عمران ٹرمپ ملاقات…کھودا پہاڑ…!
28 ستمبر 2019 2019-09-28

تذکرہ جناب عمران خان کے نیو یارک میں مصروف شیڈول، مختلف فورمز پر خطابات اور عالمی رہنمائوں سے ملاقاتوں بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پیر کو ہونے والی ملاقات کا کرنا ہے۔ اور اس وقت تک جناب عمران خان کو "کشمیر کے سفیر" کے حیثیت سے جو پذیر آرائی ملی ہے اُس کا جائزہ لینا ہے لیکن پہلے بدھ کی سہ پہر کو زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس ہونے پر وزیر اعظم کی مشیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان کا جو تبصرہ سامنے آیا اس کا تھوڑا سا ذکر کر لیتے ہیں۔ محترمہ نے یہ تبصرہ کرکے کیا دانائی ، کیا عقل مندی ، کیا دانشمندی اور کیا دردمندی کا ثبوت دیا ہے خود ہی ملاحظہ کیجئے اور سر پیٹنے کو جی چاہے تو ضرور سر پیٹ لیجئے۔ زبان مبارک سے ارشاد ہوا "جب اوپر تبدیلی آئے تو نیچے بے تابی ہو، یہ تبدیلی کی نشانی کہ زمین نے بھی کروٹ بدلی، زمین کو بھی اتنی جلدی یہ تبدیلی قبول نہیں۔" زلزلہ جیسی آفت ارضی اور ایک طرح کے عذاب الہٰی کے موقع پر توبہ استغفار کرنے اور اپنے رب سے گناہوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگنے کی بجائے یہ بے تکا، فضول اور غیر ذمہ دارانہ بیان محترمہ فردوس عاشق اعوان کی زبان اور ان کے بے ڈیل ڈول سراپے کو ہی زیب دے سکتا ہے۔ کوئی معقول ، سمجھدار اور تھوڑا سا بھی خوف خدا رکھنے والا شخص ایسے لا یعنی ، مہمل اور بے موقع جملے بولنے سے قبل سو بار سوچے گا۔ لیکن جہاں اس طرح کی باتیں ہی کارکردگی ، وفاداری اور جانثاری کا معیار سمجھی جائیں وہاں کسی اور بات کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ بدھ کی سہ پہر کو چاربج کر دو منٹ پر میر پور ، جاتلاں اور نواح کے دیہات میں زلزلے کے نتیجے میں جو جانی اور مالی نقصان ہوا ، آ ن کی آن میں مکانات ، سڑکیں اور انفراسٹرکچر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہوئے اس سے یقینا سب پاکستانیوں کے دل افسردہ ، غمگین اور ناشاد ہیں۔ متاثرین سے ہمدردی ، درد مندی اور پریشانی کا اظہار ہونا چاہیے تھا اور ہو بھی رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی طرح کی "فضول دانائی اور دانشمندی " کا مظاہرہ متاثرین زلزلہ کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہی ہو سکتا ہے۔

جناب وزیر اعظم عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں ۔ اس ملاقات کا ذکر کئی دنوں سے ہو رہا تھا اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اس کے نتیجے میں امریکی صدر مسئلہ کشمیر کے بارے میں پاکستان کے موقف کو جائز قرار دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور تقریباً پچاس سے بھی زائد دنوں سے وہاں نافذ کرفیو کے خاتمے کے لیے دو بول بول دینگے لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شُد کے مصداق ایسا کچھ نہیں ہوا اُلٹا ہمارے وزیر اعظم کو امریکی صدر سے یہ درخواست کرنی پڑی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ختم کروانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ جواب میں صدر ٹرمپ نے اتنا ہی کہا کہ وہ مودی سے بات کریں گے۔ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم جناب عمران خان کی ملاقات سے قبل دونوں رہنماوں کی مشترکہ پریس کانفرس میں صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر پاکستان کو لولی پاپ دینے کی کوشش کی کہ مجھ سے پہلے امریکی قیادت نے پاکستان کے ساتھ برا سلوک کیا۔ پاکستان کے ساتھ تجارت کم ہے ، ا سے بڑھائیں گے۔ ہوسٹن میں نریندر مودی نے میری موجودگی میں جارحانہ زبان استعمال کی ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیش کش کا اعادہ کرتے ہوئے جناب ٹرمپ نے ارشاد فرمایا کہ آپ تیار ہے لیکن دوسری طرف بھی ثالثی کی پیش کش قبول کرے تو میں تیار ہوں۔ میں اچھا ثالث ثابت ہونگا اور ناکام نہیں ہونگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ عمران خان عظیم لیڈ ر ہیں جو انسداد دہشت گردی میں پیش رفت چاہتے ہیں کیونکہ دوسرا راستہ موت ، افراتفری اور غربت کی طرف جاتا ہے۔ اور عمران خان یہ بات سمجھتے ہیں ۔ جناب عمران خان نے اس موقع پر جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ٹرمپ دنیا کے طاقت ور ترین ملک کے صدر ہیں۔ طاقت ور ترین ملک پر بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے اور مسئلہ کشمیر حل کروانا بھی واشنگٹن کی ذمہ داری ہے۔

