سانحہ بلدیہ فیکٹری اور انصا ف
28 ستمبر 2020 (14:12) 2020-09-28

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج عبدالرحمن عرف بھولا اور زبیر چریا کو 264 مرتبہ سزائے موت دینے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا دہشت گردی کا سب سے بڑا اندوہناک اور دردناک واقعہ تھا، جب کراچی سائٹ بی کے علاقے میں واقع علی انٹرپرائز گارمنٹس فیکٹری میں 11 ستمبر 2012ءکو شدید آگ لگی تھی جس پر 12 ستمبر کو قابو پایا گیا۔ متعلقہ تھا نے میں جو رپو رٹ درج کر ائی گئی اس میں آ گ لگنے کا الزا م فیکٹر ی کے ما لکو ں پہ لگا یا گیا۔ یو ں تفتیش بھی اس ر خ پہ چل پڑی۔ فر وری 2015جب پا کستان رینجرز کی جمع کرائی رپو ر ٹ میں یہ انکشا ف کیا گیاکہ حا دثے سے پہلے فیکٹری ما لکا ن سے پچیس کر وڑ رو پے بطو ر بھتہ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ مطالبہ پورا نہ ہونے کی وجہ سے فیکٹر ی کو نذ رِآ تش کر دیا گیا۔ فیکٹری میں آمد و رفت کے لیے 4 دروازے تھے، جن میں سے 3 بند ہونے کے باعث 259 افراد جل کر جاں بحق ہوئے، جن میں خواتین بھی شامل تھیں۔ جب تفتیش نئی معلو ما ت کی رو شنی میں آ گے بڑھی تو مختصراًیہ کہ عبد لر حمٰن عر ف بھو لا کو بنکا ک سے گر فتا ر کر کے پاکستان لا یا گیا۔بھو لا کے بیا ن کے مطا بق یہ آ گ ز بیر عر ف چریا اور اس کے بد قما ش سا تھیوں نے اوپر سے ملے حکم کے تحت لگا ئی تھی۔آٹھ برس بیتنے کے بعد حصول انصاف کی امید میں ، اگر کسی حد تک انصاف ہوا تو دوسری جانب لواحقین کی مایوسی اپنی جگہ برقرار ہے۔ صرف دو ملزموں کو پھانسی کی سزا جبکہ باقی پورے واقعے کی ذمہ داری کس پر تھی اس کا تعین واضح نہیں کیا گیا۔ ہمارے نظام عدل کی خرابیاں ابھر کر سامنے آرہی ہیں، ایک جانب تو یہ ظلم کی انتہا ہے جبکہ دوسری جانب جن کے پیارے مارے گئے ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ سوختہ لاشیں جو جل کر کوئلہ بن گئی تھیں، ان کے ساتھ مائیں لپٹ کر رو بھی نہ سکیں، شناخت ہی ناممکن تھی۔ مظلومین کو اس فیصلے کا برسوں سے انتظار تھا، یہاں بڑا اہم سوال ہے کہ یہ فیصلہ کیا لواحقین کے دکھ درد، مصائب و الم اور مشکلات میں کمی لانے کا سبب بنا ہے، کیا ان کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا ہے۔ کئی خاندان ہیں جو واقعے میں متاثر ہوئے ہیں، کئی خاندان اپنے پیاروں کو ہمیشہ کے لیے کھوبیٹھے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کم از کم متاثرہ خاندانوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔

164 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے کو دیکھا جائے تو مقدمہ تاخیر کا شکار ہونے کی وجوہات میں سیاسی مداخلت، جے آئی ٹی پر عمل درآمد نہ ہونا، مرکزی ملزم متحدہ کے حماد صدیقی کی عدم گرفتاری، ملزمان کے تاخیری حربے اور درخواستیں شامل ہیں۔ سماعت کے دوران سپیشل پبلک پراسیکیوٹر ساجد محبوب شیخ پر 3 حملے ہوئے۔ استغاثہ نے 768 گواہوں کی فہرست جمع کرائی، جس میں 400 سے زائد کے بیانات قلم بند کیے گئے۔ ان میں زخمی، عینی شاہدین، لواحقین، ڈاکٹر، فارنزک، کیمیکل ایکسپرٹ، فیکٹری مالکان، تفتیش کاروں سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔ ایک طویل ترین عدالتی عمل کے بعد آٹھ سال گزرنے کے بعد کیس کا فیصلہ آیا ہے۔ قا بلِ افسو س امر یہ ہے کہ ہمارا جوڈیشل کریمنل سسٹم ایسا ہے کہ جنہوں نے دنیا کے سامنے لوگوں کو زندہ جلادیا وہ موثر اور شفاف تفتیشی عمل سے بچ گئے، یہی تفتیشی افسر بیگناہوں کو ناکردہ گناہوں میں پھنسا کر زندہ درگور کردیتے ہیں، ان پر بھی کوئی ذمہ داری آنی چاہیے، ان سے بھی بازپرس ہو۔ سسٹم کو لازماً چاہیے کہ انویسٹی گیٹر کو بھی قانون کے دائرے میں لائیں۔ ہمارے کرمنل جسٹس سسٹم میں خرابیاں دور ہونی چاہئیں۔ ہمیں اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف تو اپیلیں اعلیٰ عدالتوں تک جاتی ہیں، لیکن اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں پر بھی کمزور فریق کو بااثر مخالف فریق کے ساتھ سودے بازی کرنا پڑتی ہے، جو مقدمات اس وقت عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اگر ان کا تفصیل اور گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو ان مقدمات کے پس منظر میں بدعنوانی کا ایک بھیانک 

