بڑا لدھڑ ،چھوٹی لومڑی ۔۔۔ اور عطائیوں کے خلاف آپریشن ؟
29 اپریل 2018 2018-04-29

خیر ڈاکٹر نے خاصے رعایتی نرخوں پر آنکھ والا مسئلہ حل کر دیا اور جب میں آپریشن تھیٹر سے نکلا تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے سیدھا کھڑا کر کے ادھر اُدھر گھمایا، کبھی اس اینگل سے کبھی اُس زاویے سے دیکھا ۔۔۔ اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ (حالانکہ شکر اللہ کا مجھے ادا کرنا چاہیے تھا) آنکھ کافی حد تک اپنی اصلی حالت میں آ گئی ۔۔۔

میں گھر پہنچا ۔۔۔ قدرے مطمئن تھا ۔۔۔ دل، جس نے دھڑکنا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ اب نارمل لگ رہا تھا ۔۔۔ سوچا دوستوں کو بھی اس سستے ماہر پلاسٹک سرجری سے ملواؤں گا۔ میں لحاف اوڑھے چلغوزے کھانے لگا کہ مجھے محسوس ہوا، جیسے چلغوزہ ٹھیک طرح سے دب نہیں رہا تھا۔ میں نے وہ پھینکا ۔۔۔ نیا چلغوزہ منہ میں ڈالا ۔۔۔ خوب زور لگایا ۔۔۔ چلغوزہ دانتوں کے قابو میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ میں نے دائیں طرف (چلغوزہ نکال کر) دانتوں میں انگلی گھسائی ۔۔۔ اوپر نیچے والے دانتوں کے درمیان اک خلا سا محسوس ہوا ۔۔۔ یہ دانت پہلے تو ٹھیک تھے ۔۔۔ بچپن سے جوانی تک ۔۔۔ مگر ۔۔۔ یہ یکدم کیا سے کیا ہو گیا، میری دنیا بدل گئی ۔۔۔ یا اللہ خیر! ۔۔۔؟ بائیں طرف والے دانت فٹ بیٹھے تھے لیکن دائیں طرف والے اوپر نیچے والے جبڑے ٹھیک طرح سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ نہیں پا رہے تھے۔ میں نے بڑا غور کیا ۔۔۔ اور خام خیالی سمجھا ۔۔۔ میں نے چلغوزے کی جگہ مونگ پھلی منہ میں ڈالی ۔۔۔ (جلدی اور بد حواسی میں چھیلنا بھول گیا) وہ کچھ دبی لیکن مزہ نہ آیا البتہ مونگ پھلی کا چھلکا دائیں گال میں گھس گیا ۔۔۔ میں نے ٹشو پیپر منہ میں رکھا اور ادھر اُدھر گھومنے لگا ۔۔۔ سامنے سے بیگم آتی دکھائی دیں ۔۔۔ (کسی بات پر مسکرا رہی تھیں) ۔۔۔ بیگم مسکراتی ہو تو ۔۔۔ اللہ کا لاکھ بار شکر ادا کرو ۔۔۔

’’بات نہیں کر رہی‘‘؟ ۔۔۔ ’’میرے منہ کی طرف بڑے ہی غور سے دیکھے چلی جا رہی تھی‘‘ ۔۔۔

’’یہ آپ کے منہ کا بیلنس کچھ آؤٹ لگتا ہے‘‘ ۔۔۔ یکدم بولیں ۔۔۔ (شدید پریشان لگ رہی تھی اب کے ) ۔۔۔

’’بی بی ۔۔۔ غور کرو‘‘ ۔۔۔ پھر بی بی نکالو ایک ہزار جرمانہ ۔۔۔ (شادی کے شروع میں میں غلطی سے بیوی کو بی بی کہہ ڈالتا تھا۔۔۔ سو اس نے جرمانہ رکھ دیا کہ اب جب بھی منہ سے یہ لفظ نکلے گا ۔۔۔ آپ کو جرمانہ ہو گا ۔۔۔ ایک ہزار روپے ۔۔۔

