عام آدمی کو حج کیلئے صاحب استطاعت بنانے کا منصوبہ تیار
28 ستمبر 2020 (13:47) 2020-09-28

پاکستان میں سن 2020 کے لیے حج کی قیمت چار لاکھ چھیاسی ہزار دو سو ستر روپے مقرر کی گئی۔ 2019 میں یہ قیمت چار لاکھ چھپن ہزار چار سو چھبیس تھی جبکہ 2018 میں یہ قیمت تقریباً دولاکھ ترانوے ہزار پچاس روپے تھی۔ دو سال میں یہ اضافہ تقریباً 66 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگلے سال یہ قیمت پانچ لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ان حالات میں عام آدمی کے لیے حج کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ متوسط طبقہ اس شش و پنج میں مبتلا ہورہا ہے کہ کیا وہ کبھی حج ادا کر بھی سکیں گے یا حج کی خواہش دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔پاکستان میں عمومی طور پر مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے لیکن حل پیش نہیں کیا جاتا۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ کالمز میں حل بھی سامنے رکھا جائے۔ پچھلے سال جب حج کی قیمتوں میں تقریباً پچاس فیصد اضافہ ہوا تو میں نے ملائیشیا کے تابونگ حاجی پروگرام کے تحت پاکستان میں حج پالیسی بنانے کی تجاویز دیں۔ تجاویز پر مبنی کالم اور ملائشین تابونگ حاجی ایکٹ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا یا۔ جسے اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنے ایجنڈے پر رکھا۔ کونسل کے ممبران نے اسے حج سستا کرنے کے حوالے سے بہترین منصوبہ قرار دیا اورمجھ ناچیز کی کاوش کو سراہا۔ جس کا اظہار چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے ایک خط لکھ کر کیا۔ اس کے علاوہ ایجنڈے کے منٹس بھی بھجوائے گئے جس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے تقریباً تمام ممبران نے اسے بہترین منصوبہ قرار دیا۔اسلامی نظریاتی کونسل سے منظوری کے بعد اسے وزرات مذہبی امور کو بھجوا دیا گیا۔ جہاں تقریباً ایک سال کے عرصہ میں ایکٹ تیار کر لیا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ اجلاس میں اس آئیڈیا کی منظوری دی۔اور اس پر کام کرنے کا حکم جاری کیا۔ یہ خبر میرے نام کے ساتھ ملک کے بڑے اخبارات میں شائع ہوئی۔حسن نثار صاحب نے یکم ستمبر کو میرے پیش کیے گئے منصوبے کو سراہا اور مفصل کالم لکھا۔ اسکے علاوہ پاکستانی اور بین الاقوامی الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈیا نے بھی اسے بھرپورکوریج دی ہے۔پاکستان بلاگرز ایسوسی ایشن کے مطابق میں پاکستان کا واحد اردو بلاگر ہوں جس کا مضمون قانون سازی کے لیے منظور ہوا ہے۔

آئیے ملائشیا کے تابونگ حاجی منصوبے اور حکومت پاکستان کو دی گئی میری تجاویز پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔تابونگ حاجی ملائشیا کا سرکاری حج 

