بولتے کیوں نہیں میرے حق میں۔۔۔
29 اپریل 2018 2018-04-29

جان ایلیا کا ایک شعریادآرہا ہے پتا نہیں انہوں نے یہ شعرکس مظلوم کی آہ سن کرلکھا ہوگا اسی شعرکی بناء پرمیرا یکم مئی المعروف’’لیبر ڈے‘‘ کے حوالے سے کالم لکھنے کاموڈبن گیا۔۔۔
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑگئے زبان پرکیا؟
عزیزقارئین وطن عزیزپاکستان میں سب سے مشکل کام کسی کے حق میں سچی گواہی دینااورحق کے لئے آوازبلندکرنا ہے ،الحمدللہ میں نے جودیکھا بلاخوف اسے لکھا اورروزنامہ نئی بات نے اسے چھاپ دیا۔۔۔
حق بات پہ کٹتی ہے توکٹ جائے زباں میری
اِظہارپرحق توکرجائے گا جوٹپکے گا لہو میرا
کہنے کو توپاکستان پیپلز پارٹی غریب اورمزدورکی پارٹی کہلاتی ہے، اس پارٹی کے سابق وفاقی اورموجودہ صوبائی(صوبہ سندھ) دورمیں ہزاروں ٹن گندم خودساختہ طورپر گوداموں میں پڑی دیمک چاٹ گئی ا ورصحرائی علاقے تھرمیں سینکڑوں عورتیں اوربچے گندم کی قلت کے باعث سسک سسک کر،بلک بلک کراللہ کوپیارے ہوگئے اور مزیدہورہے ہیں۔۔۔۔
گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب
بیٹی کسی مزدور کی فاقوں سے مر گئی
دوسری طرف شہرملتان کے رہائشی سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اوران کے پڑوسی شہرلودھراں کے رہائشی سیاستدان جہانگیر ترین کے شہر کے عوام کی حالت زار بھی صوبہ سندھ کے پسماندہ عوام سے کم نہیں ہے اللہ تعالیٰ ایسے’’ غلاموں‘‘کی غلامی سے نجات عطا فرمائے۔ میں نے ذاتی طورپران علاقوں کا وزٹ کیا ہوا ہے آپ یقین کیجئے کہ عوام بے چارے اپنے ان نیک نام اورامیر ترین ہستیوں کے بارے میں ایک دوسرے سے صوفی شاعر بابا بُلھے شاہ کے شعر میں پوچھنے پرمجبورہیں کہ۔۔۔
حرام وِی پیتی جاندے او۔۔۔نمازاں وِی نیتی جاندے او
حج وِی کیتی جاندے او۔۔۔تے لہو وِی پیتی جاندے او
دسوبُلھے شاہ نوں سارے۔۔۔ایں کیہ کیتی جاندے او
اورتیسری طرف تخت لاہورکے خادم اعلیٰ میاں محمدشہبازشریف ہیں۔ مزدوروں نے ان کوووٹ روزگارفراہم کرنے،بجلی کے بحران کے خاتمے، اورآخری عمرمیں پنشن مزدورکی تنخواہ کے برابرکرنے کے لئے دئیے تھے لیکن موصوف کے ذہن میں پبلک مقامات پرمیٹرواوراورنج گاڑیوں اورٹرینوں کے منصوبے سوار ہو گئے اورمزدوربے چارے منہ تکتے رہ گئے۔ جتنی صلاحیتیں اورچالاکیاں خادم پنجاب اوردیگر سیاست دانوں میں پائی جاتی ہیں یقین کریں اگر حکمرانوں کی نیت صاف ہو تو ناممکن کام بھی ممکن ہوجائیں ۔ بس راستہ ہموار کرنے کے لیے اپنا ’’لنگ‘‘ اور ’’ڈھنگ‘‘ ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ بقول حضرت مجذوبؒ ۔۔۔
تو جو راہرو ہر قدم پر کھا رہا ہے ٹھوکریں
لنگ خود تجھ میں ہے ورنہ راستہ ہموار ہے
میں صبح کی واک کرتے ہوئے واپسی پر جب بھی مزدوروں کے اڈے سے گزرتا ہوں ان مزدوروں کے بجھے بجھے چہرے دیکھ کر ذہن میں پیارے دوست ےٰسین یاس کا شعر گردش کرنے لگتا ہے۔۔۔
جس دے منہ تے رونق ہووے
اک وی اوہ مزدور وکھا دے
میرے ان مزدوربھائیوں کے چہروں پررونق تونہیں ہوتی لیکن ایک بات پورے وثوق سے کہتا ہوں یہ رات کو میٹھی نیندلانے کے لئے حکمرانوں کی طرح نیندکی گولیاں کھا کرنہیں سوتے۔۔۔
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بیچ کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
جب تاجرحکمران خوداپنی ہی فیکٹریوں میں مزدورکی مزدوری نہ بڑھا سکے تودوسروں تاجروں سے کیا اُمیدکی جاسکتی ہے بقول علامہ اقبال۔۔۔
زمان کاراگر مزدورکے ہاتھوں میں ہوں پھر کیا
طریق کوہ کن میں بھی وہی حیلے ہیں پرویزی
بے چارہ مزدور سونے اورہیروں کی کانوں اوردُکانوں پردن رات ایک کرکے بھی اپنی بیٹی کوپتیل کی بالیوں میں ہی بیاہ رہا ہے۔۔۔
پیتل کی بالیوں میں بیٹی بیاہ دی
باپ کام کرتا تھا سونے کی کان میں
بہت عرصہ پہلے مشہور شاعرساغرصدیقی نے ایک شعرکہا تھا ۔۔۔
جس دورمیں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس عہدکے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے
اور آج جب سلطان خود ہی چور ہو اس سلطا ن سے کیا بھول ہوئی ہوگی؟ گزشتہ زرداری کے عہد حکومت میں وزیرتوقیر صادق محکمہ (ای او بی آئی)کے 80ارب روپے غبن کرگیااللہ تعالیٰ ان غلاموں کی غلامی سے محفوظ فرمائے اورہمیں حضرت عمرؓاورحضرت ابوبکرصدیقؓ جیسے حکمران عطافرمائے ۔حضرت ابوبکرصدیقؓ جب خلیفہ بنے تو اُن کی تنخواہ کا سوال پیدا ہوا۔ آپؓ نے فرمایا، مدینہ میں ایک مزدور کو جو یومیہ اُجرت دی جاتی ہے اتنی ہی میرے لیے بھی مقرر کی جائے۔ ایک ساتھی نے کہا، اتنی کم اُجرت میںآپ کا گزارہ کیسے ہوگا؟ آپؓ نے فرمایا، میرا گزارہ بھی اسی طرح ہوگا جس طرح مزدور کا ہوتا ہے۔ ہاں اگر گزارہ نہ ہوا تو میں مزدور کی اُجرت بڑھا دوں گا۔ اس طرح میرا وظیفہ بھی بڑھ جائے گا۔۔۔
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
’’غارِیار‘‘ کی اس قندیل کی روشنی میں خادِم پنجاب کو بھی چاہئے کہ مزدوروں کے حقوق کا خیال رکھیں ۔ آنے والے بجٹ میں مزدور کی تنخواہ بیس ہزار روپے اور ریٹائرڈ ورکرز کی پنشن کم ازکم پندرہ ہزار کرکے مزدوروں کی دُعائیں لے کرہمیشہ ہمیشہ کے لئے امرہوجائیں۔
منزل تیری تلاش میں گھومے گی دَربدر
خلق خدا کی راہ سے روڑے ہٹاکے دیکھ


ای پیپر