پاکستان سے وفا صلہ ضرور ملے گا
28 ستمبر 2020 (14:01) 2020-09-28

دوسروں کا کیا گلہ ان کے تو تھنک ٹینک ہماری تباہیوں اور بربادیوں کے مشورے کر رہے ہیں ۔ہمیں جینے کا سلیقہ نہیں ۔ رہنے کا ڈھنگ نہیں ۔دکھ درد کا احساس نہیں ۔اسلاف کی قربانیوں کا پاس نہیں ۔مستقبل کی فکر نہیں ۔لوٹ مار کے چیمپئن ہم کہلائے۔لالچ، خود غرضی اور ملت فروشی کے تمغے ہم نے سجائے۔ہم میں رواداری اور ہوش نہیں ۔ احترام انسانیت ہماری رگوں میں خشک ہوا۔نفرتوں اور تلخیوں نے ہمارے گھروں کو برباد کیا۔الزام تراشیوں کے سبق ہم نے ازبر کئے۔وطن عزیز کی محبت ہم سے رخصت ہوئی۔دوسروں کے آلہ کار ہم بنے۔اپنے گھروں کو لوٹنے کے سرٹیفیکیٹ ہم نے لئے۔غیروں کی خواہشات کے تمغے ہم نے سجائے۔اخوت، رواداری اور بھائی چارے کی فضا ہم نے مقدر کی۔بیرون ملک بیٹھ کر ہدایت بھیجنے کے طریقے ہم نے ایجاد کئے۔ملکی تباہی کے سامان پیدا کرنے میں بازی لینے کی خواہش ہمارے دماغوں میں مچل رہی ہے۔کبھی سوچا۔ کبھی احساس ہوا کہ ہم کیا کر رہے ہیں ؟ کس لئے کر رہے ہیں ؟کس کے کہنے پر کر رہے ہیں ؟ کسے فائدہ پہنچانے کے لئے کر رہے ہیں ۔کس کی خواہش میں کھیل رہے ہیں ؟زندگی میں کچھ لمحات ایسے یادگار ہوتے ہیں کہ انسان ساری زندگی اسی کے سرور میں رہتا ہے۔ پاکستان سے محبت اور پیار کرنے والوں سے دوستی اور محبت ہو جاتی ہے جبکہ وطن فروشوں سے دشمنی کی حد تک نفرت۔مجھے تمغہ ¿ امتیاز ملنے پر میرے اعزاز میں ایک خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس تقریب کی سب سے جاندار تقریر سینیٹر میر سرفراز بگٹی کی تھی۔جس نے تقریب میں جان ڈال دی اور خوب داد وصول کی۔ان کی تقریر کا لب ِ لباب پاکستان اور بلوچستان میں مثبت اور منفی کرداروں کا ذکر تھا۔اس تقریر کا ہر ہر لفظ پاکستان کی محبت میںڈوبا ہو ا تھا بلکہ صحیح اور سچے دل سے پاکستانیت کا علمبردار تھا۔میں پہلی دفعہ 2015ءمیں بلوچستان گیا تو میرے دل میں بلوچستان کا انتہائی خوفناک نقشہ تھا ۔ منفی اور افسانوی کرداروں کا خوف انگ انگ سے ابل رہا تھا او ر اس کے ساتھ دہشت گردوں کی ہر گولی کا رخ اپنی طرف ہی نظر آ تا تھا۔وہاں جا کر اس وقت کے کمانڈر سدرن کمانڈ جنرل ناصر خان جنجوعہ اور آئی جی ایف سی جنرل شیر افگن سے چند ملاقاتیں ہوئیں تو اصل حالات سے آگاہی ہوئی اور دل میں ایک احساس پیدا ہوا کہ میری طرف آنے والی گولی ابھی اسلحہ فیکٹریوں میں تیار ہی نہیں ہوئی۔ان ملاقاتوں کے بعدمیں نے سول حکومت کے لوگوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔لوگوں کو قریب سے جانچنے ، سمجھنے اور پرکھنے کا موقع ملا۔مجھے عوام کے چنے ہوئے نمائندوں میں سے غداری کی بدبو محسوس ہوئی۔بدقسمتی سے ان کی اسمبلی میں پہنچا۔وہاں جغرافیائی حالات کے ساتھ غربت اوروہی افسانوی کردار تھے جن کے خوف سے وہاں ان کے حلقے کے لوگ انہیں ووٹ محبت سے نہیں ان کے خوف سے دیتے تھے۔ بہرحال آج مجھے ایک جان اور پاکستان کی محبت میں گندھے ہوئے بلوچستانی کا ذکر کرنا ہے جو اپنے آ پ کو بلوچستانی کہنے سے ناراض ہو جاتے ہیں اور ببانگ دہل کہتے ہیں پاکستانی ہوں ۔ میرا تعارف پاکستان ہے۔جب میں بلوچستان میں تھا تو جنرل ناصر خان جنجوعہ نے ایک نعرہ ایجاد کیا ”جیوے جیوے بلوچستان ۔جیوے جیوے بلوچستان “۔لیکن میرسرفراز بگٹی نے کہا کہ یہ غلط ہے ، نعرہ صرف ”جیوے جیوے پاکستان “ کا لگے گا۔اور حقیقت بھی یہی تھی۔اسلام آباد کی تقریب میںمیر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم قاتلوں کو کیوں ”ناراض بلوچ“ کہتے ہیں ۔ کوئی ناراض بلوچ نہیں ہے جن کو ہم یا آپ ناراض بلوچ کہتے ہیں ۔ یہ اصل میں قاتل، دہشت گرد اور وطن فروشوں کے آلائے کار ہیں۔وطن فروش ہندوستان سے پیسے لے کر ان سے دہشت گردی کی وارداتیں کراتے ہیں ۔ پاکستان کے ہر صوبے بلکہ پوری دنیا کے ممالک میں بے روزگاری ہے۔