سوشل میڈیا کی حکمرانی
28 ستمبر 2020 2020-09-28

دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔ ہمارے اندازوں اور ہماری سوچ سے کہیں زیادہ تیزی کیساتھ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا۔۔۔۔۔۔آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں۔۔محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔۔۔یہ بات کہے تو کوئی ایک صدی ہو گئی ہے اور ایک صدی میں ہم نے نجانے کتنی صدیوں کا سفر طے کر لیا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے تبدیلی بلکہ انسان کی ذاتی، سماجی، اخلاقی، تہذیبی اور معاشرتی زندگی کے ہر شعبے میں آنے والی تبدیلیوں کااصل سرچشمہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہیں۔آج ہم ٹیکنالوجی کے زمانے میں زندہ ہیں۔ ٹیکنالوجی ہماری زندگیوں کا لازمی جزو بن چکی ہے۔ ہمارے روزمرہ معمولات حیات کا اہم حصہ بن چکی ہے۔ جب کوئی بات معمول کا درجہ حاصل کر لیتی ہے تو ہم اسکی اہمیت اور افادیت کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن جب وہ سہولت کچھ دیر کیلئے ہی ہم سے چھن جائے تو ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔محسوس ہونے لگتا ہے کہ کوئی بہت بڑا نقصان ہو گیا ہے اور ہم خالی خالی ہو گئے ہیں۔مثال کے طور پر صرف سیل فون ہی کو لے لیجئے۔ جب کسی وجہ سے سروس معطل ہو جاتی ہے تو زندگی کا سارا ڈھب ہی تبدیل ہو جاتا ہے۔اسی طرح انٹرنیٹ کی اہمیت بھی مسلم ہے۔ جب ہم سفر میں ہوتے ہیں تو کسی بھی مقام پر پہنچتے وقت ہمیں سب سے پہلے" وائی فائی " کی تلاش ہوتی ہے۔ سیل فون کی بیٹری ختم ہونے لگی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری اپنی نبضیںبیٹھ رہی ہیں۔ ٹیکنالوجی کی اس حکمرانی نے جہاں ہمارے لئے لاتعداد سہولتیں پیدا کر دی ہیں ، وہاں ہمیں اپنا محتاج بھی بنا لیا ہے اور اس ٹیکنالوجی ہی کے باعث ہمارا سماج کئی مسائل کا بھی شکار ہوتا جا رہا ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے کتنے ہی شعبے یا میدان ہیں جن کی اپنی اپنی جگہ افادیت ہے۔ ان کی دلچسپیاںبھی اپنی اپنی ہیں اور کشش بھی اپنی اپنی۔ لیکن ان دنوں ٹویٹر کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اور اس کی ساری جزئیات نسبتا نئی ہیں لہٰذا نوجوان بلکہ نونہال اور بہت ہی کم عمر بچے بھی اس میں مہارت رکھتے ہیں۔ بڑی عمر کے لوگ اس پر مکمل گرفت نہیں رکھتے لیکن نوجوانوں نے ا س ٹیکنالوجی کو اس ہنر مندی سے استعمال کیا کہ زلزلہ سا آگیا۔یہ موضوع اپنی جگہ نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ ہم اس ٹیکنالوجی کا ستعمال مثبت انداز میں کرتے ہیں یا پھر یہ ہمارے قیمتی وقت اور توانائی کے زیاں کا ذریعہ بن کر رہ گئی ہے۔ 