چکر ہی نظر آئے گا۔ کمزور ترین تفتیش کا عمل شاید دنیا بھر میں ہمارے یہاں ہی ہوتا ہے کہ جہاں کیس کی تفتیش انتہائی لگے بندھے انداز میں ہوتی ہے اور اس میں اتنے قانونی سقم رہ جاتے ہیں کہ ملزمان و مجرمان باآسانی بلکہ باعزت بری ہوجاتے ہیں۔ لیکن جو مکمل اور صحیح چالان نہیں بناتے انہیں کوئی سزا نہیں ملتی، اس کو ناقص تفتیش کرنے پر کسی باز پرس کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ جرم پر قابو پانا پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن ہمارے یہاں پولیس جرائم پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ اگر شومئی قسمت کوئی ملزم یا مجرم پکڑا بھی جائے تو وہ ان کی کمزور تفتیش کے باعث بری ہوجاتا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ محکمہ پولیس کی تقرریاں میرٹ پر نہیں ہوتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹرانسفر پوسٹنگ کی پاور سیاست دانوں سے واپس لی جائے۔ آئی جی پوسٹنگ کے لیے پولیس آرڈیننس میں تبدیلی لائیں۔ ایف پی ایس سی کے آرڈیننس میں تبدیلی لا کر آئی جی اور چیف سیکرٹری کم از کم ان دو عہدیداروں کی پوسٹنگ ایف بی ایس سی کا چیئرمین کرے جو پانچ سال اوتھ پوسٹ پر ہوتا ہے۔ پوسٹنگ کا مطلب ہے تین چار افراد کی لسٹ منگوا کر اس میں وہ ٹک کرے کہ یہ آدمی جائے گا بطور انسپکٹر جنرل۔ اس کے لیے قانون میں ترمیم کرنا پڑے تو وہ کی جائے۔ جب تک آئی جی اور چیف سیکرٹری کا تقرر میرٹ پر نہیں ہوگا آپ کی حکمرانی ٹھیک نہیں ہوگی۔ بالکل اسی طرح 1122 کی کراچی میں بہت ضرورت ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائمز بہت زیادہ ہے۔ ماورائے عدالت قتل بھی ایک مسئلہ، مجرم کو سزا عدالت کے ذریعے ملنی چاہیے تاکہ انصاف کا قتل نہ ہو۔ کسی بھی اہم ترین دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم جو ایف آئی اے، پولیس، آئی بی، آئی ایس آئی سمیت دیگر اداروں کی بنائی جائیں، اس میں بے شک عدالت کا نمائندہ شامل ہو اور پھر عدالت کے ذریعے مہینے دو مہینے میں سزا دیں۔ کئی مثالیں ہیں جن میں قاتل چھوٹ جاتے ہیں۔ ججز کہتے ہیں کہ ”ہم تو سزا شہادتوں پر دیتے ہیں، آپ کی شہادتیں ہی کمزور ہیں ہم کیا کریں۔“ اس مسئلے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔ گواہوں کے تحفظ کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس کے لیے گواہ کو تحفظ دینا ضروری ہے، اس کی شناخت تبدیل کرنی ہوتی ہے لیکن اس بات پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ نام ہے وٹنس پروٹیکشن کا۔ اہم مقدمات کے گواہوں کو مجرم طبقہ مار دیتا ہے۔ ساتھ ساتھ وکلا کا جو کردار ہے اس میں بھی خاصی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ایسا نظام بنانا ہوگا کہ عام لوگوں کو سستا انصاف ملے۔ وکلا کی فیسوں میں کوئی توازن ہی نہیں۔ کوئی ایک لاکھ لیتا ہے تو کوئی دس لاکھ لیتا ہے۔ کوئی پابندی نہیں کہ آپ کی کم سے کم فیس کیا ہونی چاہیے۔ اس پر بھی کام کی ضرورت ہے تاکہ ایک عام آدمی وکیل کی خدمات حاصل کرسکے۔ وکیل کے بغیر عدالت میں کوئی بات نہیں کر سکتا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ قتل کے 8 ہزار مجرم بیٹھے ہیں، ان کو سزا دیں۔ ہمارا اے ایس آئی اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان داﺅ پر لگا کر تحقیق کرتا ہے، کیا اس لیے کہ یہ جیل میںبیٹھ کر کھانا کھائیں؟ جب تک ہم جزا اور سزا کے قانون پر عمل درآمد نہیں کریں گے تو مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ اور حصول انصاف میں حائل رکاوٹیں کیسے دور ہوں گی؟ حکومت کا فرض ہے کہ وہ بلدیہ سانحہ کے متعلقین اور سوختہ روحوں سے مکمل انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرے، ان کی ہرممکن مدد کی جانی چاہیے۔


ای پیپر