ضمیر کا چیف جسٹس
29 اپریل 2018 2018-04-29

پا کستا ن سمیت دنیا میں ایسی کو ئی مثا ل نہیں ملتی کہ ریاست اور ریاستی مشینری ہونے کے باوجود کسی ملک کا چیف جسٹس عوامی مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے اتنے بڑے پیمانے پر ملک کے چاروں صوبوں میں ہنگامی دورے کرے۔ ملک پاکستان جسں کو کہ مسائلستان کہنا غلط نہ ہو گا جہاں چاروں طرف کر پشن بد عنوانی کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں میں میری نظر میں چیف جسٹس کے عوامی مفاد عامہ کی خاطر ایسے انصاف پسند دورے عین اسلامی ریاست کے مطابق ہیں جہاں قاضی عوام سے ہونے والی نا انصافیوں کے جواب دہ ہیں گزشہ روز ایک فریادی کے زنجیر عدل ہلانے سے قاضی وقت جب خیبر پختونواں کے علاقے بالاکوٹ پہنچے جو شہر آج سے ۱۲ سال قبل ایک قدرتی آفت کی نذر ہو گیا تھا اور سوائے نا م کے وہاں کچھ با قی نہ بچاجسں کی بحالی کے لیے ایک ادارہ کو فعال کیا گیا جسں کا نام ایرا ہے، جس کے اکاؤنٹ میں تمام پاکستانیوں سمیت دنیا بھر کے تمام انسانوں نے رنگ نسل ومذہب کو پسں پشت ڈالتے ہوے انسانیہت کے نا م پر با لا کوٹ کے رہایشیوں کو ازسرنو آباد کرنے کے لیے ۵ارب ڈالر بھیجے باقی ذاتی حیثیت میں غیر ملکی پاکستانیوں کی بڑی تعدادنے اپنے طور پر آ کراپنے ان پاکستانی بھائیوں کی دل کھول کر امداد کی۔ ان کو سر ڈھانپنے کے لیے گھر بنوا کر دیے۔ اور روزگار کمانے کے لیے وسائل مہیا کیے مگرریاست کے قائم کردہ ادارے ایرا کی کارکردگی کا بھانڈا س وقت کھل کر سامنے آیا جب چیف جسٹس پا کستان جناب میاں ثاقب نثار ایک مقامی شہری کی درخواست پر بالا کوٹ پہنچے تو شہریوں نے پھوٹ پھوٹ کر اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے انبار لگا دئیے۔ چیف جسٹس پاکستان نے متعلقہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے ایرا کے اہلکاروں پر سخت برہمی اورناراضگی کا اظہار کیا اور متعلقہ سیشن جج سے ۳ روز میں رپورٹ سپریم کورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ۔ یہ پاکستان کے ایک دور دراز چھوٹے شہر بالاکوٹ کا ۵ارب ڈالر کی بد انتظامی اور بد عنوانی کا حال ہے۔ ابھی پورا پاکستان با قی ہے۔ ایسے میں عوام کی فریاد وقت کا قاضی بھی نہ سنے گا تو عوام کہاں جائیں کیا کریں جب کہ جمہوری طور پر منتخب کیے ان کے نمایندے بھی ان کی داد رسی نہیں کرتے پھر عوام کے لیے خودکشیوں کا ہی راستہ بچتا ہے دوسری طرف چیف جسٹس کے عوامی مفاد عامہ کومد نظر رکھتے ہوے شہرشہرجا کر عوامی شکایات سننے اور ان پر فوری عمل کروانے کے اس اسلامی طرز عدالتی نظام کو عوامی سطح پر بھر پور حمایت مل رہی ہے اور عوام میں نچلے درجے کا شہری ہونے کااحساس محرومی کا خاتمہ ہو رہا ہے مگر ۷لاکھ ۹۵ہزار مربع میل پر محیط ملک پاکستان یعنی مسائلستان میں جس قدر اخلاقی معاشی و معاشرتی گراوٹ ہو چکی ہے اس کے لیے ایک چیف جسٹس جس کی مدت ملازمت میں ۶ مہینے باقی ہیں ایسی صورت میں ہر انسان کو اپنے اندر ایک ایسا چیف جسٹس پیدا کرنا چاہیے تاکہ یہ معاشرہ ہر قسم کی بداخلاقی سے پاک ہو جائے۔ جہاں پر ہمارے بچوں کی زندگیوں کے ساتھ ان کی عزتیں بھی محفوظ ہوں۔ چیف جسٹس کے ایسے اقدام کو جہاں عزت و تکریم سے دیکھا جا رہا ہے۔ وہیں پر کچھ قانون دانوں کی رائے مختلف ہے۔
اعتزاز احسن نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس کے عوامی مفاد کے ہنگامی دورے اختیارات سے تجاوز کی باٹم لائن کے قریب ہیں۔ یہ ان کی رائے ہے۔ لیکن اصل رائے ہمیشہ عوام کی ہی ہوتی ہے۔ اور عوام پوری طرح خوش اور چیف جسٹس کے ساتھ ہیں۔ میڈیکل کالجز کی فیسوں کا معاملہ ہو۔ ہسپتالوں کی حالت زار ہو یا پھر امن و امان کے مسائل، چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے قوم کی مدد ہی کی ہے۔ پاکستانی قوم ایسی قوم ہے کہ یہ ہر احسان کرنے والے انسان کو ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ اگر چیف جسٹس صاحب اس قوم کو ان مشکلات سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے تو یوں سمجھیے کہ پاکستانی قوم ان کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پاکستان کے پاس کس چیز کی کمی ہے۔ یہاں چار موسم ہیں، سونا اگلتی زمینیں ہیں۔ معدنیات ہے۔ جفا کش قوم ہے۔ سب کچھ ہے یہاں اگر کمی ہے تو صرف ایک اچھے لیڈر کی، جو اس قوم کی مدد کرے، اسے اس بھنور سے نکالے۔ کرپشن کے عفریت کا خاتمہ کرے۔ اس وقت پاکستان بھر میں سوائے چیف جسٹس صاحب کے دوسرا ایسا کوئی نظر نہیں آتا جو ایسا کر سکے۔ عوام کے پاس اس وقت اور کوئی ایسا آسرا بھی نہیں جس سے امید لگائی جا سکے۔ میں تو حیران ہوں ان لوگوں پر جو یہ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس صاحب ان کے کام میں مداخلت کر رہے ہیں۔ اس کو مداخلت کیوں کر سمجھا جا سکتا ہے۔ جب ادارے اپنے کام ایمانداری سے نہیں کریں گے تو مداخلت تو ہو گی ہی۔ اور ویسے بھی جو مداخلت بہتری کے لئے ہو وہ مداخلت نہیں ہوتی بلکہ رحمت ہوتی ہے۔



ای پیپر