلیم کے نام پر کیا گیا۔ تعلیم کو رسوا کرنا ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔عام آدمی یہ جاننا چاہتا ہے کہ برسہا برس تک غیر قانونی طور پر عوام کو لوٹنے والے ان تعلیمی اداروں اور غیر ملکی جامعات کی حرکات و سکنات کا نوٹس لینا کس کی ذمہ دار ی تھی؟ عام آدمی یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ ان اداروں اور جامعات کو چلانے والے افراد کو فوری طور پر احتساب و پرسش کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جائے۔ یہ ذمہ داری ہائیر ایجوکیشن کمیشن ہی کی بنتی ہے کہ وہ اس کھلے فراڈ کے ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج کروائے۔ عوامی مطالبہ تو یہ بھی ہے کہ ان بلیک لسٹڈ ملکی و غیر ملکی اداروں کے اعلیٰ سطحی ذمہ داران کے جملہ بینک اکاؤنٹس منجمد کر دئیے جائیں اور ان کے نام ای سی ایل میں شامل کئے جائیں ۔ جب تک معصوم طلباء و طالبات کے والدین کی لوٹی ہوئی دولت بازیاب نہیں کروائی جاتی ان لٹیروں کو عوام کے وسیع تر مفاد میں حفاظتی حراست میں رکھا جائے اور ان کی ہمہ نوعی نقل و حرکت پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ محض یہ کافی نہیں کہ اخبار میں ایک اشتہار شائع کر کے یہ انکشاف کیا جائے کہ ملک بھر میں فلاں فلاں ادارے غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں اور طلباء و طالبات ان میں داخلہ لینے سے گریز کریں۔


ای پیپر