میڈیا اور ابلاغیات کی ایک طالب علم ہونے کے ناتے میرے پیش نظر اس وقت سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی اٹھان کے نتیجے میں ہمارے روائتی میڈیا پر کیا گزرتی ہے؟ یہ سوال ساری دنیا کو درپیش رہا ہے لیکن ہمارے اور ان کے حالات میں واضح فرق ہے۔ اگر ہم موجودہ صورتحال کی روشنی میں سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات اور ٹویٹر کی حکمرانی کا ذکر کریں تو اس کے دائرہ اثر کا مسلسل بڑھتے چلے جانے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ روائتی میڈیا، وقت کی تیز رفتاری اور عوامی توقعات کاساتھ نہیں دے سکا۔یہ مکمل طور پر اس دباو کا مقابلہ بھی نہیں کر سکا، جو آزادی اظہار رائے کے ضمن میں اسے درپیش رہا ہے۔ لہٰذا پہلے تو یہ ہوا کہ پرنٹ میڈیا نے، الیکٹرانک میڈیا کے سامنے ہتھیار ڈالے اور اب الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا سے بازی ہارتا نظر آتا ہے۔ اس رجحان کے ایک سے زیادہ اسباب ہو سکتے ہیں، لیکن سب سے بڑا سبب سنسر شپ کی سختیاں ہیں جو دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ جب ایک پڑھا لکھا پاکستانی کسی بڑی ،قومی یا بین الاقوامی خبر کیلئے اپنے اخبارات کا رخ کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارا پرنٹ میڈیا، دکھائی یا نہ دکھائی دینے والی وجوہات کے پیش نظر وہ خبر نہیں چھاپ سکا ۔ تحقیق کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس خبر کو قومی و ملکی مفادات کے خلاف قرار دے دیا گیا تھا۔ وہ مایوس ہو کر الیکٹرانک میڈیا کی طرف جاتا ہے تو وہاں بھی قومی مفاد کی دیوار کھڑی نظر آتی ہے۔ تب وہ سوشل میڈیا کا رخ کرتا ہے جہاں کوئی پابندی، کوئی قدغن اور کوئی سنسر اس شدت سے کارگر نہیں ہوتا، جیسے روائتی میڈیا پر۔ وہاں اسے خبر بھی ملتی ہے، جس اہم تحقیقی سٹوری پر بات کرتے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ سٹوری خوف کی ساری حدیں پھلانگ کر اپنی پوری جزئیات کیساتھ وہاں موجود ہوتی ہے۔ جس تقریر کا ایک لفظ بھی چھپ نہیں سکتا وہ پوری کی پوری نہ صرف سوشل میڈیا پر پڑھی جا سکتی ہے، جو بات ہمارا لیکٹرانک میڈیا نشر کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا وہ پوری کی پوری سوشل میڈیا پر سنیے اور بار بار سنیے۔ پھر ان پر رنگا رنگ تبصرے، تجزئیے اور مباحثے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ گویا ابلاغیات کے حوالے سے ایک پورا میلہ لگا ہوتا ہے۔

جن ممالک میں آزادی اظہار رائے پرقدغن نہیں وہاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا آج بھی طاقت ور ہیں۔ درست کہ سوشل میڈیا پر پھیلی خبروں کی صداقت مشکوک ہوتی ہے لیکن اب کسی حد تک ایک ایسا خود کار میکانزم بھی وجود میں آگیا ہے جو چند لمحوں میں غلط اور بے بنیاد خبروں کے پرخچے اڑا دیتا ہے۔ یہ میکا نزم خود سوشل میڈیا کے اندر سے پیدا ہوا ہے۔اگر شعوری یا لاشعوری طور پر کوئی جھوٹی خبر شیئر کی جاتی ہے تو نوجوان اور پڑھے لکھے لوگ نہ صرف فوری تردید کر دیتے ہیں بلکہ اسکی تصیح میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ یوں چھان پھٹک کا ایک نظام اپنے آپ ہی وجود میں آگیا ہے۔تاہم یہ صرف اچھے پلیٹ فارمز یا گروپس کا قصہ ہے۔یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ ہمارے ہاں سینکڑوں پروپیگنڈہ فارمز اور گروپس اچھے اچھوں کی سربراہی میں محض اس لئے قائم ہیں کہ جھوٹی خبریں پھیلائی جائیں۔مخالفین کے خلاف غلیظ پروپیگنڈہ کیا جا سکے۔

بہرحال گزشتہ چند برسوں میں ٹویٹر ہماری قومی سیاست کا بھی اہم ہتھیار بن گیا ہے۔ ہمارے سیاستدانوں کی سینئر نسل اب ساٹھ اور ستر کے پیٹے میں ہے۔ ان کے لئے یہ کوئی آسان کام نہ تھا لیکن وقت نے اسکی اہمیت کو اس طرح اجاگر کیا کہ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا۔ کہاں ایک خبر تیار کرنا، کارکنوں کے ذریعے اخباری دفتروں میں پہنچانا، رپورٹروں سے رابطے بڑھانا اور کہاں موبائل ہاتھ میں لے کر ایک دو منٹ کے اندر اپنی بات ہزاروں لاکھوں لوگوں تک پہنچا دینا۔ پھر وہ چھوٹا سا ٹویٹ روائتی میڈیا پر گھنٹوں زیر بحث رہتا ہے۔محسوس یہ ہوتا ہے کہ آنے والی سیاسی دنیا کی جنگیں سوشل میڈیا پر ہی لڑی جائیں گی۔اور اگر سنسر شپ کا یہی عالم رہا، ریگولیٹری اتھارٹیز اسی طرح بے مہار اور طاقتور رہیں تو سوشل میڈیا توانا تر ہوتا جائے گا اور روائتی میڈیا سکڑتا چلا جائے گا۔


ای پیپر