یکم مئی اور انسانی حقوق کا چارٹر
29 اپریل 2018

یکم مئی مجبوروں کی محکوموں پر فتح کایہ دن ہے، ظلم اور استحصال کے خلاف کی گئی جدوجہد کی کامیابی کا یہ دن ہے، سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مزدوروں کی بغاوت کایہ دن ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس کی مختصر تاریخ آپ کے سامنے رکھیں گے۔ اگرچہ ہر سال مختلف اخبارات و رسائل میں اس حوالے سے بہت کچھ چھپتا ہے، لیکن یاد کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔مغربی سرمایہ دارانہ نظام میں مزدروں سے ایک دن میں اوسطاً سولہ اور اٹھارہ گھنٹے کام لیا جاتا تھا، اس کے مقابلے میں انکی مزدوری بہت کم رکھی جاتی تھی جبکہ انہیں دیگر مراعات بھی نہیں دی جاتی تھیں۔1886 میں شکاگو میں مزدروں نے اپنے مطالبات کے حق میں تحریک شروع کی۔ ان کا بنیادی مطالبہ تو دن میں آٹھ گھنٹے کام کا تھا، اس کے ساتھ ساتھ تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مطالبات شامل تھے۔ ابتدا میں فیکٹری، مل مالکان، سرمایہ داروں نے مزدروں کے احتجاج پر کان نہیں دھرے، لیکن جب احتجاج بڑھتا گیا تو انہوں نے مقامی اور تربیت یافتہ مزدوروں کے بجائے غیر مقامی اور غیر تربیت یافتہ مزدوروں کو ملازمتوں پر رکھنا شروع کردیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر مزدوروں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے مطالبات نہیں مانے گئے تو یکم مئی سے وہ ہڑتال پر چلے جائیں گے۔
مالکان نے مزدوروں کے مطالبات کو در خوردِ اعتنا نہیں سمجھا، جس کے نتیجے میں یکم مئی کو شکاگو کے تمام کارخانوں اور فیکٹریوں میں ہڑتال کی گئی، تیسرے دن یعنی تین مئی کو مزدوروں نے ایک بہت بڑا جلسہ منعقد کیا، پولیس نے مزدوروں کے احتجاج کو کچلنے کے لیے بلا جواز فائرنگ کی اور اس کے نتیجے میں 5 مزدور جاں بحق ہوگئے۔ اپنے ساتھیوں کے قتل کے بعد مزدوروں کا عزم مزید پختہ ہوگیا اور وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے اپنے سرمایہ داروں کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔ 4 مئی 1886 کو شکاگو کے ’’ہے مارکیٹ اسکوائر‘‘ پر ایک بہت بڑا احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا اور اس میں گزشتہ روز جاں بحق ہونے والے اپنے ساتھیوں کے حق میں تقاریر کی گئیں۔ جلسہ ابھی جاری تھا کہ ایک پولیس آفیسر 180 سپاہیوں کے ساتھ جلسہ گاہ میں داخل ہوا اور اس نے جلسہ ختم کرنے کا حکم دیا۔جلسہ اس وقت اختتام پذیر تھا جب ایک اور سانحہ ہوا کہ کسی شر پسند نے جلسہ گاہ میں دھماکہ کردیا، اس کے نتیجے میں چند پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے۔یہ صورتحال دیکھ کر پولیس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں 2 عورتوں اور ایک بچے سمیت11افراد جاں بحق ہوگئے۔ ایک مزدور نے اپنی قمیض خون میں ڈبو کر اس کا جھنڈا بنایا، اس طرح سرخ رنگ مزدوروں کی جدوجہد کی علامت بن گیا۔
جلسہ گاہ میں دھماکے اور پولیس اہلکاروں کے قتل کے الزام میں مزدوروں کے سرکردہ رہنماؤں کو گرفتار کر کے ان پر مقدمہ قائم کیا گیا اور ان میں سے بیشتر کو عمر قید اور چار کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ ان مزدوروں نے جان دے دی لیکن ان کے الفاظ تاریخ میں امر ہوگئے۔ ’’غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہونگی۔ اسپائر‘‘ ’’تم ہمیں مار سکتے ہو مگر ہماری تحریک ختم نہیں کرسکتے۔ اینجل‘‘ ’’ہم خوش ہیں کہ ایک اچھے مقصد کے لیے جان دے رہے ہیں۔ فیشر‘‘ ’’تم اس آواز کو بند کرسکتے ہو لیکن وقت بتائے گا کہ ہماری خاموشی ہماری آواز سے زیادہ طاقتور ہوگی۔ پریسٹر‘‘۔