اب تک اس ’’ہیڈ‘‘ میں پچپن ہزار دے چکا ہوں (رعایت کروا کے ) ۔۔۔ ادھر ’’بی بی‘‘ منہ سے نکلا ادھر ہزار روپے جرمانے کی سزا صادر ہوئی ۔۔۔ ’’آپ کو ہزار کی پڑی ہے، مجھے اپنے منہ کی‘‘ ۔۔۔ میں نے غصے میں کہا ۔۔۔ ’’امی جی‘‘ بیوی نے گھبراہٹ میں میری والدہ کو آواز دی ۔۔۔ ’’امی جان‘‘ آ گئیں ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ امی کو کچھ بتاتی ۔۔۔ امی جان بول پڑیں ۔۔۔

’’محسن بیٹا ۔۔۔ یہ منہ کس طرح کا ہے تمہارا‘‘؟ ۔۔۔ میں نے بھاگ کر شیشے میں دیکھا ۔۔۔ ’’ہائے میرے اللہ‘‘ کاش میں دوسری پلاسٹک سرجری کروانے سے پہلے اپنے منہ کا نقشہ بنوا لیتا؟! میں نے خود کو خود ہی مشورہ دیا ۔۔۔ بات گھر بھر میں پھیل گئی ۔۔۔ یہاں تک کے والد صاحب نے بھائی جان کو کینیڈا فون بھی کر دیا ۔۔۔ ٹرن ٹرن ۔۔۔ گھر میں فون کی گھنٹیاں بجتی چلی جا رہی تھیں ۔۔۔ والد صاحب نے فون کا سپیکر آن کر دیا ۔۔۔ (ساری کی ساری گفتگو اور ہمدردانہ گفتگو ڈائریکٹ مجھے سنوانے کے لیے) ۔۔۔

باؤ جی (ہم والد صاحب کو گھر میں کہتے ہیں) اس احمق سے کہیں منہ جیسا ہے سنبھال کے رکھے، میں نے کل کی فلائٹ سے سیٹ بک کروا لی ہے ۔۔۔ سیٹ مل نہیں رہی تھی، باؤ مجیدؔ نے اپنی بیوی کو یہاں طلاق دینا تھی اور انھوں نے اس بیچاری کی سیٹ بھی بک کروا رکھی تھی کہ ادھر طلاق دوں گا ادھر کینیڈا سے سیدھا لاہور روانہ کر دوں گا ۔۔۔ چونکہ طلاق والا معاملہ رفع دفع ہو گیا اس لیے وہ سیٹ مجھے مل گئی، بس میں آ رہا ہوں ۔۔۔ اس کا منہ ٹھیک کروا کے جاؤں گا ۔۔۔ اور اس وقت تک لاہور میں ٹھہروں گا، جب تک یہ آسانی سے چلغوزے نہ کھانے شروع کر دے گا۔ اسے تسلی بھی دیں کہ سردیوں میں ہی یہ منہ والا کام ہو جائے گا۔ کیونکہ گرمیوں میں اس کا منہ ’’نیوٹن‘‘ کے قانون کے باعث زیادہ بڑا ہو جاتا ہے ۔۔۔

باؤ جی نے دوستوں کو فون بھی کر دیا ۔۔۔ ’’سب افسوس کرنے آ رہے تھے‘‘ ۔۔۔ ہنس بھی رہے تھے اور (جاہل کہیں کے ) فرمائش بھی کر رہے تھے ۔۔۔ ’’ذرا منہ کو دائیں کرو ۔۔۔ اب ذرا بائیں کرو‘‘ ۔۔۔ ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کہیں اس دیکھا دیکھی میں منہ کا مزید حشر نہ ہو جائے! ۔۔۔ (شکر ہے اس وقت کیبل کا زمانہ نہ تھا ورنہ ٹی وی چینلز کو بھی اچھا خاصا مذاق ہتھے چڑھ جاتا ۔۔۔ اور وہ خبر چلا رہے ہوتے ۔۔۔

’’ناظرین ہماری ٹیمیں کیمرہ مینوں کے ساتھ ٹیڑھے منہ والے نوجوان کے پاس بس پہنچنے ہی والی ہے‘‘ ادھر پلاسٹک سرجری والے ڈاکٹر تک یہ بات پہنچی ۔۔۔ تو وہ بھی آن پہنچا (ڈرتے ڈرتے) میں بیٹھا تھا کہ والد صاحب نے بتایا کہ محسن باہر اک عورت برقع پہنے تم سے ملنا چاہتی ہے؟! ۔۔۔ وہ زیر لب مسکرا بھی رہے تھے ۔۔۔ نہ جانے کیوں؟! (یا اللہ خیر نسیم سیمی گھر تک بھی آ پہنچی۔ میں نے وعدہ بھی لیا تھا ایسا نہ کرے گی) ۔۔۔

