ہم تم سے بہت شرمندہ ہیں
28 ستمبر 2019 2019-09-28

کشمیری ایک ایک دن گن رہے ہیں کہ دنیا ان کی تقدیر کا کیا فیصلہ عالمی اکٹھ میں دیتی ہے۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر گلوب کے بھاری بھر کم لیڈر یک جا ہیں ۔ دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا ! اگرچہ مسلمانوں کے حق میں ، کشمیر ہو یا فلسطین یہ بحرِ مردار ہی ( سات دہائیوں میں ) ثابت ہوا ہے۔ یہ صرف پریشر ککر پھٹنے سے بچانے کا فورم ہے۔ مظلوموں پر دبائو حد سے بڑھ جائے تو ان کے نمائندے مہذب طریقے سے بھاپ یہاں آ کر رفع کر لیں۔ واپس جا کر عوام کو جواز پیش کر سکیں، اسی تنخواہ پر کام کرنے پر راضی رکھ سکیں۔ بڑے پانچ جاگیردار اور باقی 191 کمی کمین۔ نتیجہ ٹائیں ٹائیں فش۔ ٹائم سکوائر بلڈنگ پر نعروں کے قمقموں گرجدار تقریروں سے حق نہیں ملتا۔ امریکہ نے مذاکرات کی میز الٹی۔ طالبان نے دو کام کیے۔ ایک تو میدان جنگ میں کارروائیاں بڑھا دیں۔ کہانی حسبِ سابق چل پڑی۔ ( امریکہ کو اب پاکستان کی مدد درکار ہے۔ مگر ہم اس کی اس ضرورت سے کما حقہُ فائدہ اٹھانے کی کوئی پلاننگ نہیں رکھتے ! ) دوسری جانب طالبان ، امریکہ کو چھوڑ کر روس، ایران اور چین کی مدد سے اپنی ساکھ بڑھانے چل دیئے۔ اب وہ چینی وزارتِ خارجہ کے میز پر بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں ۔ ترکی، پاکستان، قطر سے سفارتی حمایت بھی متوقع ہے! آزادی چھین کر لینی پڑتی ہے۔ پاکستان تقاریر اور سفارتی بھاگ دوڑ کے سوا کیا کرے گا ! نہایت دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم کشمیریوں کی بھاری بھر کم توقعات پر شاید پورے نہ اتر پائیں۔ ہمارے 18 سال کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیجئے۔ ہم افغانستان کے ساتھ گہرے برادرانہ ( اور تزویراتی گہرائی کے حامل ) تعلقات کے حامل تھے۔ امریکہ کی ایک کال پر ہم سجدے میں جا پڑے۔ ( جب وقتِ قیام تھا!) ہم نے غیر جانبداری یا خاموشی بھی اختیار نہ کی۔ افغانستان پر جنگ کے ہم تو ہراول دستہ بنے۔ مسلمان پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیے۔ گوانتا مو آباد کیا۔ ڈاکٹر عافیہ بھی تو اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔ سادہ لوح پاکستانی اب پھر توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ عمران نیو یارک سے عافیہ لے کر لوٹیں گے ! جنت الحمقاء کا محل وقوع تلاش کریں تو گوگل ، پاکستان ہی کا کوئی علاقہ دکھائے گا ۔ کشمیر پر خاموش سودا تو مشرف کے ہاتھوں ہو ہی چکا تھا ۔ یہ مودی نے یکا یک پھسوڑی ڈال دی ۔ ہماری خارجہ پالیسی، کشمیر پالیسی کو امتحان میں ڈال دیا۔ امریکہ میں اتنے دن کیا ہوتا رہا؟ مودی تمام تر کرتوتوں، انسانی حقوق کی پامالی کے با وجود ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا رہا۔ بھارتی امریکیوں کی بہت بڑی آبادی وہاں رنگ جمائے رہی۔ اگرچہ چھوٹے چھوٹے حقوقِ انسانی کے گروپ مسلسل مظاہرے کرتے کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔

مگر ہوسٹن میں 50 ہزار استقبالی بھارتیوں نے ’ہودی مودی ‘ ریلی میں بھارت امریکہ دوستی ڈٹ کر منائی۔ یعنی مودی کے مزاج عالی پوچھنے کا محبت بھرا جلسہ جس میں ٹرمپ نے محبت کے سارے دریا بہا کر شرکت کی۔ ’ مودی کو بابائے بھارت کہا جائے۔ میں ان کی بے پناہ عزت اور تحسین کرتاہوں۔ وہ ایک زبردست مہذب / شریف انسان ہیں ۔ بہت عظیم لیڈر ہیں ۔ قارو رہ ملنے کا بھی ( بجا طور پر ) اعتراف کیا ‘۔ غرض کبوتر با کبوتر باز با باز کے مترادف اپنی ہم آہنگی جتانے میں ذرا تکلف سے کام نہ لیا۔ کشمیری عوام پر توڑی جانے والی 50 روزہ قیامت اور 9 لاکھ فوج تلے پیسے جانے کا جرم۔ حقوقِ انسانی کی شدید خلاف ورزیاں۔ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کیا ہوئے ؟ ٹرمپ کو بھارتی ووٹ درکار ہیں انتخابات میں۔ سو مودی نے ڈٹ کر ٹرمپ کے سامنے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کی جگالی کی، وہ دم سادھے رہا! بھارتی توانائی کمپنی پیٹرو نیٹ کا معاہدہ اہم تر تھا جس سے 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اور 50 ہزار نوکریاں متوقع ہیں ۔ طاقتور ممالک تجارت، معیشت، مارکیٹ مفادات سے آگے دیکھنے کی نہ نیت رکھتے ہیں نہ خواہش۔ انسانی حقوق ؟ وہ بھی کمزور مظلوم مسلمان ! انہیں صرف ڈالروں پائونڈوں ریالوں سے مطلب ہے۔ حقوق انسانی اب دقیا نوسیت ہے۔ قصۂ ماضی سمجھو ! سلامتی کونسل مسلمانوں کو سلامتی دینے کو نہیں بنی۔ امریکہ کو آپ کی ضرورت ہے افغانستان میں ؟ اسے استعمال کرنے کے طریقے سوچیئے۔

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

ہماری فکری غلامی گزشتہ 18 سالوں میں شدید تر، پختہ تر ہو چکی ۔ ذوقِ یقیں کا نسخہ درکار ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان کو ثالثی کے لارا لپا کی لالی پاپ، منہ میں تکا دینے کو لگار کھی ہے جو بے معنی ہے کیونکہ وہ مودی کی رضا مندی سے مشروط ہے ! ہمارے سیاسی حالات کی ابتری، معاشی عدم استحکام، آئی ایم ایف کے شکنجے میں گنے کی طرح بیلے جانے والی قوم کی کس مپرسی، سبھی پیمانوں پر حالت ابتر ہے۔ رہی سہی کسر مشرقی پاکستان کے سقوط میں قادیانی ایم ایم احمد کی معاشی پالیسی کا حصہ ہمیں ایک مرتبہ پھر در پیش ہے۔ قادیانی اثرو رسوخ کی شدت کوئی بھلا شگون نہیں بالخصوص مالی معاملات میں۔

