وطن دشمن تنظیمیں بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہی ہیں
29 اپریل 2018

بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو بے پناہ وسائل اور بلوچ نوجوانوں کو صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ افواج پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ہمیشہ کوشش کی ہے کہ معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ بلوچستان کی ترقی اصل میں پاکستان کی ترقی ہے اور پاک فوج اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔
ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نامی ایک تنظیم بلوچستان میں نفرت کے بیج بو رہی ہے۔ پاک فوج اور بلوچ عوام کے درمیان جھوٹ بول کر غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں ۔ سیاسی حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسایا جا رہا ہے۔ اے ایچ آر سی باغی بلوچوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے اور پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس تنظیم کے پاکستان دشمن ممالک سے بھی رابطے ہیں ۔ وہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں اور سی پیک کی مخالفت کر رہے ہیں ۔
بلوچستان میں پاک فوج کے مثبت اقدامات سے نہ صرف بلوچ عوام فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ باغی بلوچی بھی یہ سوچنے پر مجبو ر ہوگئے ہیں کہ ہمارا مستقبل پاکستان ہی سے وابستہ ہے۔ لہٰذا وہ بغاوت چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو رہے ہیں ۔ سب سے پہلے بلوچستان میں 60 علیحدگی پسند باغیوں نے ہتھیار ڈال کر حکومت کی عمل داری تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں کالعدم تنظیم بلوچ ریپبلکن آرمی (بی آر اے) کے ایک درجن سے زائد سینئر کمانڈرز بھی شامل ہیں ۔ حال ہی میں کالعدم بی ایل اے اور لشکر بلوچستان کے دو فراری کمانڈروں عبداللہ عرف ببرک، دین جان عرف میران حسینی نے اپنے 57ساتھیوں کے ہمراہ ہتھیار ڈال دیئے۔پاک فوج اپنی بھرپور کوششوں کے ساتھ بلوچستان میں خواندگی کی شرح کو بہتر بنانے کیلئے دن رات کام میں مشغولِ عمل ہے۔اس مقصد کے لئے پاک فوج کی جانب سے اب تک بہت سے سکولوں کو جدیدتقاضوں کے مطابق پہلے سے کہیں زیادہ بہتر کیا جاچکا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ نوجوان نسل کی آرمی سکولوں اور کالجز میں بھرتی کیلئے زیادہ سے زیادہ مواقع اور ان کے لیے علم کے حصول میں آسانی اور بھر پور حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے۔ بلوچستان میں پاک آرمی نے بیشمار تکنیکی تعلیمی اداروں کا قیام بھی کیا ہے جس میں بلوچستان کے مری اور لونی قبیلوں میں حصولِ تعلیم کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے وہاں سے تعلق رکھنے والے نوجوان طلباء و طالبات کو ہوسٹل کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ اس عمل کا مقصد ان دور دراز قبائلی نوجوانوں کا رجحان تعلیم کی طرف مائل کرنا ، اور شعور اجاگر کرنا ہے۔ بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اب تک نہ صرف بیشماربلوچ نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت فراہم کر چکا ہے بلکہ ابھی بھی بہت سے طالبِ علم یہاں زیرِ تعلیم ہیں ۔مستقبل میں یہی ہنران کا ذریعہ معاش بھی بن جائے گا۔ پاک فوج میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی شمولیت بلوچستان کے غیور عوام کی دفاع پاکستان سے گہری وابستگی کا مظہر ہے۔ افواج پاکستان نے قوانین میں نرمی کرکے بلوچستان کے نوجوانوں کو پاک فوج میں بھرتی کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے۔ یہ امر ہمارے لئے حوصلہ افزا ہے کہ 2010 ء سے لے کر اب تک 20 ہزار کے قریب بلوچ نوجوانوں نے پاک فوج میں شمولیت جب کہ 2 ہزار نوجوانوں نے پاک فوج کی سرپرستی میں آئی ایس ایس بی کی تربیت بھی حاصل کی۔ ٹریننگ سینٹر میں پاک فوج کے جوانوں کے ساتھ فرنٹیئر کور اور پولیس کی ریکروٹس کو بھی تربیت دی گئی ہے جو آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے اور بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ پاک فوج کی جانب سے بلوچستان میں تعلیمی ترقی اور پسماند گی کو دور کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر بڑی تیزی سے کام جاری ہے۔ ان منصوبوں میں ملٹری کالج سوئی، بلوچستان پبلک سکول سوئی کوئٹہ، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، گوادر انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، چاما لنگ بینیفشر ایجوکیشن پروگرام، بلوچستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن، آرمی انسٹیٹیوٹ ان مینرولوجی، اسسٹنٹس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن، بلوچ یوتھ اینوارمنٹ ان آرمی، ڈیرہ بگٹی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ، ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کوہلو اینڈ ناصر آباد ڈویژن اور پاکستان آرمی اسٹنٹس ان ڈویلپمنٹ آف روڈ نیٹ ورک جس میں اسسٹنٹس ٹو منسٹری آف ایجوکیشن بلوچستان ، گیس اور پانی کی مفت فراہمی ، سوئی میں پچاس بیڈوں پر مشتمل ہسپتال کی تعمیر، چاما لنگ کول مائین، کھجور کی کاشتکاری، آرمی کی جانب سے امداد اور بحالی کی کوششوں اور اسی طرح کہ دیگر منصوبوں پر کام تیزی سے جاری و ساری ہے۔
گوادر ڈیپ سی پورٹ اور چین کے تعاون سے اقتصادی راہداری کے عظیم منصوبے بھارت کی آنکھ میں کانٹے کی طرح کھٹک رہے ہیں ۔ یہ امر عوامی حلقوں کیلئے موجب طمانیت ہے کہ سیاسی و عسکری قیادت پاکستان چین اقتصادی راہداری کو سبوتاژ کرنے کے بھارتی منصوبے سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے عزم صمیم کر رکھا ہے کہ بھارت کو اس کے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا نیزقومی سلامتی اور اس منصوبے کے دفاع کیلئے تمام اقدامات اٹھانے کیلئے وہ کمربستہ اور مستعد ہیں ۔ مقام تشکر ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتیں اور قوتیں جو ہمیشہ ملک و قوم کے مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہیں اور افادہ رساں منصوبوں پر حکومتوں کے ساتھ اختلاف رکھنے کے باوجود پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبہ کی تکمیل کیلئے سنجیدگی سے حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں ۔
اس سلسلے میں سربراہ پاک فوج نے بھارت کو انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ’مودی ہو یا ’’را‘‘ یا کوئی اوردشمن، ہم ان سب کی سازشوں اور چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں ۔ سب سن لیں پاک فوج ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے کسی بھی حدتک جائے گی۔ فوج اور عوام ایک ہیں اور فوج جو کچھ کر رہی ہے وہ ملک و قوم کی بھلائی کیلئے کر رہی ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی ہر صورت اور ہر قیمت پر حفاظت کریں گے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی حفاظت کیلئے 2 ڈویژن فوج کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے۔ ایک ڈویژن فوج خنجراب سے راولپنڈی تک سکیورٹی فرائض سرانجام دے گی جبکہ دوسری پنڈی سے گوادر تک حفاظتی ذمہ دار یا ں ادا کرے گی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ ملکی سر حدوں کی حفاظت اور اب سی پیک کی سکیورٹی بھی فوج کرے گی۔سی پیک یا پاک چین اقتصادی راہداری کی افادیت سب پر عیاں ہے اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ پروجیکٹ پاکستان دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے۔بالخصوص پہلے تجارتی قافلے کی گوادر سے مشرق وسطیٰ، افریقہ روانگی نے ان کی نیند اڑا دی ہے کہ وہ رکاوٹیں ڈالنے کی سوچ رہے تھے یہاں تجارت بھی شروع ہوگئی۔ اب یہ فضا بنائی جارہی ہے کہ یہ منصوبہ پورے پاکستان کیلئے نہیں ہے حالانکہ بلوچستان میں ژوب کا روٹ ہو یا خیبر پی کے ، سندھ ا ور گلگت بلتستان و آزاد کشمیر سب اس سے مستفید ہوں گے۔ خصوصی اکنامک زون معاشی ترقی اور خوشحالی لائیں گے اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا توانائی کے بحران سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ پاکستان کے مخالف نہیں چاہتے کہ سی پیک مکمل اور فعال ہو کہ پاکستان کی خوشحالی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی لیکن وہ آگاہ نہیں کہ پاکستان کی مسلح ا فواج، عوام اور حکومت اس معاملے پرایک پیج پر ہیں کیونکہ سی پیک خطے کی خوشحالی اوراس وژن کا عکاس ہے جو ترقی وخوشحالی کی نئی راہیں کھولے گا اور گوادر کی بندر گاہ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کامرکز بن جائے گی اور اس کے ثمرات پاکستان کے چاروں صوبوں اورآزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا مقدر بنیں گے۔


ای پیپر