پروگرام ہے۔ اسے ٹی ایچ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ معاشیات کے پروفیسر جناب انگکو عبدالعزیز بن انگکو عبدالحامد (Ungku Abdul Aziz bin Ungku Abdul Hamid) نے 1959ءمیں ملائیشین حکومت کی توجہ حلال سرمایہ کاری کے ذریعے عوام کو حج کی سہولت فراہم کرنے کی طرف دلوائی۔ جسے ”تابونگ حاجی“کا نام دیا گیا۔ جدید دنیا میں اس ایکٹ کو سرکاری سطح پر اسلامی حلال سرمایہ کاری کے ذریعے حج کی سہولت فراہم کرنے والا پہلا مکمل قانون سمجھا جاتا ہے۔ تابونگ حاجی بینک ملائیشیا کی مذہبی کونسل اور نیشنل فتوی کمیٹی کی زیرنگرانی کام کرتا ہے۔ اس نے نہ صرف مہنگے حج کے مسئلے کو حل کیا بلکہ یہ ملائشین اکانومی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ انڈونیشیا اور مالدیپ نے بھی اس منصوبے کو اپنا لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کوئی بھی ملائشین شہری کسی بھی ٹی ایچ برانچ میں مفت اکاونٹ کھلواتا ہے۔ ہر ماہ اپنی استطاعت کے مطابق اس میں رقم جمع کرواتا رہتا ہے۔ ملائشین حکومت اسے حلال منصوبوں میں انویسٹ کرتی ہے اور حج کی رقم پوری ہونے پر اکاونٹ ہولڈر کو حج کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ پہلے آو¿ پہلے پاﺅ کی بنیاد پر بھی انتخاب کیا جاتا ہے۔ اگر باری آنے پر اکاونٹ میں مطلوبہ رقم جمع نہیں ہوتی تو حکومت اپنی جیب سے ادا کر دیتی ہے اور مستقبل میں ہونے والے منافع سے رقم کاٹ لیتی ہے۔ اس منصوبے نے اکثریت ملائشین عوام کو حج کے لیے صاحب استطاعت بنا دیا ہے۔ میں نے پاکستان میں اس کی عملی شکل کے لیے یہ تجاویز پیش کیں۔ سرکاری سطح پر” حج فنڈ“کے نام سے منصوبہ شروع کیا جائے۔ جس کی نگرانی تمام مکتبہ فکر کے علما اور معاشی ماہرین پر مشتمل شرعی بورڈ کرے گا۔ابتدائی طور پر اس منصوبے کے کھاتے اسلامک بینکوں اور پوسٹ آفسز میں کھولے جائیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں ” حج فنڈ“کے نام سے علیحدہ کاو¿نٹرز قائم کیے جائیں۔ حج فنڈ کا ممبر بننے کے لیے ممبرشپ فارم اسٹیٹ بینک کے علاوہ اسلامی بینکوں اور پوسٹ آفسز پر مہیا کیے جائیں۔ حکومت کھاتے کھولنے کے لیے ابتدائی رقم ایک لاکھ روپے مختص کرے اور جو شخص حج فنڈ کا ممبر بن جائے اسے ایک اکاونٹ نمبر الاٹ کیا جائے تاکہ کھاتا دار جب چاہے اسٹیٹمنٹ نکلوا سکے۔ حج کی ادائیگی سے پہلے رقم نکلوانے پر پابندی ہو، لیکن اگر حج کی ادائیگی کے بعد منافع بچ جائے تو وہ لوگوں کو واپس کردیا جائے۔ جہاں تک کھاتا داروں کی رقم سے سرمایہ کاری کرنے کا معاملہ ہے تو اس کے لیے مشارکہ، مضاربہ، مرابحہ، تکافل، صکوک، اجارہ اور بے المعجل جیسے بہترین اسلامی سرمایہ کاری کے قوانین ہمارے پاس موجود ہے۔شرعی بورڈ کی منظوری کے بعد حج فنڈ کی رقم سے حلال کاروبار میں حلال طریقے سے سرمایہ کاری کی جائے اور نفع و نقصان کو بھی انہی قوانین کے مطابق تقسیم کیا جائے۔حکومتِ پاکستان کے پاس حلال کاروبار میں سرمایہ کرنے کے سینکڑوں آپشن ہر وقت موجود رہتے ہیں اور یہ سرمایہ کاری اندرونِ ملک کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی ہوسکتی ہے۔ پھر اس سرمایہ کاری سے کمائے گئے منافع اور سرمائے کی رقم ملا کر کھاتا داروں کے حج کے اخراجات برداشت کیے جائیں۔ حج کی ادائیگی کے لیے لوگوں کا انتخاب پہلے آو¿ پہلے پاو¿ کی بنیاد پر کیا جائے۔ پھر جن لوگوں کا انتخاب ہوجائے مگر ان کے منافع اور سرمائے کی رقم ملاکر بھی حج کی ادائیگی کے اخراجات مکمل نہیں ہوئے ہوں تو حکومت اس فنڈ میں موجود دوسرے کھاتا داروں سے فنڈ لے کر ان کے حج اخراجات کی ادائیگی کرے اور مستقبل میں ہونے والے منافع سے اس کی ادائیگی کردے۔لیکن اگر منافع اور سرمایہ حج اخراجات سے زیادہ ہوجائے تو پھر بونس کی شکل میں کھاتا داروں کو یہ رقم واپس کردی جائے۔ پاکستان میں وزرات مذہبی امور موجود ہے۔اسلامک بینکس ہر گلی کوچے تک پہنچ چکے ہیں۔ پوسٹ آفس کا نظام پہلے سے بہتر کام کر رہا ہے۔ اسلامی سرمایہ کاری کے حوالے سے مفتیان اور علما کی پینتیس سال کی محنت بھی موجود ہے۔ یعنی کہ حج فنڈ پروگرام شروع کرنے کے لیے تمام ضروری چیزیں موجود ہیں۔ صرف انھیں ان کی مناسب جگہ پر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس منصوبے میں حکومت کا کوئی اضافی سرمایہ خرچ نہیں ہوگا اور نہ ہی سبسڈی کا بوجھ پڑے گا بلکہ یہ منصوبہ ایک کامیاب معاشی منصوبہ بن کر سامنے آ سکے گا جو پاکستانی معیشیت کو بھی سہارا دے گا۔ اس کے علاوہ عوام سود سے پاک حلال کمائی سے حج ادا کر سکیں گے۔یہ درست ہے کہ جو صاحب استطاعت ہے وہی حج ادا کرے لیکن عام آدمی کو صاحب استطاعت بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حج فنڈ کے قیام سے یہ ذمہ داری پوری کرنے میں مدد ملے گی۔


ای پیپر