یہ جو دنیا نہایت اُول جلول، بے ڈھب، بے قرینہ حکمرانوں کے ہاتھ تھما دی گئی ہے بلا سبب نہیں۔ امریکہ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کے مراکز ، مغربی جمہوریت کی خدائی کا مرکز، سیاست سفارت میں دنیا کوتربیت دینے والا ملک رہا۔ اس کے صدور ذہین و فطین، اعلیٰ تعلیم یافتہ طویل سیاست کا تجربہ رکھنے والے یا مضبوط خاندانی پس منظر کے حامل ہوا کرتے تھے۔ کینیڈی، کلنٹن اوباما کی طرح۔ بھارت میں نہرو کے مقابل چائے بیچنے والا انتہا پسند، گنوار طبیعت، مسلمانوں کے خون کا پیاسا، بلوائیوں کی سی شہرت کا حامل مودی ہے ! برطانیہ میں بھی بے ڈھب ٹرمپ ہی کی طرح کا وزیراعظم بورس جانسن ہے۔ عالمی مدبروں کی جگہ عالمی مسخرے، بے کل، غیر مستحکم، غیر متوقع ( Unpredictable ) پل میں تولہ پل میں ماشہ حکمران مناصب سنبھالے بیٹھے ہیں ۔ ہر ایک مایہ ناز یو ٹرن حکمرانی کی شہرت رکھتا ہے۔ خوف تو یہ ہے کہ انہی کے ہاتھوں میں ایٹمی بٹن بھی ہیں ! اسرائیل۔ سب سے بڑے دجالچوں کا مرکز ہے۔ وہاں بھی اب نیتن یا ہو کی جگہ جو متوقع حکمران (سابق جنرل گاون ) ہے وہ اس سے بھی بڑا کفن چور ہے جس نے 2014 ء میں غزہ اجاڑا تھا ۔ اب غزہ کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے کا ارادہ ظاہر کر رہا ہے ۔ سو یہ تمام جمہوریت کی پیداوار جنونی مل کر دنیا کو کہاں لے جائیں۔ گے پناہ بخدا! اعلیٰ تعلیم، سائنس ٹیکنالوجی کے جھنڈے گاڑتی آبادیاں اور ان کا انتخاب ایسا ؟ مقصود شاید دنیا کو دجال کی جھوٹی خدائی پر ایمان لانے کے قابل بھوسہ بھرے دماغوں، اخلاق ، اقدار، اطوار سے تہی دامن نفوس سے بھرنا ہے ۔دجالی ایجنڈوں سے دنیا اجاڑنی ہے۔یہ الل ٹپ بے ڈھب فیصلے، نامعقول بیان دیتے رہیں۔ لوگ ٹرمپ، مودی جان کر خاموش ہو رہیں! ٹرمپ سفید فام امریکی ’ ٹیٹو‘ مارکہ جنونیوں کا سکینڈلوں بھرا نمائندہ ہے۔ مودی جنونی ہندو قاتلوں غنڈہ گردوں کا رہنما ہے۔ جنہیں دنیا دہشت گرد نہیں کہتی۔اسلام اس راستے کا کوہِ گراں اور بھاری چیلنج ہے۔ اسے ملکوں ملکوں ختم کرنے کو سارے عسکری نظریاتی، فکری سیاسی ابلاغی بیڑے دندناتے پھر رہے ہیں ۔ عوام گھن بنے پس رہے ہیں ۔ پاکستان کشمیریوں کے غم میں سلگ رہا ہے۔ (عوام کی سطح پر ) ۔ ایسے میں برطانوی شاہی جوڑا پاکستانیوں کا دھیان بٹانے، دل بہلانے کو لایا جا رہا ہے؟ کچھ ترے آنے سے پہلے کچھ ترے جانے کے بعد۔ ہلچل تو رہے گی ۔ ماحول پر شہزادہ، شہزادی کی کہانیاں میڈیا پر کشمیر کو پس منظر میں لے جائیں گی ۔ برطانیہ کا پیدا کردہ المیہ کشمیر، انہی کے خوبصورت جوڑے کے ہاتھوں کچھ دن کے لیے غم بھلا کر عیش و طرب کی کہانیاں سنائے گا ! ریاست مدینہ اسی کو کہتے ہیں ؟ ایسے میں ہمارے پاس اشک شوئی کے کچھ الفاظ تعزیت بھرے احساسات کے سوا کیا ہے؟

اے راہروانِ راہ وفا ہم تم سے بہت شرمندہ ہیں

تم جان پہ اپنی کھیل گئے اور ہم سے ہوئی تا خیر بہت

جائو طالبان کے ہاں درخواست دائر کرو شاید وہاں شنوائی ہو جائے!


ای پیپر