ضمیر فروش گھوڑے اور کپتان
29 اپریل 2018

جب بھی ملک میں لوٹا کریسی کی تاریخ مرتب کی گئی تو اس کی ابتداء یقیناًچھانگا مانگا میں اراکینِ پنجاب اسمبلی کو پیش کئے گئے تکوں، بٹیروں، چانپوں سے ہو گی، 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد منتخب اراکینِ اسمبلی کی جو حمایت حاصل کی گئی وہ درحقیقت لوٹوں کو اکٹھا کر کے حاصل کی گئی۔ لیکن حالیہ دنوں میں پاکستان کے سینیٹ کے انتخابات میں مہروں کی تبدیلی کا کھلے عام عمل اتنا اچانک اور غیر متوقع ہوا کہ سیاسی و عوامی حلقے اس پر سخت حیران ہو گئے ہیں۔ یہ جو ملک میں سیاسی غیر یقینی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ سیاستدانوں اور سیاسی حکومتوں کی کرپشن ہے اورہارس ٹریڈنگ اس کا ایک ثبوت ہے۔ ایسے میں عمراں خان کا سینیٹ الیکشن میں ضمیر بیچنے والے 20 سینیٹرز کو شو کاز نوٹس جاری کرنا بلاشبہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ عمران نے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے پارٹی کو جمہوری بنانے اور ووٹر کو عزت دینے کا آغاز کر دیا ہے۔ جب تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے سینیٹ کے انتخابات میں بولیاں لگنے کی باتیں کی جا رہی تھیں تو ایسے میں تحریکِ انصاف ہی وہ جماعت بن کر ابھری جس نے مبینہ طور پر سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کر کے اخلاقی برتری حاصل کر لی۔ کپتان نے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا تھا وہ دیگر سیاست دانوں کی طرح روایتی نہیں بلکہ انہوں نے پارٹی کے اندر احتساب کی بنیاد رکھ کر اس کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔ تحریکِ انصاف نے سینیٹ انتخابات سے قبل براہِ راست انتخابات کا مطالبہ کیا تھا تا کہ ووٹوں کی خرید و فروخت کو روکا جا سکے مگر سچ تو یہ ہے کہ عرصہ دراز سے قائم اس روایت کو ختم کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوا۔ سینیٹ انتخابات کے موجودہ طریق کار سے جمہوری نظام کے مخالفین کو الزام لگانے کا موقع ملتا ہے اور ارکانِ اسمبلی کی وفاداریوں پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں لیکن اگر تمام سیاسی جماعتیں اسی جرأت کا مظاہرہ کریں اور کرپٹ اور ضمیر فروشوں کو نکال دیں تو آئندہ کبھی کسی بھی رکنِ اسمبلی کو اپنی قیمت لگوانے کی جرأت نہ ہو اور نہ ہی کسی کو کبھی ارکانِ اسمبلی کی بولیاں لگانے کی ہمت ہو گی۔ ماضی میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لئے باتیں تو بہت ہوتی رہیں لیکن ٹھوس عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر کئے گئے حتیٰ کہ 2008ء کے انتخابات میں میاں شہباز شریف نے اپنی حکومت بنانے کے لئے مسلم لیگ (ق) کے لوٹے چمک دکھا کر اپنے ارد گرد اکٹھے کر لئے تھے اور اس طرح وہ ان کے ووٹ لے کر 5سال تک پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ہمارے انتخابی نظام میں بد قسمتی سے یہ کلچر فروغ پا چکا ہے کہ امیدوار بننے سے انتخاب لڑنے تک پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے اور پیسے کے زور پر انتخاب جیتنے والے اراکینِ اسمبلی اپنا لگایا ہوا پیسہ کئی گنا وصول کرنے کے لئے ہر حربہ آزماتے ہیں حتیٰ کہ عوام کی فلاح کا بھی کوئی کام پیسے کی چمک دمک کے بغیر نہیں کرتے۔ ہماری پارٹی قیادتوں نے خود اس کلچر کو فروغ دے کر انتخابی عمل کو دھن دولت کے ساتھ منسلک کیا اور عام آدمی کے لئے انتخابات میں حصہ لینا عملاً ناممکن بنا دیا ہے۔