لیکن چونکہ میں پاکستان کی بات کر رہا ہوں تو باقی صوبوں کے تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہوتے ہیں تو والدین انہیں کاروبار یا پھر کہیں پرائیویٹ جاب کی تلقین کرتے ہیں ۔لیکن بلوچستان میں وطن فروش یا ہندوستان کے وظیفہ خوار اُن کو بندوق پکڑا دیتے ہیں اور وہ بندوق بھی ہندوستان سے آتی ہے۔خدا کے لئے ان کو ناراض بلوچ کا نام نہ دیں ۔ یہ دہشت گرد ہیں اور انہیں دہشت گرد ہی کہیں ۔میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو کہتے ہیں کہ بلوچستان زبردستی پاکستان میں شامل کیا گیا یہ بالکل غلط کہتے ہیں۔ بلوچستان نہ تو جغرافیائی طور پر ہندوستان کا حصہ تھا اور نہ نظریاتی طور پر حصہ ہے۔ بلوچستان دو حصوں میں تقسیم تھا۔برٹش پاکستان اور ریاستی پاکستان۔برٹش پاکستان میں بلوچستان کا شمالی حصہ تھا جس میں تھوڑا سا علاقہ بلوچوں کی آبادی والا ہے۔باقی زیادہ پشتون ہیں ، دوسرا جنوبی اور ریاستی بلوچستان تھا۔ریاستی بلوچستان میں چار ریاستیں تھیں ۔لسبیلہ جس کے نواب جام عبدالقادر نے سب سے پہلے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔اس کے بعد ریاست خاران اور ریاست مکران نے پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔اس کے بعد بانی ¿ پاکستان حضرت قائداعظم خود قلات تشریف لے گئے اور انہوں نے خان آف قلات کے گھر قیام کیا۔خان آف قلات میر احمد یار خان احمد زئی نے انہیں ہیروں اور جواہرات میں تول کر وہ ہیرے اور جواہرات پاکستان کے خزانے میں جمع کرا دئیے اور یہ سب کچھ انتہائی خوش اسلوبی سے ہوا۔کسی بھی نواب یا سردار کو دھونس دھاندلی سے پاکستان میں شامل نہیں کیا گیا۔میر سرفراز بگٹی نے قومی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر زور دیا کہ وہ ہر بات پوری ذمہ داری کے ساتھ تحقیق کر کے عوام کے سامنے لائیں ۔انہوں نے ایک مثال دی کہ اگر پنجاب کے ضلع راجن پور میں کوئی آپریشن ہوتا ہے تو میڈیا خبر دیتا ہے کہ جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پورکی فلاں تحصیل اور فلاں مخصوص علاقے میں سیکیورٹی اداروں نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔اس سے باقی سارا صوبہ اپنے آ پ کو محفوظ سمجھتا ہے لیکن بلوچستان میں اگر آپریشن ہوتا ہے اور کچھ عرصہ بعد وہاں سے700کلومیٹر دور آپریشن ہوتا ہے تو کہیں بھی شمالی، جنوبی، مشرقی یا مغربی بلوچستان کے فلاں ضلع کی فلاں تحصیل کا ذکر نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ واویلا مچایا جاتا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کا بلوچستان میں پھر ایک اور آپریشن۔جس سے پورے بلوچستان کے لوگ ڈر اور سہم جاتے ہیں ۔میڈیا مالکان اور ذمہ دار ایڈیٹرز کو چاہیئے کہ وہ اپنے ورکرز کو اس وضاحت کے ساتھ خبریں شائع کرنے کی ہدایات دیں۔انہوں نے اختر مینگل کی بلیک میلنگ اور گرگٹ کی طرح سیاسی رنگ بدلنے پر بھی اظہارِ خیال کیا۔انہوںنے سیکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے بھی درخواست کی کہ وہ اس کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں ۔محب وطن لوگوں کو سامنے لائیں ۔ہم سب سے پہلے اپنا احتساب کریں کہ ہماری صفوں میں کتنے لوگ ہیں جو ہندوستان کے آلہ¿ کار بن کر ملک اور فوج کے خلاف پروپیگینڈے کر رہے ہیں ۔ میر سرفراز بگٹی کی تقریر کو عوامی حلقوں میں انتہائی محب وطن بلوچستانی اور محبت سے لبریز پاکستان کی تقریر قرار دیا جا رہا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اگر میر سرفراز بگٹی کو سیاست کے میدان میں کھل کر کھیلنے کا موقع دیا جائے تو وہ بلوچستان کی نوجوان نسل میں پاکستان کی محبت اجاگر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ ان کی ذاتی طور پر پاکستان سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔


ای پیپر