بیان
28 ستمبر 2019 2019-09-28

جب دنیا بھر کے اخبارات اور جرائد اور بڑے بڑے میڈیا ہاو¿سز وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اسٹیٹس مین شپ اور صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنے کوزیادتی گردان رہے ہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ چاہ رہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ تنازعے میں ثالث کا کردار ادا کرے تو ہمیں بھی کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لینا چاہیے۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

برطانوی اخبار انڈی پینڈنٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے ایک سالہ دور اقتدار میں پاکستان عالمی پلیئر کے طور پر سامنے آیا ہے اور لگ بھی ایسے ہی رہا ہے۔ وجہ یہ نہیں ہے کہ گوگل کہہ رہا ہے کہ اگردنیا بھر میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد کسی شخصیت کو کھوجنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ عمران خان ہے۔ کشمیر کا مسئلہ ہو یا عالمی منظر نامے میں دہشت گردی کی جڑ، خود کش حملوں کی وجہ اور تاریخ ہو یا خطے کو لاحق خطرات کی بات،آزادی اظہار کی آڑ میں مذہبی شخصیات اور کتابوں کی بے حرمتی اور غیر مسلم دنیا کی بے حسی۔ اقوام عالم کے سامنے اتنی سرت، تندہی اور دلیری کے ساتھ پیش کرنے پر کوئی شک نہیں عمران خان تعریف کے مستحق ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب ہو یا اجلاس کے دوران سائیڈ میٹنگزہر جگہ لوگ وزیراعظم پاکستان کو سننا چاہ رہے ہیں۔ مگر ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان نے نفرت آمیز بیانیے اور تقاریر کے تدارک پر اقوام متحدہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی جو میزبانی کرڈالی شایدامت مسلمہ کا کیس اس انداز میں ماضی میں کوئی پیش نہ کرسکا ہو۔ اگر پاکستان کی تاریخ میں کسی کے پاس ایسی کوئی مثال ہے تو میری رہنمائی فرمائیں۔ اگر کسی کے ذہن میں ذولفقار علی بھٹو کا خیال آرہا ہے تو یہ یقین جانیے امت کو لاحق یہ چیلنجز ماضی میں اتنی سنگین نوعیت کے کبھی بھی نہیں تھے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ آزادی اظہار کی آڑ میں مذہبی شخصیات اور کتابوںکی بے حرمتی کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ دنیا جان لے کہ مذہب اور عقائدکی بنیاد پر تشدد اور امتیاز میں اضافہ ہورہا ہے۔ نفرت انگیزی اور نسلی امتیاز کے محرکات اور نتائج سے نمٹنا انتہائی ضروری ہوگیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر کی کمیونٹیز کے مابین برداشت اور زیادہ سمجھ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ نفرت آمیز تقاریر کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ باشعور مکالمے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے جسے استعمال کرنا بہت ضروری ہے۔

مغرب کی جانب سے ہر سال کسی نہ کسی شیطانی شوشے کو چھوڑے جانے کے بعدوزیراعظم نے موقع کو مناسب جانتے ہوئے اور اس پلیٹ فارم سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا کہ دنیا کو سمجھنا ہوگا کہ اسلام اورنبی اکرم سے مسلمانوں کو کتنی محبت ہے۔

اس اجلاس میں عالمی افق پر گہری نظر رکھنے والے لیڈر رجب طیب اردوان نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے پہلے نفرت انگیز تقاریر جنم لیتی ہیںاور پوری دنیا میں مسلمان نفرت انگیز تقاریر کا آسان ہدف ہیں۔ہر قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ پسماندہ طبقے کے پسے ہوئے لوگوں نے خود کش حملے کیے۔ نائن الیون سے پہلے 75 فیصد خود کش حملے ہندو تامل ٹائیگرز نے کیے۔ تاریخ کے اوراق کودرست طریقے سے مرتب کرتے ہوئے یہ بھی بتا گئے کہ دوسری جنگ عظیم میں وہ جاپان ہی تھا جس نے امریکی جنگی جہازوں پر خودکش حملے کیے تھے اور یہ تمام خود کش حملے مذہب کے لیے نہیں تھے۔ کیونکہ دنیا کا کوئی بھی مذہب خود کش حملوں کی اجازت نہیں دیتا۔

مغربی ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے مغربی ممالک کے رہنماو¿ں نے انتہاپسندی اور خودکش حملوں کو بھی اسلام سے جوڑ دیا ہے۔ دنیا میں کم و بیش تمام دہشت گردی کی کڑیاں عالمی سیاست سے جڑتی ہیں اور سیاست کی نا انصافیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات دہشت گردی کو تقویت دیتے ہیں۔ اسلام کے خلاف مغربی میڈیا 'باریک کام' کس طرح سے ڈالتا ہے اس کے آگے بندھ باندھنے کی بھی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مغربی میڈٰیا پر اعتدال پسند، بنیاد پرست اور شدت پسنداسلام جیسی اصلاحات سنتے ہیں جبکہ اسلام صرف ایک ہے جو محمد کا ہے اوراس پر ہی یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مسلم ممالک کے رہنماو¿ں نے بھی اپنی ذمہ داریاں ٹھیک طریقے سے نہیں نبھائیں۔ مغربی ممالک کو اسلام، توہین رسالت اور دہشت گردی کے بارے میں ٹھیک سے آگاہ نہیں کیا۔

گیا۔ ایک مقام پر آئینہ دکھاتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہوتوکاسٹ کی وجہ سے یہودیوں کو دلی تکلیف پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک ہولوکاسٹ کے معاملے پر بہت حساس ہیں۔ بالکل اسی طرح مغربی ممالک کو اسلام کے بارے میں حساسیت کا پہلو مد نظر رکھنا چاہیے۔

اس موقع پر رجب طیب اردوان نے کہا کہ نفرت انگیز تقاریر انسانیت کے خلاف بدترین جرائم کی وجہ بنتی ہے اور اقوام متحدہ کا فورم اس سلسلے میں بہت اہم ہے جہاں مسلمان اور مسلم ممالک کے قائدین کو اس امر کی ضرور وضاحت کرنی چاہیے کہ اسلام اور دہشت گردی دو مختلف چیزیں ہیں۔

گفتن، نشستن، برخاستن سے ہٹ کر پاکستان سمیت مسلم دنیا کے دو اہم ممالک ترکی اور ملائیشیا نے ایک ساتھ مل اسلاموفوبیا سے مقابلہ کرنے لیے انگریزی چینل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس سے آگاہی وزیراعظم پاکستان نے دی کہ تین ممالک مل کر ایک ایسا انگریزی چینل شروع کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں جو اسلاموفوبیا کے چیلنجز کے مقابلے اور عظیم مذہب اسلام کے تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے مختص ہوگا۔ اس چینل کا مقصد ایسی تمام غلط فہمیوںکو جڑ سے ختم کرنا ہوگا جو لوگوں کو مسلمانوں کے خلاف یکجا کرتی ہیں۔

توہین رسالت کے معاملے کا سیاق و سباق درست کیا جائے گا، اپنے لوگوں کے ساتھ دنیا کی تاریخ اسلام سے آگاہی/ واقفیت کے لیے سیریز/ فلمیں تیار کی جائیں گی/ اور میڈیا میں مسلمانوں کے وقف حصے کا اہتمام کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں پاکستان، ترکی، ملائیشیا اور ایران جیسی آوازوں کو تو ہم نے سنا لیکن ابھی بھی امہ کی کئی ایسی طاقتور آوازیں جن کو سننے کے لیے کان ترستے رہے۔


ای پیپر