کسی قوم کے لئے 70سال کا عرصہ بہت ہوتا ہے ،ہمیں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونا ہے تو اس طرح کی بے ترتیبیوں کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے اور اگر اب بھی ہم حالات میں سدھار نہیں لائے تو ہماری سیاست مفاد پرستوں کے گرد ہی گھومتی رہے گی جس سے غریب عوام کو کچھ نہیں ملے گا۔عوام اپنے ووٹوں کے ذریعے سیاسی جماعتوں اور اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے اقتدار کے ایوانوں میں اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ نہ صرف ان کے مسائل کے حل کے لئے کام کریں بلکہ ایسے اقدامات عمل میں لائیں اور ایسی پالیسیاں اپنائیں کہ ملک میں عوام کی حکمرانی کو مستحکم اور یقینی بنایا جا سکے۔ لیکن جب ان کے یہی نمائندے کچھ ڈلیور کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور مال بنانے کے لئے ہر کام کرنے کو تیار رہتے ہیں تو غیر جمہوری قوتوں کو آگے آنے کا موقع مل جاتا ہے۔ تو ظاہر ہے سب سے زیادہ افسوس انہی ووٹروں اور عام آدمی کو ہوتا ہے اور آمریت کے منفی اثرات بھی سب سے زیادہ انہی کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام سیاستدانوں کے حالات کو سنبھال نہ سکنے کے بار بار کے تجربات سے دلبرداشتہ ہوتے جا رہے ہیں اور اب یہ بات برسرِ عام کی جانے لگی ہے کہ سیاست دان بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہر بار حالات کی کنی ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔ کوئی حکومت آئین و قانون کی حکمرانی پر کاربند ہو تو اس کے خلاف کسی ماورائے آئین اقدام اٹھانے کی جرأت ہو سکتی ہے نہ انصاف کی عملداری کے کسی فلسفہ کے تحت اس کے اقتدار کی بساط لپیٹنے کی نوبت آ سکتی ہے۔ اس تناظر میں حکمرانوں کو آئین و قانون کی پاسداری اور انصاف کی عملداری کو یقینی بنانے کی تلقین کرنا در حقیقت عوام کے دلوں میں اس کی قبولیت برقرار رکھنے کی کوشش کرنے کے مترادف ہے۔
شوکت خانم ہسپتال عمران خان کا نیا جنم ہے، وہ جو عوام کے لئے سوچتا ہے اور جس کے اعمال اس کے الفاظ کے گواہ ہیں۔ وہ قانون کی حکمرانی چاہتا ہے، وہ کرپشن سے پاک معاشرے کا خواہشمند ہے، وہ انسانوں کے دکھوں کو اب اپنی ذات پر طاری کر لیتا ہے، مصنوعی زندگی کے پیراہن اب اسے اپنی جانب متوجہ نہیں کرتے کہ وہ زندگی کی برہنہ سچائیوں کو محسوس کر سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ سوچا جائے کہ سیاست کے پر پیچ راستے میں اس کی پیش قدمی کے امکانات کیا ہیں؟ تو یہ سیاسی تجزیے کا ایک دوسرا میدان ہے۔ سیاسی کامیابی اور ناکامی کا تعلق اخلاقیات سے نہیں بعض دوسرے عوامل سے ہے لیکن آج اس نے وطنِ عزیز میں سیاست کی اقدار کو بلند کر دیا ہے اس کی کوششوں سے ہی بااثر اور طاقتور قانون کے کٹہرے میں کھڑے ہوئے۔ اس نے لوگوں کی سوچ بدل دی ہے۔ آج ببانگِ دہل کہا جا رہا ہے کہ کوئی مارشل لاء نہیں لگا سکتا نہ ہی کوئی کرپٹ اپنے انجام سے بچ سکتا ہے۔ خود ان کی شخصیت پر ابھی تک بد عنوانی اور کرپشن کا پاکستانی روایتی داغ نہیں لگا ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے ورنہ ہماری سیاسی دنیا میں ہر طرف داغ ہی داغ ہیں۔ ان میں اگر کوئی بے داغ ہے تو یہ انوکھی اور نادیدہ بات ہے۔ عمران خان کی پر جوش اور ہنگامہ خیز سیاست میں بلا شبہ بہت سی کوتاہیاں بھی ہوں گی اور بے اعتدالیاں بھی لیکن ان کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جس نوع اور طرز کی سیاست کے ہم عادی ہیں وہ ان کے لئے اجنبی ہے۔ پاکستان اپنی پیدائش کے بعد سے اب تک پاکستانی سیاسی قیادت کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ایک طرف شوکت خانم تو دوسری طرف نمل اور تیسری سیاست، قائدِ اعظم جیسے قائد سے محرومی کے بعد اس ملک کو پھر کوئی پاکستانی لیڈر نہ مل سکا۔ عمران خان کی جدو جہد، مستقل مزاجی، قومی و عوامی درد اور سیاسی بصیرت کو دیکھ کر جو اندازہ لگایا جا سکتا ہے، یہ وہی معقول اور قابلِ برداشت لیڈر ہے جس کی قوم کو سات دہائیوں سے تلاش تھی۔ عمران خان پاکستان کا آئیڈیل لیڈر ہو نہ ہو اس وقت تک وہ کرپشن اور بد دیانتی سے نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اس کی ذات پر کوئی دھبہ نہیں ہے۔ وہ سچائی کے ساتھ اس قوم کو بلندیوں پر لے جانے کے لئے پر ازم ہے۔ سینیٹ کے حالیہ انتخابی عمل میں پیسے کے لین دین اور ہارس ٹریڈنگ کی لعنت کے سدِ باب کے لئے عمران خان نے ایک قابلِ تحسین قدم اٹھایا ہے جس سے انہیں آئندہ انتخابات میں نقصان بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ کپتان کوئی کچھ بھی کہتا رہے اور خواہ اس کی کچھ بھی قیمت چکانی پڑے ملک سے لوٹا کریسی کے خاتمے کے لئے ڈٹے رہنا۔


ای پیپر