لرزہ خیز سیاسی بھونچال
28 ستمبر 2020 (14:16) 2020-09-28

ملکی سیاست پر لرزہ طاری ہے۔ بھونچال کی کیفیت سے دوچار، واقفان حال اور اندر باہر کے لوگ جانے کس برتے پر کہنے لگے ہیں کہ چیزیں فائنل کی جا رہی ہےں۔ شاید دسمبر میں کچھ ہونے والا ہے یا پھر جنوری میں کچھ ہوجائے گا یا پھر ستمبر اکتوبر کی طرح دسمبر جنوری بھی اسی طرح گزر جائے گا۔ کچھ نہیں ہوگا۔ ”یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور، اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائین گے۔ قریبی لوگوں نے بڑے وثوق سے کہا ہے کہ چیختے چلاتے سیاستدانوں کو بتا دیا گیا ہے کہ دھیرج رکھیں، دو سال گزر گئے تین سال اور انتظار کرلیں شاید یہ بھی جمہوریت کا حسن ہے۔ اتنی باتیں ان کیمرا اجلاسوں اور سیکریٹ میٹنگز میں نہیں ہوتیںجتنی ٹی وی چینلز پر کی جاتی ہیں۔ چینلز والے بھی خاصے سیانے ہوگئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بلاتے ہیں جن کی بریکیں فیل ہوتی ہیں۔ بے نقط بولتے اور پنڈی وال کی طرح بے بھاﺅ کی سناتے ہیں، معدودے چند لوگ کام کی بات کرتے اور سننے والوں کو متاثر کرتے ہیں۔ بیشتر پروگراموں میں تو آغاز ہی سے دنگا فساد شروع ہوجاتا ہے۔ لگتا ہے قومی اسمبلی یا سینیٹ کا اجلاس ہو رہا ہے۔ یا پھر اس کے لیے مچھلی بازار کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے پروگراموں کا مرغوب موضوع حکومتی کارکردگی معاشرتی بربادی، معاشی تباہی، ایک طرف فاضل عدالتوں کے بے شمار زریں ریمارکس، حکومتی کارکردگی صفر، ریاست رٹ قائم کرنے میں ناکام، مافیاز بے لگام ریلوے تباہی کے دہانے پر مفادات کے ٹکراﺅ کے سوا کچھ نہیں، ریمارکس مخالفین کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ مزہ دیتے ہیں لوگ خوش ہوتے ہیں کہ کہیں سے تو نگرانی ہو رہی ہے۔ دوسری طرف شور مچانے اور دنگا فساد کی کھلی چھٹی۔ اخلاقیات سیاست چیپٹر کیا معاشرتی باب سے خارج ہوگئی سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا۔ دو سال لگے ہیں۔ سیاسی بھونچال کیوں آیا 20 ستمبر کو انہونی ہوگئی۔ حزب اختلاف اس روز حزب اتفاق میں تبدیل بقول اسماعیل میرٹھی۔ ”یہ ایک دن میں کیا ماجرا ہوگیا کہ جنگل کا جنگل ہرا ہوگیا“ شاید باہر بیٹھے وزیروں مشیروں اور ترجمانوں کو توقع نہ تھی کہ برسوں کے مخالف چشم زدن میں شیر و شکر ہوجائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کے حلوے کا نتیجہ تھا یا بلاول کی میٹھی باتوں کا اثر کہ تلخ لہجوں میں مٹھاس بھر گئی۔ سیاسی منظر لرزہ براندام ہوا۔ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ حالات کا جبر یا کوئی سگنل کوئی غیبی اشارہ، لوگ بھی تو تنگ آ گئے ہیں۔ کوئی کل سیدھی نہیں، مہنگائی کی گونج آسمان پر سنائی دے رہی ہے۔ پہلے آسمان کے فرشتے کانوں کو ہاتھ لگانے لگے ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ جان بچانے والی 94 دواﺅں کی قیتموں میں کم و بیش 3 سو فیصد اضافہ۔ فرمایا دوائیں مارکیٹ میں دستیاب نہیں تھیں۔ اس لیے قیمتیں بڑھا دیں۔ اب دستیاب ہوں گی۔ بالکل غلط، دستیاب تھیں اور اب نئے ٹیگ کے ساتھ مہنگے داموں ملیں گی۔ جسے جینے کی خواہش ہو خریدے اور زندگی کا لطف اٹھائے جو نہیں خرید سکتے مرجائیں ایسی زندگی کا کیا فائدہ جو غربت میں گزرے اور مہنگی دوائیں بھی نہ خرید سکیں۔ ”جسے دیکھنی ہو جنت میرے ساتھ ساتھ آئے“ عرض کر رہے تھے کہ حالات کا جبر کوئی سگنل، غیبی اشارہ، چند روز قبل ہی اوپر تلے دو ملاقاتیں ہوئیں چند روز بعد سب بھائی بھائی بن گئے۔ متبادل کی تلاش کے لیے سائنسی تجربے 

ہوتے رہتے ہیں۔ اسے بھی انہونی ہی کہا جائے کہ نواز شریف اچانک ٹی وی چینلز پر نمودار ہوئے اور محفل کا رنگ بدل گئے۔ اسے شاید تھر تھلی مچانا کہتے ہیں۔ تھرتھرانے کا مترادف ہے۔ سارے وزیر مشیر، ترجمان ایک بیمار شخص کے خطاب سے تھرتھرانے لگے۔ وہ دن اور آج کا دن تھرتھرا رہے ہیں کپکپا رہے ہیں۔ اندیشہ ہائے دور دراز غلط ثابت ہوئے گیارہ جماعتوں نے الائنس بنا لیا۔ آل پارٹیز کانفرنس کو منعقد ہوئے آٹھ نو دن بیت گئے آفٹر شاکس ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔ اتنے رد عمل کہ لوگ سنتے سنتے تنگ آگئے۔ موثر رد عمل کے لیے شیخ رشید کو بلانا پڑا انہوں نے برا سا منہ بنا کر کہا ان تلوں میں تیل نہیں، اپوزیشن کچھ نہیں کرے گی۔ دسمبر تک ن سے شین الگ ہوجائے گی۔ کوئی دھرنا، عدم اعتماد کی تحریک جلسے جلوس نہیں ہوں گے۔ کوئی استعفیٰ نہیں دے گا۔ استعفیٰ دیں نئے الیکشن کرادیں گے۔ سب فوجی قیادت سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ہر لیڈر کو بے نقاب کروں گا۔ حافظ حسین احمد نے شیخ صاحب کو ”ناجائز ترجمان“ کا لقب دے دیا۔ سوچنے کی بات ہے شیخ صاحب سرکاری طور پر کسی کے ترجمان نہیں صرف وزیر ریلوے ہیں کارکردگی کیا ہے ملاحظہ فرمائیں ہمارے ایک محترم دوست نے فیملی کے ساتھ کراچی سے سکھر جانا تھا ٹرین 3 گھنٹے تاخیر سے چلی، خیر پور اسٹیشن پر انجن فیل ہوگیا۔ چار گھنٹے میں انجن لگا۔ 8 گھنٹے کا سفر 15 گھنٹوں میں طے ہوا۔ واپسی میں قراقرم ایکسپریس میں بیٹھے، نواب شاہ اسٹیشن پر اس کا انجن فیل، چار گھنٹے بعد انجن دستیاب ہوا۔ 12 گھنٹے میں کراچی پہنچے۔ تیز گام میں اے سی کمپارٹمنٹ میں کاکروچز کی تعداد مسافروں سے زیادہ، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ،کس کے ترجمان ہیں۔ سب اپنے ہیں اپنوں پر فخر ہے دنیا میں بہترین گنے جاتے ہیں” اپنوں سے ملے کر کر لمبے ہاتھ“ کیا فرق پڑا کون سا جرم ہوگیا۔ ملاقاتوں سے قربتیں بڑھتی ہیں۔ فاصلے کم ہوتے ہیں۔ تو کون میں خوامخواہ۔ اے پی سی کے فورا بعد ملاقاتوں کا ذکر خیر چہ معنی دارد؟ کیوں آخر کیوں؟ تصوف کی کون سی منزل ہے۔ فرض کیجیے اپوزیشن نے استعفے دیے تو کیا شیخ صاحب الیکشن کرائیں گے؟ جمہوریت کی پیداوار ہیں تو جمہوری رویے اپنائیں، لوگوں نے کہنا شروع کردیا جس حکومت کو شیخ رشید جیسے ”ترجمان“ کی ضرورت پڑ جائے سمجھ لیں اس کا کاﺅنٹ ڈاﺅن شروع ہونے والا ہے۔ اے پی سی سے کوئی فرق پڑتا ہے یا نہیں آنے والے دنوں میں اندازہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اے پی سی نے حکومت کو سب کچھ بھلا دیا کرونا، مہنگائی، تعلیمی ادارے سب فراموش، ترجمانوں کو موٹر وے، گجر پورہ، نامرد بنانے کے طریقوں کی آزمائش سب کچھ بھول گیا۔ اپوزیشن یاد رہی سارے نیک بخت اپوزیشن کے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ گئے، لگتا ہے سیاست پر اسموگ اور دھند چھا گئی ہے۔ راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔ خوف و ہراس پھیلانا مقصد نہیں لیکن اس لرزہ خیز سیاسی بھونچال سے 1977ءکا دور یادآگیا۔ اس دور میں بھی وزیر اعظم کو یہی باور کرایا جاتا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا سب اچھا ہے ”جب نہیں کچھ بھی تو دھوکہ کھائیں کیا“ مگر دھوکہ کھا گئے ملک کا کیا حشر ہوا۔ آج تک سینوں کے زخم نہیں سلے، برے دن کہہ کر نہیں آتے، رات کو سوئیں تو صبح نیا سورج طلوع ہوجاتا ہے۔ ٹمٹمانے والے ستارے غائب ہو جاتے ہیں ”جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے“ والا دور بھلائے نہیں بھولتا، اپوزیشن متحد ہوگئی رینگے گی چلے گی پھر بھاگے گی۔ اس میں وقت لگے گا۔ جمہوری عمل ہے جمہوری حکومت جمہوری طریقہ سے نمٹے ۔ دو سال کے دوران نمٹ ہی رہی ہے۔ اس میں نیب کیوں سر گرم ہوگئی۔ اے پی سی ہوتے ہی زائد اثاثوں کے لیے طلبیوں کا سلسلہ تیز، سارے لیڈر داغدار، دوڑ نہ سکیں، بھاگنے نہ پائیں۔ ضمانتوں کے لیے بھاگ دوڑ ایک دو دن کی توسیع، دھیان جیل سے نہ ہٹنے پائے۔ اپوزیشن بھی کھیل رہی ہے۔ اے پی سی سے اتحاد ہوگیا اور کیا چاہیے کچھ کرنا ہے تو کیا جائے وزیر اعظم مستعفیٰ نہیں ہوں گے تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوگی۔ جلسے جلوسوں میں دنگا فساد کا خطرہ، کیا لاشوں سے تحریک میں جان ڈالی جائے گی۔ نتائج برے ہوں گے سوچ کے مطابق نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ استعفیٰ آخری آپشن کیوں، پہلا آپشن کیوں نہیں۔ پیپلز پارٹی، ن لیگ، جے یو آئی اور دیگر جماعتیں استعفے مولانا فضل الرحمان یا بلاول بھٹو کے پاس جمع کرا دیں، اس کے بعد دس بارہ دن کا الٹی میٹم دیا جائے اس مدت کے بعد تمام استعفے اسپیکر اور چیئرمی سینیٹ کے حضور پیش کردیے جائیں الیکشن ہوجائیں گے حسب منشا ہوں گے عسکری قیادت عدم مداخلت کی یقین دہانی کرا چکی ہے حالات مزید خراب ہونے اور عوام کے سڑکوں پر نکلنے کا انتظار کرنا ہے تو سانپ سیڑھی کے اس کھیل میں کامیابی مشکوک نظر آتی ہے۔


ای پیپر