وزیر اعظم جناب عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ان امور کے علاوہ اور کیا کچھ زیر بحث آیا اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ دونوں رہنماوں کی ملاقات کے بعد خلافِ معمول نہ تو کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور نہ ہی امریکی وزارت خارجہ نے اس پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔ تاہم پاکستان کے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ سے کہا کہ وہ ایران کے معاملے پر بات (ثالثی ) کرنے پر تیار ہیں۔ جس پر صدر ٹرمپ نے عمران خان کو ایران سے بات چیت کا "مینڈیٹ" دے دیا۔ اور وزیر اعظم جلد ہی ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کرینگے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان "ثالث" کا کردار ادا کرتے ہوئے ہم کتنی کامیابی حاصل کر پائیں گے اس کا اندازہ امریکی صدر کے منگل کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب سے لگایا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے طویل خطاب میں ایران کوجارہانہ تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عالمی امن کو اصل خطرہ فی الوقت ایران کی طرف سے نظر آرہا ہے۔ اسی دوران ایرانی صدر حسن روحانی کے امریکہ کے بارے میں ریمارکس بھی سامنے آچکے ہیں۔ جن میں انھوں نے امریکہ کو ڈاکو قرار دیا ہے اور جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ جل رہا ہے ، خلیجی ممالک کے پڑوسی ہم ہیں امریکہ نہیں ۔ واشنگٹن دیکھاوے کی بجائے حقیقی مذاکرات کی طرف آئے تو ڈیل ہو سکتی ہے۔

یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو کچھ دیر بعد جناب وزیر اعظم عمران خان کا جنرل اسمبلی سے خطاب سامنے آنے والا ہے ۔ اُس میں یقینا کشمیر کا ذکر ہوگا اور عالمی رہنماوں سے اس معاملے میں دخل دینے کی بات ہوگی۔ اس کے کیا اثرات سامنے آتے ہیں اور کتنے عالمی رہنما اور ممالک مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ہم نوا بنتے ہیں جلد ہی یہ سامنے آجائے گا تاہم اس وقت تک جو صورت حال ہے یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی طرف عالمی رائے عامہ کی توجہ مبذول کروانے میں کامیاب نہیں رہے ہیں۔ ترکی صدر طیب اردگان کے علاوہ کسی بھی عالمی رہنما نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر نہیں کیا۔ ترکی کے ہم ممنون ہیں تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو سرے سے ہی کشمیر کا ذکر گو ل کر گئے۔اس کے ساتھ ہمارے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا شرمندگی کی بات ہوسکتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور پامالی کے خلاف ہم جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے تحت قائم انسانی حقوق کی کونسل میں قرار داد پیش نہیں کر سکے کہ ہمیں اس کے پیش کرنے کے لیے سولہ ارکان کی حمایت کی ضرورت تھی جو ہمیں نہ مل سکی جبکہ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ببانگِ دہل یہ اعلان کر رکھا تھا کہ انسانی حقوق کی کونسل میں 56 ممالک کی حمایت کے ساتھ بھارت کے خلاف قرارداد منظور کروائیں گے۔سچی بات ہے اور ہمیں مان لینا چاہیے کہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ہر دو جگہوں پر صورت حال پریشان کن ہے اورموجودہ حکومت مثبت انداز میں کچھ بھی پیش رفت نہیں کر سکی ہے۔


ای پیپر