اور یہی ہوا۔وقت نے ثابت کیا کہ مزدوروں کی تحریک ختم نہیں ہوئی، ان کی خاموشی ان کی آواز سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی اور اس ساری جدوجہد اور جان کی قربانیوں کے نتیجے میں مزدوروں نے 8 گھنٹے کے اوقات کار کا بنیادی حق حاصل کیا جب کے اس کے ساتھ ساتھ مناسب مزدوری اور دیگر مراعات بھی حاصل کیں۔ سب سے بڑی بات یہ کہ ان مزدوروں اور ان کی قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ یہ لوگ تاریخ میں امر ہوگئے ہیں۔ ہر سال جب بھی یکم مئی کا دن آتا ہے تو ان مزدوروں کی یاد میں جلسے، جلوس، ریلیاں منعقد کی جاتی ہیں، ان کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔یقیناً آج صنعتی مزدوروں کو جو بنیادی حقوق حاصل ہوئے ہیں اس میں جانبازوں کا کلیدی کردار ہے۔لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جن حقوق کے حصول کے لیے ان مزدووں نے اپنی جانیں قربان کیں، قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں، تکلیفیں سہیں، وہ حقوق تو اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے ہی انسانوں کو عطا فرما دیئے تھے۔ قرآن پاک کی سورہ الزخرف آیت نمبر 32 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کیے ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدر جہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔‘‘
ملازموں،، خادموں یا غلاموں کے حوالے سے نبی مہربان ﷺ کا ارشاد گرامی کا مفہوم ہے کہ ’’یہ تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ نے تمہارے ماتحت بنایا ہے، ان کو وہی کھلاؤجو خود کھاؤ، وہی پہناؤ جو خود پہنو، ان سے ایسا کام نہ لو کہ جس سے وہ بالکل نڈھال ہوجائیں، اگر ان سے زیادہ کام لو تو ان کی اعانت کرو‘‘ (بخاری و مسلم) ذرا اس حدیث مبارکہ پر غور کیجیے تو معلوم ہوتا ہے کہ مزدوروں کے حقوق کی مکمل پاسداری کی ہدایت کی جارہی ہے۔ اس میں ان کی اچھی تنخواہ، ان کی استعداد کے مطابق کام، ان کے آرام، ان کی معاونت اور ان کی عزت نفس کا خیال رکھنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ آگے چلیے ایک اور حدیث پاک کا مفہوم آپ کے سامنے رکھتے ہیں، نبی اکرمؐ کا ارشاد پاک کا مفہوم ہے کہ ’’ملازم اگر ستر بار بھی غلطی کرے تو اسے معاف کر دو‘‘ کتنی پیاری بات ہے۔ کتنے حکیمانہ انداز میں یہ سمجھایا جارہا ہے کہ اگر تمہارے ملازم سے کوئی غلطی ہوجائے، کوئی بھول چوک ہوجائے تو اسے معاف کردو، یہ نہیں کہ اس کو سخت سزائیں دو یا بہت سے لوگ جسمانی سزا تو نہیں دیتے لیکن اپنی باتوں، اپنے لہجے اور جملوں سے اپنے ملازموں، ماتحتوں کی روح کو زخمی کردیتے ہیں۔ ہمارے پیارے نبیؐ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔
ایک اور موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’مزدور کو مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دو۔‘‘ (ابنِ ماجہ) مزدوروں کے حقوق اور ان کا پیارے نبی کو کتنا خیال تھا اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے لگایا جاسکتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ’’قیامت کے دن جن تین آدمیوں کے خلاف میں مدعی ہوں گا ان میں ایک وہ شخص جو کسی مزدور کو رکھے اور اس سے پورا پورا کام لے مگر مزدوری پوری نہ دے‘‘ (بخاری) یہاں یہ بات بھی عرض کرتا چلوں کہ ہفتے میں چھے دن کام اور ایک دن آرام کا اصول بھی کسی مغربی مفکر نے عطا نہیں کیا بلکہ صدیوں پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مزدوروں کو ہفتے میں ایک دن آرام کا حق دلایا تھا۔ جب بنی اسرائیل مصریوں کے غلام تھے اور فرعون ان سے بے انتہا کام لیتا تھا، ذرا سی سستی دکھانے پر ان کو کوڑوں اور چھڑیوں سے پیٹا جاتا تھا، قبطی غلاموں کی حالتِ زار بہت خراب ہوگئی تھی۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے محل میں ہی ہتے تھے، انہوں نے ہی فرعون کو یہ مشورہ دیا تھا کہ ان سے اتنا زیادہ کام نہ لو اور انہیں ہفتے میں ایک دن آرام کا موقع بھی دو۔
ان تمام باتوں سے یہ معلوم ہوا کہ انسانی حقوق اور مزدوروں یا ملازموں کے حقوق کا سب سے بڑا چارٹر اسلام نے ہی دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے پیغام کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ پہنچائیں اور دنیا کو یہ بتائیں کہ دہشت گردی اسلام کی تعلیمات نہیں ہیں بلکہ اسلام تو دین فطرت ہے اور جن حقوق کے لیے شکاگو کے مزدوروں کو اپنی جانیں قربان کرنی پڑی تھیں وہ حقوق تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صدیوں پہلے لوگوں کو عطا کردیے ہیں۔


ای پیپر