میں خوب گھبرایا ۔۔۔ ایک یہ عذاب، ایک یہ نیا عذاب کہاں سے نازل ہو گیا؟ میں بھاگم بھاگ باہر گیا ۔۔۔ اس عورت نے مجھے دائیں بازو سے پکڑا اور ایک درخت کے ساتھ لے جا کر نقاب اٹھایا ۔۔۔ ’’ڈاکٹر متین آپ؟‘‘ ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ یہ پکڑو اپنے سارے پیسے جو میں نے دونوں دفعہ پلاسٹک سرجری کے سلسلہ میں تم سے لیے تھے ۔۔۔ اور مجھے معاف بھی کر دینا ۔۔۔ میں نے تمہارا اچھا خاصا منہ بگاڑ کے رکھ دیا ۔۔۔ اور مجھے آنے والے عذاب سے بچا بھی لینا ۔۔۔ میں نے یہ کام چھوڑ دیا ہے ۔۔۔ اب میں واپس اپنے قصبے ایمن آباد جا کر اپنی حجام کی دکان پر لوگوں کے بال کاٹوں گا اور شیو بناؤں گا ۔۔۔ شب خیر‘‘ ۔۔۔ ’’شب خیر‘‘ ۔۔۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھا سورج نکلا ہوا تھا ۔۔۔

ڈاکٹر متین مجھے دن میں ’’شب خیر‘‘ کہہ کر بھاگ نکلا ۔۔۔ ’’اوہ میرے خدا یہ ڈاکٹر متین اصلی ڈاکٹر نہیں تھا‘‘ ۔۔۔ میں دل ہی دل میں گھبرا گیا ۔۔۔ مجھے حکومت پر اپنے سے کہیں زیادہ غصہ آیا ۔۔۔ جو اِن جعل سازوں کو نہیں پکڑتی ۔۔۔ جو لوگوں کے منہ بھی بگاڑ دیتے ہیں اور ۔۔۔ یکدم مجھے ڈاکٹر متین کے ساتھ ہمدردی بھی ہونے لگی ۔۔۔ کیونکہ وہ بیچارہ پورے کے پورے پیسے واپس جو کر گیا تھا؟! ۔۔۔ شاید میں اس کا پہلا شکار تھا !۔۔۔ اچھا ہوا میں اس کا پہلا شکار تھا۔ اگر میری جگہ کوئی اداکارہ ہوتی تو فلم انڈسٹری اور ڈائریکٹر کا کروڑوں کا نقصان ہو جاتا اور بیچاری اداکارہ کی بیسویں بار منگنی ٹوٹ جاتی ۔۔۔ چیف صاحب اس وقت ’’ عطائیوں ‘‘ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ’’عطائی ‘‘ اس وقت خوف کے مارے اِدھر اُدھر چھپتے پھر رہے ہیں اور سرکاری ہسپتالوں میں آخری خبریں آنے تک خوب رش پڑ رہا ہے (وجہ آپ کو معلوم ہے؟) ۔۔۔ ’’اللہ کرے چیف صاحب کا یہ ’’ آپریشن ‘‘ بھی کامیابی سے ہمکنار ہو اور جعلی دوائیاں، جعلی ڈگریاں اور جعلی سیاستدان اپنی اپنی جگہ پر پہنچ جائیں ۔۔۔؟

میری آنکھ کھل گئی ۔۔۔ میرے سامنے اخبار پڑا تھا ۔۔۔ جس میں ۔۔۔ گرما گرم خبریں تھیں اور تڑپا دینے والے بیانات تھے ۔۔۔ میں نے اخبار ایک طرف رکھا اور شیشے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے منہ کا جائزہ لینے لگا جو پہلے سے کافی بہتر محسوس ہو رہا تھا لیکن جیسا سرجری سے پہلے تھا ۔۔۔ ویسا کہاں ۔۔۔؟!


ای پیپر